قدرتی آفات اور افواج پاکستان

ہر گھڑی تیار کامران ہیں ہم

سندھ میں سیلابی صورتحال اور پاکستان آرمی کی امدادی سرگرمیاں

7 جولائی سے29 اگست صوبہ سندھ کے عوام کے لئے ایک ناگہانی آفت کی صورت میں چیلنج درپیش ہوا جہاں مسلسل بارشوں نے نظامِ زندگی کو تہس نہس کردیا۔ اس مشکل صورتحال میں سول انتظامیہ نے پاک فوج سے امدادی کاموں کی درخواست کی ۔



کراچی میںاس سال جولائی سے اگست کے درمیان بارشوں کے چھ دورانیے ہوئے۔ 364 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی ۔ اس سے قبل1984ء میں 298 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی تھی۔جولائی تاستمبر کے دوران کراچی عام طور پراوسط بارش 67 ملی میٹر ریکارڈ کی جاتی ہے۔
 نشیبی علاقوں کے زیرِ آب آ نے اور نکاسی کے نالوں میں گنجائش اور بہائو زیادہ ہونے کی وجہ سے پانی سڑکوں، گلیوں اور گھروں میں داخل ہوگیاجس نے شہری زندگی کو شدیدمفلوج کردیا۔
موسلادھار بارشوں اورشہر کے مختلف حصوں پانی جمع ہونے کی وجہ سے 'کے الیکٹرک' کے64% فیڈرز خراب ہوئے اور بجلی بحالی میں ادارے کو مشکلات پیش آئیں جس سے شہری ایک تکلیف دہ عمل سے گزرے۔ مختلف نوعیت کے حادثات میں17 اموات اوراملاک کو نقصان پہنچا۔
کراچی میں ریکارڈ بارشیں اور امدادی سرگرمیاں
کراچی میں اس سال ریکارڈ بارشوںکی مثال قیام پاکستان کے بعد سے نہیں ملتی اور یقینی طور پراندیشے، تکالیف اور نقصانات قدرتی تھے۔ پاک فوج نے مون سون کی بارشوں کی آمد کے قریب ضروری اقدامات کے تحت مربوط حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے کراچی کے تین اضلاع شرقی،غربی اور جنوبی میں ضروری مشینری اور آلات کے ساتھ فوجی افسروں اور جوانوں کی صورت میںافرادی قوت تعینات کردی۔ جہاں نشیبی آبادی کو سیلابی پانی سے بچانے کا چیلنج تھاوہیں قومی اہم تنصبات مثلاسعدی گرڈ اسٹیشن اور ٩۔ایم موٹروے بھی جلد توجہ کی متقاضی تھیں۔پاک آرمی نے انتہائی ماہرانہ انداز میں دوطرفہ حکمت عملی اختیار کی اور ریسکیو اور ریلیف کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات کوبھی مدنظر رکھا۔ 83نکاسی آب کے آلات20 کشتیوں اور دیگرضروری مشینری اور سازوسامان کے ساتھ آپریشن کا آغاز کیا ۔زیادہ متاثرہ علاقوں جن میں ملیر ندی کا علاقہ، سرجانی میں یوسف گوٹھ ، ڈرگ روڈ، کلفٹن، قیوم آباد، سعدی ٹائون، نیا ناظم آباد اور غریب آباد جیسے گنجان آباد علاقوں میں پھنسے  41,482افراد کو گاڑیوں اورکشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات تک منتقل کیااور ضرورت مند لوگوں میں 180120 راشن کے پیکٹس بھی فراہم کئے۔
 ڈی واٹرنگ پمپس کے ذریعے زیادہ متاثرہ علاقوں سے پانی کی نکاسی  اور انڈر پاسز سے پانی نکال کر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنا یاگیا۔اس کے علاوہ M-9موٹر وے اور سعدی ٹائون گرڈ سٹیشن کے اطراف میں حفاظتی بند بنانے، خندق کھودنے اور نکاسی آب جیسے بروقت ضروری اقدامات کئے گئے۔
آرمی میڈیکل کور نے قیوم آباد، سرجانی اور سعدی ٹائون میں فری میڈیکل کیمپ قائم کئے جہاں فوری نوعیت کی ادویات ، آلات اور طبی عملہ موجود تھا۔ علاوہ ازیں سول انتظامیہ کی مدد سے 56 دیگرریلیف مرکز بھی شہر کے دیگر ایریاز میں قائم کئے گئے۔ایکسپو سینٹر میں فوری طور پر 500 بستروں پر مشتمل عارضی اسپتال بھی آپریشنل کیا گیا۔
حیدرآباد شہرکی صورتحال اور امدادی سرگرمیاں
لطیف آباد سمیت حیدرآباد کے بعض علاقوں میں غیر معمولی موسلادھاربارشوں نے شہر کو سیلابی صورتحال سے دوچار کیا اور حالات فوری اقدامات کے متقاضی تھے۔پاک فوج نے آرمی چیف کے احکامات پہ لبیک کہتے ہوئے لطیف آباد اور کینٹ سے ملحقہ علاقوں کے متاثرہ250 افرادکو فوری ریسکیوکیا اور2280 افرادمیں راشن تقسیم کیا۔انجنئیرز کی ٹیمیں ڈی واٹرنگ پمپس کے ذریعے نشیبی علاقوں سے پانی نکالنے میں شب و روز مصروف رہیں جس سے لوگوں کی آمدورفت میں آسانی پیدا ہوئی۔1620مریضوں کومیڈیکل کیمپس میں فوری طبی امداد کی سہولت فراہم کی گئی۔
تھرپارکر ضلع میں بارشوں سے پیدا صورتحال
 بدین ، میرپورخاص کے درمیان(Left Bank Outer Drain) LBOD میں پانی کی سطح بلند ہونے اور بند کے ٹوٹنے سے میرپور خاص کے جوڈو گائوںمیں پانی کئی فٹ تک کھڑا ہو گیا۔پاک فوج نے راتوں رات متاثرہ450 افراد کو فوری محفوظ مقام میں منتقل کیا ، انہیں رہائش اور کھانا فراہم کیا۔جبکہ آرمی میڈیکل کیمپ میں 1475افراد علاج معالجہ کی سہولت فراہم کی۔عمر کوٹ میں موسلا دھار بارش سے 250 متاثر افراد کو ریسکیو اور انہیں کھانا مہیاکیا گیاوہیںبدین میں300افراد کو ریسکیو، 6431افراد کوطبی امداد اور مٹھی میں175 افراد کو ریسکیو اور200 مریضوں کا معائنہ کیا گیا۔



 ضلع دادو کی صورتحال
7-13،اگست کے دوران خضدار کے علاقہ میں طوفانی بارشوں نے پہاڑی نالوں میں طغیانی برپا کردی اور سیلابی پانی ضلع دادو کی تحصیل جوہی کے15 گائوںکو زیرِ آب کرگیا۔ اسی دوران دُہرا چیلنج گج ڈیم میںپانی کی سطح بلند ہونے اور شگاف پڑنے سے پیدا ہوا۔ ہمہ وقت تیار انجینیئرنگ کے دستوں نے فوری طور پر60 فٹ بند پشتوں کو مضبوط کیا اسی دوران پاک ایوی ایشن بھی میدان کارزار میں کود پڑی اور ہیلی کاپٹر اور کشتیوں کے ذریعے متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ۔ امدادی دستوں نے  47096 متاثرہ افرادکو راشن تقسیم کیا گیا۔جبکہ آرمی میڈیکل کیمپ میں850 مریضوںکا طبی معائنہ کیا گیا۔ضلع دادو میں ستمبر کے اوائل میں ہونے والی بارشوں سے متاثر 570افراد کو ریسکیو اور92 افراد کو راشن فراہم کیا گیا۔



    صوبہ سندھ میں حالیہ دنوں مون سون بارشیں غیر متوقع تھیں۔ تاہم پاک فوج کے ہمہ وقت مستعد دستوں نے یہ ثابت کیاکہ امن ہو یا جنگ، پاک فوج ہمیشہ اپنے عوام کی خدمت میں سب سے آگے رہی گی۔ ||
 

یہ تحریر 57مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP