قومی و بین الاقوامی ایشوز

ہر پیش گوئی غلط

  پاکستان کو ناکام ریاست کہنے والے دانشوروں کا ایک حوالہ انڈین نیشنل کانگریس کے سابق صدرمولانا ابوالکلا م آزاد ہوتے ہیں،جو بعد میں خود اپنی پیش گوئیوں پر تائب ہوچکے تھے۔
14 اگست 2020 کو وطن عزیز کی آزادی کو 73 سال مکمل ہونے کے باوجود اب بھی ایک ایسا مکتبہ فکر اور مخصوص طبقہ ہے جو پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے سوال اٹھاتا رہتا ہے۔70 کی دہائی میں پاکستان اور خاص طور پر بیرون ملک میں چند متعصب دانشوروں اور مورخین نے پاکستان کے لئے ''ناکام ریاست ''کی اصطلاح تواتر سے استعمال کرنا شروع کردی تھی۔۔۔ یقیناً دیگر جمہوری ممالک کی طرح وطن عزیز میں چھوٹے صوبوں میں محرومیوں کے حوالے سے آوازیں اٹھتی رہیں، ہمارا روایتی پڑوسی دشمن ملک اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کرتا رہا ہے۔2016 میں 'را' کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کے پکڑے جانے کے بعد یہ بات اوپن سیکرٹ بھی نہیں رہی۔۔مگر میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا کہ یہ ایک الگ تفصیلی مضمون اور موضوع ہے۔۔
74ویں جشن آزادی اور پھر کرونا کے حوالے سے نیم فرصت کے ان دنوں میں جو ماضی کے اوراق الٹنے کا موقع ملا تو بڑے بڑے مؤرخین اور دانشور اپنی تحریروں میں یہ پیشگوئی کرتے نظرآتے تھے کہ ''پاکستان اگر بن بھی گیا'' تو سالوں کیا مہینوں میں یا تو بکھر جائیگا یا پھر بھارتی حکمرانوں کے پاس فریادی بن کرآئے گا۔۔ پاکستان کے حوالے سے برصغیر پاک و ہند کے صف اول کے رہنما اور انڈین نیشنل کانگریس کے تقسیم ہند سے قبل صدر مولانا ابوالکلام آزاد کی پاکستان کے حوالے سے پیشگوئیوں کا بڑا چرچا رہا۔ حتیٰ کہ ایک خاص مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے مولانا ابوالکلام آزاد کے حوالے سے تواتر سے برسوں یہ لکھتے رہے کہ پاکستان کا ایک ریاست کی حیثیت سے زندہ رہنا ناممکنات میں سے ہے۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس یقین سے وہ یہ بات کہتے تھے اس کے لئے کبھی  وہ کوئی مضبوط دلیل نہیں دے پائے یقیناً بانی ٔپاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد''جو اقتدار کا میوزیکل چیئر'' وطن عزیز میں رہااس سے ایک حد تک ان شک و شبہات کو تقویت بھی ملی مگر دہلی کے حکمرانوں اور بدقسمتی سے وطن عزیز میں ان سے انسپائریشن لینے والا یہ مخصوص گروہ اور طبقہ بھول گیا کہ اس مملکت کے قیام کے لئے لاکھوں مہاجرین آگ و خون کا دریا پار کرکے لٹے پٹے اس مملکت خداداد پاکستان میں آئے تھے اور پھر ان کی قربانیوں کے سبب ہی آج کروڑوں عوام اس کے محافظ ہیں۔ حکمران آتے اور جاتے رہتے ہیں۔کسے یاد ہے ۔ ۔۔ کہ 50/60 سال پہلے ہندوستان کا امریکہ، فرانس، برطانیہ،روس،چین کا کون کون صدر رہا۔۔ میں ان تاریخی شخصیات کا ذکر نہیں کررہا کہ جو بہرحال استثنیٰ میں سے ہیں۔ امریکہ کے معمار جارج واشنگٹن یا پھر دوسری جنگ عظیم کے ہیرو ونسٹن چرچل، فرانس کے جنرل ڈیگال، اشتراکی چین کے بانی ماؤزے تنگ اور پھر جواہر لال نہرو کی کشمیر کے حوالے سے رومانس کے باوجود بہرحال وہ ایک اسٹیٹسمین تو تھے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال اور بانی ٔپاکستان قائد اعظم کے بغیر کیا تصور پاکستان کیا جاسکتا تھا!! 
73 برس ہوگئے،میرے منہ میں خاک کیا اب بھی کوئی اسے ''ناکام ریاست ''کہنے کی جسارت کر سکتا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے حوالے سے یہ دلچسپ بات بھی سنتے چلئے کہ بلاشبہ وہ ایک مسلمان اور عالم دین ہوتے ہوئے آزادی کے لئے جدو جہد اور قربانیوں کے سبب انڈین نیشنل کانگریس کے مرکزی رہنما تو ضرور بنے۔ پھر آزادی کے اگلے دس سالوں تک اپنی آخری سانس تک وزیر کی حیثیت بھی انہیں حاصل رہی۔۔ مگر اپنے انتقال سے پہلے جب وہ اپنی کتاب India Wins Freedom لکھوارہے تھے تو انھوں نے 39 صفحات آرکیو میں محفوظ کردیئے تاکہ وہ صفحات ان کی وفات کے بعد  شائع ہوں، جس میں اعتراف کیا کہ ہندوستان کو ایک سیکولر ریاست بنانے کا جو ان کا تصور تھا وہ حقیقت پر مبنی نہیں تھا۔ تقسیم ہند کی ذمہ داری بھی انھوں نے سردار پٹیل جیسے انتہا پسند ہندو پر زیادہ ڈالی ایک خاص مکتبہ فکر کے دانشوروں اور علماء کرام کے لئے یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ قیام پاکستان کے چار سال بعد جولائی 1951 میں تہران سے دہلی جاتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد کو ایک دن کراچی رکنا پڑا تو انھوں نے مزار قائد پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ پڑھی۔۔ ممتاز صحافی منیر احمد منیر کی کتاب'' مولانا ابوالکلام آزاد اور پاکستان'' میں وہ تصویر موجود ہے جس میں مولانا ابوالکلام آزاد کراچی میں مزار قائد پر فاتحہ پڑھ رہے ہیں۔ 
یہ طویل تمہید میں نے اس لئے باندھی ہے کہ آج بھی وطن عزیز میں ایک ایسا طبقہ اور حلقہ موجود ہے جو نظریہ پاکستان کا تو سرے سے مخالف رہا ہی ہے ساتھ ہی جو اب بھی''پاکستان کے وجود'' کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہیں۔ اور اس کے لئے وہ دشمنان پاکستان کے لئے سہولت کارکا کردار بھی ادا کرتا رہا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن، وزیراعظم جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان قیام کے چھ ماہ بعد ہی گھٹنے ٹیک کر ہمارے پاس فریادی بن کر آئے گا کہ مجھے ہندوستان میں شامل کرلو،تب ہم اسے اپنی شرائط پر ہندوستان کا حصّہ بنائیں گے۔۔جب مولانا ابوالکلام آزاد ہندو کانگریس اور انگریز وائسرائے کی سازش کے تحت بنگال و پنجاب کی تقسیم کا فیصلہ کرچکے تو بانی ٔ پاکستان قائد اعظم نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے کہا:''آپ مجھے کرم خوردہ پاکستان دینے پہ مصر ہیں۔''اس پر ماؤنٹ بیٹن کہتے ہیں:'' آپ اسے کرم خوردہ پاکستان کہتے ہیں، میں تو چاہتا ہوں یہ بھی نہ لیں اگر یہ اس حد تک کرم خوردہ ہے۔میں تو یہی چاہتا ہوں کہ آپ ہندوستان کو متحد رہنے دیں۔''اس پر قائد اعظم نے ماؤنٹ بیٹن سے کہا:''نہیں ، میں ہندوستان کا حصہ نہیں بننا چاہتا ۔ میں ہندو راج تلے رہنے کے مقابلے پر نقصان اٹھانے کو تیار ہوں۔ '' میں نے یہ اقتباس ''ماؤنٹ بیٹن اینڈ دی پارٹیشن آف انڈیا'' جس کے مصنف لیری کولنز ہیں،سے لیا ہے۔
در اصل قائد اعظم محمد علی جناح جنہوں نے ایک وکیل کی حیثیت سے اپنی سیاست کا انڈین نیشنل کانگریس سے ہی آغاز کیا تھا۔اور پھر واپس لندن چلے گئے تھے اور پھر اس وقت کی مسلم لیگ کے قائدین خاص طور پر علامہ اقبال کے اصرار پر واپس آئے اور پھر جب کم وبیش پندرہ سال کانگریس کے قائدین سے شب و روز مشاورت اور مذاکرات کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے اور پھر انہوں نے اس کا ذکر اس طرح بھی کیا کہ اگر ایک رومال کے برابر بھی مجھے ملک دیا گیا تو اُسے میں پاکستان کا نام دوں گا۔ ۔ ۔   
چلتے چلتے مولانا ابوالکلام آزاد کے حوالے سے یہ بھی سنتے چلیں کہ جب شاعر رومان انقلاب جوش ملیح آبادی بھارت سے پاکستان آنے کا عزم کرچکے تو روانگی سے قبل اپنے دیر ینہ تعلقات کے حوالے سے انھوں نے مولانا ابوالکلام آزاد سے ملاقات کی۔۔۔ اس وقت مولانا ابوالکلام آزاد وزیر تعلیم تھے۔ جوش ملیح آبادی نے اپنی کتاب ''یادوں کی بارات '' میں لکھا ہے کہ جب میں مولانا کے پاس پہنچا تو میرے جانے کے حوالے سے وہ کسی اخبار میں یہ خبر پڑھ چکے تھے۔انہوں نے چھوٹتے ہی مجھ سے کہا۔۔۔ ''غالباً آپ ہی وہ شاعر ہیں جس پر پاکستان ڈورے ڈال رہا ہے۔'' میں نے کہا،''جی ہاں مولانا،میں ہی وہ شاعر ہوں۔''اس کے بعد میں نے اپنی ساری رودا د بیان کردی اور پھر اُن سے پوچھا۔''اب آپ کی کیا رائے ہے مولانا؟'' اس پر مولانا نے کہا۔''آپ کا ہجرت کرجاناہرچند ہمارے واسطے پشیمانی کا باعث ہوگا،لیکن جہاں تک آپ کے خانوادے کے مستقبل کا سوال ہے ،میری رائے ہے کہ آپ ہجرت کرجائیں۔آپ کے دوست کراچی کے کمشنر اے ٹی نقوی نے یہ سچ کہا ہے کہ جواہر لال نہرو کے بعد آپ کا یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں رہے گا۔آپ تو آپ، کوئی مجھے بھی نہیں پوچھے گا۔''
 آزادی سے پہلے اور بعد کی سیاسی تاریخ میں مولانا آزاد جیسے آزادی کے مجاہد اور جید عالم کا مزار کہاں ہے ،ان کی اولاد اگر زندہ ہے توکہاںاور کس حال میں ہے ۔۔۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا جیسے کانگریسی کے ساتھ یہ سلوک بھارت میں ہوا تو پھر کانگریس کا ساتھ دینے والے علمائے کرام، دانشوران کا آج وہاں کیا مقام ہے۔ ۔ ۔  
مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ظلم و استبداد تو زبانِ زدِ عام ہے اورمیں باقی صوبوں میں اقلیت میں رہنے والے مسلمانوں کا ذکر نہیں کروں گا کہ ان کے ساتھ کیا کیا بہیمانہ سلوک ہوا۔صرف ایک گجرات کی مثال کافی ہے۔اور پھر بھارتی سیکولر جمہوریہ کا المیہ دیکھیں کہ گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کو خون میں نہلانے والے رہنما کے ہاتھ میں آج دہلی سرکار کی عنان ہے۔ ||

یہ تحریر 67مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP