قومی و بین الاقوامی ایشوز

ہندوستانی حکومت کے مذہبی تعصب کی انتہا۔ لو جہاد لا ایک مسلم کش لا 

 پڑوسی ملک بھارت نے جہاں ہندوانتہا پسندوں کوہر معاملے میں کھلی چھوٹ دے رکھی ہے وہاں اُنہیں شادی جیسے ذاتی اور نجی معاملوں میں دخل اندازی کرنے کی بھی کھلی اجازت ہے۔ آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے غنڈے کھلے عام ایسے جوڑوں کو ہراساں کرتے ہیں جن  میں سے ایک فریق نے اپنے مذہب کو چھوڑ کر اپنے جیون ساتھی کا مذہب اختیار کیا ہو۔ تقسیم کے وقت سے ہی بھارت کوایک ایسی سیکولر ریاست کا نام دیا گیا جہاں مذہب اور ذات برادری کو نجی معاملہ سمجھا جائے۔ لیکن در حقیقت بھارت میں سیکولرازم اب ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت ایسی خون آشام بلا بن چکی ہے جو اپنے شہریوں کی شہ رگ پر دانت گاڑے بیٹھی ہے۔



اتر پردیش، مدھیا پردیش، ہریانہ بھارت کی وہ ریاستیں ہیں جن میں بی جے پی کی تنگ نظر حکومتیں قائم ہیں۔ ان ریاستوں نے شادی کے لئے تبدیلی ٔ مذہب کو جرم قرار د یتے ہوئے قانون سازی کی آڑ میں اسلام دشمنی کے اپنے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا پروگرام بنایا ہوا ہے ۔ یہ ریاستیں ایک دوسرے کی تقلید کرکے انٹر فیتھ میرج کو روکنے کے لئے ودھی ورودھ دھرم سمپری ورتن پراتیشیدآدیادیش لارہی ہیں۔ بی جے پی ہی کے زیر اقتدار کرناٹک اور آسام بھی ان کا ساتھ دینے کو تیار بیٹھی ہیں۔اتر پردیش اس معاملے میں سب سے آگے نکلا ہوا ہے جس نے ان لا فل کنورژن آف ریلیجن آرڈیننس Unlawful Conversion of Religion Ordinance 2020  جسے عام زبان میں لو جہاد آرڈیننس یا لو جہاد لا کہا جارہا ہے اپنے یہاں سب سے پہلے لاگو کیا ۔ اَواخر نومبر2020 سے نافذالعمل ہونے والے اس قانون کے تحت ایسے مسلم مرد کو پانچ سے دس سال قید اور ہزاروں روپے جرمانے کی سزا ہے جس نے کسی غیر مسلم عورت کو مسلمان کرکے شادی کی ہو۔ ان کی شادی غیر قانونی قرار دی جائے گی جبکہ مسلمان مرد کی ضمانت بھی نہیں ہوسکتی یعنی ضمانت قبل از گرفتاری کو تو چھوڑ ہی دیجئے گرفتاری کے بعد بھی ضمانت کا کوئی چانس موجود نہیں ۔
اس کے علاوہ اس کے ساتھ ہی انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 506 اور 507 بھی حرکت میں آجاتے ہیں جو امن وامان خراب کرنے کی کوشش سے متعلق ہیں اور یوں ایک بے گناہ مسلمان لڑکا مجرموں کی صف میں کھڑا کردیا جاتاہے۔
   لو جہاد لا کے لاگو ہونے کے بعد پہلی گرفتاری بریلی میں عمل میں آئی ہے جہاں پولیس نے کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہوتے ہوئے بھی ایک مسلمان لڑکے کو ہندو لڑکی کے والد کی شکایت پر گرفتار کیا۔ حالانکہ لڑکی شادی شدہ ہے لیکن پھر بھی پولیس کا اصرار ہے کہ مذکورہ مسلمان لڑکا مبینہ طور پر ہندو لڑکی سے دوبارہ رابطہ کرکے اسے ورغلا کر اپنے ساتھ بھگا کر لے جانا چاہ رہا تھا کہ لڑکی کے والدین کو پتہ چل گیا اور انہوں نے ایف آئی آر کٹوادی۔ پولیس نے پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لو جہاد لا کی دفعات کے تحت بوڑھے ماں باپ کے اکلوتے سہارے کو گرفتار کرلیا۔  
 اس متنازع قانون کی آڑ لے کر مسلمان لڑکوں کے خلاف پرچے کاٹے جارہے ہیں نہ گہرائی میں جا کر تحقیقات ہورہی ہیںاور نہ ہی گواہان کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ بس لڑکی کے سرپرست ہونے کے دعویدارکے لئے اتنی شکایت کرنا کافی ہے کہ فلاں مسلمان لڑکے نے ہماری لڑکی کو شادی کا جھانسا دے کر مذہب کی تبدیلی کے لئے ورغلایا ہے۔  ایف آئی آر سرپرست کی طرف سے ہونا بھی ضروری نہیں لڑکی کے پچھلے دھرم سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص شکایت درج کرواسکتا ہے کہ ہماری ہم مذہب لڑکی نے محض شادی کرنے کے لئے اپنا دھرم چھوڑا ہے۔ تحقیقات کا بار پولیس پر ڈالنے کے بجائے نامزد مسلمان مرد پر بوجھ ڈال دیا گیا ہے کہ وہ خود کو بے گناہ ثابت کرے۔ اس کے علاوہ نام نہاد لو جہاد کو روکنے کے لئے یہ بھی شرط اس قانون کے تحت عائد کی گئی ہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو ایک مہینہ پہلے دو مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان انجام پانے والی شادی کی پیشگی اطلاع دینا لازم ہے اور ساتھ ہی تبدیلی مذہب کی ٹھوس وجہ بھی بیان کرنا ہوگی اس کے بعد اگر مجسٹریٹ مطمئن ہوجائے تو یہ شادی ہوسکتی ہے ورنہ نہیں ۔
  یہ متنازع اور کالا قانون بھارتی آئین کے آٹیکل 16،15،14 ، 21، 25 سے براہ راست متصادم ہے۔ آرٹیکل 14 مذہب، نسل، ذات برادری، جائے پیدائش اور صنفی بنیادوں پر کسی بھی قسم کے امتیاز کو روکتا ہے۔ آرٹیکل 15 اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ریاست مذہب، نسل، ذات برادری، جائے پیدائش اور صنف کی بنیاد پر کسی شخص سے کوئی امتیاز نہیں برتے گی نہ ہی اسے ان بنیادوں پر کوئی کام کرنے سے روکے گی۔ آرٹیکل 16 تمام شہریوں کے لئے زندگی کے تمام شعبوں میں یکساں مواقع پیدا کرنا یقینی بناتا ہے۔ آرٹیکل 21 کو بھارت کے آئین کا دل بھی کہتے ہیں۔ اس کی رو سے کسی بھی شہری کی زندگی اور شخصی آزادی سلب نہیں کی جاسکتی۔ قانون دان آرٹیکل 21کی تشریح کرتے ہوئے انسانی وقار، جینے کا حق، صحت اور صاف ماحول میں زندگی گزارنے کا حق ، جسمانی اعضا کو کاٹنا ، شہریوں کے بلا روک ٹوک باہمی رابطوں اور گھلنے ملنے کے حق وغیرہ کو بھی شامل کرتے ہیں۔ آرٹیکل25بھارت کے تمام شہریوں کو آزادی کے ساتھ اپنے مذہب کی پیروی کرنے کا حق دیتا ہے۔ ان کے علاوہ لوجہاد لا آئین کے آرٹیکل 29 سے بھی متصادم ہے جو اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ کیا بھارت کے قانون دان اور اعلیٰ عدالتیں بی جے پی کے ہاتھوں بلیک میل ہوچکی ہیں کہ ایسے قانون کو نافذ کرنے کی اجازت دے رہی ہیں جو انڈیا کے آئین کی صریحاً خلاف ورزی کررہا ہے۔اگر ایسا نہیں ہے تو یا توجانتے بوجھتے اس جرم میں شریک  ہیں  یا مصلحت سے کام لے رہی ہیں یا پھربھارت 'بناناریپبلک 'بن گیا ہے جہاں آئین نام کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ  وہاں حکومت کے نام پر صرف انتہا پسند جتھے کا راج ہے جو لوگوں کے نجی معاملات میں بے جا مداخلت کرکے انسانی حقوق پامال کررہا ہے اور اقلیتوں کی نسل کشی کے در پر ہے۔
حالانکہ الٰہ آباد کے ہائی کورٹ نے نجی معاملات میں مداخلت کے اس چلن کو غلط قرار دیا ہے۔سلامت انصاری اور پریانکا (عالیہ۔اسلامی نام) کے کیس میں معزز بنچ نے ریمارکس دئیے کہ کہ اگر دو ہم جنس پرستوں کو ساتھ رہنے کی اجازت دی جاچکی ہے تو پھر کسی فرد، خاندان یہاں تک کہ ریاست بھی دو آزاد خود مختار لوگوں کو ساتھ زندگی گزارنے کے فیصلے پراعتراض نہیں کرسکتی۔ بنچ نے مزید کہا کہ سلامت انصاری اور پریانکا ہندو مسلم نہیں بلکہ دو آزاد بالغ لوگ ہیں جن کی خوشگوار ازدواجی زندگی کو جان بوجھ کرنشانہ بنایا جارہا ہے۔ (حوالہ: ڈویژن بنچ الہٰ آباد ہائی کورٹ )اس سے پہلے انڈیا کی سپریم کورٹ نے شافین جہاں اور ہادیہ کیس میں بھی فیصلہ اس جوڑے کے حق میں دیتے ہوئے کیرالٰہ ہائی کورٹ کا ان دونوں کی شادی ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔ لیکن  الٰہ آباد کورٹ کے اس فیصلے کے بعد لو جہاد لا کو جلدی جلدی پاس کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ بی جے پی عدلیہ کو پریشر میں رکھنا چاہتی ہے تاکہ عدالتیں فیصلہ ہندو متعصب ذہنیت کی خواہش کے مطابق دینے کی پابند ہوجائیں۔
 بھارت کے اپنے اندر سے لوجہاد لا کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ صحافی،ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ غرض ہر طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جن کا ضمیر ابھی زندہ ہے، انسانی حقوق کے خلاف نافذ شدہ اس آرڈیننس کی مذمت کررہے ہیں لیکن ان کی آواز طاقتور دائیں بازو کی متعصب ذہنیت کے آگے ہلکی پڑ رہی ہے۔
 اس اندھیر کھاتے کی بد ترین مثال لکھنؤ میں دیکھنے کو ملی جب ایک بائیس سالہ ہندو لڑکی اور چوبیس سالہ مسلمان لڑکے کی شادی جو کہ ان دونوں کے خاندانوں کی موجودگی میں باہمی رضامندی سے ہورہی تھی، محض ایک انتہا پسند مقامی ہندو لیڈر کی شکایت پر روک دی گئی اور پولیس نے ان دونوں خاندانوں کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا تحریری اجازت نامہ لانے کا حکم دیا۔ کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ کیا یہ جان بوجھ کر مسلمان اقلیت کو نشانہ بنانے کا کھلم کھلا مظاہرہ نہیں؟ کیا یہ عورتوں کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں؟ کیا بھارتی ناری کو اپنا جیون ساتھی چننے کے لئے مجسٹریٹ کی اجازت درکار ہے؟ کیا دو آزاد خود مختار بالغ لوگ آر ایس ایس کے غنڈوں سے آشیرواد لے کر اپنی نئی زندگی شروع کیا کریں؟ 
 کوتاہ نظربھارتی عیسائی ودھی ورودھ دھرم سمپری ورتن پراتیشید آدیادیش کے نفاذ پر بغلیں بجا رہے ہیں کہ اس قانون کے بننے سے کرسچن لڑکیوں کی غیرعیسائی لڑکوں سے شادی کی روک ہو سکے گی لیکن تاریخ لکھے گی کہ اس قانون میں ترمیم ہوئی اور پھر یہ تمام سزائیں عیسائی لڑکوں پر بھی لاگو ہوئیں۔ عقل کہتی ہے کہ ایسا ہوگا کیونکہ آر ایس ایس مسجد اورچرچ کو بلا تفریق جلادیتی ہے۔ یہ وہ بھیڑیے ہیں جنہیں اپنے ایجنڈے ہندومت کے آگے سب ہیچ نظر آتا ہے۔ جب ہماچل پردیش میں بھی اسی طرز کا قانون نافذ ہوا تب بھی کسی نے اس کے خلاف مؤثرآواز نہیں اٹھائی تھی اور یہ ہی وہ ٹیسٹ کیس تھا جس کی بنیاد پر آج ایسے قوانین بن رہے ہیں ۔ اگر اس وقت اس امتیازی قانون کے آگے بند باندھا گیا ہوتا توآج کئی ہنسی خوشی زندگی گزارنے کا خواب دیکھنے والے معصوم لوگ یوں تھانے کچہری میں رسوا نہ ہورہے ہوتے۔
مسلمانوں پر غیر مسلم لڑکیوں کو ورغلا کر شادی کا جھانسہ دے کر مسلمان بنانے کا الزام لگانے والے مودی سرکار کے غنڈے اور ان کے حواری یہ بھول گئے کہ نچلی ذات کے ہند و ذات برادری کی بنا پر کئے جانے والے ہتک آمیز سلوک کے باعث ہندو دھرم چھوڑتے چلے جارہے ہیں۔ وہ یا تو مسلمان ہوجاتے ہیں یا عیسائی۔ 
لو جہاد لا مودی کے فاشسٹ رویے کا عکاس ہے۔ یہ نازی ازم کے نیورمبرگ لاز  (Nuremberg Laws)کی پوری پوری نقل ہے۔ نازی جرمنی میں یہ دو قوانین 1935 میں جرمنوں کی نسل کو غیر جرمن خون کے اختلاط سے محفوظ رکھنے کے لئے بنائے گئے تھے۔ یعنی کوئی یہودی کسی جرمن عورت سے شادی نہیں کرسکتا تھا اور اگر ایسی کوئی شادی ہوئی ہو تو اس قانون کی زد میں آکر وہ ختم ہوجاتی تھی اور اس جرم میں مرد کو سزا بھگتنی پڑتی تھی۔ پہلے پہل یہ قانون صرف یہودیوں کے لئے تھا بعد ازاں اس میں ترمیم کرکے اس کا دائرہ کار مزید قوموں تک پھیلا دیا گیا تھا۔  نیورمبرگ لاز ہٹلر کی نسلی برتری اور نسلی  امتیاز کی اختراع میں سے ایک تماشہ تھا جس نے جرمنی میں رہنے والے غیر جرمن لوگوں میں خوف و اضطراب پیدا کردیا تھا۔
نریندر مودی آج کا ہٹلر ہونے کی ہر شرط پوری کرتا ہے۔ اس کی ہر ہر پالیسی فاشسٹ اصولوں کی آئینہ دار ہے۔ مقبوضہ کشمیر پر جابرانہ قبضہ، انڈیا میں رہنے والے مسلمانوں پر ظلم و ستم ، ان پر عرصہ حیات تنگ کردینا۔ اور اب یہ لوجہاد لا ۔ یہ سب کچھ مودی کی وہ سوچ ہے جو اس نے نازی جرمنی سے مستعار لی ہے۔ انہی کی طرح مودی پر بھی بھارت مہان، ہندو نسل مہان اورہندوستان  سے غیر ہندوؤں کو نکال کر اسے پوتر کرنے کا خبط سوار ہے۔
مودی کے بھارت میں اقلیتیں جتنی غیر محفوظ آج ہیں پہلے کبھی نہ تھیں۔ انتہا پسند ہندو سڑکوں پر دندناتے پھرتے ہیں اور غیر ہندو بھارتیوں کی تذلیل اور تضحیک کرتے ہیں لیکن کوئی انہیں پوچھنے والا، روکنے والا نہیں۔ اکھنڈ بھارت کے خیال کی طرف اٹھتا ہر قدم گاندھی کے بھارت کو بحر ہند میں غرق کرتا جارہا ہے۔ بنیاد پرست آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے محدود سوچ کے مالک انتہا پسند ہندو غنڈے ریاست کے اندر ریاست کھڑی کرچکے ہیں لیکن دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
ہندوستان کی کل آبادی کا چودہ فیصد حصہ وہاں رہنے والے مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے بھی تقریباً پچاس فیصد مسلمان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان پر تعلیم، صحت، نوکری کے دروازے پہلے ہی بند ہیں۔ دائیں بازو کے متعصب بنیاد پرست انتہا پسند ہندو آئے دن مسلمانوں کو سر عام تشدد اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ پولیس کی سرپرستی میں ان کا قتل عام ہوتاہے۔ وہ ماورائے عدالت قتل کئے جاتے ہیں۔ ان کے گھر اور مساجد محفوظ نہیں۔ ایک خوف اور خطرہ ہے جو مستقل ان کے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ اس گھٹی ہوئی فضا میں ان لافل کنورژن آف ریلیجن آرڈیننس یعنی لو جہاد لا کا لاگو ہونا بھارتی مسلمانوں کی سسکتی ہوئی آزادی اور تشخص کو بھی چھین لینے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہ مسلمانوں کے خلاف منظم سازش ہے جسے مودی سرکار انتہائی گھناؤنے انداز میں آگے بڑھا رہی ہے۔ ہریانہ اور اترپردیش پہلے ہی مسلمانوں کے لئے خطرناک ترین علاقے ہیں اب بھی مسلم دشمنی میں یہ دو ہاتھ آگے ہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتر پردیش کے انتہا پسند وزیر اعلیٰ یوگی آدتیاناتھ کو اس کے اینٹی مسلم خیالات اور مسلم کش پالیسیوں کے باوجود  2024  میں انڈیا کے وزیراعظم کی طرح پروجیکٹ کیا جارہاہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے موصوف کو ہندو مسلم دشمنی رکھنے والے صفِ اول کے لیڈر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرتے ہوئے کئی بار امن وامان کی فضا خراب کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔ یہ متعدد بار بھارتی مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے رہے ہیں۔ ایک ہندو لڑکی کے بدلے سومسلمان لڑکیاں جیسے انتہائی متنازع بیان دے کر ہندو مسلم جذبات کو بھڑکانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ بیمار ذہنیت کے مالک یوگی آدتیاناتھ مساجد میں ہندو دیویوں کی مورتیاں نصب کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کرچکے ہیں۔ ایسے انتہا پسند حکمرانوں سے اور توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے لیکن کروڑوں افراد پر مشتمل تجارتی منڈی کو کھونے کے ڈر سے دنیا پھر بھی چپ سادھے بھارتی مسلمانوں کو ہندوتوا کی بھٹی میں جھونک رہی ہے  ۔
 دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار بھارت اپنی جنتا کو بھی نہیں بخشتا۔وہ مذہب اور شادی پر پابندیاں لگا کر لوگوں کی شخصی آزادیاں اور حقوق غصب کررہا ہے۔ علاقے کا تھانیدار بننے کے چکر میں سرحد کے پار جھوٹے آپریشن کے جشن منانے پر بھارت کی جگ ہنسائی پہلے کیا کم ہوئی ہے کہ اب سرکاری سرپرستی میں انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ڈیکلریشن کی بھی خلاف ورزی شروع کردی گئی ہے۔ دیکھتے ہیں کب بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں کا ضمیر بیدار ہوتا ہے کیونکہ اگر انٹرنیشنل کمیونٹی بھارت میں مذہبی شدت پسندی کو اب بھی لگام نہ ڈال پائی تو آنے والا وقت ہندوؤں کے ہاتھوں مسلمانوں کا جینو سائیڈ دیکھے گا جو آہستہ آہستہ وہاں بسنے والی ہر اقلیت کا مقدر بنے گا۔ 


مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 181مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP