متفرقات

گرمیاں پھلوں اور سبزیوں کے ساتھ

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جہاں چاروں موسم اپنی شدت اور رعنائی کے ساتھ ملتے ہیں۔ بعض علاقوں کے درجہ حرارت میں 70سے 80ڈگری گریڈ کا فرق ملتا ہے۔ یہاں +50ڈگری سینٹی گریڈ سے لے کر سیاچن میں -30 ڈگری درجہ حرارت تک ملتا ہے۔ جہاں سمندر بھی موجود ہے اور دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ کے ٹو بھی۔ یہاں گرمی‘ سردی‘ خزاں‘ بہار اپنی پوری شدت‘ رعنائی‘ رنگوں اور خوبصورتی کے ساتھ نظر آتی ہے۔ یہاں پھلوں اور سبزیوں کی وہ اقسام ملتی ہیں جو دنیا میں بہترین اور مانی ہوئی ہیں جن میں آم اور کینو سرفہرست ہیں۔ اﷲتعالیٰ نے جہاں سرد موسموں اور خون جما دینے والے موسموں سے نبرد آزما ہونے کے لئے خوبانی‘ بادام‘ اخروٹ‘ چلغوزے‘ شہتوت عطا کئے ہیں وہاں گرم موسم سے بچاؤ کے لئے ٹھنڈے اور تازہ پھل اور سبزیاں بھی دی ہیں۔صوبہ پنجاب میں آپ کو چاروں موسم سردی‘ گرمی‘ خزاں اور بہار عروج پر ملتے ہیں۔ میری پیدائش اور تعلیم کراچی کی ہے۔ 1992میں کراچی سے راولپنڈی آئی تو پتہ چلا بہار‘ خزاں اور سردی بھی کوئی موسم ہوتے ہیں کراچی میں صرف گرمی دیکھی تھی یا برسات۔

موسم درجہ حرارت کے تغیر کے ساتھ لوگوں کے رویوں اور برتاؤ میں بھی تبدیلی لاتا ہے۔ گرمیوں میں ہر کام عجلت میں کیا جاتا ہے کہ زیادہ گرمی سے پہلے ہر کام نمٹا لیا جائے۔ ہر بات پر غصہ‘ بیزاری‘ تھکاوٹ اور کمزوری گرمیوں میں ہونے والی عام شکایت ہیں۔ کبھی ٹریفک سگنل کی ریڈ لائٹ غصہ دلا دیتی ہے تو کبھی کسی کا اوورٹیک کرناکبھی کسی کا تکیہ کلام ’’تنگ نہ کرو گرمی بہت ہے‘‘اذیت کا سبب بن جاتا ہے۔ پسینے کی زیادتی سے پانی‘ نمکیات کی کمی ‘لُولگ جانا وہ عام مسائل ہیں جو گرمیوں میں مزید نڈھال کر دیتے ہیں۔ بلڈ پریشر بڑھ جانے اور لُو لگ جانے سے بے ہوش ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ گرمی کے اثر کو کم کرنے کے لئے مختلف مشروبات کا استعمال بہت حد تک مفید ہوتا ہے۔ لیکن غیر معیاری مشروبات‘ بازار میں دستیاب مصنوعی جوسز‘ ان میں موجود فوڈ کلر انسانی صحت کے لئے انتہائی خطرناک ہیں۔ قدرتی جوسز سے گرمی دور بھگایئے

تربوز: اس پھل میں اﷲ تعالیٰ نے بہترین غذائیت‘ پانی‘ فائبر اور مردوں کے لئے Infertilily کا علاج رکھا ہے۔ تربوز کو اپنے کھانے کا لازمی جزو بنائیے اور وزن گھٹائیے۔ تربوز وزن کم کرنے میں انتہائی مؤثر اور معاون ہے۔ کم حراروں بہترین غذائیت پانی اور فائبر کی وجہ سے پیٹ و نظر کی بھوک بآسانی بھر جاتی ہے۔ تربوز کو گرائنڈر کر کے اس کا جوس پیجئے اور بہترین ٹھنڈک حاصل کیجئے۔ شکنجبیں:گرمی کے موسم میں لیمو کی شکنجبین ایک نعمت ہے۔ نمک اور شکر کے ساتھ لیموں کا استعمال جسم میں نمکیات کی کمی کو پورا کرتا ہے۔ پودینے اور لیموں کا جوس: پودینے کو پانی کے ساتھ گرائنڈ کر کے لیموں کا رس شامل کریں اور ٹھنڈا ٹھنڈا Mint Juiceجو فائیوسٹار ہوٹلز میں Starterکے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور قیمت 250سے 300روپے تک ایک گلاس ہے۔ جبکہ گھر میں بآسانی 4سے 5روپے میں بنایا جا سکتا ہے۔ پودینہ ہاضمے کے لئے اکسیر ہے۔

فالسے اور لیموں کا جوس: ٹھنڈے ٹھنڈے‘ کھٹے میٹھے‘ فالسے کا نام لیتے ہی ٹھنڈ روح تک اتر جاتی ہے۔ فالسوں کو دھو کر گرائنڈ کریں۔ گٹھلیاں الگ کریں لیموں اور شکر ڈال کر استعمال کریں۔ آم کا مشروب: آم پھلُوں کا بادشاہ ہے اور پاکستان کا آم ساری دنیا میں مشہور ہے۔ کچے آم کی کیریاں اُبال کر اس کے گودے کو گرائنڈ کریں‘ شکر شامل کریں‘ یہ لُو اور گرمی کے لئے اکسیر ہے۔ رسیلے اور مزیدار پکے ہوئے آم کو دودھ کے ساتھ گرائنڈ کریں اور مزیدار ملک شیک سے لطف اندوز ہوں۔ گرمیوں کی صبح بہترین ناشتے کا بدل ہے۔ لسی: لسی دودھ کی ہو یا دہی کی گرمیوں میں اکسیر ہے۔ خربوزہ: خربوزے کو سندھی میں گررواور فارسی میں خربوزہ کہتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں خربوزہ جابجا بکتا نظر آتا ہے۔ نسبتاً سستا اور مفید پھل ہے۔ کیلشیئم پوٹاشیم کاربوہائیڈریٹ کا بہترین خزانہ ہے۔ فائبر زیادہ ہونے کی وجہ سے قبض کشا ہے۔ پیشاب آور ہے اس لئے پیشاب کی جملہ بیماریوں کے لئے اکسیر ہے۔ جن لُوگوں کو پیشاب کی انفیکشن ہو ان کے لئے مفید ہے۔ اس کے چھلکے ابال کر پینے سے پیشاب زیادہ آتا ہے۔ گردوں کی پتھری کے لئے بہترین ہے۔ اس کے کھانے کا بہترین ٹائم دو کھانوں کے درمیان کا وقت ہے۔

گرمیوں کی سبزیاں اور ان کے فوائد

کریلے: آپ ایک کریلا اور دوسرا نیم چڑھا کی مثال اکثر سنتے ہیں۔ یقین جانیے فائدے کے اعتبار سے دونوں لاجواب ہیں۔ ایک چمچ کریلے کا جوس صبح نہار منہ پینے سے شوگر کے مریضوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ کریلے میں کاپر‘ آئرن‘ پوٹاشیئم موجود ہیں۔ دال بھرے کریلے ہوں یا قیمہ بھرے یا پھر ٹماٹر پیاز مسالحہ والے کریلے سبھی لاجواب ہیں۔ بھنڈی: اس کے اثرات الکلائن ہیں لیس دار سبزی ہے جس کی تاثیر ٹھنڈی ہے۔ ہر خاص و عام کو پسند ہوتی ہے۔ گرمیوں کا خاص تحفہ ہے۔ پیشاب کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لئے اکسیر ہے۔

کدو: آنحضورﷺ کی مرغوب ترین سبزی ہے۔ کدو کا جوس وزن کم کرنے میں اکسیر ہے۔ کدو کو سلاد کے طور پر بھی استعمال کرنے سے وزن میں خاطر خواہ کمی ہوتی ہے پروسٹیٹ پرابلم میں اس کا استعمال انتہائی مفید ہے۔ معدے کی تیزابیت کو کم کرنے میں اس کا جواب نہیں۔ گرمیوں میں کدو کا رائتہ کدو کی بھجیا اور گوشت کے ساتھ پکا ہواکدو لاجواب ہے۔ پھلیاں: پھلیاں آئرن ‘ کاپر‘ میگنیشم‘ زنک اور سوڈیم کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ان میں فائبر وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جو ذیابیطس کے مریضوں کے لئے اکسیر ہے۔ اور کولیسٹرول کو کم کرنے میں انتہائی مفید ہے۔ بینگن: بینگن تھالی کا ہویا تھال کا مجھے بہت پسند ہے۔ طالبعلمی کے زمانے میں مَیں نے بھگارے بینگن بنائے تھے اور Best Cook کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا تھا۔ بیگن سلفر کلُورین‘ آئرن‘ میگنیشم‘ زنک اور سوڈیم کا بہترین ذریعہ ہے۔ ان میں فائبر وافر مقدار میں موجود ہے۔ جو قبض کو دور کرتا گیس اور بدہضمی کے لئے مفید ہے۔ بینگن کا رائتہ بینگن کا بھرتہ‘ آلُو بینگن اور بھگارے بینگن کھانے میں لاجواب ہیں۔ لُوکی‘ ٹینڈا: غذائیت سے بھرپور ہیں۔ الکلائن(کھاری پن) اثر رکھنے کے باعث اس کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے۔ سبز مرچوں کے ساتھ بنائیں اور ٹینڈا مسالحہ تو زبردست سبزی ہے۔

پودینہ: اس میں آئرن‘ فاسفورس‘ سلفر اور کلورین پائی جاتی ہے۔ اس کی تاثیر ٹھنڈی ہے۔ تازہ پودینہ انزائمر سے بھرپور ہے۔ اس لئے ہاضمے کے لئے مفید ہے۔ پودینے کی چٹنی پودینے کا قہوہ ‘ پودینے کا جوس پودینے کا رائتہ سب بہترین ہیں۔ پودینہ خواتین میں ایام کی بے قاعدگیاں اور جگر کے لئے انتہائی مفید ہے۔ کھیرا: غذائیت سے بھرپور ہے‘ قدرتی طور پر پیشاب آور خاصیت رکھتا ہے اس لئے Uric Acid کے مریضوں کے لئے انتہائی مفید ہے۔ اس کی تاثیر کو معتدل کرنے کے لئے طب نبوی میں اس کو کھجور کے ساتھ کھانے کی تاکید کی گئی ہے۔ کھجور نہ ہو تو منقیٰ اور شہد کے ساتھ بھی کھایا جا سکتا ہے۔ کھیرے کا سلاد کالے نمک کے ساتھ استعمال کرنے سے کھانا جلد ہضم ہو جاتا ہے۔ کھیرے کا جوس اور دودھ برابر مقدار میں لے کر چہرے‘ گردن اور ہاتھوں پر لگائیں یہ بہترین Bleaching ایجنٹ بھی ہے۔ کھیرے کے قتلے آنکھوں پر رکھنے سے بہترین نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

سبزیاں حیاتین اور نمکیات کا بہترین ذریعہ ہیں۔ سبز‘ پیلی‘ اورنج اور سرخ سبزیوں میں کیلشیم‘ میگنیشم‘ پوٹاشیم‘ آئرن‘ بیٹا‘ کیروٹین‘ حیاتین بی کمپلیکس‘ حیاتین سی اور حیاتینk وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ سبزیوں میںAnti oxidants پائے جاتے ہیں جو ہمارے جسم سے فاسد مادوں کے اخراج میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کینسر سے بچاؤ کی ویکسین فراہم کرتے ہیں۔ سبزیوں میں پانی اور فائبر بھی وافر مقدار میں پایاجاتا ہے۔ جو قبض کشا ہے اور آنتوں اور معدے کے کینسر سے بچاتا ہے۔

گرمی اور لُو سے بچنے کی احتیاطی تدابیر

موسم گرما کے آغاز میں درجہ حرارت بڑھ جانے سے انسانی صحت کے ساتھ ساتھ پرندے‘ جانور‘ نباتات ہر چیز متاثر ہوتی ہے۔ درجہ حرارت کی زیادتی کے باعث پسینے کا اخراج زیادہ ہوتا ہے۔ جس کے باعث نمکیات اور پانی کی کمی ہو جاتی ہے۔ اور لُو لگنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

اپنے روزمرہ کے معمولات میں ردوبدل کر کے ہم گرمیوں میں لُو لگنے اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ کو ممکن بنا سکتے ہیں۔

گرم موسم میں پانی کا استعمال بکثرت کریں۔ کم از کم 12-14گلاس پانی استعمال کریں۔

جب بھی گھر سے باہر نکلیں سر ڈھانپ کر رکھیں۔ پیدل چلتے وقت چھتری کا استعمال کریں۔

گہرے رنگ کی بجائے ہلکے رنگ کے کپڑے منتخب کریں۔

کھانوں میں تلی ہوئی‘ مرغن ‘ بازاری یا باسی اشیاء سے پرہیز کریں۔

کدوکا رائتہ کھیرے کا رائتہ یا پودینے کا رائتہ صحت بخش ہے۔ پسینہ زیادہ آنے کی صورت میں ORSکا استعمال زیادہ کریں۔

جو کے ستو شکر کے ساتھ استعمال کریں۔

روزانہ غسل کریں۔ ممکن ہو تو دن میں دو بار غسل کریں بازوؤں کے نیچے Deodorant استعمال کریں یا پھٹکری لگائیں تاکہ ناپسندیدہ بو سے اپنے آپ کو اور اپنے ساتھ بیٹھنے والُوں کو بچا سکیں۔

پیاز کا استعمال ضرور کریں۔

سبز مرچ ضرور استعمال کریں‘ یہ ہاضمے کو بہتر کرتی ہے اور ہیضے سے بچاتی ہے۔

دودھ دہی کا استعمال زیادہ کریں۔

اپنی جلد کو دھوپ سے بچائیں۔

الٹراوائیلٹ شعاعیں جلد کے لئے انتہائی مضر ہیں ان کے باعث Skin Cancer تک ہو سکتا ہے گرمیوں میں اپنی جلد کو دھوپ سے بچانے کے لئے Sun Block استعمال کریں۔ عرق گلاب بہترین Skin Cover ہے چہرے پر عرق گلاب کا لیپ کیجئے۔ Alovera قدرتی Moisturizeہے اور قدرتی Sun Block ہے اس کا گودا چہرے پر لگائیں۔ گرمی کا استقبال کھلے دل سے کیجئے اس سے بچنے کے طریقوں پر عمل کیجئے۔ ہائے گرمی‘ اُف گرمی کی رٹ لگانے سے گرمی کم نہیں ہو گی بلکہ اس کا احساس بڑھ جائے گا اور گرمی میں سردی تو ہو نہیں سکتی۔ اس لئے گرمی میں گرمی کا ہونا کوئی عجوبے کی بات نہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر عمل کر کے اپنے انرجی لیول کو قائم رکھیں۔ گرم موسم تو آ کر چلے جاتے ہیں گرم مزاجی سے بچئے کیونکہ یہ آپ کو دوسروں کے لئے ناپسندیدہ بنا دیتی ہے اور تنہا کر دیتی ہے۔

یہ تحریر 32مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP