قومی و بین الاقوامی ایشوز

گھر بھی اپنا ڈر بھی اپنا

شہر بھی ہمارا ہے۔ اور زہر بھی ہمارا ہے۔

جو ہم پولیوشن

(Pollution)

کی صورت میں‘ ٹریفک کی بے ہنگم قطاروں کی صورت میں‘ دنگافساد کی صورت میں ‘ گھیراؤ جلاؤ اور ٹائر جلانے کی صورت میں پھیلا رہے ہیں۔

گاؤں بھی اپنے ہیں اور سبھاؤ برتاؤ بھی اپنا ہے۔ عدم برداشت کا کوڑا کرکٹ جابجا پھیلا ہے۔ تنگ نظری کا تالاب متعفن ہو گیا۔ گندے خیالات کے پانی کے نکاس کا کوئی انتظام نہیں‘ گھروں سے نکل کر نالیوں میں بہہ رہا ہے۔ گاؤں گاؤں گھوم کر دیکھ لو۔ یہیں سے بڑے بڑے وڈیرے اور سیاسی لٹیرے‘ ان کچے راستوں کو روندتے ہوئے گزرے اورعرش سیاست پر کرسی نشین ہوئے۔ شہروں میں ان کے عالیشان محلات کی دھوم مچی۔ مگر گاؤں کے وہ راستے جنہوں نے انہیں بام پر پہنچایا۔ آج بھی کچے ہیں‘ نالیاں آج بھی زخموں کی طرح رس رہی ہیں اور تعفن آتشیں اسلحہ بن رہا ہے۔

کھلیان بھی اپنے ہیں اور ارمان بھی اپنے ہیں۔ مگر زمین کے پیاسے ہونٹ کسی کو نظر نہیںآتے۔یہ خشک لب اب سفید جھاگ اگل رہے ہیں۔ کھیتیاں‘ کیاریاں جل رہی ہیں۔ دوا دارو کی بجائے اسے قرضوں کا مکسچر پلایا جا رہاہے۔ یہ پاک مٹی ایسی تھی کہ ایک دنیا کو روٹی مہیا کر سکتی تھی اس مٹی کی قسمت میں مانگے تانگے کی روٹی لکھ دی گئی۔۔۔؟

نہریں بھی اپنی ہیں اور لہریں بھی اپنی ہیں۔ ان کے اندر تعصب اور صوبائیت کی کشتیاں چلانے کا رواج عام ہوا۔ یہ میری ہے۔ یہ تیری ہے۔ تیری نے میری بات نہ مانی۔۔۔ دھرتی بوند بوند کو ترسی۔۔۔ گھٹا کبھی کھل کر نہ برسی۔۔۔ محبت کی گھٹا۔۔۔! اناج بھی اپنا ہے اور سماج بھی اپنا ہے۔۔۔ مگر دانے دانے پر لکھا نام مٹانے کے لئے سب ایک دوسرے کے درپے آزار ہوئے۔ برسرپیکار ہوئے۔ ذلیل و خوار ہوئے۔۔۔

زمین بھی اپنی ہے اور یقین بھی اپنا ہے۔ کسی نے اس پر گمان کے بت بٹھا دیئے‘ اپنا اپنا گمان اٹھا کر سب اپنی اپنی خواہشوں کے بت پوچھنے لگے۔ مصلّے رونے لگے۔۔۔!! صحن بھی اپنا ہے او رچمن بھی اپنا ہے۔ سرسبز چمن میں کسی نے آگ لگا دی۔ آگ صحن تک آ گئی۔ چہچہانے والے پرندے نقل مکانی کرنے لگے۔ میوے ہجرت کر گئے۔۔۔ ‘ صحن بے سایا ہو گئے۔ کوہسار بھی اپنے ہیں اور للکار بھی اپنی ہے۔ مگر پہاڑوں سا کلیجہ رکھنے والے گرد راہ بننے لگے۔ پتھر ہم پر ہنسنے لگے۔

سڑکیں بھی اپنی ہیں اور دھڑکنیں بھی اپنی ہیں۔ مگر یہ سائے سے کون ہیں جو برابر آتے جاتے ایک دوسرے کی دھڑکنیں نہیں سن سکتے۔ خواب نہیں بن سکتے۔۔۔! سر بھی اپنا ہے اور سودا بھی اپنا ہے ۔ اس سودے کو بازار میں کس نے لا سجایا۔ یہ بکاؤ مال تو نہیں تھا۔ دل بھی اپنا ہے اور محفل بھی اپنی ہے۔ مگر اس کے اندر کون بول رہا ہے۔ یہ ہماری بانی نہیں ہے۔۔۔ ہماری کہانی بھی نہیں ہے۔۔۔سفارش بھی اپنی ہے اور سازش بھی اپنی ہے مگر دونوں کا فرق مٹتا جا رہا ہے۔۔۔ مفہوم بدلتے جا رہے ہیں مقسوم لکھے جا رہے ہیں۔ علم بھی اپنا ہے اور جہل بھی اپنا‘ علم سر چھپا رہا ہے اور جہل برابر تقسیم ہو رہا ہے۔ بھوک بھی اپنی ہے اور سلوک بھی اپنا ہے۔ یہ بندوق بیچ میں کس کی آ گئی ہے۔۔۔ وہ جو رات کو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ وہ طریقت کے کن راستوں کے مسافر ہیں۔۔۔ ذوق بھی اپنا ہے اور شوق بھی اپنا ہے۔ مگر اس کو پروان چڑھانے والے کس دیس کے باسی ہیں کہ دونوں کی بولی لگ رہی ہے۔ دن رات بڑی برقی لہروں سے پھیل رہے ہیں۔ اذہان دھکیل رہے ہیں۔ زبان بھی اپنی ہے ‘ اذہان بھی اپنے ہیں۔ مگر بولی کوئی اور بول رہی ہے۔ جھوٹ کو سچ کے میزان میں تول رہی ہے۔ اغیار کی لغت کا حرف حرف کھول رہی ہے۔۔۔

قبا بھی اپنی ہے اور دعا بھی اپنی ہے۔۔۔ پھر مستجاب کیوں نہیں ہے۔ ثواب کیوں نہیں ہے۔ پل پل کا حساب کیوں نہیں ہے۔ قبولیت کا نصاب کیوں نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ صدا بھی اپنی ہے اور صحرا بھی اپنا ہے۔ ۔۔۔ وقت کا قیس کہاں ہے۔ کہ زروں کو چُن کے منزل کو محمل بنا سکے۔۔۔ لیلیٰ کی نفی کر کے لیل ونہار کا حصار باندھ سکے۔۔۔ عشق بھی اپنا ہے۔۔۔ اور مشک بھی اپنی ہے۔۔۔ دونوں کا راستہ جدا کیوں ہے۔ ہر نفس کا منہ جدا کیوں ہے۔۔۔؟ دونوں ایک دوسرے کی خبر کیوں نہیں دیتے۔۔۔ نظر بھی اپنی ہے اور خبر بھی اپنی ہے۔ پھر نظر ہمیشہ چوک کیوں جاتی ہے۔ دور کی کوڑیاں لانا بھول کیوں گئی ہے۔۔۔؟ سوال بھی اپنے ہیں اور کمال بھی اپنے ہیں کب تک کمالات ٹالو گے۔۔۔ ملک بھی اپنا ہے اور ڈر بھی اپنا۔۔۔۔۔۔ دنیا کے بازار میں خود اپنے آپ کو تماشا کیوں بنائیں۔۔۔ دلاسے کی بھیک کیوں مانگیں۔۔۔ جادو کی سوئیاں جو سر میں چبھی ہیں ایک ایک کر کے خود کیوں نہ نکالیں۔ آؤ اپنا ڈر خود مٹائیں۔۔۔ جھاڑو لگا کے اپنے شر کو اپنے گھر سے یوں بھگائیں جس طرح ہم گھر کا کوڑا کرکٹ اور گرد باہر نکال دیتے ہیں۔ اپنا ڈر نکالنے کے لئے باہر کے کسی وناسپتی طبیب کی ضرورت نہیں۔۔۔ حبیب کی ضرورت ہے

ہم وطن بھائیو‘ ہم وطن دوستو

آؤ بدلیں پرانا چلن دوستو

ہم وطن دوستو‘ ہم وطن دوستو

دیس اپنا ہے یہ اپنی دولت ہے یہ

ہم امیں ہیں مقدس امانت ہے یہ

اس امانت کی مل کر حفاظت کرو

ہم وطن بھائیو‘ ہم وطن دوستو

رات کو چاند تاروں سے تاباں کرو

صبح کی روشنی میں سویرے بھرو

ان اُجالوں کو ہمراہ لے کر چلیں

ہم وطن بھائیو‘ ہم وطن دوستو

آؤ مل کر حوادث کا رُخ موڑ دیں

ٹھہر جائے جو منزل اُسے چھوڑ دیں

آؤ آگے بڑھو اور آگے بڑھو

ہم وطن بھائیو‘ ہم وطن دوستو

غفلتوں میں کئی منزلیں کھو چکے

اپنی محرومیوں پر بہت رو چکے

اُٹھو آؤ نئے وقت کا ساتھ دو

ہم وطن بھائیو‘ ہم وطن دوستو

صوفی تبسّم

یہ تحریر 69مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP