قومی و بین الاقوامی ایشوز

ہم سر پہ کفن باندھ کے چلتے ہیں

’’ میں صدق دل سے اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوص نیت سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا ۔۔۔اور یہ کہ میں پاکستان کی بری فوج میں رہ کر پاکستان کی خدمت ایمانداری اور وفاد اری کے ساتھ سر انجام دوں گا ۔۔۔ اور یہ کہ میں بری، بحری یا فضائی راستے سے جہاں بھی جانے کا حکم ملا‘ جاؤں گا۔۔۔ اور یہ کہ میں اپنے متعین افسران کے‘ قانون کے مطابق دئیے گئے تمام احکامات کی تعمیل اپنی جان کو درپیش خطرات سے بے نیاز ہو کر کروں گا ۔۔۔ اللہ میرا حامی و ناصر ہو۔۔۔ آمین!!‘‘ میں اس وسیع میدان کے لال انکلوژر کی تیسری رو میں اپنے بیٹے یاور کے ساتھ ایک نشست پر بیٹھی، اپنے جگر کے ٹکڑے نادر کو مائیک پر ابھرنے والی آواز کی تقلید میں۔۔۔ اپنے باقی ساتھیوں کے ساتھ ۔۔۔ وطن سے محبت کا عہد کرتے ہوئے سن رہی تھی۔ چھ سال پہلے۔۔۔ میں اسی میدان میں اسی طرح کی ایک نشست پر بیٹھی تھی، میرے دائیں طرف نادر اور بائیں طرف یاور تھے۔۔۔ میرا بڑا لال اظفر۔۔۔ اسی میدان میں اپنے جیسے خوب صورت چہروں والے نوجوانوں کے ساتھ کھڑا اسی حلف کے الفاظ دہرا رہا تھا۔ اظفر میرا سب سے بڑا بیٹا، اس پر نظر نہ ٹھہرتی تھی۔ میں سب سے اگلی قطار میں تھی، اس کی کمپنی جب پریڈ کرتی ہوئی میرے سامنے سے گزری تھی تو میری نظروں نے محبت سے اس کا حصار کیا۔۔۔ میں نے اسے پہچان لیا، یہ میرا اور اس کا قلبی تعلق تھا ورنہ مجھے تو سارے ہی اظفر نظر رہے تھے۔۔۔ میرے اندر ممتا کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا، میرے پیارے کو میری ہی نظر نہ لگ جائے، میں نے اسے نظر بھر کر دیکھا تک نہیں۔ پریڈ کے بعد جب سب لوگ میس کی جانب چل دیئے تو میں بھی اپنے دونوں بیٹوں کی ہمرا ہی میں میس کی طرف چل پڑی، چائے پینا بھول بھال کر میں میس کے عقبی دروازے کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی تھی، جہاں اظفر اور اس کے سارے ساتھی، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈال رہے تھے۔۔۔ ٹوپیاں سروں سے اتار کر فضا میں اچھال اچھال کر لطف اندوز ہو رہے تھے۔ دو سال کے آزمائش بھرے معمول کے بعد اب انہیں آگے آسانی نظر آ رہی تھی، وہ ہر ہر لمحے سے محظوظ ہو رہے تھے۔۔۔ ان کے چہروں کی چمک پر نظر نہ ٹھہر رہی تھی، جو کچھ بھی ان کے سامنے آ رہا تھا‘ اسے وہ فضا میں اچھال رہے تھے۔ ان کے سینئرز ان سے بچتے پھر رہے تھے۔ چند منٹوں کے بعد یہ ہنگامہ تھما تو سب نوجوانوں کے والدین میس سے باہر نکل کر ان کی خوشیوں میں شریک ہونے لگے، پوز بنا بنا کر تصاویر بننے لگیں، میں اس وقت خود کو دنیا کی خوش قسمی ترین ماں سمجھ رہی تھی۔ اظفر مجھ سے لپٹ گیا اور میں نے اس پر بوسوں کی بارش کر دی۔ وہ اعزاز کے ساتھ اکیڈمی کی تربیت سے فارغ ہوا۔ میں اس پر جتنا بھی فخر کرتی کم تھا، اس کا باپ اس خوشی کو دیکھنے کو موجود نہ تھا، میں اس موقع پر بار بار ان کی کمی محسوس کرتی اور آنکھیں نم ہو جاتیں۔ خوشیوں کے ہنڈولے میں سوار ہم گھر لوٹے۔ چند دن یوں بیتے جیسے چند گھنٹے بیت گئے ہوں، جلد ہی وہ دن آ گیا جس دن اسے اپنی یونٹ میں رپورٹ کرنا تھی، میں نے دس دن میں لوگوں سے اتنی مبارکبادیں سمیٹیں کہ دامن بھر گیا۔ میں اس کے رخصت ہونے کے دن اداس اداس سی پھر رہی تھی۔ وہ آیا اور میری گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔ ’’ آپ روک لیں مما تو نہیں جاتا۔‘‘ ’’ ارے نہیں بیٹا ‘‘ میں نے ہاتھ کی پشت سے آنکھیں رگڑ ڈالیں، آنسوؤں سے چہرہ تر ہو رہا تھا، میں نے دوپٹے کے پلو سے اسے پونچھا، ’’یہ تو تمہارے فرض کی پکار ہے بیٹا، تمہیں جانا ہی ہو گا، میں اداس تو ہوں مگر میری اداسی تمہارے پیروں میں بیڑیاں نہیں ڈالے گی! ‘‘ میں نے اس کے گھنے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کی۔ ’’ مما۔۔۔ میں مادر وطن کا محافظ ہوں نا۔۔۔ اس وطن کی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں کا رکھوالا ، بس آپ اپنی دعاؤں کے حصار میں رکھیں مجھے اور میرے سارے ساتھیوں کو! ‘‘ میرے دوپٹے کے آنسوؤں سے تر پلو کو اس نے اپنی ناک کے قریب کیا اور گہری سانس کھینچ کر اس خوشبو کو اپنے اندر اتارا جو ممتا کے آنسوؤں کے عطر کی ہوتی ہے۔۔۔’’ان آنسوؤں کی قسم مما! اس ملک کی ہر ماں کے آنسوؤں کا قرض ہے ہم پر، ہر وہ ماں جو اپنے پیاروں کی جدائی میں آنسو بہاتی ہے‘ وہ انمول ہیں۔ ہماری پیاری سرزمین کو ماؤں کے آنسو سیراب کرتے ہیں، ہر اس جان کا قرض ہے ہم پر کہ ہمیں اپنے وطن کے دشمن کو نیست و نابود کرنا ہے۔۔۔ ہمیں اس سرزمین کو اپنے لہو سے گلاب رنگ کرنا ہے، یہاں ہریالی لہرائے نہ کہ مٹی سے بارود کی بو آئے۔۔۔ ‘‘ میں نے اس کے پورے وجود کو بھینچ لیا جس میں سے مجھے لال تازہ گلابوں جیسی انوکھی خوشبو آ رہی تھی، ’’تجھے اللہ کے حوالے کیا میرے لال۔۔۔ ‘‘ میں نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا، وہ روانہ ہوا اور میں دیر تک اس کے وجود کی خوشبو کو اپنے گرد محسوس کرتی رہی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اعزازات پانے والوں کے ناموں کا اعلان شروع ہوا تومیں چونکی، تالیوں کی گونج کی آواز سے چھ سال پہلے اسی طرح اظفر کا نام بھی پکارا گیا تھا، آج کسی معظم کے نام کا اعلان ہوا تھا۔۔۔ میں نے تالیاں بجانے والوں کا ساتھ دیا۔ پاسنگ آؤٹ کی تقریب اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہی اعلان ہو نے والا تھا کہ سب لوگ میس کی طرف روانہ ہوں، میں اسی طرح نادر کو دیکھوں گی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ۔۔۔ اپنے دو سالوں کے آخری دن ، اس دن کو یادگار بناتے ہوئے، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے ہوئے۔ آسمان چھاجوں برس رہا تھا، ماؤں کے لال بھیگ رہے تھے، ہم جہاں بیٹھے تھے وہاں بارش کے کسی قطرے کی رسائی نہ تھی مگر اس میدان میں کھڑے جوانوں کو اللہ کی رحمت بھگو رہی تھی، بادل ان کے بوسے لے رہے تھے تو بادلوں میں چھپی سورج کی کرنیں کہیں کہیں سے جھانک کر ان کی بلائیں لیتیں۔ پریڈ گراؤنڈ خالی ہوا تو سب عزیز و اقارب میس کی طرف چلے۔۔۔ میں نے بھی یاور کے کہنے پر بوجھل قدموں سے اٹھ کر میس کی طرف چلنا شروع کیا، آج کے دن کی خوشیاں اپنی جگہ مگر ۔۔۔ چھ سال قبل کے اس دن کی یاد سے دامن ہی نہ چھڑا پا رہی تھی۔ میس میں داخل ہونے تک میرے قدموں نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ میری آنکھیں نم ہو گئیں، دوپٹے کا پلو پکڑا۔۔۔ تو اس یاد نے میرا احاطہ کر لیا، کیسے اظفر نے میرے آنسوؤں کی خوشبو کو ایک گہری سانس سے اپنے اندر اتار لیا تھا، اسے علم تھا کہ وہ آخری بار ماں کے آنسو دیکھ رہا تھا، انہیں سونگھ رہا تھا، اس نے مادر وطن کی حفاظت کا حلف اٹھا تے ہی جان لیا تھا کہ مادر وطن اس کے لہو کا نذرانہ مانگ رہی تھی، اس کے پھولوں کو لال رنگ اور تازہ گلابوں کی خوشبو درکار تھی جسے اس کے ساتھ ساتھ اس کے کئی قریبی ساتھیوں نے پورا کیا تھا۔ میں نے میس میں قدم رکھا اور تصورات میں کہیں پیچھے چلی گئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے گئے ہوئے تین دن ہوئے تھے، موبائل فون اس کے پاس تھا مگر پھر بھی اس نے رابطہ نہ کیا تھا، یہ بات تھی تو غیر معمولی مگر اس نے جاتے ہوئے بتایا تھا کہ جہاں اس کی یونٹ ہے وہاں عام فون کے سگنل نہیں ہوتے اس لئے رابطہ نہ ہونے پر پریشان نہ ہوں ۔ فون کی ہر گھنٹی پر میں فون کی طرف لپکتی، اسی طرح ایک گھنٹی پر میں نے بھاگ کر فون اٹھایا، وہی تھا، سلام دعا کے بعد میں نے رابطہ نہ کرنے کا شکوہ کیا تو وہ ہنس دیا، ’’ اکیڈمی سے بھی تو کئی کئی دن تک رابطہ نہ ہوتا تھا مما۔۔۔ ‘‘ ’’ مگر اب تو تم افسر بن گئے ہو بیٹا۔۔۔ ‘‘ میں نے دل ہی دل میں کئی سورتیں پڑھ کر اس پر حصار باندھا ۔ ’’ نوکری تو نوکری ہے نا مما۔۔۔ ‘‘ وہ ہنسا، اس کی ہنسی میں چشموں کی کھنک تھی، ’’ کہتے ہیں نا مما کہ نوکر کیا اور نخرا کیا۔۔۔ ‘‘ ’’ وہ تو ہے مگر یہ بھی تو کہتے ہیں۔۔۔ ‘‘ میں نے اس کی بات پر ہنس کر کہا، ’’ فوجاں نیں تے موجاں نیں! ‘‘ ’’ واہ مما۔۔۔ کئی سو سال پرانی بات کی ہے آپ نے، آج کل تو یہ صرف ٹیلی وژن پر بیٹھے وہ اینکر پرسن کہتے ہیں جن کے دلوں میں وطن اور فوج کے خلاف نفرت کے بیجوں کی آبیاری ہمارے کھلے دشمن کرتے ہیں! ‘‘ ’’ وطن تو ان کا بھی یہی ہے نا ! ‘‘ میں نے اس سے پوچھا، ’’ وہ کیوں اس وطن سے محبت نہیں کرتے؟ ‘‘ ’’ ضمیر کے سوداگروں کی کوئی سر زمین نہیں ہوتی مما۔۔۔ انہیں دنیا کی کوئی زمین پناہ نہیں دیتی کیونکہ انہوں نے اپنی ماں کا سودا کیا ہوتا ہے! ‘‘ ’’ تم ٹھیک ہو نا میرے لال۔۔۔ ‘‘ ’’ آپ کا لال ۔۔۔ ‘‘ وہ کہتے کہتے رکا، جانے کیا کہنا چاہتا تھا، ’’ آپ ٹھیک ہیں نا مما؟ ‘‘ ’’ میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ تم کچھ کہنے جا رہے تھے؟ ‘‘ میں نے اس کے سوال بدلنے پر کچھ کھٹک محسوس کی۔ ’’ میرے لئے دعا کیا کریں ۔۔۔ صبر کے ساتھ ! ‘‘ اس نے ہنس کر کہا، ’’ اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو!‘‘ ’’ کب آؤ گے بیٹا؟ ‘‘ ماں کی ممتا تڑپ اٹھی۔ ’’ ابھی تو آیا ہوں مما۔۔۔ مگر جلد آؤں گا! ‘‘ اس نے انتظار کا دیا جلا دیا، میں اس کی لو میں اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ فون بند ہوا تو میں کتنی ہی دیر اس کی آواز کے سحر میں گرفتار رہی۔ وہ کیا کہتے کہتے رکا تھا، میں سوچتی رہی مگر کوئی سرا ہاتھ میں نہ آیا۔ اس رات میں دیر تک اس کے بچپن کو یاد کرتی رہی، اس کی چھوٹی چھوٹی شرارتیں یاد کر کر کے مسکراتی رہی، رات جاگتے سوتے گزری، فجر کی نماز کے بعد جو لیٹی‘ تو گہری نیند میں چلی گئی۔ میں ایک وادی میں تھی جو لال گلابوں سے اٹی ہوئی تھی، ان کا رنگ اور ان کی خوشبو ایسی کہ جس کی دنیا میں کوئی مثال نہ ہو۔۔۔ میرے تینوں بیٹے اور ان کے مرحوم والد میرے ہمراہ تھے، ہم خوشیوں سے بھر پور قہقہے لگا رہے تھے۔۔۔ یک لخت کچھ ایسا ہوا کہ وہ سارے پھول ٹوٹ ٹوٹ کر بکھرنے لگے، میں نے اپنے بچوں کی طرف دیکھا تو مجھے صرف یاور اور نادر نظر آئے، میں نے دونوں کو مضبوطی سے تھام لیا اور اظفر اور اس کے والد کو ہم تینوں چیخ چیخ کر بلانے لگے مگر کوئی جواب نہ آیا۔۔۔ تب مجھے نظر آیا کہ اظفر کے والد اس کا ہاتھ تھامے ہم سے مخالف سمت بھاگ رہے تھے۔۔۔ دھند سی چھانے لگی اور میری آنکھ کھلی تو دل میں اضطراب اور رگوں میں بے چینی تھی۔ کچھ کرنے کو دل نہ چاہ رہا تھا، بچوں نے میری خاموشی کا سبب پوچھا تو میری آنکھیں چھلکنے لگیں، میرے پاس اپنی اس خاموشی کا کوئی جواز نہ تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ اظفر سے بات کر کے اس کی خیریت پوچھوں۔۔۔ مگر فون وہیں سے آ سکتا تھا، ہمارے بے قرار دلوں کی بے قر اری کچھ کام نہ کر سکتی تھی۔ کبھی کبھار غصہ بھی آتا کہ ایسی بھی کیا نوکر ی کہ۔۔۔ مگر پھر ا س کے الفاظ یادآتے کہ جب زندگی مادر وطن کو دان کر دی تو کیا غم ! مجھے ہمیشہ صبر کا کہتا ہے، ماں کے دل کو صبر اور قرار تو تبھی آتا ہے جب اسے اپنی اولاد نظر آئے یا کم ا ز کم اس کی آواز سنائی دے۔ اسی شام ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی تسبیح پڑھتے ہوئے اظفر کو ہی یاد کر رہی تھی جب فون کی گھنٹی بجی تھی، یاور نے نمبر دیکھ کر کہا تھا، ’’ بھائی جان کی کال ہے مما۔۔۔ آپ کا انتظار ختم ہو گیا!!! ‘‘ جانے کیسے عجیب سے الفاظ تھے کہ میرا دل دھڑک اٹھا، میں نے بے تابی سے فون لے لیا اور۔۔۔ ’’ ہیلو میری جان! ‘‘ جواب میں طویل خاموشی۔۔۔ میرا دماغ سن ہو گیا، ’’ اظفر میری جان۔۔۔ میرے بچے۔۔۔‘‘ ’’ آپ ٹھیک ہیں اماں ۔۔۔ ‘‘ بھاری مردانہ آوازنے سوال کیا۔ ’’ میں ٹھیک ہوں بیٹا، آپ کون ہیں؟ ‘‘ میں نے بے تابی سے سوال کیا۔۔۔ ’’ اظفر کہاں ہے۔۔۔‘‘ ’’ میں اظفر کا سی او ہوں جی ، اپنے دوسرے بیٹے سے بات کروا دیں اماں ! ‘‘ اس بھاری آواز نے کہا۔ ’’ مجھے بتائیں آپ بیٹا۔۔۔ ‘‘ میں نے حوصلے سے کہا، ’’ میری جان کا کیا حال ہے؟ ‘‘ ’’ آپ کی جان وطن پر قربان ہو گئی ہے اماں ۔۔۔ آپ ایک عظیم ماں ہیں اماں۔۔۔ ایک شہید کی ماں! ‘‘ جواب میں میری آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک نہ تھمنے والی قطار جاری ہو گئی۔۔۔ ’’ آپ کو مبارک ہو اماں۔۔۔ ‘‘ وہ آواز بھی بھرائی ہوئی تھی، نادر اور یاور بھاگ کر میرے پاس آئے، ایک نے فون کا چونگا پکڑ لیا۔۔۔ ’’ میرے اللہ۔۔۔ میرا تحفہ قبول کرنا۔۔۔ ‘‘دل دھاڑیں مار مار رو رہا تھا، آنکھیں سمندر بہا رہی تھیں مگر آواز نہ نکلی، میں خاموشی سے بیٹے کی جدائی کو اپنے وجود کی گہرائیوں میں جذب کرتی رہی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چھ برس سے میرا بیٹا، زندہ ہی میرے وجود کی گہرائی میں سو رہا ہے، وہ سانس بھی لیتا ہے میرے اندر، کھیلتا بھی ہے، اس کی جدائی کا درد انگڑائیاں لے لے کر میرے اندر بیدار ہو تا ہے، جب نادر نے فوج میں جانے کا کہا تو میرے زخموں سے خون رسنے لگا مگر نادر مجھ سے لپٹ گیا۔۔۔ ’ ’ مما!! آپ اتنے عظیم شہید کی ماں ہو کر بھی ایسا سوچتی ہیں، اگر میں شہید نہ ہوا تو اپنے وقت پر کسی نہ کسی طرح مر ہی جاؤں گا نا!‘‘ میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، ’’ یوں نہ کہو بیٹا۔۔۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو، جاؤ میں نے تمہیں بھی اﷲ کو سونپا۔۔۔ ‘‘ میرا بیٹا اپنی یونیفارم میں میرے سامنے کھڑا ہے۔۔۔ اس نے مجھے مسکرا کر سلیوٹ کیا ہے، میں نے آنسوؤں سے لبریز آنکھوں سے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا ہے۔۔۔ دس دن کے بعد وہ اپنی یونٹ میں چلا جائے گا، وہی یونٹ جس میں اس کے بھائی کا نام سنہری حرفوں سے لکھا ہوا ہے‘ شاید کوئی دن آئے گا، میں بے تابی سے نادر کی کال کا انتظار کروں رہی ہوں گی۔۔۔ کوئی کال آئے گی اور مجھے بتایا جائے گا۔۔۔ ہاہ!!!! میرے اللہ، میرے بیٹے ، تیری دی ہوئی امانتیں ہیں، تیرے ہی حوالے، تیرے ہی نام پر اپنی ماؤں‘ بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں کے رکھوالے۔ مجھے صبر اور ہمت دے۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ میرے تیسرے بیٹے کو بھی اپنے وطن سے عشق، ایک دن اسی جگہ لے کر آئے گا۔ اپنے سیکڑوں ساتھیوں کے ساتھ کھڑا ہو کر پورے جوش اور جذبے کے ساتھ کہہ رہا ہو گا۔۔۔ ’’میں صدق دل سے اللہ تعالی کو حاضر و ناظر جان کر حلف اٹھاتا ہوں۔۔۔

یہ تحریر 50مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP