متفرقات

کینیڈا میں ایک دلکش سفر

کینیڈا میں موسم سرد ہوگیا ہے‘ ہیٹر جل رہے ہیں‘ لوگ گرم کوٹ پہنے اونی مفلر لپیٹے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں جب مینہ برستا ہے تو ہوا میں خنکی بڑھ جاتی ہے۔
پچھلے دنوں میرا ایک ہفتے کے لئے ایڈمنٹن جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ شہر صوبہ البرٹا میں واقع ہے اور وہاں کا صوبائی دارالحکومت ہے۔ ونکوور سے ایڈمنٹن بائی روڈ بارہ گھنٹے کا سفر ہے۔ پہلے تو میں اتنی طویل مسافت کا سن کر پریشان ہوگئی مگر دوستوں نے بتایا کہ یہاں بائی روڈ سفر سہل ہے‘ خوبصورت اور دلکش مناظر راستے میں دل لبھاتے ہیں۔ سڑکیں کشادہ ہیں۔ دورانِ سفرپٹرول بھروانے‘ کافی پینے‘ یا واش روم جانے کی تکلیف نہیں ہوتی کیونکہ ہرتھوڑی تھوڑی دور جاکے گیس اسٹیشن‘ کیفے اور دیگر سہولیات دستیاب ہیں۔ اگرچہ میں اس سے قبل 
Kelowna
بائی روڈ جا چکی ہوں جو ونکوور سے چار گھنٹے کی ڈرائیو ہے مگر 12 گھنٹے کا سن کر مجھے پسینہ ہی آگیا تھا۔ میں سوچ رہی تھی لمبے سفر میں بیٹھے رہو تو کمر دُکھنے لگتی ہے‘ پاؤں سوج جاتے ہیں‘ بوریت ہوجاتی ہے۔ مگر صاحبو میرے تمام خدشات غلط ثابت ہوئے بارہ گھنٹے کی ڈرائیو بہت شاندار رہی۔ ہم تین لوگ تھے‘ گاڑی ہمارے پاس بڑی تھی جیسے پاکستان میں پراڈو ہوتی ہے۔ طے یہ پایا کہ ڈرائیونگ کی باری لگے گی‘ تین چار گھنٹے کے بعد ڈرائیونگ سیٹ دوسرا شخص سنبھالے گا۔ پہلے سوچا علی الصبح سفر پہ نکلا جائے تاکہ شام تک منزلِ مقصود تک پہنچ جائیں۔ مگر پھر فیصلہ ہوا کہ آرام سے نیند پوری کرکے اٹھیں اور پھر روانہ ہوں۔ اس آرام کے چکر میں دوپہر ہوگئی۔ پھر سوچا لنچ کرلیں تو چلیں‘ چنانچہ نکلتے نکلتے ہمیں تین‘ ساڑھے تین بج گئے۔ سفر شروع ہوا‘ راستے بھر کھیت‘ پہاڑ‘ جھیلیں دیکھتے رہے۔ جی کرتا تھا گاڑی سے اُتر کر یہیں پکنک منانا شروع کردیں۔ مویشی نظر آئے جو گھاس چر رہے تھے۔ کہیں کہیں میں نے دیکھا بھوسے کی جیسی گول ڈھیریاں پڑی تھیں۔ معلوم ہوا یہ خاص گھاس ہے جسے مشین سے کاٹ کے مشین کے ذریعے ہی لپیٹ دیا گیا ہے‘ اس کو جانوروں کے چارے کے طور استعمال کیا جائے گا۔ بہت سے لوگوں کا ذریعہ معاش یہی چارا ہوتا ہے جسے بیچ کے وہ گزر بسر کرتے ہیں۔ ہماری گاڑی فراٹے بھرتی چلی جارہی تھی۔ شام ہونے لگی تو میں نے پیشکش کی کہ اندھیرا پھیلنے سے پہلے میں گاڑی چلالیتی ہوں۔ ہمارے دوستوں نے کہا کہ چونکہ آپ نے پہلے ہائی وے پر اتنی سپیڈ پہ گاڑی نہیں چلائی اور ویسے بھی بارش کی وجہ سے سڑک پر پھسلن ہے لہٰذا آپ آرام سے بیٹھیں نظارے کریں۔ ایک غلطی ہم سے یہ ہوئی کہ کوئی گانوں کی سی ڈی گاڑی میں نہیں رکھی لہٰذا موسیقی کی کمی محسوس ہو رہی تھی‘ اس کا حل یہ نکالا کہ خود ہی گانے کا مظاہرہ کیا۔ بہت لطف آیا‘ کوئی پنجابی گیت‘ کوئی غزل‘ کوئی درد بھرا گیت‘ گاتے رہے۔ حلق خشک ہوا تو راستے میں رُکنے کا سوچا‘ مگر چونکہ
Kamloops
پہنچنے والے تھے تو سوچا اب وہیں رُکیں گے۔
Kamloops
پہنچے‘ ایک دیسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا‘ کھانا اچھا تھا۔ کھانے کے بعدمصالحہ چائے منگوائی جو بے حد بے ذائقہ تھی۔ سوچا چائے راستے سے پی لیں گے۔ چائے کا یہاں مسئلہ ہے۔ یہاں دیسی ریسٹورنٹ میں تو اچھی کڑک ہمارے انداز کی چائے ملتی ہے مگر باقی جگہوں پر پیپر کپ میں ایک ٹی بیگ ڈال دیتے ہیں جس میں نہ رنگ ہوتا ہے نہ خوشبو‘ اوپر سے دودھ ڈالو تو چائے سفید ہو جاتی ہے اس لئے لوگ کافی زیادہ پیتے ہیں۔
Kamloops
سے نکلے تو اندھیرا پھیل چکا تھا‘ کھانا کھاچکے تھے نیند کا غلبہ ہو رہا تھا‘ مگر سویا نہیں جارہا تھا سمجھئے اونگھ آرہی تھی۔ مجھے خوف ہوا کہ رات کی تاریکی میں سفر مناسب ہوگا یا نہیں۔ مگر معلوم ہوا کہ کینیڈا میں چور ڈاکو کا تصور موجود نہیں‘ رات کو ہائی وے پہ اطمینان سے سفر کریں کوئی بندوق بردار کہیں قریبی جھاڑی سے نمودار نہیں ہوگا۔

 

کینیڈا کی حکومت لوگوں کی جان و مال کی محافظ ہے۔ یہاں جنگلوں‘ بیابانوں میں لوگ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں جہاں میلوں تک آبادی نہیں ہوتی مگر نہ تو کوئی واردات ہوتی ہے نہ لُٹیرے آتے ہیں۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بھلے آپ جنگل میں رہتے ہوں جہاں سوائے آپ کے دُور دُور تک کچھ نہ ہو پھر بھی وہاںآپ کو بجلی‘ پانی‘ گیس‘ فون اور کیبل سب سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے قصبے میں مارکیٹیں ہیں جہاں وہی دکانیں اور اسٹور ہیں جو بڑے شہروں میں ہیں۔ یہ ایک اچھی بات ہے‘ سکول ہوں یا بازار‘ امن وامان ہو یا ضروریاتِ زندگی کی اشیا‘ حکومتِ کینیڈا لوگوں کا خیال رکھتی ہے‘ اُن کے ٹیکس کے پیسے کو انہیں کے کام میں لاتی ہے۔ اب ہائی وے پر ہی دیکھیئے کہ سڑک پر اسٹریٹ لائٹیں نہیں مگر سڑک پر ایسی پٹیاں یا دھاریاں پینٹ کی گئی ہیں جو گاڑی کی لائٹ پڑنے سے اندھیرے میں چمکتی ہیں جس سے سڑک روشن نظر آتی ہے‘ اسی طرح سڑک کے کنارے ایسے
Reflectors
ہیں جو بلب کی طرح چمکتے ہیں۔ ایک اور کمال یہ ہے کہ دو طرفہ سڑک کو تقسیم کرنے والی اور اطراف کی چمکدار پٹی پہ سڑک کی سطح کچھ ایسی گراری دار ہے کہ اگر گاڑی چلاتے ہوئے ڈرائیور کی آنکھ لگ جائے یا بے خیال میں گاڑی ٹریک سے باہر جانے لگے تو اس ناہموار پٹی پر ٹائر کی رگڑ سے زور دار آواز پیدا ہوتی ہے جس سے ڈرائیور فوراً ہوشیار ہوجاتا ہے۔ 
ہمارا سفر جاری تھا‘ بارش تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی‘ راستے سے ہم پٹرول ڈالواتے‘ کافی پیتے چلے جارہے تھے۔ یہاں پٹرول کو گیس کہتے ہیں، عموماً ہر گیس اسٹیشن پر سٹور ہوتا ہے جہاں سے ضرورت کی چیزیں مل جاتی ہیں‘ صاف ستھرے واش روم ہوتے ہیں‘ یہ سب 24 گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔ رات کو دو بجے تھے‘ ہم سفر میں تھے‘ میں نے غور کیا گاڑی کی سپیڈ زیادہ نہیں تھی۔ وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ رفتار کی حد جو سڑک کے کنارے لکھی ہے اسی پر گاڑی چلانی ہوگی ورنہ چالان ہوسکتا ہے۔ مجھے بڑی ہنسی آئی کہ بیابان میں کوئی چالان کرے گا مگر میری حیرت کہ اس وقت انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ راستے میں پولیس کی گاڑی کونے میں کھڑی اپنے فرائض ادا کرنے کے لئے موجود ہے۔
بارہ گھنٹے کا سفر کیسے طے ہوا پتہ ہی نہیں چلا‘ ایڈمنٹن پہنچے تو صبح ہو رہی تھی۔ یہاں کا ٹائم ونکوور سے آگے ہے سفر کی تھکن کے باعث نیند بھرپور آئی۔
صبح اٹھے تو گھومنے کا پروگرام بنایا۔ ہمارے پاس تفریح کے لئے ایک ہی دن تھا کیونکہ اس کے بعد
Hearing
شروع ہونی تھی۔ یہ
Hearing
کیا ہے۔ اس کا ذکر بعد میں‘ پہلے ایڈمنٹن شہر کے بارے میں بتا دوں‘ یہ البرٹا کا صوبائی دارالخلافہ ہے‘ یہاں تیل کے ذخائر اور ہیرے کی کانیں ہیں۔ یہاں سردی زیادہ پڑتی ہے‘ گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت17ڈگری سینٹی گریڈ پر رہتا ہے‘ جبکہ سردیوں میں درجہ حرارت منفی میں ہوتاہے۔ برفباری خوب ہوتی ہے۔1972 میں یہاں درجہ حرات منفی 48.3 سینٹی گریڈ تک گرگیا تھا۔ بس اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ یہاں کتنی ٹھنڈ پڑتی ہے۔
یہاں کا سب سے بڑا شاپنگ مال
West Edmonton Mall
ہے جو شمالی امریکا کا سب سے بڑا اور دنیا کا دسواں بڑا مال ہے اور لوگوں کی دلچسپی و تفریح کا سامان خوب ہے۔
مال میں ہم گھومے پھرے‘ شام میں شہر میں گاڑی دوڑاتے رہے‘ یہاں سڑکیں خاصی چوڑی چوڑی ہیں۔ مکانات بھی بڑے بڑے ہیں‘ اچھا خاصا خوبصورت شہر ہے مگر ونکوور جیسی ہریالی نہیں۔ ونکوور میں تو سمندر بھی ہے اور دریا بھی‘ جھیلیں بھی ہیں اور آبشاریں بھی‘ سبزہ بھی ہے اور کھیت بھی‘ موسم نہایت معتدل۔ اس کے مقابلے میں ایڈمنٹن میں شدید سردی پڑتی ہے‘ یہاں بھی دریا ہے‘ جھیل ہے‘ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہاں تیل نکلتا ہے‘ لہٰذا یہاں کی اکانومی مستحکم ہے۔ پیسا کمانا ہو تو یہ صوبہ یعنی البرٹا لاجواب ہے۔ قدرت کے حسین نظارے دیکھنا ہوں تو صوبہ برٹش کولمبیاسب سے بہترین ہے اور مجھے خوشی ہے کہ کینیڈا میں میرا قیام بھی برٹش کولمبیا ہی میں ہے۔


مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

[email protected]

 

یہ تحریر 41مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP