قومی و بین الاقوامی ایشوز

ہماری آزادی

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور عالمی برادری کی خاموشی

جولائی کے پہلے ہفتے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا تو کشمیریوں نے اس کا بائیکاٹ کیا۔ پوری وادی میں ہڑتال کی گئی اور کاروبار زندگی معطل رہا۔بھارتی وزیراعظم کی آمد سے قبل تمام کشمیری حریت پسند قیادت کو ان کے گھروں میں ہی نظر بند کر دیا گیا۔اس موقع پر پوری وادی کشمیر میں کشمیریوں نے ہڑتال اور زبر دست احتجاجی مظاہرے کرکے بھارتی قیادت پر مکمل عدم اعتماد کا واضح اظہار کیا۔ کشمیریوں نے بھارتی وزیراعظم کے اس بیان کو اپنے زخموں پر نمک پاشی قرار دیاکہ وہ کشمیریوں کے دل جیتنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان ہی کی پارٹی کے ایک اہم رکن نے بھارتی آئین میں درج کشمیر کے لئے خصوصی شق 370 کے خاتمے اور پورے مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کی خواہش کا اظہار کر کے اپنی اور اپنی پارٹی کے انتہاء پسندانہ عزائم کی قلعی کھول دی ہے۔ بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 کشمیریوں کو خصوصی اختیارات اور جموں و کشمیر کو متنازعہ حیثیت دیتا ہے۔اس آرٹیکل کے تحت جواہرلال نہرو نے بھی کشمیریوں کی الگ‘ منفرد اور خصوصی حیثیت کو تسلیم کیا تھا۔اگرچہ انہوں نے بعد میں مکاری کے ساتھ شیخ عبداللہ کو کشمیر کے وزیراعظم کے عہدے سے ہٹا کر محض وزیر اعلی بنا دیا تھا۔ جموں و کشمیر کے عوام کو سات لاکھ بھارتی فوج گزشتہ کئی عشروں سے جبر و تشدد اور قتل و غارت کا نشانہ بنا رہی ہے جس میں اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری مرد وزن شہید ہوچکے ہیں اور اخلاقی اقدار کو پامال کر دیا ہے۔ آج بھی سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور دیگر کشمیری رہنماء قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ ان کشمیری عوام اور قائدین کا جرم یہ ہے کہ وہ الحاق پاکستان کی بات کرتے ہیں اور اپنے اجتماعات میں پاکستان کا ہلالی پرچم لہراتے ہیں‘ جو بھارت کی قیادت اور فوج کے نزدیک سنگین جرم ہے۔ مگر اتنا ضرور ہے کہ مسئلہ کشمیر سے وفا کرنے والے تاریخ کے ماتھے کا جھومر اور مسئلہ کشمیر سے غداری کرنے والے تاریخ کے ملبے تلے ہمیشہ دب جائیں گے۔کشمیری نصف دہائی سے عالمی برادری سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ کشمیر میں بھارتی مظالم روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے اور کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق خودارادیت دیا جائے۔ بھارت نے 1947ء میں جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا اور پھر کشمیر کو فوجی گریژن میں بدل دیا۔ نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہو گیا۔ بھارت کی 7 لاکھ فوج کشمیریوں کی قتل و غارت گری میں مصروف ہے۔ کشمیری عوام بھارتی فوج کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے انٹرنیٹ کی ویب سائٹس ’’فیس بک‘‘ اور ’’ٹویٹر‘‘ کے ذریعے سے دنیا کو آگاہ کررہے ہیں۔ سوشل ویب سائٹس کے ذریعے سے بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنا بھارت کو ناقابل قبول ہے۔ لہٰذا اس نے ان کشمیری نوجوانوں کے خلاف کارروائی شروع کررکھی ہے‘ جو ان سوشل ویب سائٹس کو استعمال کررہے ہیں اور دنیا کو بھارتی فوج کے مظالم سے باخبر رکھ رہے ہیں۔ بھارتی فوج نے کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرنا شروع کررکھا ہے۔ بھارت ان نوجوانوں پر ’’آئی ٹی ایکٹ‘‘ کے تحت مقدمات قائم کررہا ہے اور انہیں ویب سائٹس استعمال کرنے سے روکا جارہا ہے۔ درحقیقت بھارتی حکومت ایسے کوئی اقدام کرنا نہیں چاہتی جس سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو سکون کا سانس لینا نصیب ہو سکے۔ بھارت اپنے زیرتسلط کشمیر کے مسلمانوں کو حق خود ارادی تو ایک طرف‘ انہیں ان کے بنیادی شہری حقوق سے بھی محروم رکھنا چاہتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی حقوق کے علمبردار اس جانب اپنی توجہ مبذول کریں اور کشمیری مسلمانوں کے ساتھ تعصبانہ رویہ ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ کشمیری مسلمانوں کو ان کا بنیادی حقِ خود ارادیت دلانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے اور اسے مجبور کیا جائے کہ وہ کشمیری عوام پر مظالم بند کرکے انہیں استصواب رائے کاوہ حق دے جس کا وعدہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں بھی کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے اقوام متحدہ بھی کشمیری مسلمانوں کے انسانی حقوق پر توجہ نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ کروڑوں انسانوں کو ان کا بنیادی حق آزادی دینے کے لئے مسئلہ کشمیر آج تک دانستہ حل نہیں کیا گیا جبکہ کشمیریوں کی تحریک آزادی خون کی ندیاں بہہ جانے کے باوجود بھی جاری و ساری ہے۔ جس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ مقبوضہ وادی کے مسلمانوں کو فوجی طاقت کے بل بوتے پر حق آزادی سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ بھارتی فوج بے شمار نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کی قاتل ہے۔ کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم سے چشم پوشی کے دوہرے معیار کی مظہر ہے۔ قومی آزادی کی تحریکوں کے پس منظر میں دیکھیں تو بھی امریکہ اور اقوام متحدہ کا کردار واضح طور پر دوغلا نظر آتا ہے۔ مشرقی تیمور کے باسیوں نے جب اپنی آزادی کے لئے آواز بلند کی تو چونکہ ان کا مغرب سے مذہبی تعلق تھا اس لئے ان کی حمایت کے لئے نہ صرف یورپی برادری اٹھ کھڑی ہوئی بلکہ اقوام متحدہ نے ان کا ساتھ دینے کے لئے اتنی تیزی سے اقدامات کئے کہ دنیا حیران رہ گئی‘ اور دیکھتے ہی دیکھتے مشرقی تیمور کی آزاد مملکت قائم ہوگئی۔ لیکن وادی جموں و کشمیر جس کے باشندے اپنی قومی آزادی کے لئے بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور بھارتی افواج کے جابرانہ ہتھکنڈوں سے گزشتہ سڑسٹھ(67) برس سے نبردآزما ہیں اور گزشتہ بائیس سال سے جن کی جدوجہد نے باقاعدہ مسلح مزاحمت کی شکل بھی اختیار کرلی ہے‘ کی زبوں حالی اور کسمپرسی کسی کو دکھائی نہیں دے رہی۔ حالانکہ کشمیریوں کی تحریک آزادی تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہونے کے باعث بھی لائق توجہ ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں بھی جن کا جلد از جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچنا ایک ایسی ناگزیر ضرورت ہے جس کے بغیر جنوبی ایشیا میں قیام امن کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا بنیادی سبب مسئلہ کشمیر ہے اور اگر اس کو حل کرنے کا کوئی راستہ نکال لیا جائے تو اس سے نہ صرف کشمیر کے کروڑوں باشندوں کی سیاسی و اقتصادی ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں۔بلکہ علاقہ بھی امن کا گہوارہ بن جائے گا۔لیکن اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے نہ بھارتی حکمران تیار ہیں اور نہ عالمی سامراجی قوتیں۔ حتیٰ کہ عالمی برادری بھی اپنے مفادات کی سرحدوں سے آگے بڑھ کر مسئلہ کو حل کرنے کو تیار نہیں۔ اقوام متحدہ جس کی تشکیل دوسری جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز کی جگہ اس لئے عمل میں لائی گئی تھی کہ وہ اپنے رکن ممالک کے درمیان پائے جانے والے باہمی تنازعات کو طے کرنے کے لئے ٹھوس اور موثر جدوجہد کرے گی۔ وہ بوجوہ امریکی و یورپی مفادات کی اس قدر ہمنوا بن چکی ہے کہ اس کی جانب سے کسی آزادانہ کردار کی توقعات دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک نے تو ایک نئی اقوام متحدہ کی تشکیل کے لئے آوازیں بلند کرنا شروع کردی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ایک محتاط اندازے کے مطابق اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں اور خود اقوام متحدہ بھی یہ حقیقت تسلیم کرچکی ہے کہ کہ ’’مقبوضہ وادی میں ماورائے عدالت قتل اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔‘‘ یہ انسانی حقوق کی اتنی واضح خلاف ورزی ہے کہ اس پر کسی طرح پردہ ڈالنا ممکن نہیں۔ لیکن اقوام متحدہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کے متعلق اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے سے گریزاں ہے۔ اس لئے اس پر بعض بڑی طاقتوں کا دباؤ ہے۔ جب تک وہ نہیں چاہیں گی یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ آخری بات یہ کہ اگر امریکہ اور عالمی برادری واقعی جنوبی ایشیاء میں مستقل اور پائیدار امن کی خواہشمند ہیں تو انہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعات کے تصفیہ کے لئے ٹھوس اور بامعنی کوششیں کرنی ہو گی اور ان اسباب کا خاتمہ کرنا ہو گا جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ اور بداعتمادی کو فروغ دے رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر ان سارے تنازعات میں سرفہرست ہے اس لئے امریکہ اور اقوام متحدہ کو اس کے منصفانہ حل کے لئے بھی مخلصانہ جدوجہد کرنی چاہئے۔ کیونکہ جب یہ تنازع حل ہوگا تو پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کی اصل جڑ کٹ جائے گی‘ اور دہشت گردی اور انتہاء پسندی کو فروغ دینے کے والے تمام محرکات خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ کشمیری عوام ہر قیمت پر آزادی کے حصول کے لئے ان جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اب دنیا کی کوئی طاقت وادئ کشمیر کو ’’آزادی‘‘ سے نہیں روک سکتی۔

یہ تحریر 63مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP