متفرقات

گودی

کپتان نور منیر گل آفرید ی جب کمرے میں داخل ہوا تو گل بانو کا جنازہ بڑے کمرے میں رکھا ہوا تھا۔ سارے محلے کی عورتیں گھیرا ڈالے بیٹھی تھیں۔وہ بار بار رو کر کافی نڈھال ہو چکی تھیں۔ پھر بھی جب نور منیر کو دیکھا تو ایک دم چیخ و پکار کا نیا طوفان اٹھا۔ اعصابی طور پر تھکی ہاری عورتوں کے اندر آخری واویلا کلبلانے لگا۔
ابھی ایک ماہ پہلے نورمنیر سب گھر والوں سے مل کر گیا تھا۔ بس ایک دن کے لئے اچانک آگیا تھا۔ وہ پہاڑوں کے اس پار دہشت گردوں کی سرکوبی میں بھیجی جانے والی فوج میں شامل تھا۔ اسے سامان خورو نوش لانے کے لئے ایک روز کے لئے شہر بھیجا گیا تھا۔ وہ ذرا کی ذرا گل بانو کو دیکھنے اور اپنے ڈھائی سالہ بیٹے منور منیرگل کو ملنے آگیا تھا۔ اس وقت گل بانو نہا کر دھوپ میں اپنے لمبے بال سکھا رہی تھی۔ نور منیر کو دیکھا تو ہیجان کے مارے کنگھا اس کے ہاتھ سے گر گیا۔ جھک کر اٹھانے لگی تو سارے بال چہرے پر چھا گئے۔
نور منیر نے آگے بڑھ کر کنگھا بھی اٹھایا اور اس کا سر بھی اونچا کیا۔ دوسرے ہاتھ سے اس کے چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے بولا: کاش میں شاعر ہوتا اور بالوں سے جھانکتے ہوئے چہرے کو چاند سے تشبیہہ دے کر کوئی شعر ہی کہہ دیتا۔۔۔
ابھی وہ شرماتی لجاتی کھڑی کچھ کہنا چاہ رہی تھی کہ اندر سے منور منیر دوڑتا ہوا آیا۔ باپ کو دیکھا تو بابا کہہ کر ٹانگوں سے لپٹ گیا۔۔۔
گل بانو شرما کر پیچھے ہٹ گئی۔
اس نے اس بات کا جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کردیا۔
کیسے آنا ہوا۔۔۔؟
باس نے سامان لانے کو بھیجا تھا۔ میں جان بوجھ کر اس سڑک سے جا رہا تھا‘ تاکہ تمہیں ایک نظر دیکھتا جاؤں۔۔۔ اس نے جھک کر بیٹے کو اٹھا لیا۔
اتنے میں اس کی ما ں باہر نکل آئی۔ میں صدقے میرا پُتر آیا ہے؟
ہاں اماں۔۔۔ اس نے دوڑ کر ماں سے پیار لیا
ایسے ہی چند منٹوں کے لئے آیا ہوں۔ ساتھیوں کے لئے کھانے کا سامان لینے آیا تھا‘ ٹرک باہر کھڑا ہے۔ بس چلتا ہوں۔
ارے کچھ کھائے گا نہیں۔ آج میں نے سرسوں کا ساگ اور مکئی کی روٹی بنائی ہے۔ چل بانو میرے پتر کے لئے تازہ روٹی بنا۔۔۔۔۔۔
نہیں اماں ! اس نے بیٹے کو نیچے اتار دیا۔ اس وقت نہیں۔۔۔ رک جاؤ گل بانو۔ اس نے اپنی بیوی کو روکا۔۔۔ بس آپ لوگوں کو دیکھ لیا‘ اتنا ہی کافی ہے۔ اب چلتا ہوں۔ صرف پانچ منٹ کا انہیں کہہ کر آیا تھا۔
پھرکب آئے گا نور منیر۔۔۔ ماں نے پوچھا۔۔۔
ابھی لمبی چھٹی نہیں مل سکتی۔ جو نہی چھٹی ملی تو آجاؤں گا۔۔۔ وہ باہر کو مڑنے لگا۔۔۔
اماں ۔ آپ لوگ اس طرح صحن میں نہ کھڑے ہوا کریں۔ اندر بیٹھا کریں۔ ابھی ڈرون حملوں کا خطرہ ختم نہیں ہوا۔ وہ لوگ کسی بھی وقت حملہ کردیتے ہیں۔ میں یہ کپڑے اتارنے آئی تھی۔ گل بانونے کپڑوں سے بھری تار کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔ چلو چلو ۔۔۔ تم بھی اندر چلو۔۔۔۔۔۔
دادی نے پوتے کو اٹھا لیا اور اندر کو چلی۔ نور منیر نے ایک بھرپور مگر ترسی ہوئی نگاہ گل بانو پر ڈالی۔ جس کا مطلب سمجھ کے اس کے رخسار گلابی ہوگئے۔۔۔ ہونٹوں سے سیلوٹ مار کر وہ باہر نکل گیا۔وہ کیا جانتا تھا کہ گل بانو سے یہ ملاقات آخری ملاقات بن جائے گی۔۔۔
صبح سے گاؤں کی فضا زرد ہو رہی تھی اور گل بانو کا جی بھی ماندہ ہو رہا تھا۔ اس نے اپنی ساس سے ‘ کہ جو رشتے میں اس کی پھوپھی بھی لگتی تھی کہا بھی۔۔۔
بوا جی۔۔۔ پتا نہیں میرے کلیجے میں کچھ ہو رہا ہے۔ جیسے کوئی ہاتھ ڈال رہا ہے۔
دلہن تھوڑا آرام کرلے یوں سارے کام نمٹانے کو لگی ہے۔ جیسے کل نہ ہوگی۔ 
گل بانوکو تیسرا مہینہ لگا تھا۔ یوں بھی طبیعت گری گری رہتی تھی۔ ایک روز نور منیر نے شرارت سے کہا تھا۔۔۔
اس بار مجھے ایک بیٹی دے دو۔ بالکل اپنی طرح کی۔۔۔ پھر میں تمہاری چھٹی کرا دو ں گا۔
اونہہ۔۔۔وہ لاڈ سے مسکرائی
اگر بیٹی نہ ہوئی۔۔۔ تو۔۔۔۔۔۔
تو۔۔۔ وہ بھی مستی میں بولا۔۔۔ مشقت میں لگی رہنا۔ دونوں زور سے ہنس پڑے تھے۔ بچپن کی منگ تھی۔لڑکپن کا پیار تھا۔ وہ بھی ماں باپ کی اکلوتی تھی اور نور منیر بھی پانچ بہنوں کا ایک بھائی تھا۔
بے سکونی کا ایک عجیب سا واویلا نما شور اٹھتا تھا جب اچانک ڈرون آتا تھا۔ منور منیر باہر صحن میں اپنے چھوٹے سے سکوٹر پر گھوم رہا تھا۔
گل بانو جھپٹ کے نکلی اس کو بازو سے پکڑ کر اندر گھسیٹ لائی۔ یہ ایک احساس تھا جو گاؤں والوں کو چوکنا کردیتا تھا۔ اندر آتے ہی منور منیررونے لگا۔ چلانے لگا۔۔۔ میری سکوٹی ہائے میری سکوٹی۔۔۔
وہ پلک جھپکنے میں سکوٹی پکڑنے گئی تھی۔ اس لمحے ڈرون کا میزائل آکے لگا تھا اس کو۔ اس کی صراحی دار گردن ریشمی تن سے الگ ہوگئی تھی۔ چینی کی گڑیا کی طرح وہ ٹوٹ گئی تھی۔ گاؤں میں‘ کونسی آنکھ تھی جو نم نہ تھی۔ کونسا جگر تھا جو پاش پاش نہیں ہوا تھا۔ کون تھا جو اس کی ہنستی مسکراتی اور گلاب کی طرح کھلتی جوانی کا نوحہ نہیں کررہا تھا۔ گل بانو جو صرف جینے کے لئے پیدا ہوئی تھی۔بھری بہار میں مر گئی تھی۔ وہ بھی ایک حادثاتی موت‘ دل ہلا دینے والی موت‘ کبھی نہ بھول سکنے والی موت۔۔۔ 
آہ و بکا کرتی اور سینے پر دوہتڑ مارتی عورتوں کے ہجوم میں نور منیر نے اپنی بیوی کا آخری دیدار کیا۔۔۔ پھر سب کے ساتھ مل کر جنازہ اٹھایا۔ کلمۂ شہادت پڑھتے ہوئے لوگ بڑے دروازے سے باہر نکل گئے۔۔۔ مغرب سے پہلے دفنانا تھا۔ کسی نے دیکھا ہی نہیں کہ ڈھائی سال کا منور منیر ننگے سر‘ ننگے پاؤں‘ جنازے کے پیچھے پیچھے باہر نکل گیا تھا۔ تمام رسومات سے فارغ ہو کر‘ لوگوں کو رخصت کرکے سوجی ہوئی آنکھوں اور شکستہ قدموں کے ساتھ نور منیراندر اپنے کمرے میں آگیا۔ پلنگ پر بیٹھنے سے پہلے اسے اپنے بیٹے منورمنیر کا خیال آگیا۔ واقعی۔۔۔ ان سارے معاملات میں اسے وہ کہیں نظر بھی نہیں آیا تھا۔ عجیب بات ہے۔ بیوی کے صدمے نے اسے اولاد بھی بھلا دی تھی۔ اب جو خیال آیا تو بے چینی سے باہر نکلا۔ دالان میں رشتہ دار عورتیں رضائیاں اوڑھ کر الٹی سیدھی سو رہی تھیں۔
اماں۔۔۔ اماں۔۔۔ پکارتا وہ اپنی ماں کے کمرے میں چلا گیا۔۔۔ اماں۔۔۔ اس کی ماں سر پر کپڑا باندھے ابھی لیٹی تھی۔ آواز سن کر اٹھ بیٹھی۔
صدقے اماں۔۔۔۔۔۔!
اماں۔۔۔ اس نے اماں کے پلنگ پر بے چین نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔۔۔ منور منیر کہاں ہے اماں۔۔۔
اماں بھی چونک گئی۔ اپنے ہی پلنگ پر ادھر ادھر ہاتھ مارنے لگی۔
شام کو میں اسے یہاں سلا گئی تھی۔۔۔ ہیں۔۔۔ کدھر گیا۔ اماں پلنگ سے اٹھ کر ادھر ادھر اور پلنگ کے نیچے دیکھنے لگی۔
شور مچ گیا۔ منور منیر کہاں ہیں۔ کس کے پاس ہے۔ ساری سوئی ہوئی عورتیں جاگ اٹھیں۔ اک اک کوٹھڑی میں دیکھا گیا‘ قریب والے گھروں میں ڈھونڈا گیا۔ جہاں فون ہو سکتے تھے۔ وہاں فون کئے گئے۔۔۔ مردوں نے اٹھ کر ڈیوٹیاں بانٹ لیں اور پتالگانے ادھر ادھر بکھر گئے۔
پہلی بار نور منیر کو احساس ہوا کہ وہ انتہائی بے بس اور تنہا ہوگیا ہے۔ وہ اپنے کمرے کی دیوار سے سر ٹکرا کر دھاڑیں مار مار کے روتا رہا۔۔۔ پہلی رات ہے جدائی کی اور گل بانو کی نشانی سنبھال کے نہ رکھ سکا۔۔۔۔۔۔!
اُف ایک بچہ اس سے سنبھالا نہ جا سکا۔ اگر میرا منور منیر نہ ملا تو میں کیا کروں گا۔ کیسے جیؤں گا۔۔۔۔۔۔گل بانو کو کیا جواب دوں گا۔۔۔ یہ خیال آتے ہی وہ باہر کو لپکا۔۔ گیراج میں اس کی چھوٹی سی سوزوکی کھڑی تھی۔ اس کو سٹارٹ کیا اور باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔
باہرچودھویں رات کی چاندنی چمکی ہوئی تھی۔ دور دور پہاڑوں پر میدانوں میں۔۔۔ کچے پکے گھروں کے اوپر‘ اک اک چیز صاف نظر آرہی تھی۔ اس نے اپنی گاڑی کا رخ قبرستان کی طرف موڑدیا۔ اس وقت سوائے گل بانوکے کوئی اس کا دکھ اور بے چینی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ یونہی اس کا ہاتھ غلطی سے ٹیپ ریکارڈ کو لگ گیا۔۔۔ گیت ابھرنے لگا۔۔۔۔۔۔
چاندنی راتوں میں جس دم یاد آجاتے ہو تم
روشنی بن کر میری آنکھوں پہ چھا جاتے ہو تم
گل بانوکو یہ گیت بہت پسند تھا۔ اس کی آواز بڑی رسیلی تھی اور اس کو چودھویں رات کی چاندنی سے بہت پیار تھا۔ ہمیشہ کہتی تھی چودھویں کی رات گھر آجایا کرو۔۔۔ جب وہ نہ آسکتا تو جہاں بھی ہوتا اسے فون کرتا اور اس گانے کی فرمائش کرتا۔ وہ گھر کے کسی کونے میں چھپ کر اسے یہ گانا سنایا کرتی۔۔۔ بلکہ اس کی آواز میں اس نے یہ گانا اپنے موبائل میں ریکارڈ کر رکھا تھا۔ جب ڈیوٹی پر ہوتا یا چودھویں کو نہ پہنچ سکتا تو خود بھی یہ گانا سنتا تھا۔۔۔ اپنی موٹر کے ٹیپ ریکارڈپر بھی اس نے یہ لگا رکھا تھا۔۔۔ چاندنی نکھرتی رہی گیت بجتا رہا۔۔۔ موٹر چلتی رہی۔۔۔ وہ روتا رہا جس قدر کہ رو سکتا تھا۔ اب آنسوؤں کے سوا اس کے پاس تھا ہی کیا۔۔۔۔۔۔؟
قبرستان کے باہر اس نے گاڑی روکی۔۔۔۔۔۔
چاندنی کتنی بے نیاز ہے۔ قبرستان کے اندربھی اپنا جادو بچھارکھا ہے۔ پتا نہیں ابد تک سونے والے اس کے سحر کو محسوس کرسکتے ہیں یا نہیں۔۔۔ اس نے ذرا دور گاڑی کھڑی کی اور پیدل چلتا ہوا قبرستان کے قریب آگیا۔ چار دیواری کوئی نہیں تھی۔ شاید یہاں چوری یا رہزنی کا خوف نہیں ہوتا۔۔۔ قریب آیا تو اس کا پاؤں کسی چیز کو لگا وہ اوپر قبروں کو دیکھتا آرہا تھا۔ ڈر کر نیچے دیکھا تو وہاں ایک کتیا سو رہی تھی۔ اس کے سارے بچے اس کے سینے کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے اور کتنے اطمینان سے ماں کی گود میں سو رہے تھے۔۔۔ اس کا پاؤں لگنے سے وہ چونکی‘ ذرا سا غرائی اور اس نے دم ہلائی۔ مبادا وہ اس کے پلوں کو چھیڑے اور وہ جھپٹ کر اس پر حملہ کرے۔۔۔۔۔۔
وہ دور دور نظر دوڑا کر ان اونچی نیچی قبروں میں ایک تازہ بنی ہوئی قبر ڈھونڈ رہا تھا۔ اس نے ڈھونڈھ لی۔ نہ جانے کیوں اسے یوں لگا کہ گل بانو کا ہاتھ قبر سے باہر ہے۔۔۔ کیا یہ فریب نظر تھا۔۔۔ ہیولا تھا۔۔۔ وہم تھا۔۔۔ یا روتی آنکھوں کا قصور تھا۔ وہ تیز تیزچلنے لگا۔ وہ گل بانو سے رو رو کر التجا کرنا چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا کہیں کھو گیا ہے۔۔۔ وہ اسے ڈھونڈنے میں اس کی مدد کرے۔۔۔
جونہی وہ قبر کے نزدیک پہنچا اسے لگا کہ ہاتھ قبر کے اندر چلا گیا ہے۔ پھر اس کی چیخ نکل گئی جب اس نے دیکھا کہ ننھا منور منیر ماں کی قبر سے لپٹ کر سو رہا تھا۔

یہ تحریر 17مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP