متفرقات

ہمارے بچے ہمارا مستقبل

اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف اور عالمی ادارہ محنت دنیا میں بچوں کی جبری مشقت کے خاتمے اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے مختلف ممالک میں کام کررہے ہیں۔ ہماری حکومت نے بھی یونیسیف اور آئی ایل او کے تعاون سے کچھ اقدامات کئے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارا ملک ترقی پذیر ممالک کی صف میں ہے ابھی ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ہم جبری مشقت اور اس سے پیدا کردہ مسائل پر احسن طریقے سے قابو پاسکیں مگر ہم ان کے مسائل کو کم کرسکتے ہیں‘ اس سلسلے میں حکومت نے یونیسیف اور آئی ایل او کے تعاون سے کچھ قوانین بنائے ہیں۔ ان قوانین سے آگاہی حاصل کرنا اور ان پر عمل کرنا اور کروانا ہماری ذمہ داری ہے۔ چائلڈ لیبر کا قانون اسلامی جمہوریہ پاکستان حکومت نے 1991 میں منظور کیا۔ اس قانون کے تحت پاکستان میں بچوں سے کام لینے کی قانوناً ممانعت ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کے شہریوں کے مسائل ایسے ہیں کہ بعض جگہ پر تو نہ چاہتے ہوئے بھی اور کئی جگہ پر جبری مشقت کے تحت ہی ہمارے بچے کام کررہے ہیں قانون کے ہوتے ہوئے بھی اس پر عمل نہیں ہورہا مگر پھر بھی اس قانون کے بارے میں ہمیں جاننا چاہئے تاکہ اس کی روشنی میں اپنے بچوں کے لئے کچھ کرسکیں۔ حکومتِ پاکستان نے بین الاقوامی ادارہ محنت یعنی آئی ایل او کے تعاون سے جبری مشقت اور بچوں کی بیگار کے سلسلے میں قوانین وضع کئے ہیں اور ان کا مختصر ذکر نذرِ قارئین ہے۔ جن مقامات پر بچوں کو کام کرتے ہوئے جان کا خطرہ لاحق ہو یہ قوانین وہاں پر بچوں کے کام کرنے کی ممانعت کرتے ہیں اور جہاں پر جان کا خطرہ نہ ہو وہاں پر اوقاتِ کار کا تعین کرتے ہیں۔ قانون کے تحت 14 سال سے کم عمر لڑکے یالڑکی سے مراد بچہ ہے۔ ایسے نوجوان جن کی عمر چودہ سال سے تو زیادہ ہے مگر اُن کے پاس ایسا سند یافتہ میڈیکل سرٹیفکیٹ نہیں ہے کہ جس سے یہ ثابت ہوسکتا ہے ہو کہ وہ بالغ نوجوان کی طرح کام کاج کرسکتے ہیں مگر ان کی عمراٹھارہ سال سے کم ہو تو ان سے کام (قانون کی دفعہ سات کے تحت) لیا تو جاسکتا ہے مگر ان کے لئے جو قوانین مرتب کئے گئے ہیں وہ یہ ہیں۔
کسی بچے سے تین گھنٹے سے زیادہ کام نہیں لیا جائے گا اور اس کے بعد اسے ایک گھنٹہ آرام کا وقت دیا جائے گا‘ پھر تین گھنٹے کام لیا جاسکتا ہے یعنی سات گھنٹے کام لیا جاسکتا ہے جس میں ایک گھنٹے آرام کا وقت لازمی دیا جائے گا یعنی ایک کام

کا دورانیہ کسی بھی صورت میں تین گھنٹے سے زیادہ نہ ہو۔
شام کے سات بجے سے صبح آٹھ بجے کے درمیانی اوقات میں بچوں سے کام نہیں لیا جاسکتا۔

کسی بچے سے اوور ٹائم نہیں کروایا جاسکتا۔

کسی بچے سے اس دن میں دوبار کام نہیں لیا جاسکتا۔

ہفتے میں ایک دن چھٹی لازمی قرار دی جائے گی۔

قانون کے تحت ایسے اداروں کے مالکان جہاں بچے کام کرتے ہیں ان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بذریعہ نوٹس ان کے کوائف کے بارے میں متعلقہ حکام کو آگاہ کریں کہ وہ کیا کام کرتے ہیں۔ ان کا ادارہ کہاں واقع ہے اور انتظامیہ کے افراد کون ہیں؟ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ایک مہینہ قید یادس ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔قانون پر عملدرآمد کرنا تو آجر اور ادارے کے مالک کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے‘ بچوں کے والدین کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی خود بھی نہ کریں اور آجر کو بھی نہ کرنے دیں۔ یہ تو ہیں اقوامِ متحدہ یا ہماری حکومت کے تفویض کردہ قوانین اور ان قوانین کے تحت ہمارے فرائض مگر یہ صرف حکومت ہی کا کام تو نہیں ہے یا ان اداروں ہی کا کام تو نہیں ہے جو ان مقاصد کے لئے تشکیل دیئے گئے ہیں۔ کچھ ہمارے فرائض بھی ہیں کہ یہ بچے ہم سب کے ہیں ان کی مدد کے لئے ہم سب کو انفرادی طورپر بھی اور اجتماعی طور پر بھی بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ ان قوانین پر عمل آسان نہیں مگر نا ممکن بھی نہیں تاہم ہمارا ملک ابھی اتنا ترقی یافتہ نہیں کہ ہم بچوں کے ان مسائل پر بخوبی قابو پاسکیں۔ ہم ان کی مشقت بند نہیں کرسکتے اس وجہ سے کہ اگر ہم ایسا کریں تو اس گھرکا چولہاکس طرح جلے گا۔ جس گھر کا بچہ کام کررہا ہے۔ مگر ہم یہ تو کرسکتے ہیں کہ اس مشقت کو کم کرسکیں یا آسانیاں پیدا کردیں۔ کارخانے‘ دکان‘ ورکشاپ یا گھر میں کام کرنے والے بچے کے کام کے اوقات بھی کم کردیں اور ان کاکام بھی ہلکا کردیں‘ انہیں آرام اور کھیل کا وقت دیں‘ انہیں بھی اپنے بچوں کے ساتھ کھیلنے اور تفریح کرنے کا موقع دیں۔ آپ کی اس مدد سے اس بچے کا کام ہلکا ہو جائے گا۔ اس کے گھر میں مالی آسودگی ہوگی اور خود آپ کو بھی سکون ملے گا بلکہ ممکن ہے کہ اس بچے کو کام کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے اور وہ والدین کے روزگار یا انہیں وظیفہ ملنے پر خود تعلیم کی طرف توجہ دے سکے۔ ان بچوں کی مددکرنا ہم پر فرض ہے ۔ اگر آپ مالی طور پر اس قابل نہیں کہ خود کسی کا وظیفہ مقرر کرسکیں تو پرائیویٹ ادارے یا پھر کسی سرکاری ادارے سے وظیفہ مقرر کروانے میں اس کی مدد کیجئے حکومت کے کئی ادارے اس سلسلے میں تعاون کرسکتے ہیں۔آپ یہ مت دیکھیں کہ اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ‘ حکومتِ پاکستان ‘ سرکاری یا غیر سرکاری تنظمیں یا ادارے کیا کررہے ہیں۔ اس شدید گرمی اور سردی میں کوئی بچہ اگرآپ کے پاس کام کررہا ہے تو اپنا فرض پہچانیں‘اس کی جس قدر آپ مدد کرسکتے ہیں ضرور کریں ان کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے کیونکہ ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں۔

یہ تحریر 38مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP