متفرقات

کینیڈا سے ایک خط

کینیڈا میں سب کچھ بہت اچھا ہے۔ صفائی ستھرائی‘ یہاں کا موسم‘ قدرتی نظارے‘ اشیائے خورونوش‘ ذرائع آمدورفت‘ شاپنگ مال‘ سب کچھ بہترین ہے۔ پھر بھی جانے کیوں چند دن میں ہی دل اکتا جاتا ہے اور وطن کی یاد ستانے لگتی ہے۔ اپنے دیس کی مٹی کی کشش اپنی طرف کھینچتی ہے۔ کہتے ہیں انسان کی جڑیں جس سرزمین میں ہوں‘ اس کا دل وہیں لگتا ہے۔ پاکستانی یوں تو دنیا بھر میں موجود ہیں لیکن ان کا دل اپنے پیارے پاکستان کی محبت میں ہی دھڑکتا ہے۔ اے میرے وطن‘ میرے چمن‘ میری پہچان تجھ سے ہے۔ اے ارض پاک تُو دل میں بستا ہے۔

ایک ہفتے کی مسلسل بارشوں کے بعدبادل ذرا چھٹے اور سورج کی نرم سنہری کرنیں زمین پر پڑیں تو بہت اچھا لگا۔ آتشدان کے پاس میں نے اپنی کرسی بچھا رکھی ہے جس پر بیٹھ کر میں کھڑکی کے پار باہر کا نظارہ کرتی رہتی ہوں۔ ایک جانب گھنا جنگل ہے جبکہ دوسری جانب سڑک ہے جو برسات کے بعد نکھری نکھری لگ رہی ہے۔ دور برف پوش پہاڑوں کی چوٹیاں نظر آ رہی ہیں جو عموماً دھند کے باعث اوجھل ہی رہتی ہیں۔ کھلی کھلی دھوپ میں موسم کا لطف لینا‘ منڈیر پر دوڑتی بھوری اور سرمئی گلہریوں کو دیکھنا بھلا لگتا ہے۔ اگرچہ باہر شدید ٹھنڈ ہے مگر گھر میں سردی کا احساس نہیں ہوتا۔ جنت نظیر کینیڈا دنیا کے سرد ترین ممالک میں سے ایک ہے مگر چونکہ یہاں سسٹم صحیح ہے‘ لہٰذا موسم کی سختی معمولات زندگی کو متاثر نہیں کرتی۔ آندھی آئے یا طوفان‘ برسات ہو یا برفباری‘ یہاں نہ سکول کالج بند ہوتے ہیں نہ لوگ دفاتر سے غیر حاضر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھلے دن رات بارش ہوتی رہے نہ سڑکوں پر پانی جمع ہوتا ہے نہ کیچڑ‘ نہ بجلی جاتی ہے نہ گیس کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ خون منجمد کر دینے والی سردی کے توڑ کے لئے ہر جگہ ہیٹر ہیں۔ دفاتر‘ بازار‘ تعلیمی ادارے‘ ٹرانسپورٹ سمیت ہر جگہ ہر چیز کا معقول انتظام ہے۔ اس لئے ہر طرح کے حالات میں زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ جب سے میں کینیڈا آئی ہوں یہی سوچتی ہوں کہ بڑی سخت زندگی ہے یہاں کی۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی کہ بارش ہو اور چھٹی نہ ہو۔ ہمارے یہاں تو آسمان پر بادل نظر آئیں یا بجلی کڑکے جھٹ بجلی کے محکمے والے ایکشن میں آ جاتے ہیں اور بجلی اُن کے ڈر سے بھاگ جاتی ہے۔ ذرا پانی برسا پھر سڑکوں اور گلیوں کے برساتی تالاب میں بچے ڈبکیاں لگاتے ہیں۔ کینیڈا والے تو اس نعمت سے بھی محروم ہیں۔ اور تو اور یہ لوگ پہیہ جام ‘ شٹر ڈاؤن‘ جلاؤ گھیراؤ‘ توڑپھوڑ اور شر انگیزی کے مزے سے بھی ناواقف ہیں۔ عجیب بات یہ کہ یہاں کوئی خدائی فوجدار بھی نہیں۔ جو مرضی کھاؤ‘ جیسا دل چاہے ویسا لباس پہنوں۔ جس ڈھنگ سے چاہو زندگی بسر کرو‘ کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں‘ ہر ایک اپنی فکر کرتا ہے اور بس۔ ہو سکتا ہے بعض لوگوں کے نزدیک یہ رویہ معاشرتی بے حسی یا لاتعلقی کا عکاس ہو مگر اس کا فائدہ یہ ہے کہ کوئی کسی دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا۔

بہت سی کالونیاں ایسی ہیں جہاں بچوں کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔ ایسی رہائشی کالونی میں صرف سینئرز ہی مقیم ہوتے ہیں۔ جوائنٹ فیملی سسٹم کا یہاں کوئی تصور نہیں۔ یہاں کی سوسائٹی میں پالتو جانوروں کی بڑی اہمیت ہے۔ کتے بلیوں سے لوگ اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے ہیں۔ آوارہ پن یہاں جانوروں کے لئے ممنوع ہے۔ حسرت ہی رہ گئی کہ سڑک پہ کوئی کتا‘ بلی دندناتا پھرتا نظر آ جائے یا ٹریفک کے ہجوم میں گائے بھینس چہل قدمی کرتی نظر آ جائے۔ پالتو جانوروں کو پٹا ڈال کے رکھا جاتا ہے۔ ان کی غذا‘ آرام و آسائش کے علاوہ ان کی تفریح کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

پالتو جانور رکھنا اتنا آسان بھی نہیں۔ اگر کسی کو ذرا بھی شک ہو جائے کہ اس کا پڑوسی اپنے پالتو کتے کا ڈھنگ سے خیال نہیں رکھ رہا تو فوراً اس کی شکایت کر دی جاتی ہے۔ پالتو جانور خصوصاً کتے فیملی ممبر کی طرح گھر میں رہتے ہیں۔ ان کو روزانہ باہر ٹہلانے لے جانا مالک کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر کوئی خود یہ کام نہیں کر سکتا تو اسے پروفیشنل ڈاگ واکر یعنی کتا ٹہلانے والے یا والی کی خدمات حاصل کرنی پڑتی ہیں۔ حال ہی میں ایک ڈاگ واکر کو مقامی عدالت کی جانب سے لاپروائی اور غفلت برتنے کے الزام میں چھ ماہ قید کے علاوہ دس سال تک جانور پالنے پر پابندی اور جانوروں کی دیکھ بھال کے بزنس کرنے پر تاحیات پابندی کی سزا سنائی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق 38 سالہ ایما جو بطور پروفیشنل ڈاگ واکر برسوں سے اس پیشے سے وابستہ تھی‘ ایک دن اپنے ٹرک میں کتے لاد کے لے جا رہی تھی کہ اسے شاپنگ کا خیال آ گیا اور وہ کتوں کو ٹرک میں چھوڑ کر سٹور میں گھس گئی۔ 40 منٹ بعد جب وہ باہر نکلی تو ٹرک کے پچھلے حصے میں سوار تمام کتے مر چکے تھے جبکہ اگلے حصے میں موجود دو کتے خوش قسمتی سے بچ گئے تھے۔ خاتون نے ڈراما رچایا کہ کتے چوری ہو گئے ہیں۔ میڈیا پر اس گمشدگی کی خوب تشہیر کی گئی مگر کتے نہ ملے۔ ظاہر ہے وہ مردہ تھے‘ لہٰذا لاکھ ڈھونڈنے پر بھی ان کا سراغ نہ ملا۔ پھر جانے کیسے پولیس کو شک ہوگیااور انہوں نے سچ اگلوا لیا۔ بس پھر کیا تھا‘ ہر طرف سے اس خاتون پر لعن طعن شروع ہو گئی۔ لوگوں کو اس کی لاپروائی سے زیادہ اس کے جھوٹ پر غصہ تھا۔ ا س پر باقاعدہ مقدمہ چلایا گیا اور عدالت کی طرف سے اسے سزا ہوئی۔

جانوروں کے معاملے پر غفلت برتنے پر اتنی سخت سزا کے بارے میں اخبار میں پڑھا تونجانے کیوں مجھے تھر میں غربت بھوک و افلاس اور بیماری و خشک سالی سے مرنے والے غریب بچے یاد آ گئے جو جانے کس کی غفلت سے جاں بحق ہو گئے۔ صرف تین ماہ میں ساڑھے تین سو سے زائد معصوم بچے لقمۂ اجل بن گئے۔ مگر کوئی پرسان حال نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسانی جان کی اس بے وقعتی پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں توازن برقرار رکھنے کے لئے سزا اور جزا دونوں ضروری ہیں۔ جب تک جرم کرنے پر سزا نہیں ہو گی‘ اصلاح نہیں ہو سکتی۔ شکر ہے کہ ہمارے ملک میں فوجی عدالتیں قائم ہونے کی آئینی منظوری ہو گئی ہے۔ اس عمل سے ایک امید بندھی ہے کہ شائد اب ملک کو درپیش مسائل حل ہو جائیں گے ۔ اس کار خیر پر بھی بعض لوگوں کو تکلیف ہے اور وہ یوں بلبلا کے چیخ رہے ہیں کہ جیسے فوجی عدالتیں خدانخواستہ پاکستان کے لئے مسائل پیدا کریں گی۔ آزادیِ اظہار بہت اہم ہے تاہم کینیڈا میں بھونکنے یا کاٹنے والے کتے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ اپنے مالک کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ‘ کھاتے پیتے‘ لیٹتے اور سوتے ہیں۔ ‘‘

خیر چھوڑیں اس بات کو میں بھی کیا کتوں کا تذکرہ لے کے بیٹھ گئی۔ کھڑکی سے باہر سرمئی بوجھل شام پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔ حالانکہ ابھی صرف پانچ بجے ہیں‘ مگر سردیوں میں سورج جلدی غروب ہو جاتا ہے۔ سیاہ بادل امڈ امڈ کے آ رہے ہیں لگتا ہے پھر رات بھر بارش ہو گی۔ میں اب چائے پیؤں گی پھر باہر چہل قدمی کے لئے جاؤں گی۔ کینیڈا میں ویسے تو سردی میں سرشام باہر گھومنا اور واک کرنا کراچی کے باسیوں کے لئے بہت مشکل ہے کیونکہ کراچی میں تو دسمبر میں بھی پنکھے اور اے سی چلتے ہیں لہٰذا انہیں سردی کی عادت نہیں۔ بہت ہوا تو کبھی کوئٹہ کی برفیلی ہواؤں کے سبب جنوری کے آخری عشرے میں ٹھنڈ پڑ جاتی ہے اور خشکی کے باعث لوگ نزلہ‘ زکام یا گلے کی تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان سب کے باوجود مجھے تو باہر نکل کے سرد موسم میں چہل قدمی کرنے کا بڑا مزا آتا ہے اور یوں بھی میں نے کینیڈا پہنچتے ہی فلو کا ٹیکا لگوا لیا تھا لہٰذا بیمار پڑنے کے امکانات بھی خدا کے فضل سے کم ہی ہیں پھر ایک بات یہ بھی ہے کہ یہاں کی سردی خشک نہیں ہوتی جو تکلیف کا باعث بنے۔ خزاں شروع ہوتے ہی موسم خنک ہو جاتا ہے اور مارکیٹ میں فلو کی ویکسین آ جاتی ہے جو ہر کوئی لگوا لیتا ہے۔ میں جب فلو شاٹ لگوانے ایک مشہور سٹور کی فارمیسی پہنچی تھی تو انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیاآپ کے گھر میں چھوٹے بچے یا 65 سال کے بڑی عمر کے افراد موجود ہیں؟ میں نے پوچھا کیوں تو جواب ملا کہ ایسی صورت حال میں فلو شاٹ مفت لگے گا ورنہ چارجز ہوں گے۔ پھر انہوں نے ایک فارم بھروایا اور انتظار گاہ میں بٹھا دیا۔ پانچ منٹ کے بعد سفید کوٹ پہنے ایک لڑکی آئی اور مجھے اس کمرے میں لے گئی جہاں ٹیکا لگنا تھا۔ اس نے مجھ سے پہلے میری میڈیکل ہسٹری اور الرجی وغیرہ کی معلومات لیں پھر ایک لمبی تمہید باندھی کہ اس ٹیکے سے فلاں فلاں رد عمل ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ویکسین کے بعد پندرہ منٹ تک زیرنگرانی رکھا جائے گا تاکہ اگر خدانخواستہ کچھ ہو تو اس کا علاج کیا جا سکے۔ میں نے اسے بتایا کہ مجھے الحمد ﷲ کوئی تکلیف نہیں لہٰذا بس ٹیکا لگائے اور جلد فارغ کرے۔ اس نے کہا اگر آپ کو جلدی ہے تو کسی اور دن تشریف لائیں۔ کیونکہ آپ کی کیئر کرنا ہمارا فرض ہے۔ ہم جلدی جلدی میں آپ کا کوئی نقصان نہیں چاہتے۔ میں نے حیرت سے اسے دیکھا تو وہ متانت سے بولی کہ آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔ میں بہت آرام سے ٹیکا لگاؤں گی۔ ہو سکتا ہے سرنج چبھونے سے سوجن یا سرخی پیدا ہو جائے یا بازو میں درد ہو جائے تو آپ گھبرایئے مت یہ ٹھیک ہو جائے گا۔ ایک معمولی ویکسین کے لئے جس وی آئی پی ٹریٹمنٹ کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا وہ حیرت انگیز تھا۔ یہ خاص برتاؤ صرف میرے لئے نہیں بلکہ ہر خاص و عام کے لئے تھا۔ سینٹری ورکر ہو یا ملک کا سربراہ ہر ایک کو یہاں مساوی حقوق حاصل ہیں۔

میں سوچتی ہوں یہ مساوات ہماری اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے جنہیں ہم نے بھلا دیا ہے مگر غیروں نے اپنا لیا۔ قانون یہاں سب کے لئے ایک ہے۔ مثال کے طور پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کسی کو رعایت نہیں دی جاتی۔ اگر کسی وزیر یا اہم سرکاری عہدے پر فائز شخص سگنل توڑے تو جرمانے کے علاوہ اس پر سماجی دباؤ اتنا ہو گا کہ ہو سکتا ہے اسے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑ جائے۔ یعنی جتنا اہم عہدہ اتنی بڑی ذمہ داری۔ قوانین پر عمل درآمد ہر ایک کے لئے ضروری ہے اور کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔ عوام الناس کی سہولت کے لئے حکومت ہر طرح کے اقدامات کرتی ہے۔ ٹرانسپورٹ کا نظام یہاں بہت عمدہ ہے ۔ خود کار مشین کے ذریعے ٹکٹ حاصل کیا جاتا ہے۔ یا پھر بڑے اسٹورز پر بھی ٹکٹ بک دستیاب ہے۔ بس ہو یا ٹرین ہر جگہ کیمرے نصب ہیں جن کے ذریعے مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ بس اپنے مقررہ سٹاپ پر ہی رکتی ہے۔ تمام مسافر قطار بنا کے اترتے اور چڑھتے ہیں۔ اگلا دروازہ بس میں داخل ہونے کے لئے اور پچھلا دروازہ اترنے کے لئے ہوتا ہے۔ دھکم پیل‘ بدتمیزی یا بدکلامی کا رواج نہیں۔ ڈرائیور چاہے مرد ہو یا عورت‘ اسے مسافر بس میں داخل ہوتے ہوئے ہیلو اور اترتے ہو تھینک یو ضرور کہتے ہیں۔ بسوں کے دروازے آٹومیٹک طریقے سے کھلتے اور بند ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کے دروازوں پر کوئی مسافر نہیں لٹکا ہوتا نہ ہی بسوں کی چھتوں پر بیٹھ کے سفر کرنے کا کوئی تصور یہاں موجود ہے۔ ٹکٹ مشین بس میں نصب ہوتی ہے جس کے باعث کنڈیکٹر حضرات کی ضرورت نہیں پڑتی۔ پھر چونکہ ہر سٹاپ سے پہلے اس کا کمپیوٹرائزڈ اعلان ہوتا ہے اور لکھا ہوا بھی نظر آتا ہے اس لئے بس کا دروازہ پیٹ پیٹ کے زور زور سے چیخنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی۔ بس کی اگلی نشستیں معمر‘ معذور اور ان افراد کے لئے مخصوص ہیں جن کے ساتھ بچے کا پرام ہو۔ بسوں کی آمدورفت کا شیڈول ٹرانسپورٹ کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر دیا ہوتا ہے۔ جس سے مسافروں کو آسانی رہتی ہے۔ ہر بس سٹاپ کا ایک نمبر ہوتا ہے۔ نمبر کے ذریعے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں اگلی بس کتنے بجے آئے گی۔ سٹاپ پر مسافروں کے بیٹھنے کے لئے شیڈ اور کرسیاں ہوتی ہیں۔ شیڈ پر سیاسی نعروں یا چاکنگ کے بجائے اشتہار لگے ہوتے ہیں۔ یہاں ماس ٹرانزٹ کا انتظام‘ نہایت معقول ہے۔ زمین سے بلندی پرلوکل ٹرین چلتی ہے جسے سکائی ٹرین کہتے ہیں۔ یہ ٹرین خود کار نظام کے تحت چلتی ہے۔ اس میں کوئی ڈرائیور یا کنڈیکٹر نہیں ہوتا۔ آمدورفت کے لئے لوگ فیری اور سمندری بس بھی استعمال کرتے ہیں۔ کینیڈا میں سب کچھ بہت اچھا ہے۔ صفائی ستھرائی‘ یہاں کا موسم‘ قدرتی نظارے‘ اشیائے خورونوش‘ ذرائع آمدورفت‘ شاپنگ مال‘ سب کچھ بہترین ہے۔ پھر بھی جانے کیوں چند دن میں ہی دل اکتا جاتا ہے اور وطن کی یاد ستانے لگتی ہے۔ اپنے دیس کی مٹی کی کشش اپنی طرف کھینچتی ہے۔ کہتے ہیں انسان کی جڑیں جس سرزمین میں ہوں‘ اس کا دل وہیں لگتا ہے۔ پاکستانی یوں تو دنیا بھر میں موجود ہیں لیکن ان کا دل اپنے پیارے پاکستان کی محبت میں ہی دھڑکتا ہے۔ اے میرے وطن‘ میرے چمن‘ میری پہچان تجھ سے ہے۔ اے ارض پاک تُو دل میں بستا ہے۔

یہ تحریر 72مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP