متفرقات

یقین

مچھیرے پاکستان نیوی کی بہت تعریف کرتے نظر آئے اس کی بنیادی وجہ نیوی کا  طوفانی موسم میں ان کی مدد کو آنا ہے۔
 کئی مچھیروں نے بتایا کہ سمندر میں ان کو نیوی کے ہونے کی بہت ڈھارس ہے  اور وہ ان کے سلوک سے بھی خوش ہیں۔ 

 گوادر میں آئے ابھی میرا دوسرا دن تھا ۔ میں گوادر کے خوبصورت ساحل اور مقامی لوگوں کی زندگی کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا اور اسی کوشش میں سمندر کے کنارے کہیں دوپہر کے قریب پہنچا۔ یہ ایک متاثر کن ماحول تھا۔ ایک لمحے کے لیے مجھے ایسا احساس ہوا کہ میں پاکستان میں نہیں ہوں۔ گہری رنگت ، گھنگریالے بال کے مضبوط جسموں کے مالک مچھیرے اپنی اپنی کشتیوں میں مختلف نوعیت کے کاموں میں مصروف تھے۔ کوئی کشتی سے مچھلی نکال رہا تھا، تو کوئی کشتی صاف کر رہا تھااور کوئی مرمت کرتا نظر آیا۔ اس جگہ کی ہوا مجھے خوش گوا رلگ رہی تھی۔تمام لوگ خوش لگ رہے تھے۔ کشتی کنارے آ کے لگی اس میں موجود افراد جال میں سے مچھلیاں جھاڑنا شروع ہوئے اور زمین پر جال کے نیچے مچھلیوں کا ڈھیر لگنے لگا۔ چند مچھلیاں اس میں کچھ دور گر گئیں اور مچھیروں کے بچے بھاگ کر انھیں اٹھا کر لے آئے۔ کنارے پر آبی پرندے دیوانہ وار آتے اور مچھیروں کی بچی کھُچی مچھلیوں کو اپنی چونچ میں دبا کر اُڑ جاتے۔ یہ پرندے اس زندگی کے اتنے عادی تھے کہ کسی شخص کا ان کے قریب جانا ان کو بالکل متاثرنہیں کر رہا تھا۔ وہ آرہے تھے اور جا رہے تھے اور قدرت کی حسین منظر کشی ناقابل فراموش تھی۔



بعض مچھیرے کنارے پر مرمت کی غرض سے آئی کشتیوں کے سائے کے نیچے بیٹھے تھے۔ مجھے یہاں وقت رُکا ہوا محسوس ہوا اسی دوران کشتی کنارے پر آ کر لگی اور پھر ایک ترتیب اور مہارت کے ساتھ کشتی کے عملے نے مچھلیوں کو جال سے نکالنا شروع کیا۔کشتی کا ناخدا پکے رنگ کارسول بخش بلوچ تھا۔ میں اس کے پاس گیاتو وہ سمجھا کہ میں شاید کشتی کی سیر کرنا چاہتا ہوں اس نے مجھے مسکراتے ہوئے خوش آمدید کہا۔ رسمی جملوں کے بعد میں نے رسول بخش سے مچھیروں کی زندگی کے بارے میں پوچھنا چاہا تورسول بخش نے کہا کہ میں مچھلیوں کے کام سے فارغ ہو لوں اس کے بعد بات کرتا ہوں کیونکہ اس میں دیر کی تو گرم موسم میں مچھلی خراب ہو سکتی ہیں۔ کام سے فارغ ہو کر ہم دونوں ساحل پر کھڑی کشتی کے سائے میں بیٹھ گئے۔ 
رسول بخش مجھے بتایا کہ ہر کشتی میں ایک ٹیم ہوتی ہے۔ اس میں کپتان ، ڈرائیور ، نیویگیٹر  (Navigator)  برف رکھنے والا اور جال ڈالنے والا شامل ہوتا ہے۔ مچھلی پکڑنا پرانے وقتوں سے قدرے آسان ہے کیونکہ پہلے یا تو چپوئوں کی مدد سے سمندر میں جانا ہوتا تھا یا پھر بادبان  استعمال ہوتے تھے اور یہ تمام پرانے طریقے ہوائوں کے رحم و کرم پر ہوتے تھے۔ لوگ اس میں بھٹک بھی جاتے تھے اور کبھی خراب موسم میں کشتیاں  الٹ بھی جاتی تھیں لیکن مارڈرن ٹیکنالوجی نے ماہی گیری کے لیے کافی بہتری کر دی ہے۔                                                                      
اگر اب کبھی سمندر میں رہتے ہوے طوفان آ جائے تو سب سے پہلے پکڑی ہوئی تمام مچھلیاں اور اس کے ساتھ رکھی ہوئی برف کو سمندر میں پھینکا جاتا ہے تا کہ کشتی ہلکی ہو جائے۔                           
سمندر میں ہر مچھیرے کے لئے ایک مخصوص علاقہ ہوتا ہے جو اسے مچھیروں کی یونین بتاتی ہے اورتمام اس پر مکمل عمل کرتے ہیں اور ایمانداری سے اپنے عملے کو اس کی اجرت دیتے ہیں۔مچھیرے پکڑی جانے والی مچھلی میں سب سے پہلے اعلیٰ نسل کی مچھلی اپنے اور اپنے بچوں اور گھر والوں کے لئے رکھتے ہیں۔ باقی مچھلی یہ بیچ دیتے ہیں۔  یہ لوگ اسے اچھی مچھلی کہتے ہیں جس میں ایک کانٹا یا کم کانٹے ہوں۔  


 ایک انتہائی متاثر کن بات یہ تھی کہ جب میں نے مچھیروں سے پوچھا کہ وہ ہر روز مچھلی پکڑنے کے لیے جاتے ہیں تو انھیں احساس نہیں ہوتاکہ آج مچھلی شاید نہ ملے۔ تو اس پر انھوں نے کہا کہ یہ ہمارا یقین ہے کہ اللہ تعالی ہمیں رزق دے گا۔ ان کے اس پرُ زور اظہار پر مجھے اپنا یقین پھیکا پڑتا ہوا محسوس ہوا ۔ ان کا اللہ پر یقین کامل تھا۔ ان کا رازق پراعتماد قابل رشک تھا۔ وہ کہتے کہ ہم پیدا ہی مچھلیاں پکڑنے کے لیے ہوئے ہیں اور یہ ہی ہماری زندگی ہے اور یہاں ہی ہمارا اختتام ہے۔                                                


مچھلی گوادر کے لوگوں کی خوراک کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ یہ مچھلی اتنی کثرت سے کھاتے ہیں کہ ان کے ناشتے تک میں مچھلی ہوتی ہے پھر کبھی چاول اور کبھی مختلف پکانے کے طریقوں سے یہ مچھلی پکانے کے ذائقے بناتے ہیں۔                                                            
اگر مچھلی پکڑنے کے لئے بڑا جہاز ہو تو اس سے کمائی بھی زیادہ ہوتی ہے۔کیونکہ یہ گہرے پانیوں میں جا سکتا ہے اور تقریباََ ڈیڑھ سے دو ماہ میں واپس آتے ہیں تو ان کا استقبال کیا جاتا ہے اور پھر ایک دعوتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کبھی ایک کے  گھر اور کبھی دوسرے کے گھر۔                   
مچھیرے پاکستان نیوی کی بہت تعریف کرتے نظر آئے اس کی بنیادی وجہ نیوی کا  طوفانی موسم میں ان کی مدد کو آنا ہے۔ کئی مچھیروں نے بتایا کہ سمندر میں ان کو نیوی کے ہونے کی بہت ڈھارس ہے  اور وہ ان کے سلوک سے بھی خوش ہیں۔ چھوٹی کشتیوں کے مچھیرے ایک آدھ دن میں واپس آ جاتے ہیں ۔
ساحلی پٹی کے ان باسیوں میں بڑے کنبے کی اہمیت ہے کیونکہ کل ان کے بچوں نے والد کا ہاتھ بٹانا ہوتا ہے۔ عمومی طور پر اوسطاََ ایک گھر کے 8 سے  10 بچے ہوتے ہیں۔ بچے 4 سے 5 سال کی عمر سے ہی کمال تیراک ہوتے ہیں۔ مکران کے ان علاقوں میں خواتین کا بہت اہم رول ہے۔ خواتین گھر کے ہر بڑے فیصلے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ شادی ، رشتوں اور اس ہی طرح کے اہم معاملات میں ان کا اثر ہوتا ہے۔ خواتین میں پڑھنے کا رجحان بھی باقی علاقوں سے زیادہ ہے۔ ساحلی پٹی پر بسنے والوں میں مچھلی کے علاوہ دوسرے گوشت مثلاً بکری اور مرغی کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔                                                                           
کولڈ سٹوریج آنے کے بعد سے ان لوگوں کے کاروبار بہتر ہوئے ہیں کیونکہ مچھلی کراچی تک جاتی ہے اور کولڈ سٹوریج کی انڈسٹری میں اب بھی بہت گنجائش ہے۔ کچھ موقعوں پر یہ مچھیرے بڑے ٹرالروں کے آنے کی وجہ سے ان کے کاروبارپر اثر انداز ہونے کا گلہ کرتے نظر آئے۔ بڑے ٹرالر زیادہ مچھلی پکڑ لیتے ہیں جس سے ان کے لئے کم مچھلی رہ جاتی ہے اس کے علاوہ بڑے جال سے آبی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے جو مچھلی کی افزائش میں رکاوٹ بنتی ہے۔ انتظامیہ نے مچھیروں کی اس شکایت کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اب بڑے ٹرالریہاں نہیں آتے۔
ایک اور مسئلہ جو ان لوگوں کی سادگی سے پیدا ہوا ہے وہ ان کی زمینوں کا ملک کے دوسرے علاقوں سے آئے لوگوں کو بیچنا ہے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ مادی شعور سے اتنے آشنا نہیں تھے اور نہ ہی شاید اب ہیں  اس لیے انہوں نے اپنی زمین اونے پونے داموں بیچ دیں اور اب یہ ایک احساسِ محرومی کی وجہ بھی بن رہا ہے۔مچھیروں کو میں نے اپنی زندگی میں خوش اور مگن دیکھا۔ انھیں زیادہ کی خواہش نہیں ہے اور اس ہی لیے زیادہ مشقت بھی نہیں چاہتے۔یہاں کے لوگ اپنے علاقے اور ثقافت میں زیادہ مداخلت پسند نہیں کرتے اور اپنی ہی زندگی میں رہنا چاہتے ہیں۔ شاید یہ ایک اہم سوال ہے کہ جس عمل کو ہم ترقی کہتے ہیں، وہ مقامی لوگوں کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔ اس لیے ترقی کا تصور مقامی لوگوں کی سوچ سے مطابقت  رکھتے ہوئے ہو تو بہتری آ سکتی ہے اور یہ لوگ پھر اس ترقی کو اپنا جانیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقے میں ترقی کے حوالے سے ملے جلے جذبات ہیں۔                                                          
ایک انتہائی متاثر کن بات یہ تھی کہ جب میں نے مچھیروں سے پوچھا کہ وہ ہر روز مچھلی پکڑنے کے لیے جاتے ہیں تو انھیں احساس نہیں ہوتاکہ آج مچھلی شاید نہ ملے۔ تو اس پر انھوں نے کہا کہ یہ ہمارا یقین ہے کہ اللہ تعالی ہمیں رزق دے گا۔ ان کے اس پرُ زور اظہار پر مجھے اپنا یقین پھیکا پڑتا ہوا محسوس ہوا ۔ ان کا اللہ پر یقین کامل تھا۔ ان کا رازق پراعتماد قابل رشک تھا۔ وہ کہتے کہ ہم پیدا ہی مچھلیاں پکڑنے کے لیے ہوئے ہیں اور یہ ہی ہماری زندگی ہے اور یہاں ہی ہمارا اختتام ہے۔                   
گوادر اور اس کے گرد ِ ونواح کے لوگوں کو سمجھنے کے لیے سمندر کے کنارے رہنے والے لوگوں کے دنیا بھر میں کلچر کو سمجھنا ضروری ہے یہ لوگ آزادمنش اور زندگی کو روزانہ کی بنیاد پر گزارنے کے عادی ہوتے ہیں۔ ان کی خواہشاتِ زندگی محدود ہوتی ہیں اور شاید یہی ان کی زندگی میں خوشی کا باعث ہے ۔ شام کے وقت مرد حضرات کا محفل میں بیٹھنا ان کی پرانی ثقافت کا حصہ ہے۔ یہ لوگ ان آزاد پرندوں کی مانند ہیں جنھیں قید وبند پسند نہیں۔ اسی لیے شایدچیک پوسٹوں کے معاملے میں اس نزاکت کو سمجھنا ضروری ہے۔ گوادر کے لوگوں کے بہت سے رشتہ داراومان میں رہائش رکھتے ہیں اور ان کا آپس میں آنا جانا لگا رہتا ہے۔  ||   


[email protected]  

یہ تحریر 145مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP