یوم یکجہتی کشمیر

ہندوستان کے 5 اگست2019ء اور بعد میں اٹھائے گئے اقدامات

مسئلہ جموں و کشمیر دنیا بھر کے خطرناک ترین تنازعات میں سر فہرست ہے۔ یہ مسئلہ کوئی علاقائی حدود کا نہیں بلکہ یہ مسئلہ کم وبیش ایک کروڑ لوگوں کی زندگیوں اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کامسئلہ ہے۔ یہ پاکستان اور بھارت جیسی دوجوہری طاقتوں کے درمیان تنازعے کی اہم ترین وجہ ہے۔ اسی مسئلے کے باعث دونوں ملک تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ مسئلے کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ دونوں ملکوں کی تاریخ۔ یہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر موجود سب تنازعات میں قدیم ترین ہے جو آج تک حل نہیں کرایا جا سکا اور اقوام عالم کے ضمیروں کی بے حسی کا بین ثبوت بھی ہے اور مرثیہ بھی۔ ایک ایسا انسانی المیہ جس پر زمین بھی روتی ہے اور آسمان بھی اور اگر نہیں روتا تو بین الاقوامی طاقتوں کا ضمیر نہیں روتا۔'ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیے!'کے مصداق پون صدی ہوچلی ہے بے حس ضمیروں کو جگاتے جگاتے کہ اٹھو! ایک کروڑ لوگوں کی زندگیوں سے گھنائونے کھیل کھیلنے والے ،ہندوتوا نظریہ کا برملا اظہار کرنے والے ، جبری و استحصالی نازی استحصالی ہتھکنڈوں سے لاکھوں لوگوں کو شہید اور برباد کرنے والے بھارت کو نکیل ڈالو۔ اس سے پہلے کہ قانونِ قدرت خود حرکت میں آئے ، اے روئے زمین پر حکمرانی و طاقت کے دعویدارو! کچھ تو انصاف و عدل سے کام لو اور اس زمین پر بے گناہ کشمیریوں پر کوہِ غم توڑنے والوں سے حساب لو اور نہتے لوگوں کی داد رسی کرو۔مانا کہ ہر طاقتور اپنے ہی مفادات پر سرگرمِ عمل ہے۔ سرِ تسلیم خم کہ اسے کسی اور کی پروا ہی نہیں لیکن خدا کے واسطے ذرا یہ بتلا دو کہ کیا اکیسویں صدی اور اس نئے نام نہاد چکاچوند روشنیوں والے ملینیم میں کبھی ضمیرِ عالم نہیں جاگے گا! کیا کبھی وہ مظلوموں کے ساتھ نہیں کھڑا ہوگا! کیا وہ کبھی حق وانصاف کی بات نہیں کرے گا! حیرت ہے اور شدید حیرت ہے!! 



مقبوضہ وادی جموں و کشمیر کے مظلوم و بے بس کشمیریوںپر بدترین ظلم و تشدد کی طویل ترین سیاہ رات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔  ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کی ان گنت فہرست ہے جن میں ایک مزید وحشیانہ اقدام5 اگست 2019کا ہے جس دن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کی دعویدار ریاست کی ظالم مودی سرکار نے اپنے ہی آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے مقبوضہ وادی جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت والی آئینی شق 370 کو غیر آئینی چلن سے منسوخ کر دیا اور پوری وادی اور اس کے ایک کروڑ لوگوں کی قسمتوں کو برباد کرنے کے اپنے مکروہ عزائم کی ساخت پرداخت کا بدبودار عمل شروع کر دیا۔ آیئے 5 اگست 2019 سے لے کر تاحال ہندوستان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کاایک سرسری جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ 
5اگست2019 کو بھارت نے پوری مقبوضہ وادیٔ جموں و کشمیر میں کرفیو کا نفاذ کیا اور پوری وادی کو عملاً ایک جیل خانہ بنا ڈالا۔ ذرائع ابلاغ ، موبائل سروس، نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی اور آرٹیکل 370 اور35اے کو ختم کر دیا گیااور کشمیر کو تقسیم کردیا گیا۔اس سیاہ دن سے دو روز پہلے بھارت سرکار نے تمام غیر ملکی اور ملکی سیاحوں کوجموں و کشمیر چھوڑنے کی ہدایت جاری کی اور ساتھ ہی10 ہزار کی اضافی فوجی نفری بھی مقبوضہ وادی میں بھیج دی۔ نام نہاد ممکنہ دہشت گردی کا اعلان کرکے بدترین خوف و ہراس کی فضا پیدا کی گئی تاکہ بھارت سرکار اپنے مکروہ ایجنڈے کو عملی جامہ پہنا سکے۔ 
اس وقت سے لے کر بھارتی فوج مظلوم کشمیریوں پر ریاستی تشدد کی پالیسی پر کارفرما ہے۔ 3 اگست کو ضلع بارہ مولا اور شوپیاں کا محاصرہ کیا گیا اور آپریشن کے دوران2 کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔ 8 اگست کو سیکڑوں کشمیریوں اور حریت رہنمائوں کو زیر حراست لے لیا گیا جبکہ احتجاج کے دوران کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات آئیں۔ واضح رہے کہ تمام نمایاں کشمیری حریت رہنما بشمول بزرگ سیاست دان سید علی گیلانی اور حریت فورم  کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کو پہلے ہی سے نظر بند یا جیل میں ڈالا ہوا تھا۔ 
21 اگست کو ضلع بارہ مولا میں دوران احتجاج بھارتی فوج سے کشمیری نوجوانوں کی جھڑپیں ہوئیں اور استبدادی فوج نے ایک بے گناہ کشمیری کو شہید کر دیا۔ جبکہ ایک زخمی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ اگست سے اگلا مہینہ یعنی ستمبر بھی کچھ کم ستمگر ثابت نہ ہوا۔ اس ماہ کی پندرہ تاریخ کو بھارتی فوج نے جعلی مقابلے میں 3 معصوم کشمیری نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیااور متعدد دیگر زخمی کئے گئے۔
فسطائی حکومت اپنے فسطائی پن میں اس قدر آگے بڑھ گئی کہ اس نے بھارت نواز کشمیری سیاست دانوں کو بھی نہیں بخشا اور ان کو بھی نام نہاد الزامات لگا کر قید و بند کا نشانہ بنایا۔ ان میں بھارت نواز کشمیری رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ بھی شامل تھے۔ پلوامہ کے فوجی کیمپ میں زیرحراست نوجوان 15سالہ یاور بٹ بھارتی فوج کی درندگی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔
27 ستمبر کو وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا جس میں انہوں نے مسئلہ جموں و کشمیر کا مقدمہ نہایت احسن انداز میں اٹھایااور عالمی برادری کاسویا ہوا ضمیر جگانے کی اپنی پوری سعی کی۔ انہوں نے نہ صرف بھارتی مظالم کا پردہ چاک کیا بلکہ عالمی برادری کو خبردار کیا کہ جب کرفیو اٹھایا جائے گا تو کشمیری احتجاج کریں گے اور ایک عظیم انسانی المیہ ہوگا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کو اس کی ذمہ داری کی یاد دہانی کرائی تاکہ وہ اس مسئلہ کو حل کرائیں۔ 
اکتوبر میں بھی بھارتی مظالم نے مزید3 کشمیریوں کی جان لے لی۔ جبکہ 28اکتوبرکو سوپور کے علاقے میں ایک بس اڈے پر دستی بم کا حملہ کیا گیا جس میں 15 افراد زخمی ہوئے۔ 
31 اکتوبر کو بھارت نے آرٹیکل370 کو باقاعدہ ختم کر دیا ۔اورمقبوضہ جموں و کشمیر کو دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کر دیا۔ علاوہ ازیں ایک متنازع نقشہ بھی جاری کیا گیا جس کی رو سے پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی شامل کیا گیاجس پر مودی سرکار کو شدید تنقید کا سامنا کر نا پڑا۔
بھارت نے جموں و کشمیر اور لداخ کو جغرافیائی طور پور الگ الگ قرار دیا اور ان کو براہِ راست بھارت کی وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام کر دیاگیا۔ نئے قانون کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کی نئی وفاقی اکائی کی ایک منتخب قانون ساز اسمبلی ہوگی جس کی مدت 5 برس ہوگی۔ اس کی سربراہی بھارت کی جانب سے مقرر کئے گئے لیفٹیننٹ گورنر کریں گے لیکن زیادہ اختیار نئی دہلی کے پاس ہی موجود ہوں گے۔
لداخ وفاقی حکومت کے براہِ راست زیرِ انتظام رکھا گیا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی ۔ اسے بھی ایک لیفٹیننٹ گورنرچلائے گا۔ وفاقی اکائیوں میں تقسیم کے بعد بھارتی لوک سبھا میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے 5 نمائندے ہوں گے جبکہ لداخ کا ایک نمائندہ نئی دہلی میں موجود پارلیمنٹ میں ہوگا۔ 
درج بالا اقدامات سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتاہے کہ کس طرح بھارتی استبدادی سرکار نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لاکھوں لوگوں کو بھیڑ بکریاں گردان کر ان کی قسمتوں کا فیصلہ کرنے کا اختیار اپنے پاس تصور کیا اور کس طرح ان کی مرضی اور صوابدید جانے بغیر ان پر جابرانہ تقسیم بھی نافذ کردی اور انہیں ان کے بنیادی حقوق سے بیک جنبشِ قلم محروم کردیا۔ ان کو اپنے قومی پرچم اورآئین سے بھی محرومی کا بھرپور احساس دلایا گیا۔ پوری ریاست میں بھارتی آئین کازبردستی نفاذ کردیا گیا۔ بھارت سرکار کی جانب سے مقرر کی گئی سول انتظامیہ کو وادی کا انتظام دے کر جی سی مرمو کو سول ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیاگیا۔
کشمیریوں سے ان کی شناخت چھیننے کا عمل یہیں ختم نہیں ہوجاتا ۔ بھارتی سرکار نے ریڈیو کشمیر سری نگر کا نام بھی بدل دیا۔ اب اس کا نیا نام آل انڈیا ریڈیو سری نگر رکھ دیا گیا۔ یاد رہے کہ ریڈیو کشمیر سری نگر کا نام تقسیم ہند سے قبل سے چلا آرہا تھا۔ ان تما م اقدامات سے پتہ چلتا ہے کہ بھارتی غاصب حکومت کی اولین ترجیح کشمیریوں کو ان کی تہذیبی و ثقافتی شناختوں سے یکسر محروم کرکے وادی پر اپنے ہندوتوا نظریئے کا برملا نفاذ ہے۔ 
نومبر کے مہینے میں سر ی نگرکی مرکزی مارکیٹ میں دستی بم کا ایک حملہ کیا گیا جس میں ایک شہری شہید  جبکہ17 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔
10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر مقبوضہ وادی میں یومِ سیاہ منایا گیا جس کا مقصد دنیا کو مقبوضہ وادی میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر متوجہ کرنا تھا۔ وادی بھر میں مکمل شٹر ڈائون کیا گیا۔ عالمی انسانی حقوق کے دن کے موقع پر اے پی پی کے مطابق کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن سے جاری شدہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ1989 سے لے کر10 دسمبر 2019 تک بھارتی ریاستی جبروتشدد کے نتیجے میں 95 ہزار471 معصوم کشمیریوں کو تہہ تیغ کیاگیا جن میں 7 ہزار135 کشمیری دورانِ حراست شہید ہوئے۔ مزید برآں بھارتی فورسز کی جانب سے قتل کے مذکورہ واقعات کے نتیجے میں 22 ہزار901 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 7 ہزار7 سو80 بچے یتیم ہوئے جبکہ اسی عرصے میں بھارتی فورسز نے 11 ہزار ایک سو 75 خواتین کی بے حرمتی اور ایک لاکھ 49 ہزار415 املاک کو تباہ کیا۔ 
31 دسمبر کو مقبوضہ وادی میں بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے 4مقامی رہنمائوں کو وادی کے دورہ سے قبل نظر بند کر دیا گیا۔ 
کشمیر میڈیا سروس کی تفصیلات کے مطابق سال 2019 میں بھارتی قابض افواج کی پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں 210 کشمیری شہید ہوئے جن میں 3 خواتین اور 9 بچے بھی شامل ہیں جبکہ46 خواتین کی بے حرمتی بھی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق 827 افراد پیلٹ گنوں سے زخمی ہوئے جن میں سے162 بینائی کھو بیٹھے۔ قابض فوج کی فائرنگ ، پیلٹ گنوں اور شیلنگ سے2ہزار 417 کشمیری زخمی ہوئے۔ بھارتی فوج نے حریت رہنمائوں، کارکنوں اور عام شہریوں سمیت 13 ہزار کشمیریوں کو گرفتار بھی کیا۔ 
سال2020 بھی کم قیامت خیر ثابت نہ ہوا۔ جنوری میں لاک ڈائون کو 150 روز مکمل ہوگئے تھے لیکن نئے سال کے پہلے روز بھی بھارتی ظالمانہ کارروائیاں جاری رہیں۔ ضلع راجوڑی میں ایک حملے میں بھارتی فوج کے2 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ 
2 جنوری کو لاک ڈائون کا 5ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی کو نظر بند کردیاگیاتھا جبکہ قابض بھارتی فوج کے سیاہ چہرے پہ مزید کالک ملی گئی کہ اس نے 3 مزید نوجوان شہید کردئیے۔ بھارتی دعوئوں کے برعکس محض جزوی طور پر ٹیکسٹ میسجنگ سروس بحال کی گئی۔ 
اسی روز کشمیر کے ضلع راجوڑی میں بھارتی فورسز نے ریاستی دہشت گردی کے دوران تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ 
7 جنوری کو بھارتی فوج نے ضلع پلوامہ کے علاقے میں فوجی کارروائی کے دوران ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا۔ 
9 جنوری کو یورپی ممالک کے سفیروں نے 'حکومتی سربراہی' میں مقبوضہ کشمیر کے دو روزہ دورے سے متعلق بھارت کی دعوت مسترد کر دی اور مطالبہ کیا تھا کہ انہیں لوگوں سے ملاقات کی مکمل آزادی دی جائے۔
10 جنوری کو بھارتی سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو ایک ہفتے میں مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019ء سے عائد تمام پابندیوں کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا حکم دیا۔ 
12 اور13 جنوری کو بھی بالترتیب تین اور ایک کشمیری موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے۔ 
15جنوری کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ 
اس دوران چین نے پاکستان کے اصولی موقف یعنی کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی استصوابِ رائے سے کیا جائے، کی بھر پور حمایت کی۔ 
25,22,21,20جنوری کو بھارتی فورسز کے ہاتھوں ضلع شوپیاں اور ضلع پلوامہ میں بے گناہ کشمیری شہید کئے گئے۔
25 جنوری 2020 کو مقبوضہ کشمیر کی لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں موجود کشمیریوں نے بھارت کے 71ویں یومِ جمہوریہ کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا۔ 
27 جنوری کو یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے بھارت کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف مقبوضہ کشمیر کے ساتھ الحاق اور ملک میں نئے شہریت قوانین کے نفاذ کے خلاف پیش کی گئی قراردار پر بحث اور رائے شماری کا فیصلہ کیا۔ جبکہ اسی روز ضلع کولگام میں بھارتی فوج نے ایک کشمیری نوجوان کو دوران کارروائی شہید کر دیا۔ 
ماہ فروری میں بھارت نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی ثالثی کی پیشکش ٹھکرا دی اور اپنے ظالمانہ اور استبدادانہ ہتھکنڈے جاری رکھے۔ 
مارچ کے مہینے میں بھارتی سرکار نے ممتاز حریت رہنما یاسین ملک پر بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں کے قتل کے بے بنیاد الزامات پر فردجرم عائد کردی۔ جبکہ اپریل کے مہینے میں بھارت کی مودی سرکار نے غیر مقامی باشندوں کو کشمیری شہریت دینے کا حقدار قرار دے دیا۔ اپریل ہی کے مہینے میں حریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں 9 کشمیریوں کو شہید کردیاگیا جبکہ 8 فوجی بھی مارے گئے۔ 9 اپریل کو بھارت نے لائن آف کنٹرول پر بلاجواز اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رکھیں جس پر پاکستان کی طرف اسے منہ توڑ جواب دیا گیا۔ 
مئی کے مہینے میں عام معصوم کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے خلاف بھی بھارتی انتظامیہ نے ظالمانہ کارروائیاں کیں۔ اس کے علاوہ کشمیریوں کی بے مثال جدوجہد آزادی کے خلاف بھارتی فورسز کی کارروائیوں میں شدت کا مظاہرہ کیا گیا۔ اور مزید ٥ کشمیری حریت پسند شہید کر دئیے گئے۔ 
جون کی8 تاریخ کو عظیم حریّت پسند برہان وانی کی برسی پر پورے مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ جبکہ جولائی کے مہینے میں کرونا وائرس کے نام پر پوری وادی میں لاک ڈائون کرکے مظلوم کشمیریوں کے دکھ دوگنا کر دئیے گئے۔ جولائی اسی طرح کے ظالمانہ اقدامات سے چور چور ہوا۔ جبکہ اگست کے مہینے میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل کا نیا قانون نافذ کیا گیا جس سے تمام خدشات سچ ثابت ہوئے کہ بھارت کشمیریوں کو کشمیر سے محروم کرنا چاہتا ہے۔ 
اگست ہی کے مہینے میں بظاہر کرفیو کا حکم پورے ایک سال کے بعد واپس لینے کااعلان ہوا لیکن عملاً سخت ترین پابندیاں اسی طرح برقرار رہیں۔ اسی مہینے میں کشمیری مزید مظالم کو نشانہ بنے اورپہلے 2 معصوم نوجوان بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ اور 29 اگست کو مزید10 کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ کشمیری طلبہ اس تمام عرصے میں سکولوں سے دور رہے اور اپنے مستقبل سے پریشان رہے۔ 
ستمبر کے مہینے میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں مزید تین کشمیری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان کے ساتھ ایک خاتون کو بھی مار ڈالا گیا۔19 ستمبر کو بھارتی فوج نے اعتراف کیا کہ اس نے 3 معصوم کشمیری نوجوانوں کو فرضی جھڑپ میں شہید کیا تھا۔ جبکہ ایک طالب علم اپنے ایڈمشن کے سلسلے میں گیا لیکن بے گناہ مارا گیا۔ 
اکتوبر میں بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام پر پوری وادی میں قابض افواج کے ساتھ نہتے کشمیری عوام کی جھڑپیں ہوئیں اور فسادات پھوٹ پڑے۔ ایک انگریزی اخبار کا بیورو آفس سیل کر دیا گیا۔ بھارتی سرکار نے اپنے ظلم اور بہیمانہ تشدد پر مبنی کارروائیاں تیز کر دیں اور اس کے تفتیشی ادارے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے دفاتر اور گھروں پر چھاپے مارنے لگے۔ جس پر اسے بین الاقوامی طور پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ 
31 اکتوبر کو مقبوضہ وادی میں اراضی کے قوانین کی تبدیلی پر پوری وادی سراپا احتجاج بن گئی اور شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی۔ 
نومبر میں بھارتی ہتھکنڈوں کو ایک سال تین ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود کشمیریوں کے جذبۂ حریت وآزادی کو دبایا نہ جا سکا۔
دسمبر میں مقبوضہ وادی میں انتخابات کا ڈھونگ رچایا گیا جو نہایت بری طرح ناکام ہوا اور اسے کشمیریوں نے بائیکاٹ کے ذریعے مسترد کردیا۔ اسی ماہ میں مقبوضہ وادی میں قبائلی آبادی کے گھروں کو مسمار کرنے کے مذموم دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا گیا۔
پاکستان نے اپنی ہر ممکنہ طورپر اخلاقی، قانونی، سفارتی مدد ظالم بھارتی اقدامات کے خلاف مظلوم کشمیریوں کے لئے وقف کی ہوئی ہے۔ اس نے عالمی سطح پر پورے شد ومد سے اس مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرانے کے لئے ہمیشہ آواز بلند کی ہے اور کررہا ہے۔
امریکہ میں نئے انتخابات کے نتیجے میں جوبائیڈن صدر منتخب ہوئے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے دورِ صدارت میں خود اور اقوامِ متحدہ سے مظلوم کشمیریوں کوظالم بھارتی حکمرانوںسے ان کا حقِ خود اداریت دلواتے ہیں یا نہیں۔ ||


مضمون نگار قومی وملی موضوعات پر لکھتے ہیں۔
[email protected]     

یہ تحریر 72مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP