قومی و بین الاقوامی ایشوز

یاد ہیں وہ دن تمہیں

میں نے 1947 میں تم سے کہا تھا۔۔۔ خدا کی قسم جب تک ہمارے دشمن ہمیں اٹھا کر بحیرہ عرب میں نہ پھینک دیں ہم ہار نہیں مانیں گے۔ پاکستان کی حفاظت کے لئے میں تنہا لڑوں گا۔ اس وقت تک لڑوں گا جب تک میرے ہاتھوں میں سکت اور میرے جسم میں خون کا ایک قطرہ بھی موجود ہے۔ مجھے آپ سے فقط یہ کہنا ہے کہ اگر کبھی کوئی ایسا وقت آ جائے جب پاکستان کی حفاظت کے لئے جنگ لڑنی پڑ جائے تو کسی صورت میں ہتھیار نہ ڈالیں۔۔۔ پہاڑوں میں۔۔۔ جنگلوں میں۔۔۔ میدانوں میں اور دریاؤں میں جنگ جاری رکھیں۔۔۔ تم سے کس نے کہہ دیا کہ میں چلا بھی گیا۔۔۔ نادانو! تم نے تو میرے سبزہ زار والے گھروندے کو اب جا کے بنایا ہے اور درو دیوار کو سبزمقدس رنگ میں اب جا کے نہلایا ہے۔ میں توا س تباہ حال بے درودیوار سے گھر میں ہمیشہ سے بیٹھا ہوا ہوں۔ وہ شقی القلب بدنصیب لوگ تو تمہیں جگانے آئے تھے۔ میرے ٹھکانے کو ملیا میٹ نہیں کر سکتے‘ میں تو ہر رات جاگ کر رب سے کہتارہا۔۔۔ یہ مسلمان ہیں۔۔۔ یہ تیرا مان ہیں۔۔۔ ان کو تو نے بسایا تھا۔ ایک زمین کھوج کر۔۔۔ ان کو تو نے عزت نفس کے ساتھ جینا سکھایا۔۔۔ مگر اب انہیں دوستوں اور دشمنوں کی پہچان بھی دے‘ ایمان بھی دے۔ اک نئی شان بھی دے۔ میں نے 15جون 1948کو تم سے کہا تھا۔ ہر شخص کو اپنے گاؤں اور قصبے اور شہر سے محبت ہونی چاہئے۔ اور پھر یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ہر شخص کو اپنے ملک سے اپنے قصبے یا شہر سے زیادہ محبت ہونی چاہئے۔ اور محبت کے تقاضے بھی سمجھائے تھے۔ کہ اب ہم سب پاکستانی ہیں۔ ہم نہ بلوچی ہیں نہ پٹھان ہیں نہ سندھی ہیں نہ بنگالی اور پنجابی ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ بجائے کسی اور نام کے صرف پاکستانی کہلانے پر فخر کریں۔ پھر تم کو کیا ہوا کہ تم نے فخر کے لئے دوسری راہیں تلاش کر لیں۔۔۔ صوبہ‘ ذات‘ برادری‘ دولت‘ پارٹی ‘ پالیٹکس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد ہے میں نے 17اپریل 1946کے مسلم کنونشن میں آپ سے کہا تھا۔۔۔ کردار کسے کہتے ہیں۔ کردار کامطلب ہے عزت نفس‘ خودداری‘ ارادے کی پختگی اور دیانت داری‘ ان تمام خصوصیات کا بدرجہ اتم موجود ہونا بلندئ کردار ہے۔ اور قوم کے اجتماعی مفاد کے لئے افراد کا اپنے آپ کو قربان کر دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا بلندکرداری ہے۔۔۔ تم نے بلند کرداری کا مفہوم ہی بدل کے رکھ دیا۔ تم سمجھ رہے ہو کہ اونچی چٹان پر کھڑا ہو کر بندہ بلند کردار ہو جاتا ہے۔ بلند کرداری کے لئے اپنے وجود کے اندر وفا کا ایک چراغ روشن کرنا پڑتا ہے۔ جس کی روشنی میں جذبے کو کھرے اور کھوٹے کی تمیز ہوتی ہے۔ دوست اور دشمن کو پہچان سکتا ہے۔۔۔ میں نے 21فروری 1948کو بری فوج کے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔ ہماری اس کے علاوہ کوئی خواہش نہیں ہے کہ ہم امن و امان کے ساتھ رہیں۔ دوسروں کو امن و امان سے رہنے دیں اور بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے عقیدے کے مطابق اپنے ملک کو ترقی دیں۔ عام انسان کی زندگی کو بہتر سے بہتر بنائیں۔ بے شک یہ بہت کٹھن کام ہے لیکن اگر ہم شوق اور خلوص سے کام کرنے کا عزم کر لیں اور ہم اپنی قوم کے اجتماعی مفاد کی خاطر بڑی سے بڑی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہو جائیں تو ہم اپنا نصب العین بہت جلد حاصل کرلیں گے۔۔۔ پاکستان تو ایمان‘ تنظیم اور اتحاد نے بنایا تھا۔۔۔ اے لوگو! وہ جنس نہیں ایمان جسے لے آئیں دوکانِ فلسفہ سے؟ تنظیم فطرتوں کی تعمیر کرتی ہے۔۔۔ اتحاد قوموں کو مضبوط کرتا ہے۔۔۔ یہ قدرت کا اٹل قانون ہے جو بہترین ہے‘ وہی باقی رہتا ہے کمزور مر جاتے ہیں۔۔۔ اپنی رجمنٹ پر فخر کیجئے۔۔۔ اپنی کور اور اپنے ڈویژن پر فخر کیجئے۔۔۔ اپنے پاکستان پر فخر کیجئے نہ صرف فخر بلکہ خود کو وقف کر دیجئے پاکستان کے لئے۔۔۔ پاکستان آپ پر انحصار کرتا ہے۔۔۔ اگر اس کی فوج کی کوئی عظمت اور شہرت ہے تو وہ آپ کے آباء و اجداد کی شجاعت اور عظمت کی وجہ سے ہے۔ آپ ان کے قابل اور فرمانبردار وارث بننے کا عہد کیجئے۔۔۔ ارے نادانو! تم سمجھتے ہو کہ میں کب کا جا بھی چکا۔۔۔ میں تو یہیں ہوں۔۔۔ اردگرد۔۔۔ سناٹوں اور محرابوں کی سانسیں سننے کا ہنرجان لو۔۔۔ میں تمہیں دشمن اور دوست کی پہچان کراتا رہوں گا۔ ہر محب وطن کے دل میں اتر جاتا ہوں۔ ہر اس بدکردار کو نمایاں کر دیتا ہوں جو پاکستان کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے۔۔۔ غلط بولتا ہے۔۔۔پاکستان کے خلاف لکھتا ہے۔۔۔ پاکستان کے خلاف سودا کرتا ہے۔۔۔ پاکستان کی جڑیں کاٹتا ہے۔۔۔ مجھے ڈھونڈنا ہو تو خانہ کعبہ کے اندر۔۔۔ ہر رات تڑپتے ہوئے دائروں اور سسکتے ہوئے زائروں میں دیکھا کرو۔۔۔ میں دعا مانگتا نظر آؤں گا۔ ہر اس پاکستانی کے دل کے اندر‘ اس کے آنسوؤں کے قطرے کے اندر۔۔۔ اس کے لہو کی بوند کے اندر جو اس نے اس پاک وطن کے لئے بہائی ہو گی۔ میرے بہادر اور پیارے بچو! میں آج 11ستمبر 2014کو آپ کو اپنی وہ تقریر یاد دلاتا ہوں جو میں نے 1939کے آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے اجلاس میں کی تھی۔ ’’مسلمانو! میں نے دنیا کو بہت دیکھا۔ دولت‘ شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے۔ اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی۔ اور مسلمانوں کی آزادی‘ تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض ادا کر دیا۔ میں آپ سے اس داد اور شہادت کا طلب گار نہیں ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل میرا اپنا ایمان میرا اپنا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے واقعی مدافعت اسلام کا حق ادا کر دیا۔ جناح تم مسلمانوں کی تنظیم‘ اتحاد اور حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا خدا یہ کہے کہ بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں علم اسلام کو بلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے۔ ’’خدا رحمت کندایں عاشقانِ پاک طینت را‘‘

یہ تحریر 29مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP