مکتوبات

کینیڈا میں سیاحت اور اصول پسندی

آج سے کئی برس قبل جب ہم نئے نئے ٹیلی ویژن پر آئے تھے اور میڈیکل کالج کے اسٹوڈنٹ تھے تو اس و قت ہم نے فاطمہ ثریا بجیا کا تحریر کردہ سیریل دریا کنارے، میں کام کیا تھا۔ اس ڈرامے کے ہدایتکار ذوالفقار نقوی تھے۔ رفعت ہمایوں معاون پروڈیوسر تھیں جبکہ فنکاروں میں ہمارے علاوہ عشرت ہاشمی، منظور مراد، فرید نوازبلوچ اور اس زمانے کے پی ٹی وی کے پروگرام منیجر ایم ظہیر خان کی تین صاحبزادیاں بھی اس میں شامل تھیں۔اس ڈرامے کا تذکرہ ہم اس لئے کررہے ہیں کہ اگلے ویک اینڈ پہ ہمیں دریا کنارے جانا تھا۔
جی ہاں! اس بار ویک اینڈ پر ہم نے سوچا کہ موسم اچھا ہے (کینیڈا میں موسم اچھا ہونے سے مراد ہے خوب روشن دن ہو، گرمیاں ہوں اور چمکیلی دھوپ ہو)۔ لہٰذا ذرا ہوا خوری کے لئے باہر نکلا جائے۔ گرمیوں میں دن لمبے ہوتے ہیں۔ اتنے لمبے کہ رات کے ساڑھے نو دس بجے تک اجالا رہتا ہے۔ نام تو گرمیوں کا ہے مگر درجہ حرارت دس سے بارہ ڈگری ہوتا ہے۔ بہت ہوا تو درجہ حرارت عین دوپہر میں بس زیادہ سے زیادہ سولہ سترہ یا اٹھارہ ڈگری سنٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے۔ ہمارے لحاظ سے تو اٹھارہ بھی سرد ہی موسم ہوتا ہے۔ اس لئے ہم تو جیکٹ یا شال ضرور پہنتے ہیں۔ بہرحال یہاں کے باسی چونکہ سردی کے عادی ہیں اس لئے انہیں بہت گرمی لگتی ہے۔ اسی باعث گرمیوں میں ساحل سمندر پر اور دریا کے پاس بہت رش رہتا ہے۔ ونکوور چاروں اطراف سے گویا پانی میں گھرا ہوا ہے۔ یہاں Pacific Ocean  لگتا ہے اور Fraser River بہتا ہے۔



فریزر دریا بہت سے علاقوں سے گزرتا ہے کہیں دریا کا پاٹ چوڑا ہے تو کہیں تنگ، کہیں بہت گہرا ہے تو کہیں اطراف میں خوبصورت گھر ہیں، کہیں پارک ہیں کشتیاں چلتی ہیں تو کہیں اوپر پل پر ریل گزرتی ہے۔کہیں کنارے پر لوگ تیراکی کرتے ہیں تو کہیں مچھلیاں پکڑتے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ ذرا دریا کی سیر کو جائیں۔ ہم یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ کس گھاٹ پر جائیں۔ پھر طے کیا کہ لانگ ڈرائیو کرتے ہیں اور گھر سے دور مضافات میں جاتے ہیں۔ ہم نے سوچا راستے سے کھانے پینے کا کچھ سامان ساتھ رکھ لیں کہ وہاں کچھ جی چاہے تو کھا لیں۔ پھر خیال آیا کہ نہیں کھانا پینا بعد میں بس ذرا گھوم پھر کر آ جاتے ہیں۔ 
ہم گاڑی چلا رہے تھے۔ ریڈیو آن تھا۔ کبھی ٹریفک کا حال معلوم ہو جاتا تو کبھی گانے سن لیتے۔ یہاں اچھی بات یہ ہے کہ درجنوں ریڈیوچینل ہیں، بعض صرف اسپورٹس کے ہیں، بعض نیوز کے، بعض موسم کا حال اور ٹریفک کا حال بتاتے ہیں۔ بعض ویسٹرن کلاسیکل موسیقی کے، بعض Rock میوزک کے۔ بعض Pop گانوں کے، بعض جنوبی ایشیا کے، بعض فرنچ، بعض حالات حاضرہ کے۔ جیسا موڈ ہو وہی چینل ٹیون کر کے لگا لیں۔ صبح دفتر جانے اور شام دفتر سے گھر لوٹنے کے اوقات میں بالخصوص لوگ ٹریفک والا چینل لگاتے ہیں ہمیں بھی یہی عادت ہو گئی ہے کہ گاڑی میں بیٹھتے ہی ٹریفک کا حال معلوم کرتے ہیں۔ موسم کا بھی پتہ چل جاتا ہے اور سڑکوں کا بھی۔ سڑکوں کا حال معلوم کرنے سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر خدانخواستہ کہیں ایکسیڈنٹ یعنی کارکریش ہو گیا ہے تو متبادل راستہ اختیار کیا جائے کیونکہ کریش میں سڑک بہت بری طرح بلاک ہو جاتی ہے اور گھنٹوں لوگ ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں۔ کینیڈا میں ایکسیڈنٹ کو کریش کہتے ہیں۔ گاڑی کھمبے سے جا ٹکرائے یا اگلی گاڑی کو ہلکا سا بھی چھو جائے بس صاحبو سمجھو دو تین گھنٹے کم از کم روڈ بلاک چشم زدن میں پولیس کی گاڑیاں، فائربریگیڈ، ایمبولنس جائے وقوعہ پر پہنچ جاتی ہیں۔ فوراً ریڈیو پر خبر نشر ہو جاتی ہے۔ ہمیں اتنے سالوں میں آج تک یہ علم نہ ہو سکا کہ اتنی جلدی کیسے یہ ایمبولنس اور فائربریگیڈ وغیرہ کو اطلاع ہوتی ہے اور یہ کیسے آناً فاناً پہنچ جاتے ہیں۔ جتنی دیر میں بندہ گاڑی سے اتر کر یہ چیک کرتا ہے کہ گاڑی کہاں لگی ہے ، پولیس آن موجود ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سسٹم سمجھ میں نہیں آتا۔ ہمارے یہاں اگر کہیں آگ لگ جائے خدانخواستہ تو اگر فائربریگیڈ کو فون کریں تو اول یہ کہ فون پر جواب ہی نہیں ملتا اور اگر بالفرضِ محال فون اٹینڈ ہو گیا تو پہلے عملہ گاڑیوں کو باہر نکالے گا پھر دوسری کسی لوکیشن سے پانی بھرے گا پھر روانہ ہو گا۔ اس دوران اسے سڑک پر راستہ بھی خود بنانا پڑے گا۔ ہمارے یہاں ایمبولینس اور فائربریگیڈ کو کوئی راستہ نہیں دیتا۔ اکثر ہم نے وی آئی پی موومنٹ کے دوران ایمبولینس کو تڑپتے مریض کے ساتھ ٹریفک میں پھنسے دیکھا ہے۔کینیڈا میں فائربریگیڈاسٹیشن پر گاڑی ہر وقت تیار ہوتی ہے۔ عمارت کے آگے گاڑیاں کھڑی کرنے کی اجازت نہیں۔ پولیس، ایمبولینس اور فائربریگیڈ کی گاڑیاں اگر سائرن بجاتی سڑک پر آ جائیں تو دیگر تمام گاڑیاں رک جاتی ہیں۔ اگر کوئی نہ رکے تو قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے۔ یہ تو خیرایمرجنسی کال پر دوڑنے والی گاڑیوں کی بات ہے۔ کینیڈا میں پبلک ٹرانسپورٹ اور سکول بس کو سڑک پر راستہ دینا قانون ہے۔ بس یا سکول بس کو اوورٹیک کرنا، اسے راستہ نہ دینا یا اس سے آگے نکلنے کی کوشش کرنا جرم ہے۔ ویسے یہاں بسیں بھی اپنی لین میں چلتی ہیں۔ بسیں نہ ریس لگاتی ہیں اور نہ کنڈیکٹر حضرات دروازہ پیٹ پیٹ کر ڈبل اے استاد کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ یہاں کنڈکٹر ہوتا ہی نہیں۔ بس کا ٹکٹ یا پاس ایک خودکار مشین میں Tap کرنا پڑتا ہے اور بس۔ ویسے بس میں سفر کرنا اتنا مشکل نہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا اچھا انتظام ہے۔ یہاں اپنی گاڑی ہونا یقینا بہت آرام کی بات ہے۔ وقت بھی بچتا ہے اور سہولت بھی رہتی ہے۔ پارکنگ کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ کوئی بھی دکان، عمارت، دفتر، سکول بغیر پارکنگ لاٹ کے نہیں بنتا۔
چھوٹی سی کیبن ٹائپ دکان بھی ہو تو وسیع پارکنگ موجود ہوتی ہے۔ بس ڈائون ٹاؤن میں ذرا رش کے باعث مسئلہ ہوتا ہے۔ مگر مسئلہ جگہ کا نہیں بلکہ پارکنگ فیس کا ہے۔ پارکنگ کا ٹھیکہ کسی غنڈے کو دینے کا کوئی رواج نہیں۔ کوئی کاندھے پر مفلر ڈالے پارکنگ فیس وصول کرنے نہیں آئے گا۔ سڑک کنارے مشین لگی ہوتی ہے۔ مشین میں سکے ڈالئے یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے فیس ادا کیجئے اور اطمینان سے گاڑی کھڑی کیجئے۔ اگر گاڑی تین گھنٹے کے لئے کھڑی کی اور آپ کو چار گھنٹے ہو گئے تو ایک اسٹکر آپ کی گاڑی کے شیشے پر لگا مل جائے گا۔ جسے ٹکٹ کہتے ہیں۔ یہ جرمانہ ہے جو آپ کو بھرنا ہوگا۔ اگر پارکنگ فیس نہ دیں یا بے ایمانی کریں تو بھی ٹکٹ ملتا ہے اور اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ آدمی کانوں کو ہاتھ لگائے۔ ایک مرتبہ ہم نے پارکنگ لاٹ میں گاڑی کھڑی کی۔ فیس ایک گھنٹہ کے لئے تین ڈالر تھی۔ ہمیں دو منٹ کا کام تھا۔ ہم نے سوچا جب تک مشین میں سکے ڈالیں اور رسید لیں تب تک توہم واپس آ جائیں گے۔ ہم نے پارکنگ فیس ادا نہ کی۔ ہم دو چار منٹ میں واپس آئے تو دیکھا کہ ہماری گاڑی کو ٹکٹ مل چکا تھاجو چالیس ڈالر جرمانہ تھا اور پندرہ دن کے اندر اندر ادا کرنا تھا۔ ہماری گاڑی کی فوٹو بھی کھینچ لی گئی تھی۔ وہ چالیس ڈالر ہم نے بہت تکلیف سے ادا کئے اور اس کے بعد توبہ کی۔ یہاں ٹریفک سارجنٹ ٹریفک کنٹرول نہیں کرتا۔ سڑکوں پر نظر بھی نہیں آتا، ہاں کبھی کبھی سڑک کے کنارے پولیس کی گاڑی کھڑی نظر آ جاتی ہے۔ یہ پولیس آفیسر گاڑی کو روکنے، کاغذات چیک کرنے، سوال و جواب کرنے اور جرمانہ کرنے کے مختار ہوتے ہیں۔ یہ افسران نہایت مہذب اور شائستہ ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ ہمارا ان سے پالا پڑا، ہوا یوں کہ ہم نے نئی نئی گاڑی خریدی اور انشورنس کروا کے جیسے سڑک پر آئے تو پیچھے سے ٹوں ٹوں پولیس سائرن کی آواز آئی۔ ہماری جان نکل گئی۔ گاڑی کونے میں لگائی، شدید برفباری ہو رہی تھی، مگر ہمیں پسینہ آ گیا۔ پولیس افسر آیا، مسکرا کے ہائے ہیلو کیا، پھر احوال پوچھا، سسپنس سے ہماری جان نکل رہی تھی کہ یااﷲ کیوں ہمیں روکا ہے، پولیس افسر نے اس کے بعد برفباری پر تبصرہ شروع کر دیا۔ ہم سے تو مسکرایا بھی نہیں جا رہا تھا، ڈر رہے تھے کہ جانے کس وجہ سے چالان ہونے والا ہے۔ آخر کار پولیس والے نے نہایت متانت سے کہا کہ گاڑی کی ہیڈلائٹس بند ہیں انہیں کھولیں ورنہ سخت موسم میں خدانخواستہ کوئی حادثہ نہ ہو جائے۔ ہم نے دیکھا واقعی ہم ہیڈلائٹس کھولنا بھول گئے تھے۔ہماری جان میں جان آئی۔ پولیس افسر نے کہا گھر بحفاظت پہنچیں، آرام سے گاڑی چلائیں اور اپناخیال رکھیں۔ پولیس والے نے نہ تو ہم سے کوئی بدتمیزی کی نہ ٹکٹ دیا بلکہ اس نے کسی مہربان کی طرح ہمیں ہدایات دیں۔ ہم سے ایسے خوش اخلاقی سے پیش آیا جیسے دیرنہ واقف کار ہو۔ ہمارے لئے یہ واقعہ ایک مثال ہے۔ کینیڈا کی پولیس کتنی بااخلاق اور تہذیب یافتہ ہے۔ یہ اس کا ثبوت ہے۔پولیس کی اسی لئے یہاں بہت عزت ہے۔ لوگ ڈرتے بھی ہیں کیونکہ پولیس بااختیار ہے۔ غیرسیاسی ہے اور ناجائز کسی کو تنگ نہیں کرتی۔ ویسے یہاں کے پولیس والے بڑے فٹ ہیں اتنے عرصے میں ہم نے کوئی توند والا پولیس والا نہیں دیکھا۔ لگتا ہے باقاعدگی سے ان کو کسرت کرواتے ہیں۔ ان کی گاڑیاں بھی جدید اور شاندار ہیں۔ پولیس کی گاڑیاں پولیس والوں کے ہی زیر استعمال رہتی ہیں۔ پولیس کی گاڑی میں جدید تکنیکی آلات فٹ ہوتے ہیں جن کی مدد سے ہر گاڑی کا ڈیٹا نکال سکتے ہیں۔
ہم تو دریا کی سیرکا حال بتا رہے تھے، بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ دوستو! ہم نے گھر سے دور ایک گائوں Ladnerجانے کا قصد کیا۔ دریا، سمندر ہمارے آس پاس بھی ہے مگر جب بندہ پلان کر کے پکنک پر جائے تو ذرا دور ہی جانے کا مزا ہے۔ راستے میں کھیت تھے، مکئی کے کھیت، کدو کے کھیت اور بلیو بیری کے کھیت۔ایک مقام پر ہمیں چند گاڑیاں کھڑی نظر آئیں تو سوچا یہیں اتر کے دیکھتے ہیں۔ ہم نے گاڑی کونے میں لگائی۔ ایک جانب پبلک ٹوائلٹ تھا۔ دوسری جانب پتھر کی بینچیں تھیں۔ درخت تھے اور سامنے دریا تھا۔ بلیک بیری ہرسُو کثرت سے اُگی ہوئی تھی۔ ہم نے دیکھا کچھ احباب چپ چاپ کونے میں بیٹھے مچھلیاں پکڑ رہے ہیں۔ کچھ اپنی کشتیاں لے کر آ رہے ہیں اور پانی میں جا کے سیر کر رہے ہیں۔ ہمیں حیرت ہوئی لوگوں کے پاس اپنی ذاتی کشتیاں تھیں۔ ویسے کشتیاں کرائے پر بھی دستیاب ہوتی ہیں۔ بس مگر یہاں لوگوں کو موٹر بوٹ کا بہت شوق ہے۔ لوگ اطمینان سے اپنی بوٹس پانی میں اتار رہے تھے۔ کوئی فیس کوئی ٹکٹ نہیں۔ یہ بات ہمیں ہضم نہیں ہوئی۔ کراچی میں ساحل سمندر پر بڑے بڑے کلب ہیں۔ جن کی ممبرشپ فیس لاکھوں میں ہے اور ماہانہ فیس بھی اضافی دینی پڑتی ہے۔ ان کلبوں کی ممبر شپ ہر ایک کو ملتی بھی نہیں۔ یہ کلب اپنے ممبران کے لئے یہ سہولت فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنی بوٹ پانی میں اتاریں اور چلائیں۔لو بھیا! یہاں تو اس قسم کی کوئی چیز نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عام آدمی تفریح کرنے کا حق رکھتا ہے۔ عام آدمی کے بھی وہی حقوق ہیں جو اشرافیہ کے ہیں۔ یہی حقیقی جمہوریت ہے۔ لوگ بھی تفریح گاہوں کو تفریح گاہوں کی طرح ہی استعمال کرتے ہیں کوڑا کرکٹ ڈسٹ بن میں ہی ڈالتے ہیں۔ ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔ لوگ بھاگتے، گھومتے پھرتے ہیں ڈبکیاں لگاتے ہیں تیراکی کرتے ہیں کوئی کسی کو نہیں گھورتا نہ آوازیں کستا ہے۔
ہمیں احساس ہوا کہ حکومت لوگوں کا خیال رکھتی ہے۔ ان کی ضروریات کا خیال رکھتی ہے۔ ان کو سہولیات فراہم کرتی ہے۔ تبھی تو ویرانے میں بھی واش روم، ڈسٹ بن وغیرہ ہیں۔ یہاں ہر شخص کو جینے کا حق حاصل ہے۔ تعلیم، صحت، ہر شہری کا حق ہے۔
دریا کنارے کی تفریح ہمارے لئے لمحۂ فکریہ تھی۔ ہمیں اپنے ساحل یاد آ رہے تھے جن کو پبلک خود گندہ کرتی ہے۔جہاں جہازوں سے رستا تیل تو ستیاناس کرتا ہی ہے، فروٹ کے چھلکے، جوس کے ڈبے، چپس کے خالی پیکٹ اور پولی تھین بیگ بھی ماحول کو آلودہ کرتے ہیں۔ ہمیں پہلے اپنے آپ کو درست کرنا ہو گا تبھی بہتری آئے گی۔ کراچی والوں کے لئے واحد تفریح ساحل سمندر ہے۔ جہاں گاڑیوں کے داخلے پر فیس ہے۔ شہری کشتی رانی کا شوق رکھتے ہوں تو پہلے کروڑ پتی بنیں۔ صاحب حیثیت بنیں ،پھر کسی کلب کی ممبر شپ لے کر اپنا شوق پورا کریں۔زیادہ دل مچل رہا ہے تو منوڑا چلے جائیں۔ اب اگر کشتی میں بیٹھ ہی گئے تو دعا کریں گے اور وہ خدانخواستہ ڈوب سکتی ہے، ملاح تو تیرنا جانتے ہیں آپ ہی ڈوب کر مریں گے۔ لہٰذا بہتر ہے گھر میں بیٹھ کر شرم سے چلو بھر پانی میں ڈوب مریں کہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں اور آپ کو تفریح سوجھ رہی ہے۔ سندھ میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔ تھر میں سیکڑوں بچے ہلاک ہو گئے اور آپ کو کشتی رانی کا شوق ہو رہا ہے۔
یہ سب شوق اس وقت اچھے لگتے ہیں جب پیٹ میں روٹی ہو، خالی پیٹ تو سپنے بھی نہیں آتے۔ ''خالی پیٹ '' سے یاد آیا کہ چند ہفتے قبل ایک خبر مقامی اخبار میں شائع ہوئی جس کا بہت چرچا ہوا۔ ایک خاتون نے اپنی پالتو بلی کو پارک میں لا کے چھوڑا اور خود فرار ہو گئی۔ یعنی بلی سے چھٹکارا پانے کے لئے اسے پارک میں گھمانے کے بہانے لایا گیا اور پھر مالکن نودوگیارہ ہو گئی۔ کسی نے دیکھ لیا اور جانوروں کے حقوق والی تنظیم کو فون کر دیا۔ لو بھیا! آناً فاناً ٹیم پہنچ گئی۔ بلی کو ڈھونڈا گیا۔ بہلاپھسلا کے قابو کیا گیا اور ڈاکٹروں نے معائنہ کیا۔ معلوم ہوا بلی بھوکی ہے اور پنجے میں کچھ تکلیف ہے۔ درد مند ادارہ بلی کی تکلیف سے بلبلا اٹھا اور اُسے فوراً طبی امداد دی گئی۔ پیٹ بھر خوراک دی گئی اور اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ تاکہ غریب دربدر کی ٹھوکریں نہ کھاتی پھرے۔ لوگوں نے بلی کی مالکن کو خوب لعن طعن کی اور بلی سے بہت ہمدردی جتائی۔اچھی بات ہے، یہاں ریاست کسی جانور کو بھی بھوکا پیاسا نہیں دیکھ سکتی ۔ بلی کو بھی پناہ میسر کرتی ہے۔ اسے علاج معالجہ کی سہولت دیتی ے۔ ٹھکانہ فراہم کرتی ہے۔ ترقی کرنے کے لئے انہی راستوں کی مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔ جو یہ ممالک کرتے ہیں۔ مغربی دنیا اگر ترقی یافتہ ہے تو اس کی وجہ نظام کی مضبوطی، عدل و انصاف، قانون وجمہوریت کی بالادستی اور شفاف طرز حکمرانی ہے۔ یہاں نسل پرستی، مذہبی منافرت، لسانی تفریق، بڑے جرائم تصور کئے جاتے ہیں۔ قومی خزانے کو لوٹ کا مال نہیں سمجھا جاتا اور حکمران بادشاہ سلامت نہیں ہوتے۔
دیکھا جائے تو حقیقی معنوں میں صحیح راستہ یہی ہے۔ ہمارا دین بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے۔ مگر ہم لوگ صرف باتیں بنانا جانتے ہیں۔ ہمارا عمل اس کے برعکس ہوتا ہے۔ ہمیں علم ہے کہ ملاوٹ گناہ ہے، رشوت خوری گناہ ہے، کسی پر ظلم کرنا گناہ ہے، کسی کا مال ناجائز اڑانا گناہ ہے، کسی پر تہمت لگانا، کسی کا تمسخر اڑانا، کسی کی دل آزادی کرنا گناہ ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ چوری کتنا بڑا جرم ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ حقوق اﷲ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی کتنے ضروری ہیں، مگر افسوس یہ سب جاننے کے بعد بھی ہم دین پر عمل پیرا نہیں، ہم اپنے آپ کو کامل اور برحق تصور کرتے ہیں اور دوسرے پر کیچڑ اچھالنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ دولت اور مرتبے کو ہماری اولین ترجیح حاصل ہے ہم اس کے لئے جائز اور ناجائز کا فرق بھول بیٹھے ہیں۔ خوف خدا ہمارے دلوں سے رخصت ہو چکا اور ہم شاید موت کو بھلا بیٹھے ہیں۔ شائد علامہ اقبال کی فکر اور فلسفہ ہمیں دہرانے کی ضرورت ہے۔ اقبال کے فلسفہ خودی، شاہین، مردمومن کو یاد کرنے کی ضرورت ہے۔
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیۖ، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی، اﷲ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اورکہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں


مضمون نگار  مشہور ادا کارہ' کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 103مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP