متفرقات

ہم پاکستان کو کیسے عظیم تر بنا سکتے ہیں؟

نوجوان نسل کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتی ہے۔ قوموں پر جب بھی کبھی آزمائش کا دور آتا ہے تو نوجوان نسل اس آزمائش سے نکلنے کے لئے اپنا کردار ادا کر تی ہے۔ تحریکِ آزادئ پاکستان میں بھی نوجوانوں کا کردار ناقابل فراموش رہا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی نوجوانوں کے دل میں وطنِ عزیز کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا جذبہ موجزن ہے۔ اسی سلسلے میں ’ہلال‘نے ایک سروے کیا تاکہ ملکی ترقی اور استحکام کے حوالے سے نوجوانوں کے خیالات معلوم کئے جا سکیں۔ اس سلسلے میں جو خیالات ہم تک پہنچے ہیں وہ ہم اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

ذیشان ممتاز۔

(این ڈی یو اسلام آباد)

پاکستان14اگست 1947کو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا۔ اس ملک کے قیام کا مقصد اسلامی شعائر اور اقدار کی پاسداری ہے۔ پاکستان کو عظیم تر بنانے کے لئے سب سے پہلے اپنی مذہبی و ملی اقدار کی پاسداری ضروری ہے۔ اس کے علاوہ مخلص قیادت اور قانون کی عملداری بنیادی جزو ہیں۔ ملکی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بین الصوبائی ہم آہنگی کے علاوہ تعلیم کو عام کرنا اور اعلیٰ تعلیم تک آسان رسائی ترقی کی بنیادی شاہراہ ہے۔
 
رانا اطہر۔

(قائداعظم یونیورسٹی)

پاکستان کو عظیم بنانے کے لئے ہمیں اپنی ترجیحات کو بدلنا ہو گا۔ ملک کی ترقی کے لئے قوم کی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہم اداروں کے استحکام کی بات کرتے ہیں لیکن اداروں کو مستحکم کرنے کے لئے عوام کی سوچ میں بیداری لانا ضروری ہے جو کہ اداروں کے معمار ہیں۔ انسانی شعور میں بدلاؤ کے لئے علم و ادب اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دھرتی یہ پاکستان کی ہے
غور سے دیکھو دُنیا والو!
دھرتی یہ پاکستان کی ہے
شان ہے اس کی سورۂ رحماں
دھرتی یہ پاکستان کی ہے
ہیرے اس میں، موتی اس میں
لعل، یاقوت، مرجان کی ہے
غور سے دیکھو دنیا والو!
دھرتی یہ پاکستان کی ہے
چشمے اس کے نغمے گاتے
جھرنے اس کے گیت سُناتے
پنجاب، خیبر، مہران و مکران
کشمیر و بلتستان کی ہے
غور سے دیکھو دنیا والو!
دھرتی یہ پاکستان کی ہے
نہ سمجھو مجبور و کاہل
ہم تو ہیں تقلید کے قابل
مُٹھی بھر ہیں پھر بھی غالب
شان میرے ایمان کی ہے
غور سے دیکھو دُنیا والو!
دھرتی یہ پاکستان کی ہے
مٹی اس کی سونا اُگلتی
صبحیں چمکتی شامیں دمکتی
گیہوں، چاول، کپاس کی فصلیں
محنت میرے کسان کی ہے
غور سے دیکھو دُنیا والو!
دھرتی یہ پاکستان کی ہے
میجر زاہداسلام آرٹلری

 


عدیل خان۔

(ہزارہ یونیورسٹی)

پاکستان ہمیں بہت سی قربانیوں کے بعد ملا ہے اس کی حفاظت ہمارا اولین فریضہ ہے۔ اس ملک کا سب سے اہم اثاثہ نوجوان ہیں جنہوں نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔ملک کی بہتری کے لئے ہر شخص کو اپنے حصے کی ذمہ داری پوری ایمان داری سے ادا کرنی ہو گی۔ ہمیں اپنے ملک میں مثبت سوچ بیدار کرنی ہو گی۔ ہر شخص کو، خواہ وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو، اپنا کام پوری ایمان داری سے کرنا ہو گا۔
 
محمد یٰسین۔

(گجرات یونیورسٹی)

پاکستان کو عظیم تر بنانے کے لئے پاکستان کے لوگوں کو قانون کا پاسدار ہونا پڑے گا۔ اس قانون کو معاشرے میں ہر فرد پر یکساں لاگو کیا جائے اور ہر انسان کو یکساں اہمیت دی جائے۔ تو پھر ہر انسان ایک دوسرے کی عزت کرنا سیکھے گا اور پاکستان خودبخود عظیم تر بن جائے گا۔ ہر فرد کو چاہئے کہ وہ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔ کیونکہ قانون ملکی ترقی کے لئے بنایا جاتا ہے۔ ہر کسی پر قانون لاگو ہو گا تو سب کچھ خوب سے خوب تر اور عظیم سے عظیم تر ہوتا چلا جائے گا۔
 
محمد سعد۔

(ایئر یونیورسٹی)

اگر ہم سب اپنا اپنا کام ایمانداری کے ساتھ کریں تو ہم اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے کلچر کو بھی فروغ دینا چاہئے۔
 
حافظ ساجد نذیر۔

(یونیورسٹی آف سرگودھا)

جب حکومت کرپشن سے پاک دیانتدار اور اﷲ سے ڈرنے والی ہو گی تو ملک میں نوکریاں میرٹ پر ملیں گی انصاف کا بول بالا ہو گا ہر آدمی کو انصاف ملے گا۔ ہر آدمی ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا تبھی ہم ملک کو عظیم بنا سکیں گے۔ کسی بھی ملک کو عظیم تر بنانے کے لئے مخلص قیادت کا ہونا بہت ضروری ہے اور جو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی نعمتیں ہیں ان کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو ملک خود ہی عظیم تر بن جائے گا۔
 
کشمالہ رئیس۔

(علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی)

پاکستان کوعظیم تر بنانے کے لئے ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا۔ اگر ہم خود میں نظم و ضبط اور قانون کی پاسداری پیدا کرلیں اور قوم کا ہر فرد اپنی جگہ کام ٹھیک سے شروع کردے اور محنت کو اپنا شعار بنا لے، تو وہ دن دور نہیں جب قوم میں ایسے لوگوں کی کثرت ہوگی جو مثبت سوچ کے حامل ہوں گے۔ اور ایسے ہی لوگ قوموں کو ترقی سے ہمکنار کرتے ہیں۔
 
ردا مشتاق۔

(فاؤ نڈیشن یونیورسٹی)

پاکستان14اگست 1947 کو بڑی جدو جہد کے بعد وجود میں آیا۔اس وطن کے حصول میں ہمارے بڑوں کی بہت سی قربانیاں ہیں جنہیں ہم بھلا نہیں سکتے۔ پاکستان کو بہتر بنانے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے تعلیمی اداروں کو بہتر بناناہوگا۔ کیونکہ ’پڑھے گا پاکستان تبھی بڑھے گا پاکستان۔‘ پڑھنے سے ہی انسان میں اچھے اوربُرے کی تمیز اُجاگر ہوتی ہے۔ اس کے اندر شعور آتا ہے اور وہ عوام کے دُکھ درد کو سمجھ سکتا ہے۔پھر وہ ایک اچھااورایماندار لیڈر بن کر ملک کو بخوبی چلا سکتا ہے۔
 
فرح علی۔

(نمل یونیورسٹی)

پاکستان ایک ایسا عظیم ملک ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے لیکن صدافسوس یہاں پر رہنے والے لوگوں کو اس کی قدر نہیں۔ اگر ہم اس ملک کی قدرکریں اور اپنے وسائل کا صحیح استعمال کریں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ترقی کرنے سے روک نہیں سکتی۔ اگر یہاں پر رہنے والا ہر فرد اپنی ذمہ داری کماحقہ‘ نبھائے، ہر شخص دوسروں کا حق مارنے کے بجائے دوسروں کی مدد کرے، ہر فرد غلط کے خلاف ہو اور سچ کا ساتھ دے اور وقت کی قدر جانے تو ہمیں کامیاب قوم بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
 
سعدیہ خان۔

(پنجاب یونیورسٹی)

پاکستان اﷲ کا دیا ہوا ایک تحفہ ہے جو قدرتی دولت سے مالا مال ہے۔ یہ ایک ایسی ریاست ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آئی اور ہمیں چاہئے کہ اس کو مزید کامیاب بنانے کے لئے ایمانداری اور محنت سے کام کریں۔ ہر ادارے کو اپنے طور پر کرپشن کے خاتمے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ اس کے لئے ہمیں ذاتی طور پر بھرپور محنت کرنا ہوگی۔ جس قوم میں خود اعتمادی آ جاتی ہے وہ قوم ترقی بھی کرتی ہے۔ ہمیں قوم کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ تاکہ عوام ، حکومت اور ادارے مل کر کام کریں اور سب کا مقصد ایک ہی ہو کہ ہمیں اپنے ملک کو عظیم تر بنانا ہے ۔
 
شارزہ شکیل۔

(انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی)

پاکستان میری زمین، میرا وطن، میری چھاؤں اور میرا سکون ہے۔ہم سب نے اسے عظیم بنانے کے لئے مل کر کوشش کرنی ہے۔ہمارے اداروں اور افراد کو چاہئے کہ اپنے فرائض ایمانداری اور تندہی سے سرانجام دیں۔ پاکستان میں لیڈر شپ بلڈنگ کی ٹریننگ میں نوجوانوں کو دلچسپی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو ابتدائی کچھ سالوں کے بعد ہی سے لیڈر شپ کے فقدان کا سامنا رہا ہے ۔ لیڈر شپ کی ٹریننگ وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معیشت کی پالیسیوں پر بھی بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

یہ تحریر 40مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP