متفرقات

ہم باہمی تفرقات سے کس طرح بچ سکتے ہیں

''وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعاً وَّلاَ تَفَرَّ قُوْا ''  قرآن کریم کی یہ آیت ہمیں بہت ہی واضح طورپر یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقوں میں مت پڑو ۔ اللہ کریم کی نازل کردہ سب سے معتبر کتاب قرآن کریم ہے اور یہ کلام کسی انسان کا نہیں بلکہ اللہ کریم کا کلا م ہے جس میں وہ اپنے بندوں سے مخاطب ہے کہ جو کچھ میں نے فرمایا ہے وہی سچ اور حرف آخر ہے اسی پر عمل کرنے میں تم انسانوں کی بھلائی ہے۔.تفرقہ عربی زبان کا لفظ ہے اس کا اسم مذکر ہے اور معنی ہے جدا ہو جانا، پھٹ جانا، فاصلہ بڑھانا ،مفارقت، علیحدگی، نفاق،نااتفاقی،پھوٹ وغیرہ یعنی کہ اللہ کے حکم کی سرتابی کی کوشش کرنے کا مطلب ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے سے جدا اور الگ الگ تب ہوتے ہیں جب ہم کسی بھی اندھی تقلید کے گڑھے میں گر جاتے ہیں۔. ہمارا باہمی رشتہ رابطہ اور تعلق اس تقلید کی نذر ہو جاتا ہے جو ہمیں فرقہ واریت کی طرف لے جاتی ہے۔ اللہ کریم کے احکاما ت کی تکمیل کے لئے بہت سے گروہ بہت سی جماعتیں اور بہت سے لوگ فرقوں اور الگ الگ شرعی قوانین میں بٹ کر انسانیت کو بھی بانٹنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں جب کہ اللہ کریم نے اسلام کی بنیاد کلمہ طیبہ کا بہت ہی پیارا نظام دے کر ہم انسانوں کو  واضح پیغام اور حکم دے رکھا ہے کہ ''اللہ ایک ہے کوئی بھی اس کے سوا عبادت کے لائق نہیں ہے محمدۖ اس کے رسول ہیں ۔''
اللہ کریم نے ارشاد فرمایاہے کہ اللہ کی اطاعت کرواور رسول کی اطاعت کرو اور حکم والوں کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہوں۔ یہ حکم پانچویں پارے میں ہے۔ یعنی کہ ان لوگوں کی اطاعت مت کرو جو تم کو تفرقوں میں بانٹ کر اپنی الگ الگ مساجد بنا کر بیٹھ گئے ہیں وہ انسانوں کو آپس میں لڑانے والے لوگ ہیں۔ بخاری شریف کی جلد نمبر تین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ۖ سے سنا ہے کہ میرے بعد ایک فتنہ (فرقہ) ایسا بھی آئے گا کہ اس میں بیٹھاشحص کھڑے شخص سے بہتر ہوگا اور کھڑا شخص چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ جو ان کی طرف جھانکے گا وہ ان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گاجس کو ان دنوں بچائو یا پناہ کی کوئی جگہ ملے بس اس کو پناہ لے لینی چاہئے ۔ 
تفرقات میں بٹ جانا سب سے پہلے اخلاقیات کا جنازہ نکل جانے سے شروع ہوتا ہے۔ وہ لوگ بھی اسلام او ر شرعیت کے معاملات میں بحث کرتے ہیں جو دین اسلام کو جانتے تک نہیں ہیں اور انہوں نے اسلام کو پڑھا اورسنا بھی نہیں ہوتا بس کسی واعظ سے کچھ تقریریں سن لیں اور دلیلیں دے دے کر خود کو دانش ور ثابت کرنے پر تل جاتے ہیں وہیں سے لا حاصل بحث کا آغاز ہوتا ہے جو لڑائی جھگڑوں کا باعث بنتا ہوا تفرقہ بازی کی جانب بڑھ جاتا ہے۔. بہت سے علما ء کرام اور دین اسلام کے داعی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تفرقہ بازی میں پڑ کر اپنے ایمان کو مشکو ک مت بنائو، سنی سنائی باتوں کو آگے مت بڑھائو جب تک کہ تم اس کی خود تصدیق نہ کر لو، اپنی آنکھوں سے دیکھ کراور اپنے کانوں سے سن کر بات کو آگے بڑھائو اس سے تفرقات میں پڑنے کا چانس بہت کم اور نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت ابو ادریس نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے کہ دوسرے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم تو اللہ کے رسولۖ سے خیر کے بارے میں سوالات کرکے اپنے ایمان کو تازہ کرتے اور فلاح پانے کی جستجو میں بہت سی باتیں آپ ۖ سے پوچھ کر اپنی اور اپنی نسلوں کی بہتری کے لئے عمل کرتے تھے جب کہ میں آپ ۖسے ہمیشہ شر کے بارے میں دریافت کیا کرتا کہ کہیں وہ مجھے پا نہ لے . میں ایک دن عرض گزار ہوا کہ  یا رسول اللہ ۖ ہم شر اور خیر کے اندر تھے پس اللہ تعالیٰ ہم پر خیر لے آیا کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہے تو آپ ۖ نے فرمایا کہ ہاں اس کے بعد بھی شر ہے۔ میں پھر عرض گزار ہوا کیا اس شر کے بعد خیر ہے فرمایا ہاں خیر ہے لیکن اس میں دھواں ہوگا میں نے عرض کی کہ وہ دھواں کیا ہوگا تو آپ ۖ نے فرمایا کہ وہ من مانے راستے پر چلیں گے۔ ان کی بعض باتیں تم پسند کرو گے اور بعض نا پسند کرو گے میں پھر عرض گزار ہوا کہ اس کے بعد کیا شر ہوگا۔ تو آپ ۖنے فرمایا کہ ہاں شر ہے۔ وہ یہ کہ کچھ لوگ جہنم کے دروازوں پر بلاتے ہوں گے جو ان کی بات مانے گا اس کو جہنم میں ڈال دیں گے میں نے عرض کی یا رسول اللہ ۖہمیں ان لوگوں کی پہچان بتایئے تو آپ ۖ نے فرمایا کہ وہ لوگ ہماری ہی جماعت سے ہوں گے اور ہماری ہی بولی بولیں گے میںنے عرض کی کہ اگر میں وہ زمانہ پائوں تو میرے لئے کیا حکم ہے تو آپ ۖ نے فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہنا۔ میں نے عرض کی کہ اگر کوئی جماعت اور امام نہ ہوں تو فرمایا کہ خود کو تمام فرقوں سے الگ کر لینا خواہ تمہیں کسی درخت کی لکڑی ہی چبانی پڑے یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے ۔
باہمی تفرقات سے بچنے کا واحد راستہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں ہے ہم سب کو ایک جماعت بن کر سوچنے اور اللہ کے احکامات کو قرآن کریم کے مطابق پھیلانے والا بننا ہے نا کہ ہم اللہ کے بندوں کو اپنے ہی احکامات دیتے رہیں اور ان کو یہ کہہ کر ڈراتے رہیں کہ اللہ جبار و قہار ہے وہ نماز نہ پڑھنے سے مارے گا وہ جہنم میں پھینک دے گا ۔یہ سچ ہے کہ سب سے پہلے جو حساب ہوگا جس بات کی پوچھ ہوگی وہ نماز ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اللہ کریم ہے رحمٰن و رحیم ہے غفور ہے بخشنے والا ہے مہربان ہے لیکن وہ کسی بھی شرک کو معاف نہیں کرے گا کیونکہ اس پاک ذات نے کلمہ طیبہ میں ، وضو میں، اذان میں،نماز میں اپنی عبادت کے ساتھ اپنے پیارے محبوب حضرت محمد مصطفٰی ۖ کا نام لگا کر یہ فرما دیا ہے کہ میں اللہ وحدہ لا شریک ہوں میرا کو ئی ہمسر و ثانی نہیں ہے میرے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمد ۖ میرے بندے اور رسول ہیں۔
باہمی تفرقات سے اسی طرح ہم خود کو بچا سکتے ہیں کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور تفرقوں میں مت پڑیں کہ ہم ایک مسلمان قوم ہیں ہمیں خود میں بٹنا نہیں ہے خود سے جدا نہیں ہونا ہے خود میں نفاق اور علیحدگی نہیں ڈالنا ہے۔ جو بھی اللہ اور اس کے رسول ۖ کے احکامات اور فرمان ہیں ان کی صحیح صحیح پیروی کرکے صرف اور صرف مسلمان ہی بننا ہے کہ یہی ہمارا دین ہے جو ہم سب کو آپس میں جوڑتا ہے نا کہ تفرقات میں تقسیم کرکے توڑتا ہے ۔ انسانیت کی معراج کو بلند رکھنے کے لئے سب سے پہلے ہمیں اپنا اخلا ق بلند کرنا ہوگا جوہمیں اس بات کا درس دیتاہے کہ ہم اس نبی کی امت ہیں جن کے اخلاق کے گن کافر بھی گایا کرتے تھے اخلاقیات ہمیں اس بات کی طرف لے کر جاتی ہیں کہ ہم اللہ کے نبی محمد مصطفٰی ۖ کو آخری نبی مانیں کیونکہ نبی کریم محمد مصطفٰیٰ ۖ نے فرمایا ہے کہ میں آخری نبی ہوں میرے بعدکوئی بھی نبی نہیں آئے گا اس حدیث کو لے کر ہی ہم فرقہ واریت اور آپسی مذہبی اور مسلکی لڑائی جھگڑوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ کائنات کے اعلیٰ ترین انسان اور انسانیت کے محسن سیدنا محمد مصطفٰی ۖکی ذات اقدس کو فرقوں میں بانٹنے سے ہم باہمی تفرقات کا شکار ہو رہے ہیں اور دشمن اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ دشمن کی چال کو سمجھ کر آپسی بھائی چارے کو فروخ دینا ہم سب کو تقسیم ہونے سے بچا سکتا ہے ۔ 


 [email protected]
 

یہ تحریر 70مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP