ہمارے غازی وشہداء

ہے سرمایہ افتخار میرا لہو

سہیل نے اپنی ماں کے ساتھ کیا ہوا آخری وعدہ پورا کیا اور عید سے پہلے ہی گھر پہنچ گیا فرق صرف اتنا تھا کہ سہیل شہید اپنے اُوپر سبز ہلالی پرچم اوڑھے ہوئے تھا۔

ماں ہمیشہ اپنی گود میں آنے والے بیٹے کو اُونچی سے اُونچی پوسٹ پردیکھنے کی متمنی ہوتی ہے‘ والدین کے لئے کبھی کوئی خیال اور خواب اس چیز سے خالی نہیں ہوتا کہ اُن کا بیٹا بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے گا، انجینئر بنے گا ، فوجی افسر بنے گا اور دنیا میں نام روشن کرے گا۔ اپنے لال کے سر پر سہرا بندھے دیکھتی ہے۔ پھر اُسے تصور میں پھلتا پھولتا دیکھتی ہے اور ہمیشہ اُسے درازئ عمر کی دُعا دیتی مگر کبھی اُسے لہو میں ڈوبا اور کفن میں لپٹا نہیں دیکھتی بلکہ ایسا تصور یا سوچ آتے ہی کانپ سی جاتی ہے ۔ مگر اس کے باوجود پاکستان کی اس دھرتی سے ابھی میجر عزیز بھٹی اور راشد منہاس جیسے لال اور اُن کا جذبۂ شہادت ختم نہیں ہوا۔لیفٹیننٹ سہیل بھی ایک ماں کا وہ راج دُلارا ثابت ہوا جس پردھرتی ماں فخرکرتی ہے۔ لیفٹیننٹ سہیل نے دھرتی پر مانسہرہ کے ایک متوسط گھرانے میں28جنوری 1987ء کو جنم لیا۔

 

سہیل کے والدِ محترم اب بھی انہیں والہانہ یاد کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ میرے ہاتھوں کی اُنگلیوں پر سہیل کا لمس اب بھی محسوس ہوتا ہے۔جب میرا ہاتھ پکڑ کو وہ مُجھے دُکان پر لے جاتا اور ہمیشہ پستول، ٹینک اور تلوار لینے کی ضد کرتا، پھر وہ ان کھلونوں سے کھیلتا اور ہونٹوں پر ہمیشہ یہ الفاظ ہوتے بابا میں دشمن کو ماروں گا بابا آپ رونا مت۔ پتا نہیں تم مُجھے کیا کہنا چاہتے تھے سہیل! یہ بات مجھے اب سمجھ آئی وہ پستول سامنے پڑی اب بھی میرا حوصلہ بڑھاتی ہے۔ تمھاری ایک ضد پستول خریدنے کی پوری کی اور ایک ضد تمھارے جذبے کے آگے ہار کر کیونکہ جن کے بیٹے اس جذبے سے سرشار ہوں وہ ہارا نہیں کرتے۔ اولاد کی محبت بہت سی جگہوں پر والدین کو کمزور کر دیتی ہے۔مگر جب سہیل جیسی اولاد ملے تو بابا کے دل پر صبر کا مرہم رکھ دیا جاتا ہے اور بابا فخر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو ایسے لال سے نوازا۔ لیفٹیننٹ سہیل (شہید) بطور کیڈٹ 18اپریل 2005ء کو پاکستان ملٹری اکیڈمی روانہ ہوئے اور 14اپریل 2007ء کو اپنی تربیت مکمل کر کے دس آزاد کشمیر رجمنٹ میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ کمیشن حاصل کیا اور اوکاڑہ چھاؤنی سے عسکری زندگی کا آغاز کیا۔11جولائی 2007ء میں اپنی یونٹ کے ساتھ عسکریت پسندوں کی سرکوبی کے لئے بنوں روانہ ہوئے۔ رمضان سے پہلے جب سہیل اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے مل کر رُخصت ہوا تو بہنوں اور والدین نے روتی آنکھوں مگر مسکراہٹوں کے ساتھ اُسے رخصت کیا اور وہ وکٹری کا نشان بناتے ہوئے اس وعدے کے ساتھ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا کہ چھوٹی عید سب کے ساتھ گھر پر کرے گا۔

 

10آزادکشمیر رجمنٹ کو ستمبر 2008ء میں بنوں سے باجوڑ جانے کا حکم ملا یہ رمضان کا مہینہ تھا 25دسمبر 2008ء کو لیفٹیننٹ سہیل بطور پلاٹون کمانڈر اپنی کمپنی کے ساتھ خار سے لوئی سم کی طرف روانہ ہوئے۔ 26ستمبر 2008ء، 25رمضان المبارک جمعۃ الوداع وہ دن ہے جب وہ دشمن کے ناپاک ارادوں کو روندتے ہوئے آگے بڑھے۔ دشمن سے دوبدو مقابلہ شروع ہوگیا۔ دشمن نے پہلے سے بہتر پوزیشن کا انتخاب کیا ہوا تھا اور اس کا فائر کافی کارگر تھا۔ تاہم لیفٹیننٹ سہیل اور ان کے سپاہیوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور جوش کے سامنے جلد ہی اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دشمن نے اپنی پوزیشن خالی کی اور پسپائی کا راستہ اختیار کیا۔ تاہم لڑائی جاری رہی۔ لیفٹیننٹ سہیل اپنے سپاہیوں کے ساتھ آگے بڑھتے گئے کہ اس اثنا میں دشمن کا فائر کیا ہوا ایک راکٹ ان کے سینے پر آ لگا۔ پاکستان کے اس عظیم بیٹے نے اﷲ اکبر کا نعرہ لگایا، کلمہ شہادت پڑھا اور جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ تاہم وہ اپنا مشن شہادت سے پہلے مکمل کر چکا تھا۔

 

ماں کی پُکار پر’’ جی‘‘ کہنے والا دھرتی کی پُکار پر کیونکر لبیک نہ کہتا کیونکہ بہادری اورشہادت کا جذبہ بچپن ہی سے خون میں شامل ہوتا ہے اور ماں کبھی اپنے بچے کو لاڈ و پیار کے باوجود بزدل نہیں بناتی۔ اُسے بہادری کا درس دیتی ہے اور اُسے اس جذبے سے آشنا کرتی ہے۔سہیل نے اپنی ماں کے ساتھ کیا ہوا آخری وعدہ پورا کیا اور عید سے پہلے ہی گھر پہنچ گیا فرق صرف اتنا تھا کہ سہیل شہید اپنے اُوپر سبز ہلالی پرچم اوڑھے ہوئے تھا۔ لیفٹیننٹ سہیل شہید کو اُن کی جرأت اور بہادری کے اعتراف میں ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔

یہ تحریر 32مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP