خصوصی فوکس

کیڈ ٹ کالج قلعہ سیف اللہ :کوہ قند کے دامن میں علم کا پھلدارشجر

قلعہ سیف اللہ بلوچستان کا ایک قدیم اور اہم تاریخی شہر ہے جو اپنے پُر فضا مقامات نیلگوں آسمان، بلند وبالا چوٹیوں، وسیع وعریض میدانوں اور سرسبز وشاداب، پھلوں سے لدے، باغات کی وجہ سے علاقے کی پہچان ہے۔ یہ علاقہ قدرتی ذخائر سے مالامال اور معدنیات کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے جو بلوچستان کو پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا سے ملانے کے لئے پل کی حیثیت رکھتا ہے اور کوئٹہ تا ژوب ڈیر ہ اسماعیل خان شاہراہ کے لئے N-50 کی علامت استعمال کی جاتی ہے اور یہ علاقہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CEPEC) کا گیٹ وے اور اہم سٹیک ہولڈر بھی ہے۔یہ شہر جہاں تاریخی، سیاحتی اور سیاسی حوالوں سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے وہاں تہذیبی اور ثقافتی لحاظ سے بھی نہایت منفرد مقام رکھتا ہے ۔ حاجی سیف اللہ خان کاکڑ علاقے کے معتبر، نڈر ، نامور اور حریت پسند قبائلی رہنماتھے اور یہ شہر ان کے نام سے موسوم ہے۔



اس اہم علاقے میں کیڈٹ کالج کے قیام کا فیصلہ ہوا جو افواج پاکستان کا مرہون منت ہے۔ تعلیم وتربیت کے میدان میں کیڈٹ کالج قلعہ سیف اللہ ایک خواب ہے، جو معیاری تعلیم کی بڑھتی ہوئی طلب اور اس سے جڑے مقدس مقاصد، جو علم اور ہنر سے یکساں لیس ہو ں، اکیسویں صدی کے اُبھرتے ہوئے تقاضوں کی تکمیل کے لئے موزوں ہے ۔ کیڈٹ کالج قلعہ سیف اللہ کا اعلان 2004ء میں جنرل پرویز مشرف نے کیا اور اس کا باقاعد ہ آغاز 17اپریل 2009ء کو ہوا۔ مذکورہ کالج کوئٹہ سے 152کلو میٹر دور نیشنل ہائی وے پر مسلم باغ اور قلعہ سیف اللہ کے درمیان نسائی میں واقع ہے۔ یکم جنوری 2019 ء کو کالج کی باگ ڈور فوجی کمانڈنٹ صاحب نے سنبھال لی۔ اب تک ادارے کے ہر شعبے میں تاریخی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں اور تعلیم و تربیت، نظم و ضبط اور اعلیٰ نصیب العین کے حصول کے لئے مادرِ علمی کے اساتذہ، طلبا اور دیگر سٹاف شبانہ روز محنت میں مصروف عمل ہیں۔



کیڈٹ کالج قلعہ سیف اللہ کے قیام نے بلوچستان میں تعلیم اور تربیت کے نہ صرف نئے دور کا آغاز کیا ہے بلکہ صوبے کے باصلاحیت اور ذہین طلباء کو پاک فوج میں شمولیت کا ایک نادر موقع فراہم کیا ہے۔ لہٰذا کالج کی شروعات سے لے کر تاحال 25کیڈٹس آرمڈ فورسز میں بطور آفیسرز شامل ہوئے ہیں جبکہ امسال سیکنڈ ائیر کے کیڈٹس نے خوب بڑھ چڑھ کر آرمڈ فورسز میں اپلائی کیا جس کاتناسب 40%فیصد ہے۔



بعدازاںطلبا کی عسکری انداز میں تربیت کو یقینی بنانے کے پیشِ نظر حکومت بلوچستان نے چیف آف آرمی سٹاف سے ان اداروں کے لئے فوجی سربراہان کے تقر ر کی درخواست کی جسے قبول کرتے ہوئے آرمی چیف نے بریگیڈئیر، کرنل اور لیفٹیننٹ کرنل عہدے کے فوجی افسران کی بطور پرنسپل تعینات کرنے کی منظوری دی۔ اسی سلسلے میں کالج کے موجودہ کمانڈنٹ کرنل یاسر مختار نے یکم جنوری 2019ء کو پرنسپل کیڈٹ کالج قلعہ سیف اللہ کا عہدہ سنبھالا۔ الحمد للہ آج کالج کا نصب العین دور جدید کے تقاضوںسے ہم آہنگ ہے۔ پیشہ ورانہ تربیت کا حصول بالخصوص کیڈٹس کو نہ صرف جدید تعلیم سے روشناس کرانا ہے بلکہ انہیں ذہنی و جسمانی تربیت بھی فراہم کرنا ہے اور ساتھ ساتھ کالج کو ملک کا بہترین ادارہ بھی بنانا ہے ۔



جب سے پاکستان آرمی نے بلوچستان کے ذہین اور قابل بچوں کی تعلیم وتربیت کا بیڑہ اٹھایا ہے اللہ کے فضل وکرم سے، تب سے کیڈٹس تمام نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں ۔ دن کے آغاز سے لے کراختتام تک کیڈٹس تربیت (نظم وضبط) کے مراحل طے کرتے ہیں۔ ایک بچہ ان مراحل سے گزر کر کندن بن جاتاہے۔ اساتذہ کی محنت اور ادارے کے سربراہ کی خصوصی توجہ سے امسال کالج کے میٹرک کے سالانہ امتحانات میں صوبائی سطح پر تیسری پوزیشن رہی جبکہ پہلی بیس پوزیشنوں میں بھی پانچ کیڈٹس شامل تھے اور ایوریج کلاس رزلٹ 85%رہا۔ مزید برآں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں بھی کالج ہٰذاکی صوبائی سطح پر پا نچویں پوزیشن رہی جبکہ کلاس رزلٹ 82%رہا اور انشاء اللہ آئندہ سال بھی کالج کے کیڈٹس نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے میں کامیاب ہوںگے۔



جب بلوچستان کے مغربی دور افتادہ علاقے آواران سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم، کیڈٹ محمد یوسف سے پوچھا گیاکہ کالج کے طالب علم بننے کے بعد اس نے کیاتبدیلی محسوس کی تو اس نے جواب دیا کہ اس کالج کے درودیوار سے علم اور وطن سے محبت ٹپکتی ہے۔ یہاں آکر ملک سے محبت کے جذبوں کو اور جلا ملی ہمیں اپنے ملک کی قدر ہوئی اور یہ پتہ چلا کہ ہم اپنے صوبے اور ملک کی تعمیر وترقی کے لئے کس طرح اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمیں پتہ چلا کہ پاک فوج کی اس ملک کے لئے کس قدر قربانیاں ہیں۔ بلوچستان کے جنوب میں واقع گرین بیلٹ جعفرآباد سے تعلق رکھنے والے کیڈٹ محمد یونس سے پوچھا گیاکہ کیڈٹ کالج نے اس کے روزمرہ زندگی پر کیا اثرات مرتب کئے تواس نے کہا کہ کیڈٹ کالج کی وجہ سے اس کی زندگی اور روزمرہ کے معاملات میں نظم ونسق پیدا ہوا اور یہ ثابت ہوا کہ محنت میں عظمت ہے ۔ لہٰذا ہم جو کا م بھی کرتے ہیں ایک خاص مقصد کے تحت کرتے ہیں اور مقاصدکی تکمیل بغیر محنت کے نہیں ہوسکتی ۔ اسی طرح بلوچستان کے دور دراز علاقے موسیٰ خیل سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے کہا کہ جب ہم نے اس کالج میں قدم رکھا تو زندگی گزارنے کے بہتر طور وطریقوں سے مزید شناسائی ہوئی اور ہمیں یہ معلوم ہوا کہ کس طرح ہم نے زمانے کے ساتھ چلناہے اور کس طرح خود کو اور اپنے علاقے کو اپنی محنت اورصلاحیتوں سے تبدیل کرنا ہے اور ہم نہ صرف بلوچستان کے بلکہ پاکستان کے وہ شہری بن کر دکھائیں گے جو اس ملک کی حالت کو تبدیل کریں گے۔ 



ہمارے دشمن بلوچستان کے عوام کے بارے میں غلط پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ ایک بار آپ بلوچستان کے عوام کے دلوں میں جھانک کر دیکھیں جہاں آپ کو صرف پاکستان دھڑکتا ہوا محسوس ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کیڈٹ کالج محب وطن طلباء کی ایک کثیرکھیپ تیارکررہاہے۔ ایسے تعلیمی اداروں میں کیڈٹس نظم وضبط میں تعلیم وتربیت حاصل کرکے افواج پاکستان میں خدمات دینے کے لئے ہمہ وقت مستعد رہتے ہیں۔ کیڈٹ کالج قلعہ سیف اللہ علاقے کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے اور علاقے کے مکینوں کے لئے کیڈٹ کالج کوہ قند کے دامن میںعلم کے پھلدار شجر کی مانند ہے اور علم کا یہ شجر جس مقصد کے تحت لگایا کیا وہ مقصد اب پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ||
 

یہ تحریر 309مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP