متفرقات

ہماری غذا کیا ہونی چاہئے

ہمیں کیا کھانا چاہئے اور کیا نہیں کھانا چاہئے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب کی کھوج کر نے والے افراد کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے ۔ غذائیت کے حوالے سے زیادہ معلومات حاصل کر نے کا رجحان آج کل کی نوجوان نسل، سمجھدار ماؤں اور صحت کے معاملے میں محتاط افراد میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔ یہ رجحان آج سے 20 سال پہلے بہت کم لوگوں میں نظر آتا تھا۔ مگر بڑھتی ہو ئی مہنگائی اور ملاوٹی کھانوں کے پیش نظر اب لوگ اس معاملے میں قدر ے محتاط نظر آتے ہیں۔ میڈیا نے اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ تاہم ابھی بھی غذائیت اور صحیح غذا کے انتخاب کی مناسبت سے بہت سی غلط فہمیاں اور غلط طریقہ کار منظر عام پر آئے ہیں۔ جن کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کر نا نہایت ضروری ہے۔ بڑھتی ہو ئی مہنگائی نے خاندان کے زیادہ افراد کو بر سر روزگار ہو نے پر مجبور کر دیا ہے۔ چنانچہ خواتین کا رجحان جھٹ پٹ بن جانے والے کھانے یا ریڈی میڈفوڈز کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے زیادہ مصالحوں کا استعمال ، ڈبوں میں بند پھل‘ سبزیاں، جھٹ پٹ یا انسٹنٹ نوڈلز نے بہت مقبولیت حاصل کی ہے۔ اس حوالے سے یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ قدرتی کھانوں میں جس قدر ملاوٹ کی جائے‘ چاہے وہ کسی اعتبار سے کیوں نہ کی گئی ہو‘ وہ صحت کے لئے کہیں نہ کہیں نقصان کا سبب بن سکتی ہے اور ضرورت سے زیادہ ایسے اجزاء کا

استعمال بیماریوں کاباعث بن سکتاہے۔ کین فوڈز یاکنستروں میں بند سبزیاں اور پھل زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کے لئے چینی پانی (شیرہ) نمک پانی یا تیزاب وغیرہ میں بھی ڈبو کر رکھے جا تے ہیں۔ جن کا لمبے عرصے تک استعمال مختلف قسم کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ چینی کا حد سے زیادہ استعمال ذیابیطس کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ اسی طرح نمک بلڈپریشر کی بیماری کا سبب بھی ہو سکتا ہے ۔ہلکی نوعیت کا تیزاب اگرچہ کنستر میں بند کھانوں کو سڑنے نہیں دیتا ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غذائیت کی کمی کا سبب بن سکتاہے۔ اس کے علاوہ پیکنک میں موجود کئی اجزاء زیادہ عرصے تک رکھنے کی وجہ سے کھانے کا حصہ بن جاتے ہیں اور مضر صحت نتائج کی وجہ بنتے ہیں۔ نوڈلز کا شمار توانائی سے بھرپور غذا میں ہوتا ہے۔ نوڈلز کو پیک کر نے سے پہلے چکنائی میں تلا جاتا ہے۔ نیز چکنائی کی مقدار زیا دہ ہونے کی وجہ سے لمبے عرصے تک نوڈلز کھانے والے اکثر افراد مٹاپے کا شکار ہو جا تے ہیں۔ نوڈلز کو چٹ پٹا اور مزیدار بنانے کے لئے چینی ، سادہ نمک کے ساتھ ساتھ اجینو موتو یا چائینز نمک استعمال کیا جا تا ہے۔ نمک کا اہم جز سوڈیم بلڈ پر یشر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ اس مرض میں مبتلا افراد کے لئے نوڈلز کا زیادہ استعمال موزوں نہیں ہے۔ انسٹینٹ نوڈلز کو آپس میں جوڑنے کے لئے موم یا ویکس کا استعمال کیا جا تا ہے جو صحت کے لئے مضر ہے۔ اس ویکس کو نوڈلز سے الگ کر نے کے لئے نوڈلز کے پانی کو ابالتے وقت مکمل سکھا نے کے بجائے تھوڑا سا پانی چھوڑ دینا چاہئے اورچھلنی سے الگ کردینا چاہئے۔ اس طریقے سے ویکس پانی سے مل کر الگ ہو جا تی ہے اور نوڈلز کے مضر اثرات میں کمی آجا تی ہے۔ سوپی نوڈلز اس حوالے سے بہتر نہیں ہیں، کہ اس میں پانی کے ساتھ ویکس جسم میں منتقل ہو تی ہے۔ نیز لمبے عرصے تک استعمال سے نقصان کا ر ثابت ہو سکتی ہے۔ بازاروں میں کپ نوڈلز کے نام سے ایک صنعت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کو بنانے کے لئے صرف گرم پانی کو نوڈلز میں شامل کیا جا تا ہے۔ جس سے کپ کی سطح میں موجود ڈائیکسن نام کا ایک مضر صحت مادہ نوڈلز میں شامل ہو جا تا ہے۔ جس کی زیادہ مقدار سر طان جیسے موذی مرض کا سبب بن سکتی ہے۔ اپنے آپ کو مٹاپے سے بچانے کے لئے لوگ ورزش کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کے طریقوں کو بھی تبدیل کر تے ہیں ۔ا یک غلط تصور ہے کہ وزن کم کر نے کے لئے کھانا ترک کر کے جوس یا مشروبات کا استعمال بڑھا دینا مفید ہے۔ اس سلسلے میں بازاروں میں موجود ڈبوں میں بند جوس وغیرہ کے استعمال کا رجحان نظر آتا ہے۔ یہ جوس پھلوں سے یا تو پاک ہو تے ہیں یا ناقص اور باسی پھلوں سے تیار کئے جا تے ہیں۔ فلیورز اور چینی کے ذریعے ان کا ذائقہ پھلوں کے جوس جیسا بنایا جا تا ہے۔ ان میں موجود چینی کے زیادہ استعمال سے وزن میں کمی کے بجائے اضافے کے مواقع زیادہ ہو تے ہیں‘ نیز ذیابیطس کے مرض کا سبب بن سکتی ہے۔ ان مشروبات میں شامل ایسڈ یا کھانے کے تیزاب کا زیادہ استعمال دانتوں اور ہڈیوں کے نقصان کا سبب بنتا ہے۔ نیز پھلوں میں مو جود سرطان سے بچاؤ والے غذائی اجزاء زیادہ عرصے تک تیزاب کے ساتھ رہنے کی وجہ سے اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ ڈبوں میں موجود جوس کے استعمال کے بجائے اپنے سامنے پھلوں کے جوس نکلوایا جا ئے اور اسے فوراً استعمال کر لیا جا ئے ۔ کیونکہ زیادہ عرصے تک فریش جو س کو رکھنا غذائیت کی کمی کا سبب بنتاہے۔ بچوں اور بڑوں میں پاپ کارن (popcorn) کھانے کا شوق بہت قدیم ہے۔ عموماً لوگ فلمیں دیکھتے وقت یا سینما گھروں میں پاپ کارن کھانے کے شیدائی نظر آتے ہیں۔ ا س حوالے سے مائیکروویو پاپ کارن کی بھی مختلف اقسام بازاروں میں عام ہو رہی ہیں۔ اس پاپ کارن کی چکنائی کو محفوظ رکھنے کے لئے تھیلوں پر پی ایف او اے کے نام کے ایک مادے کو پھیلا دیا جاتا ہے۔ یہ مادہ مائیکرو ویو کے استعمال کے دوران پاپ کارن کا حصہ بن جا تا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے زیادہ استعمال سے مختلف مسائل جیسا کہ حمل میں پیچیدگی ، قوت مدافعت کی کمز وری ، ایل ڈی ایل یا مضر کولسٹرول کی افزائش ، تھائیرائڈ کی بیماریوں وغیرہ لاحق ہو سکتی ہیں۔ غلط کھانوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ ڈسپوزایبل بوتلوں کو لگاتار استعمال کر نے کا رجحان بھی بہت عام نظر آتا ہے۔ اب بوتلوں کے بار بار استعمال سے ڈیہا نام کے سرطان کو پیدا کر نے والا عنصر پانی یا مشروب میں شامل ہوکر غذا کا حصہ بن جا تا ہے۔ اسی طرح کچھ اقسام میں بسفینول کے نام کا مادہ مشروب میں شامل ہو کر اعصابی نظام اور رویوں کی تبدیلیوں کا سبب بنتا ہے ۔ ان امراض کا زیادہ تر شکار حاملہ خواتین اور بچے ہوتے ہیں۔ ہمارے نبی نے اس برتن میں کھانے کومکروہ قرار دیا ہے جس میں خراشیں پڑ جاتی ہیں۔ آج کی سائنس نے بھی یہ بات ثابت کی ہے کہ ان تنگ جگہوں پر بیکٹریا پھنس جاتے ہیں اور برتن دھلنے کے دوران بھی صاف نہیں ہو پاتے ہیں نیز کھانے یا مشروب کا حصہ بن کر بیماریوں کا باعث بن جا تے ہیں۔اسی طرح ڈسپوزایبل بوتلوں کے استعمال سے ان میں پڑی ہو ئی خراشیں بیکٹریا کی نشوونما کا سبب بنتی ہیں۔ نیز یہ کھانے کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کا سبب بھی بنتی ہیں۔

کھانے کے شیدائی نظر آتے ہیں۔ ا س حوالے سے مائیکروویو پاپ کارن کی بھی مختلف اقسام بازاروں میں عام ہو رہی ہیں۔ اس پاپ کارن کی چکنائی کو محفوظ رکھنے کے لئے تھیلوں پر پی ایف او اے کے نام کے ایک مادے کو پھیلا دیا جاتا ہے۔ یہ مادہ مائیکرو ویو کے استعمال کے دوران پاپ کارن کا حصہ بن جا تا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے زیادہ استعمال سے مختلف مسائل جیسا کہ حمل میں پیچیدگی ، قوت مدافعت کی کمز وری ، ایل ڈی ایل یا مضر کولسٹرول کی افزائش ، تھائیرائڈ کی بیماریوں وغیرہ لاحق ہو سکتی ہیں۔ غلط کھانوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ ڈسپوزایبل بوتلوں کو لگاتار استعمال کر نے کا رجحان بھی بہت عام نظر آتا ہے۔ اب بوتلوں کے بار بار استعمال سے ڈیہا نام کے سرطان کو پیدا کر نے والا عنصر پانی یا مشروب میں شامل ہوکر غذا کا حصہ بن جا تا ہے۔ اسی طرح کچھ اقسام میں بسفینول کے نام کا مادہ مشروب میں شامل ہو کر اعصابی نظام اور رویوں کی تبدیلیوں کا سبب بنتا ہے ۔ ان امراض کا زیادہ تر شکار حاملہ خواتین اور بچے ہوتے ہیں۔ ہمارے نبی ﷺ نے اس برتن میں کھانے کومکروہ قرار دیا ہے جس میں خراشیں پڑ جاتی ہیں۔ آج کی سائنس نے بھی یہ بات ثابت کی ہے کہ ان تنگ جگہوں پر بیکٹریا پھنس جاتے ہیں اور برتن دھلنے کے دوران بھی صاف نہیں ہو پاتے ہیں نیز کھانے یا مشروب کا حصہ بن کر بیماریوں کا باعث بن جا تے ہیں۔اسی طرح ڈسپوزایبل بوتلوں کے استعمال سے ان میں پڑی ہو ئی خراشیں بیکٹریا کی نشوونما کا سبب بنتی ہیں۔ نیز یہ کھانے کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کا سبب بھی بنتی ہیں۔ اب تک ہم نے غذا کی ان اقسام کا ذکر کیا ہے جن کا استعمال بظاہر کسی خطرے کی علامت دکھائی نہیں دیتا ہے۔ مگر ان کا طویل استعمال نقصان دہ پہلوؤں کو ظاہر کر سکتا ہے۔ اسی طرح کئی ایسے غذائیت سے بھرپور کھانے ہیں جن کا استعمال اچھی صحت کے لئے ضروری ہے مگر غلط فہمیوں اور غلط معلومات کی وجہ سے کافی لوگوں نے ان صحت مند کھانوں کو ترک کر دیا ہے۔ ان میں سرفہرست انڈے کے استعمال کے بارے میں غلط معلومات شامل ہیں ۔ان میں سب سے پہلے یہ نظریہ بہت عام ہے کہ انڈہ کھانے سے جسم میں کولسٹرول کی افزائش کے مواقع بڑھ جا تے ہیں نیز بڑی عمر کے افراد کو انڈہ ترک کر دینا چاہئے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے جسم میں موجود 70 سے 80 فیصد کولسٹرول قدرتی نظام کے تحت ہمارے جسم میں موجود کلیجے کا اہم کام ہے۔ باقی کولسٹرول مختلف اقسام کے کھانوں سے ہمارے جسم میں شامل ہو تا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خون میں جذب ہو جا تا ہے اور کسی نقصان کا سبب نہیں بنتا ہے۔ کولسٹرول کی افزائش کی کئی اور وجوہات ہیں ۔ جیسا کہ ٹینشن، تمباکو نوشی، مٹاپا یا وزن کی افزائش و ورزش کی کمی، پیلیا کی بیماری وغیرہ ۔ اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ کولسٹرول کا بڑھنا کسی طرح بھی انڈہ کھانے کے زمرے میں نہیں آتا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انڈہ کھانا سردیوں میں بہتر ہے اور گرمیوں میں اس کا استعمال جسم میں حرارت کو بڑھا دیتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ رویہ یا تصور اس غلط فہمی سے پیدا ہوا ہے کہ انڈہ زیادہ توانائی فراہم کر نے والی غذا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انڈہ سے کل توانائی کا صرف 3-4 فیصد حصہ حاصل ہو تا ہے۔ ایک انڈہ تقریباً 80 کیلوریز توانائی فراہم کرتا ہے جو کسی بھی صورت ضرورت سے زیادہ نہیں ہے۔ نیز یہ وہ واحد غذا ہے جسے ایف ڈی اے نے 100 نمبر سے نوازا ہے جو دودھ سے بھی زیادہ ہے اور اسے استعمال کرنا کسی بھی صورت میں مضر نہیں ہے۔ دیسی انڈوں کو فارمی انڈوں پر ترجیح دینے کا تصور بھی عام ہے ۔ اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض لوگ فارمی انڈوں کو کافی کے رنگ میں ڈبو کر سرخی مائل کر کے شہریوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انڈے کے رنگ کا تعلق غذائیت سے نہیں بلکہ مرغی کی اقسام سے ہو تا ہے۔ نیز دیسی مرغی کا انڈہ زیادہ زرد یا چھلکا زیادہ سرخی مائل ہو نے کی وجہ کا تعلق دیسی مرغی کی نسل یا بناوٹ سے ہے۔ غذائی اعتبار سے دونوں انڈوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ غذا کے حوالے سے صحیح معلومات حاصل کر نا ہر خاص و عام کے لئے ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں میڈیا نے مثبت کردار ادا کر نے کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں مبالغہ آرائی سے بھی کام لیا ہے۔ کچھ صنعتوں کی شہرت کے لئے ضرورت سے زیادہ تعریفوں کے پل باندھے جا تے ہیں ۔ لہٰذا اس حوالے سے کوشش کی جائے کہ عوام کو ہر چیز کے بارے میں صحیح معلومات فراہم کی جا ئیں۔ تعلیمی اداروں میں ایسے پروگرامز منعقد کئے جائیں جو غذا اور غذائیت کے حوالے سے درست معلومات فراہم کر سکیں۔ اس طرح اگر ہر خاندان کے ایک فرد تک بھی صحیح معلومات پہنچ جا تی ہیں تو ہم امید کر سکتے ہیں کہ ہر خاندان ان اصولوں کو اپنا کر صحت اور توانائی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔نیز بازاروں میں موجود ناقص اجزاء سے اجتناب کر کے دھوکے بازوں کے جھانسوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ قدرت نے ذائقے اور افادیت کے لحاظ سے انسان کے لئے مختلف غذائیں تخلیق کی ہیں تاکہ ان میں تنوع رہے اور انسان یکسانیت سے اکتاہٹ کا شکار نہ ہو جائے ۔ قدرت کی دی ہوئی ان نعمتوں کو بدل بدل کر استعمال کرنے سے انسان کے اندر نہ صرف ان کے لئے رغبت پیدا ہوتی ہے بلکہ اس میں بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت بھی پیدا ہوتی ہے۔ عام طور پر کسی خاص سبزی یا پھل کے بارے میں تصور کرلیا جاتا ہے کہ وہ صحت کے لئے بہت مفید ہے اس لئے اس کے استعمال پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے جبکہ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ پھل یا سبزی کو اگر اس کے موسم میں استعمال کیا جائے تو وہ زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ بے موسمی ہونے کی وجہ سے ایک تو اس کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے دوسرا سٹور میں رکھنے رہنے یا ڈبوں میں بند ہونے کے باعث اس کے صحت بخش غذائی اجزا بری طرح متاثر ہو جاتے ہیں۔ خوراک کی تیاری کے دوران دھیان رکھنا چاہئے کہ اس میں مصالحوں‘ گھی یا تیل کا استعمال زیادہ مقدار میں نہ کیا جائے۔ نیز ان کو زیادہ دیر تک پکایا نہ جائے تاکہ ان میں موجود وٹامنز اور دیگر صحت بخش اجزاء ضائع نہ ہو ں۔ ایسی اشیاء بظاہر کھانے میں تو مزیدار لگتی ہیں مگر غذائی اعتبار سے ان کی افادیت میں کمی آجاتی ہے۔ سادہ اور مناسب طریقے سے بھی پکائی گئی خوراک ہی صحت کے لئے موزوں ہوتی ہے۔ پانی ہماری زندگی کا ایک لازمی جزو ہے۔ کھانے کے دوران سنتِ نبوی کے طریقے سے اس کا استعمال کریں۔ کھانا کھانے سے پہلے پانی پئیں اور کھانا ختم کرنے کے فوراً بعد پانی نہیں پینا چاہئے بلکہ کچھ وقفہ چھوڑ کر پیا جائے تو زیادہ سود مند ثابت ہوتا ہے۔ دودھ اور شہد جنت کی غذاؤں میں سے ہیں۔ ان دونوں اشیاء کو بھی اپنی خوراک کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ خصوصاً بچوں کی غذا میں ان کا استعمال ان کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ زندگی کے ہر معاملے میں نبی کریمﷺ کی ذاتِ اقدس ہمارے لئے ایک بہترین نمونہ ہے۔ کھانا کھاتے وقت بھی آپﷺ کی تعلیمات کو مدِ نظر رکھنا چاہئے۔ کھانا اس وقت کھائیں جب شدید بھوک محسوس ہو اور ابھی کچھ بھوک باقی ہو تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لینا چاہئے۔ اس طرح انسان معدے کے مختلف امراض سے محفوظ رہتا ہے۔

یہ تحریر 35مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP