متفرقات

گلگت  بلتستان میں بہار کی آمد۔۔

ملک کے شمالی خطے میں  بہار کی آمد کے ساتھ ہی  چیری، سیب، بادام اور خوبانی کی شاخوں پر پھول کھلتے ہیں تو بہارکے حسن سے ہر کوئی مسرورہو جاتا ہے اور اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لئے ملکی و غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں ان خوبصورت وادیوں کا رخ کرتے ہیں۔
ویسے تو ملک کے شمالی علاقے خصوصا گلگت بلتستان کے تمام موسم انتہائی خوبصورت اور رعنائیوں سے بھرپور ہوتے ہیں لیکن جب بہار کا موسم آجاتاہے  تو یہاں کی خوبصورتی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ بہار کی آمد کے ساتھ چیری، سیب، خوبانی اور بادام کی شاخوں پر پھول کھلتے ہیں تو ہوا میں خنکی کے باوجود بہار کی لطافت سے ہر کوئی مسرور ہو جاتا ہے۔ ایک طرف پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف کی سفید چادر ماحول میں اور بھی رعنائی پیدا کرتی ہے تو دوسری طرف نیلگوں آسمان پر آفتاب نمودار ہوتا ہے تو اس کی کرنیں پھولوں کی پتیوں کو موتیوں کی طرح چمکا دیتی ہیں۔



پاکستان کے شمالی خطے  میں طویل ترین سردیوں کے بعد بہار کی آمد کے ساتھ ہی اس علاقے کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو جاتا  ہے اس دلفریب موسم سے لطف اندوز ہونے کے لئے بڑی تعداد میں سیاح اس خوبصورت ترین علاقے کا رخ کر تے ہیں۔ گلگت بلتستان کے چاروں موسم سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتے ہیںاگرچہ پچھلے سال کرونا وائرس کی وجہ سے سیاحوں کی کم تعداد نے اس خوبصورت خطے کا رخ کیا مگر اس سال ابھی سے ہی سیاحوں کی بڑی تعداد نے اس خطے کے خوبصورت مقامات پر ڈیرے ڈال لئے ہیں کیونکہ گلگت بلتستان اس وقت کرونا فری علاقہ بن گیا ہے۔
 گلگت بلتستان میں بہار کی آمد کے ساتھ ہی یہاں کے لوگ نہ صرف مختلف تہوار مناتے ہیں بلکہ اس دوران مختلف پکوانوں سے یہاں آنے والے مہمانوں کی تواضع بھی کی جاتی ہے۔ غذر کی چاروں تحصیلوں پونیال، اشکومن، گوپس اور یاسین میں چیری کا موسم اپنے جوبن پر ہے اور ہر طرف چیری کے پھولوں کی خوشبو بکھری ہوئی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پہاڑوں کی طرح زمین نے بھی برف کی سفید چادر اوڑھ رکھی ہے۔ گلگت بلتستان کا ڈسٹرکٹ غذر وہ ضلع ہے جو مختلف پھلوں کی وجہ سے پورے ملک میں مشہورِ ہے یہاں کے کاشتکاروں کے پاس ہزاروں کی تعداد میں چیری کے درخت موجود ہیں اور یہ لوگ چیری فروخت کرکے سالانہ لاکھوں روپے کماتے ہیں۔ اس سال گرین اینڈ کلین پاکستان کے منصوبے کے تحت یہاں کے کاشتکاروں کو بھی لاکھوں کی تعداد میں مفت پھلدارا ور غیر پھلدار پودے تقسیم کئے گئے۔ یہاں کے کاشتکاروں نے لاکھوں کی تعداد میں اپنی زمینوں میں اخروٹ، سیب، خوبانی، بادام اور چیری کے پودے لگائے ہیں اور یہ پودے محکمہ زراعت اور جنگلات نے مفت تقسیم کئے ہیں۔ موجودہ حکومت کی طرف سے مفت پودوں کی تقسیم سے یہاں کے عوام خوش ہیں ۔ غذر میں ایک اندازے کے مطابق لوگوں کے پاس چیری کی ہزاروں من پیداوار ہوتی ہے مگر سڑکوں کی خستہ حالی کی وجہ سے یہ نازک پیداوار زیادہ تر مارکیٹ پہنچنے سے قبل ہی ضائع ہوتی ہے جس سے مقامی کاشتکاروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اگر ضلع غذر کی سڑکوں کی حالت بہتر بنائی جائے تو یہاں کے باغباں اپنے پھل فروخت کرکے ہی لاکھوں روپے کماسکتے۔ اس کے علاوہ یہاں کی سڑکیں بہتر ہوں تو لاکھوں کی تعداد میں سیاح اس جنت نظیر وادی کا رخ کرسکتے ہیں چونکہ چیری کے موسم کو انجوائے کرنے پاکستان سمیت دنیا بھر سے لوگ جاپان جاتے ہیں،اس لئے اگر حکومت ملک کے شمالی خطے میں سیاحت کے فروغ کے لئے  اقدامات اٹھائے تو نہ صرف ملک سے بلکہ بیرونی دنیا سے بھی سیاح چیری سے لطف اندوز ہونے کے لئے پاکستان کے خوبصورت ترین خطے گلگت بلتستان کا رخ کرسکتے ہیں جس سے نہ صرف ملک کی معیشت میں بہتری آسکتی ہے بلکہ اس خطے کے عوام بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ ||


مضمون نگار مقامی صحافی  ہیں اور ایک نیوز چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 155مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP