قومی و بین الاقوامی ایشوز

ہندوستان میں اسلاموفوبیا ۔ محرکات، موجودہ حالات اور مستقبل پر منفی اثرات

یہ گزشتہ صدی یا برسوں پرانی بات نہیں بلکہ رواں برس 2020 میں 17 فروری کو بھارتی ریاست گجرات کے معروف وترقی یافتہ سمجھے جانے والے شہر راج کوٹ میں پیش آنے والا واقعہ ہے۔ جب مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کا جوان آکاش کو ٹیا سرپر سہرا باندھے گھوڑے پر سوار ہو کر بارات کے ساتھ دلہن بیاہنے جارہا تھا۔ اس کے گھوڑے کے سامنے باراتی جن میں اس کے نوجوان قریبی عزیزوں کے علاوہ فوجی دوست بھی شامل تھے جو اس کی شادی میں شرکت کے لئے  مقبوضہ کشمیر میں اپنی یونٹ سے چھٹی لے کر آئے تھے۔ شادیانے بجاتے ہوئے بارات آگے بڑھ رہی تھی کہ اچانک 30 سے 35 افراد پر مشتمل ایک گروہ نے دولہے پر ہلہ بول دیا۔ اُسے گھوڑے سے نیچے کھینچ کر پٹائی شروع کردی۔ پہلے تو باراتی سمجھے کہ یہ حملہ آکاش کی ہونے والی دلہن کے کسی ناکام عاشق نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کیا ہے۔ لیکن حملہ آوروں میں عمررسیدہ افرادکو دیکھ کر آکاش کے فوجی دوستوں کا ماتھا ٹھنکا، انہوں نے شکل سے معزز نظر آنے والے ایک بڑی عمر کے حملہ آور سے ماجرا پوچھا تو وہ غصے میں گویاہوا کہ SARIPADA گائوں میں آباد دلتوں (نچلی ذات کے ہندو) کا چھوکرا گھوڑے پر بیٹھ کر خود کو ٹھاکر ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ کیا یہ نہیں جانتا کہ ہندو مت میں اچھوتوں اور دلتوں کو گھوڑے پر سواری کی اجازت نہیں ہے۔ مذہبی روایات کا ذکر آتے ہی آکاش کے فوجی ساتھی بھی چپ ہوگئے۔ آکاش کے والدین نے حملہ آوروں کے آگے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی کہ وہ اپنے بیٹے کی باتوں میں آگئے تھے جو فوج کی وردی پہن کر خود کو اعلیٰ ذات کے ہندوئوں کے برابر سمجھنے لگا تھا۔ تھوڑی دیر میں میڈیا والے بھی کیمرے لئے موقع پر پہنچ گئے۔ آکاش کوٹیا پٹنے کے بعد دولہا کم اور مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے جبر کا شکار کشمیری نوجوان زیادہ لگ رہا تھا۔ بھارتی ٹی وی کے ایک نمائندے نے جب آکاش سے بات کرنا چاہی تو وہ رو پڑا۔ اس کا کہنا تھا کہ'' وہ مرجانا چاہتا ہے۔ وہ بارات لے کر کس منہ سے دلہن کے گھرجائے گا۔''
یہ سب کچھ نصف صدی قبل کے بھارت میں ہوتا یا بھارت کی کسی ریاست میں پس ماندہ جدیدجمہوری نظام سے نابلند ہندو پروہتوں کے چنگل میں پھنسے قبائل میں پیش آیا ہوتا تو دوسری بات تھی۔ لیکن یہ تو آج کے ترقی یافتہ دور میں بھارت کے شہر راج کوٹ میں دن دیہاڑے سب کے سامنے پیش آنے والا وقوعہ ہے جو ثابت کرتا ہے کہ بھارت جسے دنیا جمہوریت و سیکولر ازم کے حوالے سے یاد کرتی تھی سب دھوکا اور فریب تھا۔ جو بھارتی حکمرانوں، اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا  پوری دنیا کو1947 میں آزادی کے بعد سے دیتے چلے آرہے تھے۔ مقبوضہ کشمیر پر اکتوبر1949 میں قبضہ بھارت کے جمہوریت وسیکولرنواز لوگوں نے نہیں بلکہ برہمن حکمرانوں نے کیا تھا جو اقوامِ متحدہ میں کشمیریوں کو خود ارادیت کا حق دینے کا وعدہ کرکے آئے اور پھر اس سے انکاری ہوگئے۔ انہی جمہوریت کے چیمپیئن، بھارتی حکمرانوں نے ستمبر1948 میں برصغیر کی سب سے دولت مند مسلمان اکثریتی آبادی پر مشتمل ریاست حیدر آباد دکن پر حملہ کرکے  ہزاروں مسلمانوں کا قتلِ عام کرنے کے بعد ریاست پر قبضہ کرلیا۔



آج بھارت کا چپہ چپہ ہندو انتہا پسندوں کے کنٹرول میں ہے۔ مسلمانوں کو ہندو مت اختیار کرنے، بھارت چھوڑنے یا مرنے کے لئے تیار رہنے کی صرف دھمکیاں ہی نہیں دی جارہیں اس پر عمل بھی شروع کردیاگیا ہے۔ کبھی گائے کا گوشت کھانے ، گائے کی خریدو فروخت جیسے الزامات لگا کر مسلمانوں کو بہیمانہ تشدد کے ذریعے قتل کرنے جیسے گھنائونے جرائم کا ارتکاب کیا جاتا تھا۔ اب اس کی جگہ کرونا وبا پھیلانے کے الزام نے لے لی ہے۔ یہ سب بھارت کو ہندو ریاست میں بدلنے کے لئے استعمال کئے جانے والے ان حربوں کی جدید شکل ہے جس کی بنیاد ہندو انتہا پسندوں نے 1925 میں راشٹریہ سیوک سوایم سنگھ فاشسٹ تنظیم کے قیام کی صورت میں رکھی تھی۔ اس تنظیم کے انتہا پسند پیروکاروں کو کانگریس جماعت اپنے اقتدار کے لئے روزِ اول سے استعمال کرتی چلی آرہی ہے۔ جس پر آر ایس ایس کی قیادت نے کبھی اعتراض نہیں کیا۔ اس کا معاوضہ برسرِ اقتدار کانگریس جماعت بھارت کی مختلف ریاستوں یا بڑے شہروں میں ہر دوچار برسوں بعد پھوٹ پڑنے والے مسلم کش فسادات کے بعد ہندو بلوائیوں کے خلاف مقدمات قائم نہ کرنے کی صورت چکاتی رہی۔ کانگریس  جماعت کس قدر انسان دوست ، جمہوری اقدار اور اصولوں پر کار بند کرنے والی جماعت تھی اس کا اندازہ جون1984 میں آپریشن بلوسٹار کے نام سے امرتسر میں سکھوں کے مقدس مرکزی گورد وارے گولڈن ٹیمپل پر ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ کئے گئے حملے سے کیا جاسکتا ہے۔ تین روز تک جاری رہنے والے اس آپریشن میں گوردوارے کے اندر موجود سیکڑوں عورتوں ، بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں کو بے دردی سے قتل کرنے اور ان میں سے بے شمار کی لاشوں کو غائب کرانے کے بعدجب31 اکتوبر1984 کو بھارتی وزیرِاعظم  اپنے ہی سکھ سکیورٹی گارڈکے ہاتھوں ماری گئی تو اس کا انتقام لینے کے لئے ''ہندو مسلم، سکھ اور عیسائی، سب کے سب ہیں بھائی بھائی''جیسے فلمی گیت تیار کرانے والے کانگریس جماعت لیڈروں، کارکنوں اور حکومتی وزراء سمیت سکھوں کے بڑے  پیمانے پر منظم انداز سے قتل ِ عام کے لئے باہر سڑکوں پر نکل آئی۔ یہی کچھ2002 میں اس وقت کے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کی نگرانی میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کی صورت میں دہرایا گیا۔ دونوں خونی واقعات میں سوائے مسلمانوں اور سکھوں کی تفریق کے باقی سب کچھ ایک جیسا تھا جو ثابت کرتا ہے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندتنظیم کو اندر خانے صرف بجرنگ دل یا ویشوا ہندو پریشد کی نہیں کانگریس کی بھی مکمل حمایت حاصل تھی۔
یہ آر ایس ایس کے لیڈران کی منصوبہ بندی تھی جنہوں نے بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کو بھارت کے اقتدار تک پہنچانے کے لئے جلد بازی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے انتہائی صبرو تحمل کے ساتھ اپنے مہرے آگے بڑھائے۔ بھارتی فوج  اور سکیورٹی کے دیگر اداروں ،بیورو کریسی اور عدلیہ میں اپنے کارکن داخل کئے ، ہمدرد پیدا کئے۔ بڑے کاروباری طبقات  میں اثر و رسوخ بڑھایا اور عوام کی سطح پر جڑیں گہری کرنے کے لئے 1990 میں 25 ستمبر سے لے کر 30 اکتوبر تک   آر ایس ایس کے سیاسی ونگ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس وقت کے صدر ایل کے ایڈوانی کی قیادت میں ''رام رتھ یاترا'' کا اہتمام کیاگیا۔ یہ بھارت کے سیکولرازم سے ہندو انتہا پسندی کی طرف منتقل کرنے کے لئے اختیار کی گئی حکمتِ عملی کا اہم موڑ تھا جس نے بھارت میں آر ایس ایس کے کارکنان کی دہلی میں اقتدار تک رسائی کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد کا کھیل بڑا آسان تھا۔ بھارت میں ہر پانچ برسوں بعد منعقد ہونے والے انتخابات،انتخابی نعرہ ، عوامی مسائل  کے حل کے بجائے مسلمان، اسلام اور پاکستان سے نفرت میں بدل دیا گیا۔ یہی نفرت جب بھارت میں انتخابات میں کامیابی کا ضامن بنی تو پھر آئندہ کا ہدف بھارت کو مسلمانوں سے پاک کرنے کا طے ہوا اور گزشتہ بھارتی انتخابات میں CAA,NRE,NPR کو منشور کا حصہ بنایا اور کامیابی کے بعد بی جے پی سرکار نے اس پر عملدرآمد کا آغاز کرتے ہوئے پہلی تلوار آسام میں 20 لاکھ بنگالی مسلمان مہاجرین کی بھارتی شہریت پر چلائی ۔ ساتھ ہی بھارتی وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے اعلان کردیا کہ آسام و مغربی بنگال سے تین کروڑ بنگالی مسلمان مہاجرین کی شہریت ختم کی جارہی ہے۔ اس کے بعد پورے بھارت میں سب کے لئے رجسٹریشن کے نئے قانون کے تحت اندارج کرانے کا اعلان ہوا  جس نے بھارت میں60 فیصد کے قریب نچلی ذات کے ہندوئوں کے بھی اوسان خطا کردیئے کیونکہ ان میں سے اکثریت  اچھے کاروبار و تعلیم اور بیرون ملک چھوٹی بڑی ملازمتوں کے ذریعے حاصل شدہ آمدن کے بل بوتے پر اپنی نچلی ذاتوں کو خوشحالی میں کامیابی کے ساتھ چھپاتی چلی آرہی تھی۔ نئے رجسٹریشن قوانین کے بعد ان کا حشر بھی نچلی ذات سے تعلق رکھنے کے باوجود گھوڑے پر سواری کا شوق رکھنے والے فوجی جوان آکاش کو ٹیا جیسا ہوانے والا ہے۔ تاہم یہ سب اتنا آسان نہیں ۔ بھارت میں مسلمانوں کا احتجاج  پہلے ہی جاری تھا جو کرونا وبا کی وجہ سے پس پشت چلاگیا۔ اس بجرنگ کا پھر سے آغاز ہونے جارہا ہے۔ جس میں نچلی ذات کے ہندو بھی مسلمانوں کے ساتھ شامل ہیں۔یہ ان کی مجبوری بھی ہے کیونکہ مردم شماری میں ان کا اچھوت ثابت ہونا ہندو ریاست کو ان کے شہری حقوق و دیگر ذمہ داریوں سے آزاد کردے گا۔ ریاست ہندو عقائد کے مطابق اچھوتوں کو تعلیم و صحت اور ملازمتیں دینے کی پابند نہیں رہے گی۔  یوں صرف مسلمانوں کو ہی نہیں اپنے دھرم میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے ہندوئوں کے خلاف بھی برسرِ اقتدارِ اعلیٰ ذات کے انتہا پسند ہندو ایک بڑی گھنائونی سازش میں مصروف ہیں۔ جس پر عملدرآمد کے بعد شاید بھارت اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکے۔ فی الحال اقوامِ عالم بھارت میں بڑھتے ہوئے داخلی انتشار اور بھارت کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تنازعات کی سنگینی کا ادراک نہیں کرپا رہا۔ جو کہ داخلی مسائل سے اندرون ملک اور باہر کی دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے بھارت سرکار نے بجائے تنازعات کو حل کرنے کے ان میںمزید شدت پیدا کردی ہے۔ اقوامِ عالم کو سوچنا چاہئے کہ بھارت کی طرف سے خطے میںجنگ بھڑکانے کی کوشش کی گئی تو یہ بڑی جنگ میں تبدیل ہوکر پوری دنیا کی معیشت کو بربادی سے دوچار کرسکتی ہے جو کرونا وبا کی صورت میں پہلے ہی شدید دبائو کی حالت میں ہے۔
اب آتے ہیں بھارت میں ناسور کی طرح پھیلتے ہوئے اسلاموفوبیا کی طرف۔2014 کی بات ہے بی جے پی بھارت میں انتخابی معرکہ جیت چکی تھی۔ نریندرمودی کو وزیرِاعظم کے طور پر پارٹی کی طرف سے نامزد کیاجاچکا تھا۔ ہندوانتہا پسند بی جے پی کو ''بھارت ماتا کی جے''  قرار دے کر گائے کو گیندے کے پھولوں کے گجرے پہنا کر سڑکوں پر جلوس نکال رہے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ نریندر مودی وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد ''گائے'' کوقوم کی ماں کا درجہ دینے کا اعلان کرے۔ حلف اٹھانے کے بعد بطورِ وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے اس طرح کا اعلان سامنے نہ آنے پر ہندوئوں کے شدید احتجاج پر بی جے پی والوں نے اپنے ہندو ووٹروں کو تسلی دی کہ لوک سبھا کے پہلے اجلاس میں ہی اس حوالے سے قانون منظور کرلیا جائے گا۔ حکومت پر دبائو بڑھانے کے لئے دہلی میں آر ایس ایس کے چھ کارکنوں نے خود پر تیل چھڑک کر آگ لگا کر خود کشی کا ڈرامہ رچانے کی کوشش بھی کی تاہم انہیں بچا لیاگیا۔ اس موقع پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے اعلان کیا کہ بھارت کی نوجوان نسل کو آگاہ کیا جائے کہ ہمارا قومی نعرہ اب ''بھارت ماتا کی جے'' ہے۔ غیر ملکی تو چھوڑیئے خود بھارت کے بہت سے صحافیوں نے اس نعرے کا مطلب بطورِ ریاست بھارت کو ماں کا درجہ دینا سمجھا کیونکہ دوسرے روز انگریزی زبان میں شائع  ہونے والے اخبارات  نے اسی تاثر کے ساتھ موہن بھگوت  کے اعلان کو پیش کیا۔ جس پرآر ایس ایس نے وضاحتی بیان جاری کیا تو بہت سے بھارتی دانشوروں کا ماتھا ٹھنکا کہ آر ایس ایس  بھارت میں نیا کھیل کھیلنے جارہی ہے۔ کیوںکہ آر ایس ایس نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ یہ نعرہ اب بھارت کے تمام شہریوں کو لگاناہوگا۔
لوک سبھا کا اجلاس ہوا تو وزیراعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ '' ہر ریاست کا ایک مذہب ہوتا ہے تو بھارت کا بھی ایک مذہب موجود ہے۔ '' اس کا یہ کہنا تھا کہ لوک سبھا''بھارت ماتا کی جے''  کے نعروں سے گونج اُٹھی۔ بی جے پی کے ایک رکن نے حیدر آباد سے منتخب ہوکر آنے والے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین جماعت کے سربراہ اسدالدین اویسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سپیکر کو آگاہ کیا کہ اویسی بھارت ماتا کا نعرہ نہیں لگا رہے۔ جس پر اسدالدین اویسی نے جواب دیا کہ وہ یہ نعرہ کبھی بھی نہیں لگائے گا چاہے اس کی گردن پرخنجر ہی کیوں نہ رکھ دیاجائے۔ جیت کے نتیجے میں چُور بی جے پی کے اراکین اویسی کی طرف سے اس طرح کے جواب کے لئے تیار نہیں تھے۔ اس کے خلاف نعرے شروع ہوگئے۔ اویسی کو غدار قرار دے کر اس کو بھارت سے باہر نکالنے، اس کی شہریت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ اویسی نے جواب دیا کہ بھارت کے آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ بھارتی شہری بھارت ماتا کا نعرہ لگانے کا پابند ہے۔ بھارتی لوک سبھا کا اجلاس شور شرابے میں ختم ہوگیا۔ گائے کو بھارتی قوم کی ماں کا درجہ دینے کا اعلان بھی بیچ میں رہ گیا۔ لیکن لوک سبھا میں بی جے پی کے اراکین نے اپنے ہندوتوا کے حامی ووٹروں کو دکھادیا کہ وہ گائے کو ماں قرار دینا چاہتے تھے، لیکن بھارتی مسلمان اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
 اس کے بعد ہی بھارت میں راہ چلتے مسلمانوں کو پکڑ کر ان سے '' بھارت ماتا کی جے'' کے نعرے لگوانے، انکار پر تشدد اور پھر بات ''بولو جے شری رام'' تک جا پہنچی۔ گائے کا گوشت کھانے اور کاروبارکرنے کے الزام میں مسلمانوں پر بہیمانہ تشدد اور قتل نے آہستہ آہستہ ہندو انتہا پسندوں کے لئے کھیل کی صورت اختیار کرلی۔ پہلے چھوٹے شہروں کے پسماندہ علاقوں میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ بعد ازاں بڑے شہروں کی پُررونق سڑکوں پر مسلمانوں کے ساتھ یہ گھنائونا کھیل کھیلا جانے لگا۔ نریندر مودی کے پہلے دورِ اقتدار میں پانچ برسوں کے دوران بھارت کی مختلف  ریاستوں میں تشدد کے ہزاروں واقعات ریکارڈ ہوئے۔156 واقعات میں تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے مسلمان جوانوں کی موت واقع ہوگئی۔ ان تمام واقعات کو قاتلوں نے از خود ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے سوشل میڈیا پر وائرل کیا جس میں قاتلوں کو بآسانی پہچانا جاسکتاتھا۔ اس کے باوجود پولیس اور بھارت کا عدالتی نظام ہندوانتہا پسندوں کے سامنے بے بس نظر آیا۔ مسلمانوں کے خلاف بھارتی الیکٹرانک میڈیا پر باقاعدہ مہم کا آغاز کیاگیا۔ مسلمانوں کے بارے میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو بھانپتے ہوئے بھارتی ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے بھارت سرکار سے ملنے والے ایوارڈ واپس کرنا شروع کردیئے۔ ان میں عالمی سطح پر معروف شخصیات بھی شامل تھیں۔
ہندو انتہا پسندوں کی سفاکیت پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی چیخ اٹھیں۔ لیکن نریندر مودی اور اس کے حواری کسی کی سننے کو تیار نہیں تھے۔ اسلاموفوبیا ہندو انتہا پسندوں کے لئے انتخابات میں کامیابی کی ضمانت بن گیا لیکن اس کے ساتھ ہی ہندو انتہا پسندوں کے مسلمانوں کے خلاف مزید اقدامات کے لئے مطالبات بھی بڑھتے چلے گئے۔ انہیں مطالبات پر عملدرآمد کا وعدہ کرکے بی جے پی 2019 میں دوبارہ اقتدار میں آئی تو اس کا پہلا وار شہریت کے لئے رجسٹریشن  کا وہ سیاہ اور متنازعہ قانون تھا۔ جس نے مسلمانوں کو اپنی بقا اور شناخت کے لئے باہر نکلنے پرمجبور کردیا۔ فروری 2020 میں اسی احتجاج کے توڑ کے لئے دہلی میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔ یہ اسلاموفوبیا ہی تھا جس کے نتیجے میں مسلمانوں پر بھارت میں کرونا کے پھیلائو کا الزام لگا کر ان کی زندگی اجیرن کردی گئی۔ کرونا وبا کے خاتمے تک صورت حال کیا بنتی ہے یہ تو کوئی نہیں جانتا لیکن بھارت میں مسلمان اب مزید ظلم سہنے کو تیار نہیں، وہ ظالم ہندو انتہا پسند حکمرانوں کے سامنے کھڑے ہونے کی ٹھان چکے ہیں۔ بھارت کے خفیہ اداروں کی طرف سے مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق اسلاموفوبیا نے بھارتی مسلمانوں کو اس مقام تک پہنچادیا ہے جو بھارت کو تاریخ کی بدترین خانہ جنگی کی طرف دھکیل کر اس کے جغرافیے اور معیشت دونوں کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔


مضمون نگار  مختلف اخبارات کے لیے لکھتے ہیں۔

یہ تحریر 263مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP