متفرقات

کیپٹن اسفند یار بخاری شہید اپنی تحریروں کے آئینے میں

اگست 1988 کو اٹک کے ڈاکٹر سید فیاض بخاری کے گھر جنم لینے والا بچہ کوئی معمولی بچہ نہ تھا، وہ اسفند یار تھا، جس کا مطلب لطفِ خدا اور قدرتِ حق ہے۔ والدین نے اسے اسفند یار کا نام دیا۔ یہ بچہ بہت کم عرصے کے لئے جیا ،لیکن جتنا جیا، سر اٹھا کر، دھاک بٹھا کر جیا۔موت ان ظالم درندوں کو آتی ہے جو شہید کے لہو سے اپنا ہاتھ رنگتے ہیں۔ اسفند یار صرف ستائیس سال کی زندگی میں طویل عمر جینے والوں کو جینے کا انداز سکھا گیا۔ زندگی کی تلاش میں رہنے والے لوگ بہت جلد مر جاتے ہیں، اسفند یار شہادت کی تلاش کرتے کرتے ہمیشہ کے لئے امر ہو گیا۔

 

میری اُس سے پہلی ملاقات ایم آر ایف ڈگری سائنس کالج ، کامرہ میں ہوئی جہاں وہ ہفتم جماعت کاایک ننھا منا سا اسفندیار تھا۔ اس اداے کے علمی و ادبی جریدے ’’سحاب ‘‘ کی تجدیدِ نو کا فرض مرے سامنے تھا، میں نے یہ ذمہ داری خود اپنے سر لی تھی ۔ اس وقت کے پرنسپل گروپ کیپٹن ریٹائرڈ بخت محمود ملک سے جا کر خود گزارش کی تھی کہ کالج کا ایک میگزین ہونا چاہئے۔ انھوں نے یہ فرض مجھے ہی سونپا اور کہا کہ ہمت ہے تو آپ خود یہ کام کیوں نہیں کرتے۔ میں آمادہ و تیار تھا، سو اسے چیلنج سمجھ لیا۔ میرے علم میں آیا کہ کالج میں اس سے پہلے میگزین کی نو دس سال قبل صرف ایک ہی اشاعت ہوئی تھی اور اس کا نام ’’سحاب‘‘ رکھا گیا تھا۔ یہ جریدہ 2000ء میں اسی نام سے ایک بار پھر شائع کرنے کا جو عزم کیا تو طلباء و طالبات کے بہت سے مضامین، منتخب نثر پارے، کہانیاں اور شعرو سخن پر مبنی کچھ کچی پکی تحریریں وغیرہ موصول ہوئیں۔ اُنہی میں اسفند یار بخاری کے بھی دو مضامین تھے۔ وہ جب مضامین دینے میرے پاس آیا، مجھے اس گول مٹول پیارے سے بچے کی آنکھوں میں امید کی ایک چمک دکھائی دی، اس کی صورت میں بھولپن تھا مگر اس کی خود اعتمادی میں پختہ پن تھا۔ یہ میری اس سے پہلی ملاقات تھی۔ جب میگزین چھپا تو وہ دونوں مضامین معیاری ہونے کے سبب شاملِ فہرست تھے۔ ایک مضمون کا نام تھا ’’کوفہ کاخونی محل‘‘ اور دوسری ایک شگفتہ تحریر تھی ’’ بوڑھی ویگن‘‘۔

 

’’کوفہ کا خونی محل‘‘ تاریخ کے اوراق میں سے ایک مختصر سا سبق آموز انتخاب تھا ، جو اس کو منتخب کرنے والے کی ذہانت کی چغلی کھا رہا تھا۔ ’’ خلیفہ عبدالمالک نے جب کوفہ کے شاہی محل میں اپنا دربار لگایا تو اس کے سامنے مصعب بن زبیر کا کٹا ہوا سر پیش کیاگیا۔ اس موقع پر کوفہ کے ایک شاعر نے خلیفہ کے سامنے چند درد ناک اشعار پڑھے، جن کا مفہوم یہ تھا

 

اے امیر المومنین! میری بوڑھی آنکھوں نے چند ہی برسوں میں عجیب تماشادیکھا ہے۔ تھوڑا عرصہ ہوا اس محل میں حضرت امام حسینؓ عالی مقام کا سرمبارک ، ابنِ زیاد کے سامنے پیش کیا گیا۔ چار سال بعد ابنِ زیاد کا کٹا ہوا سر مختار ثقفی کے سامنے رکھا گیا۔ کچھ ہی عرصے بعد اسی دربار میں مختار ثقفی کا کٹا ہوا سر مصعب بن زبیر کے سامنے پڑا تھا اور آج اس محل میں مصعب بن زبیر کا کٹا ہوا سرآپ کے سامنے طشتری میں پڑا ہے۔ خلیفہ عبد المالک نے جب یہ اشعار سنے تو اس کا چہرہ زرد ہو گیا اور وہ چلایا۔’مسمارکردو اس خونی محل کو۔۔۔‘ اور پھر وہ محل مسمار کر دیا گیا۔ ‘‘

 

ذرا تصور کیجئے کہاں ہفتم جماعت کا نٹ کھٹ سا کھلنڈرابچہ اور کہاں ایسی عبرت انگیز تحریر کا انتخاب۔ ’’بوڑھی ویگن‘‘ اس کی ذاتی تحریر تھی جو ساتویں کلاس کے بچے کی شوخی اور شرارت کا بھید کھول رہی تھی۔ اس تحریر کو پڑھنے سے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگتی کہ وہ منفی حالات میں بھی مثبت ماحول بنانے کی صلاحیتوں سے بہرہ مند تھا۔

 

’’ اس ویگن میں کچھ ایسی سہولتیں ہیں جو نئی ویگن میں بھی میسر نہیں ، مثلاً تازہ ہوا صحت کے لئے ضروری ہے، لہٰذا کھڑکیوں میں شیشے ہی نہیں۔ اس کے پورے جسم پر ڈینٹ پڑے ہیں لہٰذا نظر بد نہیں لگ سکتی۔انجن کی آواز اتنی ہے کہ ہارن کی ضرورت ہی نہیں۔ جب اس کا انجن سٹارٹ ہوتا ہے تو ڈر کے مارے چھوٹے بچے ماں کی گود میں پناہ لے لیتے ہیں ، یوں ماں اور بچے میں محبت بڑھتی ہے۔‘‘

 

کیڈٹ کالج ، حسن ابدال میں وہ اپنے والد صاحب کی خواہش پر داخل ہوا۔ یہ اس کی تابع فرمانی تھی۔ مگر جب وہ یہاں آیا تو پھر اس کی لگن تھی، جنوں تھا کہ جس نے اسے آگے ہی آگے بڑھنے پر مجبور کیا۔

یکم مئی 2001 وہ دن تھا جب میں اور وہ دونوں کیڈٹ کالج ، حسن ابدال میں داخل ہوئے۔ وہ بہ حیثیت متعلم اور میں بہ طور معلّم۔ یہاں آ کر جب اس سے میری ملاقات ہوئی، میں نے مذاق میں اس سے کہا ’’ اسفند یار! میرا پیچھا کرتے یہاں بھی آ پہنچے۔‘‘ اس نے خود اعتمادی اور مسکراہٹ سے فوری جواب دیا۔’’ نہیں سر! ہم ساتھ ساتھ یہاں پہنچے ہیں۔‘‘

 

اتفاق سے اسفند یار میری جماعت میں بھی تھااور مزید اتفاق یہ کہ کالج میں اس کے پانچ سالہ قیام کے دوران اس کو اردوپڑھانے کی سعادت بھی مجھے نصیب ہوئی۔کمرۂ جماعت میں، میں نے اسے ہمیشہ متجسس، مضطرب اور غیر معمولی پایا۔وہ شریر بھی تھا اور ذہین بھی۔ وہ اچھا سامع بھی تھا اور بہترین مقرر بھی۔ اردو زبان سے محبت کرنے والے طلبہ مجھے بہت عزیز ہوتے ہیں، اس لئے اسفند یار مجھے عزیز ترین تھا کہ نہ صرف اردو سے محبت کا دم بھرتا تھا بلکہ ایک اچھا لکھاری بھی تھا۔ وہ انگریزی کا بھی ایک بہت اچھا مضمون نگار تھا۔ کیڈٹ کالج، حسن ابدال کی تاریخ میں شاذ ہی ایسا ہوا ہو گاکہ کسی کیڈٹ کے کالج میگزین ’’ابدالین‘‘ میں اردو اور انگریزی کے کل نو نگارشات شائع ہوئی ہوں۔ میرے خیال میں اسفند یار بخاری شہید کا یہ ایک انوکھا ریکارڈ ہوگا۔ جماعت ہشتم میں اس کا ایک مضمون’’ ابدالین‘‘ کے انگریزی حصے میں شائع ہوا جس کا عنوان تھا۔

 

WHEN I AM A SENIOR

جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہورہا ہے کہ اس مضمون میں سینئرز اور جونیئرز کیڈٹس کے درمیان بنی ایک دیوار کے اس پار دیکھا گیا ہوگا۔ یہ مضمون اگر چہ ہلکے پھلکے انداز میں لکھا گیا ہے لیکن اس میں چھپا ہوا وہ دکھ بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے جب جونیئرز صلاحیت و استعداد رکھتے ہوئے بھی نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں۔ مضمون کے آخر میں اسفند یار بخاری پر عزم دکھائی دیتا ہے اور کہتا ہے۔

 

’’ (ترجمہ) اب میں نے صبر کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ صرف صبر ہے جو اللہ کو پسند ہے۔ میں ان ( سینئرز)کی سختیوں سے کبھی مایوس نہیں ہوا۔ میں اپنی اہمیت تعلیمی سرگرمیوں، کھیلوں اور تربیت میں ثابت کروں گا۔ جب میں سینئرہوں گا میں اپنے جونیئرز کی بات سنوں گا، ان کی رہنمائی کروں گا، ان کی غلطیوں کی اصلاح کروں گا۔ میں ان کے ساتھ مہربانی و شائستگی سے پیش آؤں گا اور انھیں اپنا حقیقی چھوٹا بھائی سمجھوں گا۔‘‘

 

اسفند یار نے جماعت نہم میں ’’ ابدالین ‘‘ کے اردو اور انگریزی دونوں اشاعتوں میں اپنا حصہ ڈالا۔ اردو میں ایک مضمون ’’ مسکراہٹ زندگی ہے‘‘ اور انگریزی میں این اینجل کے نام سے ایک مضمون لکھا۔ انگریزی مضمون میں ایک افسانہ نما سفر نامہ لکھا ، جس میں مشکل حالات میں دوسروں کی مدد کرنے والے ایک بے لوث شخص کو فرشتہ کہا گیا۔ جب کہ اردو میں اس کا مضمون ’’مسکراہٹ زندگی ہے‘‘ اس کی تخلیقی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نہم جماعت کا ایک ایسا طالبِ علم جو آغاز ہی سے انگلش میڈیم سکولز میں تعلیم پاتا رہا ہو، وہ ایسی شستہ و شائستہ زبان لکھے اور تشبیہات و استعارات کا بر محل استعمال کرے ، مقامِ حیرت ہی تو ہے۔

 

’’ زیست کیا ہے؟ پھول کی پتی پر پڑا شبنم کا حسین قطرہ، بادِ صبا کا ہلکا سا جھونکا جس کی موت کا پیغام ہے۔ اتنی مختصر سی زندگی مگر بیت العنکبوت سے زیادہ الجھی ہوئی، کبھی خوشیوں کے اجالے ہیں تو کبھی غم کی عمیق گہرائیاں۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ غم اور خوشی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کوئی بھی شخص اپنی پوری زندگی اپنے من پسند حالات میں نہیں گزار سکتا۔ مگریہ بات تو اس کے دائرہ اختیار میں ہے کہ مصائب کا مردانہ وار مقابلہ کرے، مشکلات کے سامنے سینہ سپر ہو جائے۔ صبر و تحمل کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑے کیوں کہ دشوارحالات میں مسکرانا ہی تو بہادری ہے۔‘‘ اسفند یار بخاری کی تحریر سے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ نامساعد حالات میں بھی مسکرانے کا ہنر جانتا تھا۔ غم کی آندھیوں میں ہمتوں کے چراغ جلانا اسے آتے تھے۔

 

2004۔2003 کے ’’ ابدالین ‘‘میں، جب وہ جماعت دہم کا طالبِ علم تھا اس کااردو حصے میں ایک مضمون ’’ غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں‘‘ چھپا۔ یہ ایک اور خوب صورت تحریر تھی جیسی اسفند یار بخاری سے توقع تھی۔ اس تحریر میں اس کے اندر بسے ہوئے ایک غیرت مند مسلمان کی پکار سنائی دیتی ہے جو قوم کی بے حسی پر اسے خواب غفلت سے بیدار کرنے پر تلا ہوا ہے اور اس کی یہ بھی خاصیت ہے کہ اسے اس بے حسی پر غم ضرور ہے لیکن مایوسی نہیں ہے۔

 

’’ کڑوا سچ تو یہ ہے کہ آج ہم میں سے بیش تر کم ہمت ہیں ، تن آسان ہیں، محنت سے کتراتے ہیں ، حصولِ علم سے بھاگتے ہیں، تحقیق سے ڈرتے ہیں، دنیاوی آسائشوں پر مرتے ہیں ۔مال و زر کی محبت میں اندھے ہیں۔ مؤذن کی آواز پر بہرے ہیں۔ خود غرض ہیں۔ کوتاہ نظر ہیں، انفرادی مفاد پر قربان ہیں، مگر اجتماعی مفاد سے گریزاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قعرِ مذلت میں ایسے گرے ہیں کہ نکلنے کا راستہ نہیں۔‘‘ جب کہ اسی سال انگریزی میں

Not Gold But Only Men Can Make

شائع ہوا۔ جس میں اس نے ایک چینی بوڑھے کے عزم و حوصلے کی داستان سنائی کہ جس نے اپنے گاؤں والوں کو پانی کے قحط اور افلاس سے نبٹنے کے لئے ایک نہر کھودنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تو اسے پاگل اور جنونی قرار دے دیا گیا۔ لیکن جب اس بوڑھے نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر اس کام کا آغاز کیا تو رفتہ رفتہ سب نے اس کا ساتھ دیا۔اور یوں وہ گاؤں کچھ ہی عرصے بعد سر سبز و شاداب اور خوش حال ہو گیا۔اس مضمون میں بھی اسفند یار کی عقل و دانش، اتفاق اور یک جہتی جیسا ایک مثبت قدم اٹھانے پر اکساتی ہے۔ اس مضمون کے آخری پیراگراف میں وہ اسی عزم کو دہراتا ہے ۔

 

’’ (ترجمہ) مجھے پختہ یقین ہے کہ مخلص لوگوں کی تعداد میں ایک دن اضافہ ہوگا، بالکل اسی طرح جیسے اس بوڑھے چینی کے ساتھیوں کی تعداد بڑھی تھی۔ پاکستانی طلبہ اپنے وطن کومضبوط، ناقابلِ تسخیر اور منشائے ربانی کے تحت اسلام کا ایک قلعہ بنا کر چھوڑیں گے۔ یہ تحریک کیڈٹ کالج حسن ابدال سے اٹھے گی اور پورے ملک میں پھیل جائے گی۔ کیوں کہ ’’دولت نہیں ، افراد ہی کسی قوم کو عظیم اور طاقت ور بناتے ہیں۔‘‘

 

اگلے سال اسفند یار( شہید) ، کالج کے سالِ اوّل پہنچ چکا تھا اور اپنے والد محترم کی خواہش کے مطابق پری میڈیکل کے مضامین پڑھ رہا تھا۔ اس سال کے ’’ابدالین‘‘ کے اردو سیکشن میں بطور معاون انچارج میں بھی شامل تھا۔اس میگزین کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس سال پہلی بار ’’ابدالین‘‘ کے مصنفین کی تصاویر بھی رنگین چھاپی گئی تھیں۔ اس سال ہمارے کالج میں ایک الم ناک سانحہ ہمارے شعبہ کیمیا کے صدرپروفیسر ریاض راضی صاحب کے قتل کا بھی درپیش آیا۔ اسی حادثے کو موضوع بنا کر اسفند یار نے دلوں پر رقت طاری کر دینے والا ایک مضمون تحریر کیا جو اردو سیکشن میں ’’بچھڑنے کا ابھی موسم کہاں تھا؟‘‘ کے نام سے چھپا۔یہ مضمون آغاز ہی سے قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔

 

’’ زیست خدائے لم یزل کا عطا کردہ انمول تحفہ ہے۔ یہ ایک ایسی قوسِ قزح ہے ، جس میں سات نہیں ہزاروں خوب صورت رنگ ہیں۔ زندگی کے اس حسین سلسلے کی قاطع موت ہے۔ انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ اگلے لمحے ایک ایسی ساعت نمودارہو گی جو اس کی زندگانی کی ڈور کاٹ دے گی بلکہ اس کی ذات سے متعلقہ بے شمار آرزوؤں اورتمناؤں کو ریزہ ریزہ کردے گی اور زندگی کا سفینہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے موج کی آغوش میں چلاجائے گا۔‘‘

 

اگلا سال کیڈٹ کالج حسن ابدال میں اسفند یار بخاری کا آخری سال تھا۔ وہ ایام طفلی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایک نوجوان بن چکا تھا۔ مگر سوچا جائے تو وہ بچہ کب تھا؟ اس نے ہمیشہ اپنی تحریروں سے، اپنی تقریروں سے، اپنے قول سے اپنے عمل سے ایسے شخص کا عکس پیش کیا تھا جو سلجھا ہوا، متین اور سنجیدہ بھی ہے اور متجسس اور سیماب فطرت بھی ہے، خوش مزاج بھی اور باہمت بھی ہے۔ کالج میں اپنے آخری سال، ملک امجد ہاؤس ماسٹر جناح ونگ کی رہ نمائی میں اس نے اپنی قیادت کی اعلیٰ استطاعت اور قابلیت سے ونگ کو چیمپین بنایا۔ وہ چیمپین ونگ کا ونگ کمانڈر تھا۔ کیڈٹ کیپٹن کا تاج پہننے کا ایک مضبوط امیدوار تھا لیکن میں نے دیکھا کہ اس اعزاز کو نہ پاکر وہ دل برداشتہ نہ ہوا بلکہ اس نے اس سے بڑھ کر کسی اور منزل پر اپنی نظریں جمائی ہوئی تھیں۔ یہاں اس کا آخری سال میرے لئے ’’ابدالین‘‘ میں بطور نگران اردو سیکشن پہلا سال تھا۔ اس سال وہ معاون مدیر بھی منتخب ہو چکا تھا۔اس سال اس کی ایک غزل اور ایک مضمون ’’کلید کامرانی۔صبر و شکر‘‘ ابدالین کے حصہ اردو میں شامل تھے۔ انگریزی حصے میں دی چیلنج نامی ایک کہانی شامل اشاعت تھی۔ اس کہانی میں اس نے اپنے گاؤں جانے کے بعد وہم پرست دیہاتی دوستوں سے لگائی گئی ایک شرط کو موضوع بنایا ہے ۔ اس نے اپنے دوستوں کے اس وہم کو دور کرنے کے لئے کہ قبرستان میں مردے راتوں کو اٹھ کر آہ و فریاد کرتے ہیں اور روحیں قبرستان میں جانے والوں کے لئے خطرے کا باعث ہوتی ہیں ، شرط لگائی کہ ایک سٹیکر رات کو وہ قبرستان میں جا کر چپکا آئے گا۔ اور روحیں اسے کچھ نہیں کہیں گی۔ سخت سرد رات کووہ وہاں گیا ، یخ بستہ ہوائیں چل رہی تھیں اور جب اس نے قبر پر سٹیکر لگانے کی کوشش کی تو دو ہاتھوں نے اس کا کندھا مضبوطی سے تھام لیا۔ وہ تیزی سے اپنی ہاکی اپنے چاروں طرف زور زور سے گھمانے لگا۔ اس کی ہاکی کسی سے زور سے ٹکرائی، اک چیخ سنائی دی ، اور وہ اندھا دھند گاؤں کی طرف بھاگا۔ اگلے دن اس کے دوستوں نے اسے مبارک باد دی کہ تم شرط جیت چکے ہو ، اور جس نے کندھے پر ہاتھ رکھے تھے وہ بھی ایک دوست تھا جس کا سر زخمی ہو چکا تھا۔ اس کہانی سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مخلوق ہم سے طاقت ور نہیں ہے اور اگر ہم اسی پر بھروسا اور ایمان رکھیں تو دنیا کی کوئی چیز ہم سے بڑھ کر نہیں۔ ہم اشرف المخلوقات ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور اپنے سے کم تر مخلوق سے خوف زدہ بھی رہتے ہیں۔اردو مضمون ’’ کلیدِ کامرانی۔ صبر و شکر ‘‘ ایک ایسی تحریر تھی جو اس وقت بھی پڑھی تھی جب یہ شائع ہوئی لیکن اسفند یار کی شہادت کے بعد اس کے معانی بدل کے رہ گئے۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے وہ نہ صرف مجھے، بلکہ اپنے والدین کو اپنے بھائیوں، اپنے دوستوں کو، اپنے سب چاہنے والوں کو اللہ کے ہاں سے تسلیاں دے رہا ہے۔ صبر و شکر کی تلقین کر رہا ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ پکار پکار کے کہہ رہا ہے کہ وطنِ عزیز کی خاطر شہادت کو میں نے گلے لگایا ہے تو شکر کرو ، صبر کرو اور مجھ پر فخر کرو۔ میری شہادت ، قوم کی حیات ہے۔ میری شہادت میرا ناز ہے، میری شہادت میرا وقار ہے، افتخار ہے، وہ کہہ رہا ہے۔

 

’’ مومن جانتا ہے کہ دنیا فریب ہے، دھوکا ہے، سراب ہے، دنیاوی حیات قلیل ہے، اخروی زندگی طویل ہے۔ آخرت یقین ہے ، دنیا گمان ہے، یہ عیش و عشرت کا مقام نہیں بلکہ دارالامتحان ہے۔ جس نے دنیا کا امتحان بہ طریقِ احسن پاس کر لیا۔ اس کے لئے آخرت میں اک اجرِ عظیم تیار ہے۔ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے اسے جو مقام و مرتبہ عطا کیا ہے، ہم صرف خواہش ہی کر سکتے ہیں۔خواہش سے عمل تک ہزاروں لغزشیں ہیں ہم کسی نہ کسی لغزش کا شکار ہو کے رہ جاتے ہیں۔ کیپٹن اسفند یار بخاری شہید کے قدم اس راہِ عمل میں کہیں نہیں ڈگمگائے۔ وطن کی حفاظت کی قسم کھانے والے اس بہادر سپوت نے اپنی قسم کا مان رکھا۔

مضمون نگار کیڈٹ کالج حسن ابدال میں صدر شعبہ اردو ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 40مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP