قومی و بین الاقوامی ایشوز

ہم افغان عوام کے حقیقی برادر ہیں

بچپن سے ہم ایک منقولہ سنتے آئے ہیں کہ ’’انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے‘‘ اور تاریخ انسانی شاہد ہے کہ جس نے بھی اس قول پر عمل کیا، وہ کامیاب رہا۔ اگر آپ کامیاب شخصیات یا اقوام کی تاریخ کا جائزہ لیں تو جہاں آپ کو جا بجا ان کی تاریخ میں کی جانے والی غلطیاں ملیں گی وہیں اس کے بعدوہ ان غلطیوں پر قابو پا کر اس سے ملے سبق سے ایک نیا جذبہ اور جستجو حاصل کر کے آگے بڑھتے بھی دکھائی دیں گے۔

 

بحیثیت قوم ہم نے بھی کافی غلطیاں کی اور ایک طویل عرصے تک تلخ نتائج بھگتنے کے بعد ہماری سیاسی و عسکری قوتوں نے ایک ٹھوس فیصلہ لیا اور دہشت گردی کی ڈسی ہوئی قوم کو لگے زہر کا تریاق کراچی آپریشن اور آپریشن ضرب عضب کی صورت نکالا اور اس فیصلے کا ہی نتیجہ ہے کہ آج الحمد للہ پاکستان کی معاشی اور امن و امان کی صورت حال میں بہت تیزی سے بہتری آرہی ہے جس کا عملی نمونہ کراچی کی سڑکوں اور وزیرستان کی وادیوں میں بہت شفاف انداز میں دیکھا جاسکتا ہے۔

 

اس کے ساتھ ہی تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جو اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے، وہ پہلے اپنے دوستوں کو دشمن سمجھنا شروع کرتے ہیں، پھر دشمنوں کو دوست اور آخر میں اپنا آپ برباد کر بیٹھتے ہیں۔ اس کی زندہ مثال ہمارے پڑوس میں واقع ملک ’’افغانستان‘‘ ہے۔ بلندوبالا کہساروں ، حسین باغات اور لق و دق صحراؤں پر مشتمل افغانستان قدیم دور سے لے کر اب تک وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان پل کا کام دے رہا ہے۔ اس نے ہر دور میں وسطی اور جنوبی ایشیا کی سیاست و معاشرت پر غیرمعمولی اثرات مرتب کئے ہیں، جبکہ خود افغانستان بھی ان دونوں اطراف سے بے انتہا اثر قبول کرتا رہا ہے ، تاہم اس حوالے سے وسطی ایشیا کا پلڑا جنوبی ایشیا پر بھاری ہے۔ بلکہ کچھ حوالوں سے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ افغانستان وسطی ایشیا سے اثر لیتا اورجنوبی ایشیا کو متاثر کرتا رہا ہے۔

 

1947میں پاکستان کی آزادی کی سب سے زیادہ خوشی افغانستان کو ہونی چاہئے تھی کہ سمندری بندرگاہ سے محروم ملک کو ایک ایسا مسلمان پڑوسی ملا کہ جس کے توسط سے افغانوں کی رسائی بیرونی دنیا سے ہوتی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے افغانستان اور پاکستان ایک ایسا پل بن جاتے جو دنیا کے دو ٹکڑوں کو آپس میں ملاتے، ایک طرف پڑوس میں قابل بھروسہ دوست ملتا کہ جس سے خون کے بھی رشتے ہیں جب کہ دوسری جانب افغانستان کی معاشی ترقی میں ایک انقلاب برپا ہوجاتا لیکن اس موقع پر افغانستان کے حکمران ظاہر شاہ قیام پاکستان کے فوراً بعد قبائلی شورش کو دبانے کے لئے حکومت پاکستان کی کارروائی کو جواز بنا کر افغان حکومت کے برطانوی ہند اور افغانستان کے درمیان سرحدوں کا تعین کرنے والے تمام معاہدوں سے منحرف ہوگئے۔ پختونستان کا مسئلہ کھڑا کرکے اس نے پاکستان کے اندر پختون قوم پرستوں کو سپورٹ کرنا شروع کردیا۔

 

ایک نوزائدہ اسلامی مملکت سے اتنا سخت برتاؤ سمجھ سے بالاتر تھا وہ بھی اس وقت کہ جب بھارت پاکستان کو شروع کے چند سالوں میں ہی ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کی باتیں کرنے لگا تھا۔ افغانستان کے حکمرانوں نے پاکستان کو تحفظ دینے کے بجائے اپنے اس عمل سے ہندوستان کی مدد کی ، اور پھر 1971 کی جنگ میں جب پاکستان زخمی تھا ، اپنا ایک حصّہ کھو چکا تھا، تب روس اور بھارت کی مدد سے بلوچستان کی سرزمین پر جو آگ لگی، اس میں زمین افغانستان ہی کی استعمال ہوئی۔ شاید افغان حکمرانوں کو اپنے سپرپاور دوست اور بھارت پر بہت بھروسہ تھا، مگر پھر جب افغانستان کی لگائی ہوئی یہ آگ اس کے اپنے گھر پہنچی تو دنیا نے دیکھا کہ وقت کی سپرپاور کو افغانستان کی سرزمین پر ہی شکست ہوئی اور اس مشکل وقت میں بھارت افغانوں کی مدد کو نہ آیا، اس وقت یہ پاکستان ہی تھا جس نے اپنے ملک کے دروازے لاکھوں افغان بھائیوں کے لئے کھولے۔جب دشمن شکست کھا چکا تو پاکستان نے افغانستان کو افغان قوم کے حوالے کیا اور تب کے کھلے ہوئے دروازے آج دن تک بند نہیں ہوئے حتیٰ کہ افغانوں کی دو نسلیں پاکستان میں بطور مہاجر رہ چکی ہیں۔

 

اکیسویں صدی کے اوائل میں افغانستان پھر جنگ کا اکھاڑا بنا اور جب کابل پر افغان حکمران دوبارہ آ کر بیٹھے تو اپنی گزشتہ غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے اس وقت کے افغان حکمران حامد کرزئی نے بجائے پاکستان کو اپنا برادر ملک تسلیم کرنے اور افغانستان میں قیام امن کے لئے کردار ادا کرنے کا کہنے کے،پھر سے پاکستان پر الزام تراشیاں شروع کردیں، وہ یہ بھی بھول گیا کہ جب وہ خود دربدر تھا تب اس نے بھی کوئٹہ میں قائم مہاجر کیمپ میں پناہ حاصل کی تھی، تب بھارت کے بجائے پاکستان نے اسے سہارا دیا تھا۔ حامدکرزئی نے افغانستان کی عوام میں پاکستان کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکانے کے لئے پھر سے خطے کے عیار اور دغا باز ملک بھارت کی مدد حاصل کی اور پھر یکے بعد دیگرے بھارتی قونصل خانے کھلوا کر پاکستان کی افغانستان سے ملحقہ فاٹا اور بلوچستان کی سرحدوں پر وہی کھیل شروع کیا جو وہ 1973 میں کھیل چکا تھا۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا جب تک 2014 کے صدارتی انتخابات میں حامد کرزئی کی شکست کے بعد اشرف غنی کی حکومت نہیں آگئی۔

 

اب ایک طرف نئی افغان حکومت تھی اور دوسری طرف پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف نیا عزم ۔ یہ وہ موقع تھا کہ جب افغانستان کے حکمران پاکستان کے ساتھ نئے تعلقات کا دور شروع کرسکتے تھے۔ وہ اپنی پرانی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے پاکستان کو اپنا برادر دوست ملک بنا سکتے تھا مگر افسوس کہ شروع کے کچھ ماہ بہترین تعلقات رکھنے کے بعد افغان حکمران پھر اسی دشمن نما دوست کی چال میں پھنس گئے اور اپنی زمین پھر سے مکار دشمن کے حوالے کردی۔ جناب اشرف غنی صاحب کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بھارت جو ایک مسلمان کو صرف اس شک کی بنیاد پر مار دیتا ہے کہ اس نے گائے کا گوشت ’’شاید‘‘ کھایا ہوگا جہاں سکھ اپنی مقدس کتاب کی بے حرمتی پر سراپا احتجاج ہیں، جہاں مقبوضہ کشمیر کے رکن اسمبلی کا منہ دن دیہاڑے کالا کیا جاتا ہے، جہاں خودچھوٹی ذات والے ہندو بھارت کی تنگ ذہنیت کا شکار ہوکر زندہ جلائے جاتے ہیں وہ بھلا کیسے افغانوں کا دوست ہوسکتا ہے یا ان سے مخلص ہوسکتا ہے ؟

 

اب افغان حکومت افغان عوام کی سیاست کرنے کے بجائے ان غیر ملکی دوستوں کی حمایت کرنے کی غلطی کر رہی ہے جو اپنی سازشوں کے لئے افغان عوام کو استعمال تو کرسکتا ہے، مگر مشکل وقت میں انہیں پناہ نہیں دے گا، قندوز،تخار اور وسطی ایشیا سے ملحقہ افغان علاقوں پر افغان طالبان کی فتوحات افغان حکمرانوں کی نا اہلی اور ناکامی کا کھلا ثبوت ہیں ، اور ایسے موقع پر اشرف غنی کا یہ بیان کہ ’’پاکستان سے ہمارے تعلقات برادرانہ نوعیت کے نہیں ہیں‘‘ صاف ظاہر کرتا ہے کہ افغان حکمران پھر سے افغان سرزمین کو انتشار کی جانب لے کر جارہے ہیں۔

 

ابھی بھی پانی سر سے اونچا نہیں گیا۔ افغانستان کے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے دوستوں اور دشمنوں میں فرق کو پہچانیں ، وہ ناداں نہ بنیں جو اپنی غلطیوں سے کچھ نہ سیکھتے ہوئے خود کو برباد کر بیٹھتا ہے ، بلکہ وہ دانا بنیں جو اپنی غلطیوں سے ملے سبق سے اپنی قوم کو کھڑا کرتا ہے۔ پاکستان خلوص نیت سے افغان قوم کو وہ مقام دلانا چاہتا ہے جس کی وہ حقدار ہے۔ جس طرح افغان عوام بے پناہ ذہنی اورجسمانی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہوئے بھی جنگوں کی وجہ سے کسی بھی مثبت رخ میں اپنی ان صلاحیتوں کا استعمال نہیں کرسکے ، اسی طرح بے پناہ قدرتی وسائل سے مالامال ہو کر بھی افغان سرزمین ،اپنے سینے پر ہونے والی مسلسل جنگوں کی وجہ سے افغان عوام کو خوش حالی دینے میں ناکام رہی ہے۔ افغانستان کے کہساروں میں قدرتی گیس، پٹرولیم، کوئلے ، تانبے ، کرومائٹ اور قیمتی پتھروں سمیت کئی دیگر معدنیات کے بے پناہ ذخائر پائے جاتے ہیں۔ اب افغان حکمرانوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ غیروں کا ہاتھ تھام کر اپنے ملک کو مسلسل جنگ میں الجھائے رکھنا اور اپنے وسائل پر غیروں کو مسلط رکھنا چاہتے ہیں یا پھر پاکستان کو اپنا دست و بازو سمجھ کر افغانستان میں ایک نئی اور روشن صبح کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں ؟؟

پاکستان اپنی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھ کر روشن منزل کی طرف قدم بڑھا چکا ہے ، اب یہ افغانستان کے حکمرانوں پر منحصرہے کہ اپنے برادر ملک کے ساتھ آگے بڑھنا ہے یا اسی طرح تاریک راہوں میں مکاروں کی آغوش میں دبکے رہنا ہے ۔۔۔

[email protected]

یہ تحریر 18مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP