قومی و بین الاقوامی ایشوز

یمن کی خانہ جنگی اور اُس کے علاقائی مضمرات

جزیرہ نما عرب کے انتہائی جنوب میں اور براعظم افریقہ کے انتہائی شمال مشرقی کونے جسے ہارن آف افریقہ (Horn of Africa) کہتے ہیں، کے بالکل سامنے واقع ملک یمن آبادی کے لحاظ سے چھوٹا مگر اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کی بدولت ایک انتہائی اہم ملک ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بحیرہ احمر کو بحرِ ہندسے ملانے والی تنگ آبی گزرگاہ کا مغربی کنارہ یمنی علاقے پر مشتمل ہے۔اس تنگ آبی راستے کو باب المندب کہا جاتا ہے جو انگریزی گیٹ آف ٹیرز (Gate of Tears) کا عربی ترجمہ ہے۔وجہ تسمیہ یہ ہے کہ زمانہ قدیم سے اس آبی راستے سے گزرنے والے تجارتی بحری جہاز بحری قذاقوں کے حملوں اور لُوٹ مار کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ان حملوں میں نہ صرف مشرقی ممالک خصوصاً ہندوستان سے یورپ جانے والی قیمتی تجارتی اشیاء مثلاً گرم مصالحے،عطریات اور ٹیکسٹائل لُوٹ لی جاتی تھیں، بلکہ جہازوں میں سوار مردوں کو قتل اور عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیاجاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ بحری قذاقوں کے ان خوفناک حملوں کے دوران عورتوں اور بچوں کی آہ و بکا اور چیخ و پکار کی وجہ سے اس آبی گزرگاہ کا نام عربوں نے باب المندب رکھا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہزاروں سال گزرجانے کے بعد بھی یہ علاقہ بحری قذاقوں کی سرگرمیوں کا مرکز ہے اور مسلسل خانہ جنگی ،قبائلی لڑائیوں، دہشت گردوں کی کارروائیوں ، امریکی ڈرون حملوں اور جیٹ طیاروں کی بمباری میں ہلاک ہونے والوں سیکڑوں مردوں، عورتوں اور بچوں کی چیخ وپکار سنائی دیتی ہے۔یمن میں یہ صورت حال کیسے پیدا ہوائی؟اس میں کون کون سے عوامل کارفرما ہیں؟اور مستقبل اس کا کیا نقشہ پیش کرے گا؟ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے ہمیں یمن کی تاریخ،اس کی سماجی زندگی،سیاسی تبدیلیوں اور سب سے بڑھ کر اس کے مخصوص جغرافیائی محلِ وقوع کا جائزہ لینا ہوگا۔

یمن کی تاریخ 5 ہزار برسوں پر محیط ہے اور اسے قدیم ترین انسانی تہذیب کا وارث سمجھا جاتا ہے۔حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش سے ہزاروں سال قبل یمن کے مصر اور فلسطین میں بنی اسرائیل کی حکومتوں کے ساتھ تجارتی اور ثقافتی تعلقات تھے۔ملکہ بلقیس اور حضرت سلیمان کا قصہ اسی دور کی یادگار ہے۔ اسی عرصہ کے دوران جتنی بھی بڑی سلطنتیں معرضِ وجود میں آئیں خواہ وہ فراعین مصر ہوں یا سلطنت روم، عثمانی ترک ہوں یا تاجِ برطانیہ، ان سب کی حریص نظریں یمن پر مرکوز رہی ہیں۔جس کی وجہ باب المندب پر کمانڈنگ پوزیشن اور اس کے راستے مشرق اور مغرب کے درمیان ہونے والی اہم تجارت پر کنڑول تھا۔اس تجارت سے خود یمن بھی مستفید ہوتا تھا۔ اسی وجہ سے ملک میں خوشحالی تھی،زراعت ترقی یافتہ تھی اور زمین کو سیراب کرنے کے لئے بڑے بڑے بند اور نہریں تعمیر کی گئی تھیں۔ ان کے نشانات اب بھی موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اُس زمانے میں یمن اپنے اِردگرد کے تمام علاقوں میں سب سے زیادہ امیر اور خوشحال ملک تھا۔ لیکن 1498 میں جب پُرتگیزی ملاح واسکوڈے گاما نے براعظم افریقہ کے گرد چکر لگا کر ہندوستان اور یورپ کے درمیان ایک نئے بحری راستے کی بنیاد رکھی، تو یمن کی خوشحالی زوال پذیر ہونا شروع ہوگئی کیونکہ تجارتی سامان سے لدے پھندے بحری جہاز اب باب المندب کے راستے بحیرہ احمر سے گزر کر اپنا سامان بحرِ روم کے مشرقی ساحل پر واقع بندرگاہوں تک پہنچانے کے بجائے براہ راست سمندر کے راستے یورپ تک پہنچانے لگے۔ یہ تجارت اتنی منافع بخش تھی کہ پُرتگیزیوں کے بعد دیگر یورپی طاقتوں مثلاً ولندیزیوں، فرانسیسیوں اور انگریزوں نے بھی اس میں حصہ لینا شروع کردیا۔

تجارتی اشیاء میں گرم مصالحے،کاٹن ریشم کی مصنوعات،اناج،قیمتی پتھر، ہاتھی دانت اور عطریات شامل تھیں۔ان سب کی اُ س زمانے میں یورپ میں بڑی مانگ تھی۔ تجارت پر اجارہ داری قائم کرنے کے لئے یورپی طاقتوں کے درمیان بحر ہند کے علاقے میں بالادستی قائم کرنے کے لئے جنگوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہواجس میں ایک برتربحری قوت ہونے کی وجہ سے کامیابی آخر کار برطانیہ کو حاصل ہوئی جس نے انیسویں صدی کے پہلے نصف حصے میں تمام ہندوستان پر اپنا قبضہ مستحکم کر لیا۔

یورپی اور برطانوی نو آبادیاتی تسلط سے بحرہند کی تاریخ میں ایک نئے اور بالکل مختلف دور کا آغاز ہواجس میں مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت جزیرہ نما عرب کے بجائے جنوبی افریقہ کے انتہائی جنوب میں واقع کیپ ٹاؤن کے راستے ہونے لگی۔اس سے یمن کی بندرگاہ عدن کی رونقیں ماند پڑگئیں کیونکہ ہندوستان کے علاوہ چین، جاپان اور جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک اور یورپ کے درمیان چلنے والے بحری جہاز ایندھن اور دیگرسپلائیز کے لئے کیپ ٹاؤن کی بندرگاہ پر رُکتے تھے۔تاہم 1869میں نہر سویز کے کھلنے سے یمن کی قسمت ایک دفعہ پھر جاگ اُٹھی۔کیونکہ سویز کے راستے یورپ اور ہندوستان کے درمیان فاصلہ 7000 کلومیٹر کم ہوگیا تھا۔ ہندوستان کے علاوہ بحر ہند کے اِردگرد واقع اپنی نو آبادیات کے تحفظ کے لئے برطانیہ نے ایک دفاعی نظام قائم کیا جس میں مشرق میں سنگاپور، بحرہند کے وسط میں سیلون(سری لنکا)اور مغرب میں عدن کے بحری اڈوں کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔برطانیہ نے یمن سمیت خلیج فارس کی دیگر عرب ریاستوں پر کبھی براہ راست نوآبادیاتی قبضہ نہیں کیا تھا،تاہم ان ریاستوں کے ساتھ طے پائے گئے دوطرفہ معاہدات کے تحت برطانیہ کو ان ریاستوں کے اندرونی اور بیرونی معاملات پر پوراپوراکنڑول حاصل تھا۔اس کی وجہ سے ان ریاستوں کے ساتھ یمن بھی بدستور سیاسی،معاشی اور سماجی پسماندگی کاشکار رہا۔ معاشرہ بدستور قبائل میں منقسم رہا۔ ملک پر مطلق العنان حکمرانوں کی حکومت رہی اور معاشی ترقی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ غریب سے غریب تر ہوتے گئے۔

قبائلی لڑائیوں کے علاوہ یمن کے دو حصوں یعنی شمالی یمن اور جنوبی یمن کے درمیان چپقلش نے بھی یمنی عوام کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔اس لئے ان دونوں حصوں کے اتحاد پر مشتمل ایک ملک کا قیام یمنی عوام کی دیرینہ خواہش رہی ہے۔ چنانچہ مئی1990 میں شمالی اور جنوبی یمن کے اتحاد کے نتیجے میں یمن عرب ری پبلک کے نام سے متحدہ یمن وجود میں آیا۔ عبداللہ صالح اس متحدہ یمن کے پہلے صدر مقرر ہوئے۔ لیکن اتحاد کے باوجود یمن کے سابقہ دونوں حصوں میں نظریاتی اور سیاسی اختلافات دور نہ ہوسکے۔ اس کا سب سے نمایاں ثبوت سابقہ دونوں حصوں کی افواج کا ایک دوسرے میں ضم ہونے سے انکار تھا۔ اتحاد سے پہلے جنوبی یمن اپنے خارجہ تعلقات میں سابق سوویت یونین کے زیادہ قریب تھا اور خلیج فارس کے اِردگرد پانیوں میں امریکہ کی بحری قوت کی موجودگی کا مخالف تھا۔یہی وجہ ہے کہ خلیج کی پہلی جنگ 1991 میں یمن نے عراق کے خلاف امریکہ اور سعودی عرب کی قیادت میں لڑی جانے والی جنگ کی مخالفت کی تھی۔اس پر سعودی عرب نے اس قدر ناراضی کا اظہارکیا کہ اُس نے اپنے ہاں محنت مزدوری کرنے والے آٹھ لاکھ یمنی باشندوں کو ملک سے نکال دیا۔

یمن کا اُن عرب ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں تیل پیدا نہیں ہوتا۔دیگر معدنی وسائل بھی ناپید ہیں اور زراعت محدود پیمانے پرہوتی ہے۔اس لئے معیشت کا زیادہ تر انحصار تیل پیدا کرنے والے ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں کام کرنے والے یمنی باشندوں کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم پر ہے۔

 1991میں عراق کے خلاف امریکہ کی جنگ کی مخالفت کرنے پر سعودی عرب کی طرف سے سزا کے طور پر یمنی باشندوں کے انخلاء سے یمن کی معیشت کو جو پہلے ہی کمزور تھی، ایسا شدید جھٹکا لگا کہ ایک لمبے عرصے تک اس کی تلافی نہ کی جاسکی اور یمن جو کسی زمانے میں کافی پیدا کرنے والا اور انتہائی منافع بخش بحری تجارت سے مستفید ہونے کی وجہ سے کافی خوشحال ملک تھا، اب پورے عالم عرب کا غریب ترین ملک تھا۔ 1991 میں یمنی تارکینِ وطن کی سعودی عرب سے واپسی کی وجہ سے یمن اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایسی تلخی پیدا ہوئی جو آج تک دور نہیں ہوسکی۔ غربت،پسماندگی، بے روزگاری، اشیائے خوراک کی کمیابی، افراط زر اور حکومت کی بدعنوانیاں یہ وہ عوامل تھے جو صدر صالح کے خلاف اُس احتجاجی تحریک کا سبب بنے جس کا آغاز 2011 میں تیونس سے ہواتھا۔اس تحریک کو عرفِ عام میں’’عرب سپرنگ‘‘ (Arab Spring) کا نام دیاجاتا ہے۔ اس تحریک کی وجہ سے صدر صالح کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور وہ سعودی عرب بھاگ گئے۔اُن کی جگہ نائب صدر منصور ہادی نے عہدہ سنبھال لیا۔منصور ہادی کے عہدے کی مدت دوسال تھی جس کے بعد نئے آئین کے تحت انتخابات کے ذریعے نئی حکومت کا قیام عمل میں آنا تھا۔لیکن صدر صالح کے طویل آمرانہ دور کی وجہ سے یمن کے حالات اتنے پیچیدہ ہوچکے تھے خصوصاً القاعدہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے نئے صدر معاہدے کے مطابق ایک یونٹی گورنمنٹ تشکیل دینے میں ناکام رہے۔اس صورت حال سے حوثی قبائل جنہوں نے کئی برسوں سے علم بغاوت بلندکر رکھا تھا،کو فائدہ اُٹھانے کا موقع مل گیا۔ ستمبر2014 میں حوثی باغیوں کے دستے دارالحکومت صنعا میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوگئے اور اُنہوں نے صدر منصور ہادی کو مختلف سیاسی دھڑوں کے اتحاد پر مشتمل ایک یونٹی گورنمنٹ قائم کرنے پر مجبور کر دیالیکن صدر ہادی کی حکومت اتنی کمزور ہوچکی تھی اور حوثی باغیوں کے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا کہ جنوری 2015 میں وہ اپنی کابینہ کے ساتھ عہدے سے مستعفی ہوگئے۔فروری میں حوثی باغیوں نے حکومت کا انتظام و انصرام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا گیا اور محمد علی الحوثی کی سربراہی میں ایک انقلابی کمیٹی کی شکل میں عبوری حکومت قائم کر دی۔لیکن یمن میں امن قائم نہیں ہوا بلکہ ملک خانہ جنگی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگیا۔کیونکہ منصور ہادی جو بھاگ کر عدن چلے گئے تھے،نے اعلان کیا کہ وہ اب بھی یمن کے قانونی صدر ہیں۔اس کے ساتھ ہی عدن کو یمن کا عارضی دارالحکومت قرار دے کر اُنہوں نے اپنے وفادار فوجی دستوں اور افسروں سے ساتھ دینے کی اپیل کی۔

چونکہ یمن کی سرحدیں سعودی عرب سے ملتی ہیں اور یہ ملک دنیا کی مصروف ترین شپنگ لائنز کے سرے پر واقع ہونے کی وجہ سے ایک اہم جیو سٹرٹیجک لوکیشن کا حامل ہے‘اس لئے یمن میں جاری خانہ جنگی اور خاص طور پر حوثی باغیوں کی کامیابی کے امکانات پر سعودی عرب کی طرف سے تشویش کا اظہار قابل فہم ہے۔ چونکہ حوثی قبائل شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے سعودی عرب نے ایران پر حوثی باغیوں کی اعانت کرنے کا الزام عائد کیا۔ اس کے ساتھ ہی عرب لیگ کے ایک اجلاس میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک مشترکہ فورس قائم کی گئی جس نے حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر ہوائی حملے کر کے یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت کا آغاز کر دیا۔ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پیش پیش ہیں اور مصر میں جنرل سیسی کی حکومت ان کی بھر پور حمایت کر رہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یمن میں لڑائی نہ صرف جاری ہے بلکہ اتحادی طاقتوں کی طرف سے ہوائی حملوں کے علاوہ بحری جہازوں سے گولہ باری اور زمینی فوج کے دستے بھیجنے کی وجہ سے اس میں اور بھی شدت آگئی ہے۔ اس خانہ جنگی کے خاتمے کا ابھی کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ کیونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، ایران اور حوثی باغیوں کی طرف سے فوری جنگ بندی اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی اپیل کے باوجود سعودی عرب اور متحدہ امارات نے امن کے قیام کے لئے بڑی کڑی شرائط عائد کی ہیں۔ ان میں حوثی باغیوں کی جانب سے تمام مقبوضہ علاقے اور پوزیشن خالی کرنے اور ہتھیار پھینکنے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔


پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف محقق اور تجزیہ نگار ہیں آپ ان دنوں سرگودھا یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات و سیاسیات کے چےئرمین ہیں۔

 [email protected]

یہ تحریر 47مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP