متفرقات

کینیڈا میں عید

قارئین کو عید مبارک ہو۔ عید مسلمانوں کا وہ مذہبی تہوار ہے جسے عالم اسلام انتہائی مذہبی جوش و خروش سے مناتا ہے۔ عید الفطر جسے میٹھی عید بھی کہا جاتا ہے، ایک طرح سے شکرانہ ہے پروردگار کا کہ اس نے رمضان المبارک جیسا برکتوں والا مہینہ عطا فرمایا جس میں انسان اپنے رب کی رضا کی خاطر روزہ رکھتا ہے، عبادت کرتا ہے، آخری دس طاق راتوں میں شب قدر کو تلاش کرتا ہے۔ جہنم سے نجات اور جنت کے حصول کی سعی کرتا ہے۔


وطن عزیز میں رمضان اور عید کا اصل مزا ہے۔ پردیس میں بس عید آتی ہے اور گزر جاتی ہے۔ اگرچہ یہاں بھی عید بازار لگتے ہیں مگر جو رونق اپنے ملک میں ہوتی ہے وہ یہاں نہیں۔ برسہابرس سے میں پاکستان ٹیلی ویژن پر رمضان المبارک کی خصوصی نشریات ’رحمتوں کی رات‘ کی میزبانی کرتی رہی ہوں مگر اس بار چونکہ میں کینیڈا میں ہوں لہٰذا اس براہ راست یعنی لائیو نشریات کاحصہ نہ بن سکی۔ رحمتوں کی رات میں حمد و نعت کے علاوہ مختلف موضوعات پر عالم دین گفتگو کرتے ہیں۔ ممتاز علمی و ادبی اور سماجی شخصیات کو بھی مدعو کیا جاتا ہے اور سنجیدہ نوعیت کی گفتگو ہوتی ہے۔ گزشتہ برس توقصیدہ بردہ شریف بھی اردو اور عربی میں پیش کیا گیا تھا۔ رمضان المبارک میں جہاں سب لوگ زیادہ ثواب کمانے کے لئے زیادہ عبادتیں کرتے ہیں وہیں بعض ٹی وی چینل زیادہ کمانے کے لئے زیادہ مصالحہ ڈالتے ہیں۔ بات اب گیم شو سے نکل کر تمام حدود و قیود سے نکل چکی ہے۔ پہلے موٹر سائیکل بانٹنے پر واویلا مچا کرتا تھا۔ لیکن اب تو کرتب دکھائے جا رہے ہیں، تراویح کے اوقات میں ٹھمکے لگوائے جا رہے ہیں، عجیب و غریب حرکات اور اوچھا پن دکھایا جا رہا ہے۔اس پر کیا کہئے گا؟ عقل حیران ہے کہ ریٹنگ کے لئے ایسے لوگوں کو رمضان کے پروگرام کرنے کی ذمہ داری دی جا رہی ہے جو سارا سال ناچ گانا کرنے اور ہیجان انگیز تصاویر بنوانے میں ثانی نہیں رکھتے۔ ایک ایسی اداکارہ جو بھارتی فلموں میں ’’آئٹم‘‘ نمبر کر چکی ہو‘ جو قابل اعتراض فوٹو شوٹ کروا کے قوم کا سر شرم سے جھکوا چکی ہو، اسے مذہبی پروگرام کی میزبانی سونپ کر جانے کیا ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ اخلاقیات کا جنازہ نکالنے والے جب اخلاق کا درس دیں تو کس پر کیا اثر ہوگا ؟ مجھے یاد آیا کئی برس قبل پی ٹی وی پر ایک شو ہو رہا تھا۔ جس میں معرکۃ الآرا ڈرامہ الف نون کے کردار الن اور ننھا بھی موجود تھے۔ ننھا یعنی رفیع خاور کہنے لگے ایک بار خبریں پڑھنے والے نیوز کاسٹر کسی وجہ سے ٹی وی اسٹیشن نہ پہنچ سکے پروڈیوسر نے ان سے درخواست کی کہ آپ خبریں پڑھ دیں۔ وہ بولے کہ میں تو پڑھ دوں گا مگر یقین کوئی نہیں کرے گا۔ جس کا کام اس کو ساجھے اور کرے تو ٹھینگا باجے مگر صاحبو یہ ریٹنگ ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج ضروری ہے۔ یہ اتنی موذی ہے کہ بگاڑ کے سوا اور کچھ نہ دے گی۔ اسی کے باعث ٹاک شو میں وہ ہو رہا ہے جو قابل مذمت ہے۔ مادرپدر آزاد لوگوں کو علم و عمل سے عاری جعلسازوں سے بھڑا کر تہذیب و شرافت کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔

 

رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کر دی ہے۔ جس کا جو دل چاہتا ہے پوسٹ کرتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ سائبر قوانین ضرور ہوں گے مگر اس پر عملدرآمد کرانا ضروری ہے۔ میڈیا کے منہ زور گھوڑے کو لگام دینا ضروری ہے۔ یہ اپنے ہر سوار کو نہ صرف منہ کے بل گرا رہا ہے بلکہ اس کو اپنے سُموں سے گھائل بھی کر رہا ہے۔ پورا معاشرہ اس بے لگام جانور سے پریشان ہے۔ لگتا ہے کہ ہر کوئی اس کی زد میں ہے اندھا دھند بھاگتے اس میڈیا کو کون نکیل ڈالے گا؟ کینیڈا میں تو عالم یہ ہے کہ ہر چیز کنڑول میں ہے۔ قوانین موجود ہیں اور ان پر سختی سے عمل درآمد ہوتا ہے۔ اگر کہیں نوپارکنگ لکھا ہے تواس کا مطلب ہے نوپارکنگ‘ کسی سرکاری نمبر پلیٹ والے‘ کسی وی آئی پی ‘ کسی تیرے میرے بڑے صاحب کو استثنیٰ نہیں‘ ہر کوئی قانون پر عمل کرتا ہے اور ایسا کوئی تصور نہیں کہ قانون توڑ کر اسے اپنے لئے باعث افتخار سمجھا جائے۔ ہر کام یہاں قاعدے قانون کے تحت ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ کہیں بھی کوئی کھوکھا یا چھابڑی لگا لے۔ ہر چیز کے لئے پہلے ٹریننگ اور پھر لائسنس لینا ضروری ہے۔ حتیٰ کہ چائے بیچنے یا مچھلی پکڑنے کے لئے بھی لائسنس چاہئے۔ حکومت عوام کے ٹیکس کا پیسا عوام پر ہی خرچ کرتی ہے۔ یہاں کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو ہر خاص و عام میں مقبول ہیں۔ یکم رمضان کو انہوں نے مسلمانوں کو اس بابرکت مہینے کی مبارک باد دی اور اپنے پیغام کا آغاز السلام علیکم سے کیا۔ اسی طرح انہوں نے پہلی افطاری کا بھی اہتمام کیا۔ اس سے نہ صرف ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا بلکہ لوگوں کا اعتماد اپنے منتخب وزیراعظم پر بڑھا۔ ٹروڈو نوجوان وزیراعظم ہیں جو انتہائی منکسر المزاج ہیں۔ ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملتے ہیں۔ کبھی غرورکا مظاہر ہ کیا نہ غصہ‘ نہ بدکلامی کی نہ عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی۔ ان کی کابینہ میں مسلمان بھی شامل ہیں۔
پچھلے دنوں وینکوور میں پاکستان کے قونصل جنرل محمد طارق نے سینیٹر سلمیٰ جان کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا۔ سلمیٰ جان کا پورا نام سلمیٰ عطاء اﷲ جان ہے وہ پاکستانی نژاد کینیڈین ہیں۔ ان کا تعلق مردان سے ہے۔ 1980میں وہ پاکستان سے کینیڈا منتقل ہوئیں اور 2010 میں سینیٹر بنیں۔ سلمیٰ عطاء اﷲ جان کا تعلق کنزرویٹو پارٹی سے ہے۔ اگرچہ ان کی پارٹی الیکشن میں ہار گئی اور لبرل پارٹی جیت گئی تاہم ایک پاکستانی ہونے کے ناتے خوشی کی بات ہے کہ وہ کینیڈا کی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔


کینیڈا پاکستان سے بہت دور ہے۔ صحیح معنوں میں دنیا کا دوسرا کونا ہے۔ جب یہاں رات ہو تو پاکستان میں دن ہوتا ہے اور جب یہاں دن ہو تو وہاں رات ہوتی ہے۔ مئی تا اگست موسم یہاں زیادہ سرد نہیں ہوتا مگر اس بار کمال ہو گیا کہ جون کے مہینے میں پہاڑوں پر برف پڑ گئی۔ برفباری کے باعث موسم ٹھنڈا ہو گیا ہے اور درجہ حرارت کافی گر گیا ہے۔ بے موسم برفباری نے دوبارہ مجھے ہیٹر چلانے پر مجبور کر دیا۔ میرے پاس ایک پورٹیبل ہیٹر ہے جو میں اکثر رات کو گھنٹے دو گھنٹے کے لئے چلا دیتی ہوں۔ باقی سارا دن ہیٹر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہاں کے باسی تو سردی کے عادی ہیں۔ نئے آنے والوں میں زیادہ تر شامی پناہ گزین ہیں جن کے لئے موسم نہیں بلکہ انگریزی زبان ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ انہیں اس زبان کی بالکل شدھ بدھ نہیں۔ کچھ واقف بھی ہیں مگر زیادہ تر صرف عربی جانتے ہیں۔ کینیڈا میں نئے آنے والوں کو انگریزی زبان سکھانے کے ادارے موجود ہیں۔ یہاں سیٹلمنٹ کرانے والے ادارے بھی ہیں جو سسٹم کو سمجھانے‘ نوکری تلاش کرنے‘ رہائش اور سیٹ ہونے میں معاون ہوتے ہیں۔ یہاں تقریباً سبھی کام کرتے ہیں۔ کوئی فارغ نہیں بیٹھتا۔ دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے خود کما کے کھانے کا رواج ہے۔ لوگ صبح کام پر جانے کے لئے تڑکے اٹھتے ہیں۔ ساڑھے پانچ بجے سے لے کر ساڑھے سات بجے تک 
Peak hours
ہوتے ہیں جس میں دنیا سڑکوں پر ہوتی ہے۔ اس دوران خصوصی اضافی بسیں چلتی ہیں تاکہ لوگوں کو جلد ان کے دفاتر پہنچا سکیں۔ علیٰ الصبح بیدار ہونے کے لئے جلدی سونا لازم ہے۔ لہٰذا یہاں رات کا کھانا شام 7بجے تک کھا لیا جاتا ہے اور 9بجے تک لوگ سو جاتے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ سورج ساڑھے نو بجے غروب ہوتا ہے۔ صبح صبح لوگ گھروں سے کام پر جانے کے لئے نکلتے ہیں تو جلدی میں گھر سے ناشتہ کر کے نکلنے کے بجائے راستے سے کافی اور بیگل یا ڈونٹ لے کر کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جیسے ہمارے ملک میں چائے عام ہے یہاں کافی پسندیدہ ہے۔ بہت سی اقسام کی کافی دستیاب ہے۔ میں بھی کافی پیتی ہوں۔ مگر جیسے یہاں صبح و شام پی جاتی ہے۔ اس طرح پینے کا میرا کلیجہ نہیں۔ ہفتے میں دو بار پی لوں تو ٹھیک ورنہ ’’نقل‘‘ میں طبیعت خراب ہو جاتی ہے جی ہاں شروع شروع میں جب میں نے دیکھا کہ صبح نہار منہ کافی پیتے ہیں تو میں نے بھی شوقیہ کافی خریدنی شروع کی مگر جب پیٹ میں درد ہونے لگا اور الٹی ہونے لگی تو معلوم ہوا کہ ہمارے معدے اس قابل نہیں۔ ہم دیسی لوگ چائے والے ہیں اور دن میں کئی کپ چائے پی کے خوش رہتے ہیں۔ جب پینے کی بات ہو رہی ہے تو مے خانوں کا حال بھی ذرا لکھ دوں۔ یہاں صرف بالغان کو سگریٹ اور الکوحل فروخت کی جاتی ہے۔ سرعام مے نوشی منع ہے۔ صرف مے کدے میں بیٹھ کر شوق پورا کرنے کی اجازت ہے اور نشے کی حالت میں ڈرائیونگ پر پابندی ہے۔


نشے پہ یاد آیا منشیات کا گھناؤنا جرم یہاں بھی ہوتا ہے۔ مگر چھپ کر‘ کینیڈا میں نہ تو بھکاری ہوتے ہیں نہ مانگنے والے صرف منشیات استعمال کرنے والے سڑک کنارے سکے طلب کرتے نظر آتے ہیں۔ یہی لوگ موقع ملنے پر چوری چکاری بھی کر لیتے ہیں۔ ورنہ عموماً یہاں چوری ڈکیتی کا کوئی خطرہ نہیں۔ لوگ اپنا استعمال شدہ فرج‘ ٹی وی‘ مائیکروویواون یا دیگر الیکٹرانک آلات گھر سے باہر رکھ دیتے ہیں کہ کوئی لے جائے مگر ہفتوں گزر جاتے ہیں کوئی نہیں اٹھاتا۔ دراصل دو چار سال استعمال کے بعد یہاں نئے برانڈ کی چیز خرید لی جاتی ہے۔ پرانا سامان بیچنا مشکل ہے۔ لہٰذا صوفہ یا گدا ایسے ہی باہر رکھ دیا جاتا ہے۔ کوئی چیز خراب ہو جائے تو مرمت مسئلہ ہے۔ ویسے تو دو سے پانچ سال کی وارنٹی ہوتی ہے اور اس دوران کوئی چیز خراب ہو جائے تو کمپنی یا تو مرمت کرتی ہے یا نئے سے تبدیل کر لیتی ہے۔ وارنٹی کے بعد خراب ہونے والی اشیاء صرف اسکریپ ہوتی ہے۔ میری گلی میں کم از کم دو تین مکانات ایسے ہیں جنہوں نے سڑک کنارے ٹی وی سیٹ رکھے ہیں کہ کوئی لے جائے۔ دو مہینے ہو گئے مگر کوئی نہیں لے گیا۔ پاکستانی اپنی زکوٰۃ کی رقم پاکستان بھیجتے ہیں تاکہ مستحقین تک پہنچ سکے۔ یہ حقیقت ہے چیریٹی جتنی پاکستان میں ہوتی ہے اور کہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ مجھے رمضان میں وطن کی بہت یاد آئی۔ سڑکوں پر راہ گیروں کو افطار کرانا‘ تمام گھر والوں کا افطار ایک ساتھ میز پر یا دسترخوان پر بیٹھ کر کرنا‘ عید کی شاپنگ‘ مہندی چوڑیاں‘ بازاروں میں گہماگہمی‘ افطار پارٹیاں‘ یہ سب بہت یاد آتاہے۔ اگرچہ یہاں بھی افطار ڈنر ہوتے ہیں۔ دکانوں میں رمضان سیل لگتی ہے۔ جس میں کھجوریں اور پھل رعائتی قیمت پر ملتے ہیں۔ مگر وہ بات کہاں۔ بس ایک چیز ہے جو پاکستان میں نہیں۔ یہاں سموسے پکوڑے باسی کالے تیل میں نہیں تلے جاتے۔ جلیبی کا رنگ دوپٹہ رنگنے والا نہیں بلکہ اصلی فوڈکلر ہوتا ہے، شربت صاف پانی سے بنتا ہے، گلے سڑے پھلوں کے بجائے تازہ فروٹ کی چاٹ بنتی ہے۔ پاکستانی ریسٹوران یہاں کافی ہیں۔ جہاں ہمارے اپنے دیسی انداز کے پکوان ہوتے ہیں مگر ملاوٹ سے یکسر پاک۔ بازار سے نہاری لے کر کھائیں تو لگتا ہی نہیں نہاری ہے۔ نہ تو تیل یا چربی جمتی ہے نہ مرچیں تیز ہوتی ہیں۔ گوشت بھی نہایت ملائم ہوتا ہے اور یہ یقین ہوتا ہے کہ حلال ہے۔ ویسے کینیڈا میں حلال گوشت کی بہت دکانیں ہیں۔ عام گوشت کے مقابلے میں حلال مہنگا ہوتا ہے۔ باورچی خانے میں استعمال ہونے والے مصالحے بھی مہنگے ہیں۔ اگر ڈالروں میں کما کر ڈالر خرچ کریں تو احساس نہیں ہوتا لیکن جب ڈالر کو پاکستانی روپے میں تبدیل کر کے حساب لگائیں تو حلق سے نوالہ نہیں اترتا۔ کھانا پینا‘ رہنا سہنا سب مہنگا لگتا ہے۔ خیر جو بھی ہے مجھے کینیڈا پسند ہے۔ خوبصورت جگہ ہے۔ بہترین موسم ہے۔ امن و امان کے حوالے سے بھی بے مثال ہے۔ کھانے کو خالص ملتا ہے۔ پینے کا صاف پانی نلوں سے آتا ہے۔ پانی کی ٹنکی کا تصور یہاں موجود نہیں۔ یہ ڈر نہیں ہوتا کہ پانی ختم ہو جائے گا۔ صاف پانی ہر وقت، ہر جگہ ملتا ہے۔ جو حکومت آتی ہے عوام کی بھلائی کا سوچتی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بھی لاجواب ہے۔ ہر شخص ہر پیشے اور ہر کام کی عزت ہے۔ کوئی کسی کو اپنے سے حقیر یا کمتر نہیں سمجھتا۔ کینیڈا کے بارے میں مزید تفصیلات سے اپنے قارئین کو آگاہ کرتی رہوں گی۔ ابھی تو یہ سچائی بیان کر دوں اور رخصت لوں کی جو بھی ہے جیسا بھی ہے اپنا وطن اپنا ہوتا ہے۔ پاکستان جیسا کوئی ملک دنیا میں نہیں۔ پاکستان زندہ باد


مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 44مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP