ہمارے غازی وشہداء

ہمارا یومِ آزادی

ضرب عضب میں حصہ لینے والے پاک فوج کے جوانوں کے شمالی وزیرستان سے پیغامات

حوالدار عارف

(میران شاہ)

میرے خیال میں جس جوش اورجذبے کے ساتھ ہم نے یہ ملک حاصل کیا تھا وہ جذبہ آج بھی باقی ہے۔ اگر ہم اسی جوش اورجذبے سے آگے بڑھتے رہے تو انشاء اﷲ وہ دن دور نہیں جب ہم دنیا کی بہترین قوموں میں سے ایک ہوں گے۔ ہم قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ویژن کی تکمیل کے لئے سربکف ہیں اور رہیں گے۔ اﷲ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

 

لانس حوالدار مسلم

(بویا)

پاکستان کا وجود میں آنا ایک معجزہ تھا۔ یہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی انتھک محنت اور بے پناہ ذہانت کا نتیجہ تھا کہ ہندو اور انگریز مسلمانوں کو ایک الگ ریاست دینے پر مجبور ہوگئے۔ مسلمانوں پر ظلم و جبر کیا گیا مگر ’پاکستان کا مطلب کیا‘ لا الہ الااﷲ‘ کے نعرے میں جو طاقت تھی اس نے بالآخر مسلمانوں کو کامیابی دی۔ ہم آج بھی اس عہد کو دہراتے ہیں کہ ہم خوشحال پاکستان کے لئے کوئی بھی قرانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔

 

لانس حوالدار ندیم

(دتہ خیل)

شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے جو خواب دیکھا تھا وہ 14 اگست 1947ء کو مکمل ہوا۔ افواجِ پاکستان نے ہر مشکل گھڑی پر بے دریغ جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور وطن کی مٹی کو شہداء کے خون سے سیراب کیا۔ ہم آج بھی اسی جذبے سے لبریز ہیں اور اگر امن کی قیمت ہمارا خون ہے تو ہم یہ قیمت ادا کرنے کے لئے ہر دم تیار ہیں۔

 

لانس نائیک سرور

(پش زیارت)

آزادی سے لے کر اب تک ہم نے بحیثیت قوم بہت سی مشکلات دیکھی ہیں۔ مگر ناامیدی کے اندھیروں میں بھی اُمید کی شمعیں روشن ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ عظیم قومیں ہمیشہ کامیابی کے زینے سے پہلے مشکلات سے دوچار رہی ہیں۔ آج اﷲ کے فضل سے ہم ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں۔

 

سپاہی لال حسین

(بویا)

آزادی حاصل کرنے کے لئے جتنی قربانیاں ہمارے آبا و اجداد نے دی ہیں ان کا اندازہ کرنا مشکل ہے اور دنیا کی تاریخ میں ایسی قربانیوں کی مثال نہیں ملتی۔ ان کی بے دریغ قربانیوں کا مقصد صرف آزادی حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ ایک ایسے وطن کی تعمیر تھا جو اپنی مثال آپ ہو۔ ہمیں وطن کی تعمیر کرنی ہے تاکہ ہم ان کے خون کا قرض ادا کرسکیں۔

 

نائیک ابرار

(دتہ خیل)

پاکستان کے وجود میں آنے پر دنیا نے کہا کہ یہ ملک کمزور ہونے کے باعث کچھ عرصے میں ہی ٹوٹ جائے گا مگر پاکستان کی عوام نے دنیا کو غلط ثابت کیا۔ کیونکہ ہمارا وجود میں آنا اﷲ کے نام پر تھا۔ آج ہماری اڑسٹھ ویں سالگرہ پر دنیا کے خیالات بدل چکے ہیں مگر ہم دشمن کی سازشوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہم دشمن کو شکست سے دوچار کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ہمیں قیام امن کے لئے جو بھی قیمت ادا کرنی پڑی ہم وہ ادا کریں گے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک خوشحال پاکستان میں آنکھ کھولیں۔

یہ تحریر 47مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP