قومی و بین الاقوامی ایشوز

کینیڈا میں اسلاموفوبیا کا ایک دلخراش سانحہ

کینیڈا میں فکر و سوچ کی آزادی ہے۔ مذہب کی بھی آزادی ہے کہ جو چاہیں مذہب اختیار کریں اور چاہیں تو نہ کریں۔ جیسے چاہیں زندگی گزاریں لیکن قانون کے دائرے میں ۔ تعصب، نسل پرستی یا مذہبی منافرت وہاں جرم ہے۔ جبری طور پر کسی پر اپنا عقیدہ مسلط کرنا یا کسی کے رنگ و نسل کا مذاق اڑانا سنگیں جرم ہے۔ وہاں کا قانون سب کو برابر حقوق دیتا ہے اور کسی کوبھی وہاں اس کے رنگ، قبیلہ، مذہب،  زبان یا جنس کی بنیاد پر نہ ترجیح حاصل ہے  نہ کوئی حقیر ہے۔ سکولوں میں بچوں کو یہی تعلیم دی جاتی ہے کہ اپنے اندر اتنی کشادگی پیدا کریں کہ اپنے سے مختلف لوگوں کو بھی اتنی ہی عزت دیں جتنی خود کو دیتے ہیں۔ اسی باعث وہاں نہ کسی کے رنگ کا مذاق اڑایا جاتا ہے نہ کسی کی تضحیک کی جاتی ہے۔
اِن تمام تعلیمات اور قوانین کے باعث وہاں مختلف قوموں، مختلف زبانوں، مختلف عقائد اور مختلف رنگ و روپ کے لوگ باہم مل جل کر رہتے ہیں تاہم پھربھی کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ پیش آجاتا ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ نفرت کا مادہ کتنازہر آلود ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف انسان سے اُس کی عقل اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے بلکہ خود اس کے لئے بھی زہرِ قاتل ہوتا ہے۔
ایسا ہی ایک واقعہ کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر لندن میں پیش آیا، جہاں نو عمر لڑکے نے سڑک کے کنارے کھڑے مسلمان خاندان کو گاڑی سے کچل کر ہلاک کردیا۔ تفصیلات کے مطابق ایک20 سالہ نوجوان جس کا نام Nathaniel Veltman تھا، اُس نے فٹ پاتھ پر کھڑے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد پر گاڑی چڑھا دی جس کے نتیجے میں 74 سالہ خاتون، اُن کابیٹا سلمان افضال، بہو مدیحہ اور پندرہ سالہ پوتی یمنیٰ جاں بحق  ہوگئے۔ جبکہ 9سالہ پوتا شدیدزخمی حالت میں ہسپتال میں داخل ہے۔
پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کرلیا اور بتایا کہ 20سالہ قاتل نے اس مسلمان خاندان کو اُن کے مذہب کی وجہ سے ہلاک کیا۔  پوری دنیا میں اس افسوس ناک واقعے کی خبر پھیل گئی۔ ہر طرف غم، افسوس اور صدمہ کی کیفیت طاری ہوگئی۔
مرنے والے بدقسمت خاندان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ مسلمان تھے۔ کینیڈین حکومت نے اس واقعہ کو دہشت گردی قرار دیا اور وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنے پیغام میں واضح الفاظ میں کہا کہ اسلامو فوبیا ایک تلخ حقیقت ہے مگر اس  کی کینیڈا میں کوئی گنجائش نہیں۔ مرنے والے خاندان سے اظہارِ ہمدردی کیاگیااور زندہ بچ جانے والے بچے کے بارے میں فکر مند ہوئے۔ ساتھ کھلے الفاظ میں کہا کہ یہ افسوس ناک واقعہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔
مرنے والے خاندان کے سوگ میں کینیڈاکے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں۔ شمعیں روشن کی گئیں ۔ اظہارِ افسوس اور مسلمانوں سے یکجہتی کا عہد کیاگیا۔ اِن میں عیسائی، ہندو، سکھ سبھی شریک ہوئے۔ حکومتی نمائندے بھی آئے اور انہوں نے اس خوفناک، نفرت انگیز عمل کی مذمت کی۔ مسلمان کمیونٹی خاص طور پر کینیڈا میں بسنے والے پاکستانیوں پر اس حادثے کا شدید اثر ہوا۔ اُن کے دل میں عجیب سا خوف پیدا ہونے لگا کہ جانے کب سڑک کراس کرتے ہوئے، پارک میں ٹہلتے ہوئے یا مال میں شاپنگ کرتے ہوئے کوئی اُن پر اچانک حملہ کردے۔ 
یہ خوف فطری ہے، اسلاموفوبیا کے خنجرسے مسلمانوں کا خون ٹپک رہا ہے۔ اسی وجہ سے اکثر ممالک میں مسلمانوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے۔ لندن اونٹاریو میں مرنے والے مسلمان خاندان سے سب کو ہمدردی ہے، سبھی تعزیت کررہے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ دنیا میں اس وقت عجیب خوف کی فضا ہے۔ دہشت گردی نے ناطقہ بند کررکھا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی نے قتل و غارت گری کا بازار گرم کررکھا ہے عاقبت نااندیش مسلمانوں کے خلاف سرگرم ہیں اور ہم ہیں کہ خوابِ غفلت میں پڑے ہیں۔ ہمارے یہاں فرقہ بندی اور فروعات نے سب کو ایسا الجھایا ہے کہ ہر کوئی اپنے مسلک کو درست اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگا ہے۔ کاش ہم سب کو یہ سمجھ آجائے کہ اسلام امن پسندی، محبت اور اخوت کا درس دیتا ہے۔ اسلام متحدہونے کا درس دیتا ہے تقسیم ہونے کا نہیں۔ آج اگر دنیا بھر میں مسلمان تکلیف میں ہیں تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سب بٹے ہوئے ہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ سب متحدہ ہوں، ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔ کینیڈا کا بدنصیب مسلمان خاندان اسلام دشمنی کا شکار ہوا، مارنے والے کو نہیں پتہ تھا کہ اُن کے کیا عقائد ہیں،کیا نظریات ہیں؟ اُس نے صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے اُن پر اپنی گاڑی چڑھا دی۔ وہ انہیں ذاتی طور پر نہیں جانتا تھا لیکن اس کے ذہن و دل میں پلنے والی اسلام اور مسلمانوں سے نفرت نے اُسے اس انتہائی قدم کی جانب اُکسایا۔ کینیڈین پولیس نے قاتل کو فوراً گرفتار کرلیا۔ اُسے سزا بھی ہوگی اور کڑی سزا ہوگی۔ فوری انصاف سے لواحقین کے زخم مندمل تو نہ ہوں گے لیکن اُنہیں یہ تسلی ضرور ہوگی کہ قاتل اپنے انجام کو پہنچا۔ کینیڈا میں مجرم کو اپنے کئے کی سزا ملتی ہے۔ کوئی بھی جرم کرکے بچ نہیں سکتا۔ اونٹاریو واقعہ کے مجرم کو بھی چھوٹ ملے گی نہ رعایت۔ مرنے والے اسلام کے نام پر مرے تو ظاہر ہے شہید ہیں اور شہیدوں کا خون رنگ لاتا ہے۔ کینیڈا میں حکومت اورپولیس نے جس طرح اس افسوس ناک واقعے کو ہینڈل کیا، اس کا اعتراف کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے تو یہ کہ جب  خبرچلی تو قاتل پکڑا جاچکا تھا۔ لہٰذا یہ کہیں بھی نہیں لکھا تھا کہ'' نامعلوم حملہ آور کی ٹکر سے چار افراد ہلاک اور زخمی۔'' 
دوم یہ کہ پولیس کے متعلقہ افسر نے ذمہ دارانہ بیان دیا کہ واقعہ مرنے والوں کے مذہب اسلام کی وجہ سے ہوا۔ اس نے حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش نہیں کی، نہ ہی میڈیا والے مائیک اور کیمرہ لے کر گلی گلی ہر کس و ناکس سے بیانات لیتے رہے۔حکومت کی جانب سے مذمتی بیان کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان جاری ہوا کہ واقعہ اسلامو فوبیا اوردہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ نیز آئندہ اس قسم کے واقعات نہ ہوں، اس کے لئے بھی اقدامات کرنے ہوں گے۔ 
اونٹاریو کا بدنصیب خاندان موت کی بھینٹ چڑھ گیا اور سب کے ذہنوں میں سوالات بھی چھوڑ گیا۔ کیا مسلمان محفوظ ہیں؟ کیا اسلاموفوبیا سے اُن کی زندگیوں کو لاحق خطرات کم ہوں گے یا نہیں؟ کیا آئندہ اُن کو اس قسم کی نفرت کا سامنا کرنا ہوگا؟ مرنے والے چلے گئے۔ اُن کی تدفین بھی اعزاز کے ساتھ ہوئی، جنازے میں ہر خاص و عام نے شرکت کی، لیکن دکھ کا مداوا مشکل ہے۔ بچھڑنے والے جس طرح گئے وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ ایسی دلخراش یاد جو کبھی دل سے نہیں نکلے گی۔ ||


مضمون نگار مشہور ادا کارہ' کمپیئر اور مصنفہ ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 73مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP