متفرقات

کیا فکری جمود میں ترقی ممکن ہے

فکر‘ عمل کا سرچشمہ ہوتی ہے کیونکہ فکر وجود کو متحرک کرتی ہے اور پھر یہ تحریک مختلف افعال کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ گویا انسان کا ہر عمل دراصل اس کی فکر کا عکاس ہوتا ہے۔ فکر جامد ہو جائے تو عمل ایک مخصوص دائرے میں قید ہو جاتا ہے۔ فکر فی نفسہ جامد نہیں ہوتی کیوں کہ فکر ایک جاریہ قوت ہے جو تغیر کے مختلف الانواع مراحل سے گزر کر اپنے اندرجدت اور نکھار پیدا کرتی جاتی ہے۔ پسماندہ معاشروں میں فکر کو غیر فطرتی طریقے سے جامد کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ جب فکر جامد ہو جاتی ہے تو انسان وقت کے بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے بجائے کسی کونے کھدرے میں جا بستا ہے‘ جہاں اس کی اپنی ایک الگ دنیا قائم ہوتی ہے جس میں وہ کسی قسم کی ترمیم برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا انسان کا یہ غیر فطری اور خود ساختہ رویہ معاشرے میں علمی و اخلاقی اضمحلال کا باعث بن جاتا ہے۔ انسان کے اس رویّے سے مطلق خود غرضی اور عدم برداشت کی ایک بھیانک فضا قائم ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ پھر زبردست اخلاقی پسماندگی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ فکری جمود کی اساس دراصل تقلید اور رجعت پسندی پر قائم ہوتی ہے۔ فکر اس وقت تک جامد نہیں ہو سکتی جب تک کہ آپ اِسے تقلید یا رجعت پسندی پر مامور نہ کر دیں۔ تقلید دراصل رجعت پسندی کی عملی شکل ہوتی ہے چنانچہ رجعت پسند معاشروں میں تقلید آہستہ آہستہ مقبول تقدیس میں بدل جاتی ہے۔ جب ایک بار نوبت تقدیس تک پہنچ جائے تو پھر فکری تحریک رجعت پسند معاشروں میں عموما شجرِ ممنوعہ بن جاتی ہے۔ تقلید ایک غیر فطری اور غیر ضروری روش ہے کیونکہ شعور کی موجودگی میں تقلید ایک زبردست غیر ذمہ دارانہ رویے کا نام ہے اس سے نہ صرف علمی ترقی اور اخلاقی تزئین کی راہ مسدود ہو جاتی ہے بلکہ انسان کی شعوری قوت بھی ناکارہ ہو جاتی ہے بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو

کر اِس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ

فکر کے جمود سے نہ صرف انسان علمی و اخلاقی طور پر پسماندہ ہو جاتا ہے بلکہ معاشرہ مجموعی طور پر معاشی و سیاسی زبوں حالی کا شکار ہو جاتا ہے۔ فکری جمود کے سبب انسان جدید تعلیم و فنون کے حصول سے یکسر عاری ہو جاتا ہے کیونکہ فکری تحریک کے بغیر تعلیم و تعلم کا سلسلہ نہیں جاری رکھا جا سکتا۔ انسان ایک مخصوص دائرے سے باہر نکلے بغیر تعلیم کی افادیت سے بہرہ مند ہو سکتا ہے‘ نہ فنون سے آراستہ ۔۔۔ چنانچہ وسائل کی موجودگی میں بھی انسان دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی روش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن معاشروں میں سوچ آزاد نہیں وہ معاشی طور پسماندگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ انسانی فکر کابہترین پھل قانون ہے۔ جن معاشروں میں فکر جامد نہیں ان معاشروں میں قانون کی بالا دستی بھی قائم ہو چکی ہے۔ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ پسماندہ ذہن معاشروں کا قانون بھی پسماندہ اور قانون کی بالا دستی بھی برائے نام ہوتی ہے۔ فکری جمود صرف انفرادی رویے میں تخریب کا نام نہیں بلکہ اس سے تعلیمی، اخلاقی، سماجی، معاشی اور سیاسی نظام بری طرح متاثر ہوجاتا ہے ۔

فکر جامد اس وقت ہوتی ہے جب انسان ماضی کو حال اور مستقبل پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ فکر جامد نہ ہو تو ماضی کے تجربات سے حال اور مستقبل میں بہتری لائی جا سکتی ہے
رجعت پسند معاشروں میں تقلید آہستہ آہستہ مقبول تقدیس میں بدل جاتی ہے۔ جب ایک بار نوبت تقدیس تک پہنچ جائے تو پھر فکری تحریک رجعت پسند معاشروں میں عموما شجرِ ممنوعہ بن جاتی ہے۔
احساس قدرت کا حسین تحفہ ہے شعور نہ صرف اس کی حفاظت کرتا ہے بلکہ اسے اس کے حقدار تک بخوبی منتقل کر دیتا ہے چنانچہ شعور کا متحرک ہونا انسان کو ایک بہترین اور خوشگوار زندگی سے بہرہ مند کرتا ہے۔
رجعت پسندی ایک لاعلاج ذہنی علالت ہے جو انسان کو بسترِ جمود سے اُٹھنے نہیں دیتی۔ دنیا میں وہ قومیں جلد صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں جو ماضی کا مزار بنی رہتی ہیں۔
فکری جمود کے اسباب

ترقی کا پہلا زینہ جستجو ہے۔ انسان ایک باشعور جان دار ہے جس نے ابتدائے آفرینش سے فکر کے ذریعے اپنے رویے میں تزئین پیدا کی‘ چنانچہ فکر سے تہذیب النفس کی راہ کھلی‘ جہاں فکر جامد ہو جاتی ہے وہاں اخلاقی پسماندگی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ فکر جامد اس وقت ہوتی ہے جب انسان ماضی کو حال اور مستقبل پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ فکر جامد نہ ہو تو ماضی کے تجربات سے حال اور مستقبل میں بہتری لائی جا سکتی ہے‘ اگرچہ باشعور انسان اب تک یہی کرتا چلا آ رہا ہے، لیکن بعض اذہان آج بھی اِس نکتے پر قائم ہیں کہ بہتری صرف ماضی کے حصے میں آئی تھی ۔آج ہم ماضی سے آگے نہیں بڑھ سکتے لہٰذا ماضی کو آج پر آویزاں کرکے آگے چلو۔ انسان کا یہی غیر ذمہ دارانہ اور مبنی بر تساہل رویہ تعلیمی، اخلاقی، معاشی اور سیاسی نظم میں زبردست جھول پیدا کر دیتا ہے۔ انسان کی فطرت وقت سے ہم آہنگ ہونا چاہتی ہے لیکن انسان کا جامد رویہ اسے شعوری تحریک سے روک لیتا ہے۔ چنانچہ اِس رکاوٹ کی وجہ سے انسان ہر لحاظ سے جمود کا شکار ہو جاتاہے۔ رجعت پسندی ایک لاعلاج ذہنی علالت ہے جو انسان کو بسترِ جمود سے اُٹھنے نہیں دیتی۔ دنیا میں وہ قومیں جلد صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں جو ماضی کا مزار بنی رہتی ہیں۔ ماضی انسان کے مضبوط ترین تجربات کا نام ہے‘ انسان ان تجربات سے سیکھ کر حال اور مستقبل کو بہتر بنا سکتا ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب انسان ماضی کو تجربہ سمجھ کر حال کی فکر میں محو ہو جائے۔ فکری جمود کا دوسرا اہم سبب دراصل تقلید ہے۔ تقلید کا تعلق براہِ راست انسانی سوچ سے ہے۔ انسانی سوچ جب ایک مخصوص دائرے میں قید کر لی جائے تو یہ تقلید کہلاتی ہے۔ جیسے کہ ہم عرض کر چکے، تقلید فی نفسہٖ کوئی بری روش نہیں لیکن تقلیدِ روایت مہلک عمل ہے۔ روایت یہ ہے کہ انسان سنی سنائی باتوں پر قانون سازی یا اخلاقی اقدار کی بنیاد رکھنا شروع کر دے۔ ایسے تمام افعال انسان کی عقلی بصیرت سے یکسر عاری ہوتے ہیں اور جو عمل بصیرت سے خالی ہے‘ جو ہر قسم کی خیر سے خالی ہے کہ بصیرت انسانی اعمال میں خیر و برکت پیدا کرتی ہے۔ روایت سے منسلک رہنے میں کوئی قباحت نہیں لیکن یہ کہ روایت کو درایت پر ترجیح نہ دی جائے‘ نہیں تو حقائق خرافات میں کھو جاتے ہیں بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

یہ امت روایات میں کھو گئی

حقیقت خرافات میں کھو گئی

رجعت پسند معاشروں میں سب سے زیادہ مسائل اخلاقی نوعیت کے ہوتے ہیں کیونکہ رجعت پسند معاشروں میں اخلاقی اقدار وقتِ جاریہ سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں اِسی لئے معاشرے میں عمومی طور پر ایک زبردست ثقافتی گھٹن پیدا ہو جاتی ہے۔

ثقافتی گھٹن

فکری جمود کا سب سے بھیانک نتیجہ معاشرے میں ثقافتی گھٹن کی صورت میں سامنے آتا ہے کیونکہ اخلاقی اقدار جامد ہونے کی وجہ سے انسان اپنے جذبات کا صحت مند انتقال نہیں کر سکتا اس لئے انسان ایک ہولناک فطرتی گھٹن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ انسان ایک خالص جذباتی وجود ہے اور جذبات کا صحت مند انتقال انسان کے شعور کو جِلا بخشتا ہے اگر جذبے کو اپنی فطرتی سمت میں جاری کر دیا جائے تو انسان ہر قسم کی اخلاقی و سماجی آلائش سے محفوظ ہو جاتا ہے کیونکہ اس سے جذبے اور شعور کے درمیان جاری ایک اعصاب شکن کشمکش ختم ہو جاتی ہے۔ احساس قدرت کا حسین تحفہ ہے شعور نہ صرف اس کی حفاظت کرتا ہے بلکہ اسے اس کے حقدار تک بخوبی منتقل کر دیتا ہے چنانچہ شعور کا متحرک ہونا انسان کو ایک بہترین اور خوشگوار زندگی سے بہرہ مند کرتا ہے۔ اخلاقی اقدار انسانی فطرت کا مستند مظہر ہوتی ہیں۔ ہر مذہب ان اقدار کو وقت سے ہم آہنگ کرکے انسان کے لئے بہترین نظامِ حیات کا اہتمام کرتا ہے لیکن لحاظ رہے کہ یہ نظم صرف اپنے وقت تک ہی محدود رہتا ہے۔ انسانی شعور میں جیسے جیسے نکھار پیدا ہوتا جاتا ہے‘ اخلاقی اقدار ویسے ویسے شفاف ہوتی چلی جاتی ہیں۔ چنانچہ شعور کی بہتی ندیا رکنے پاتی ہے نہ اخلاقی اقدار کا نظم۔ انسانی رویہ اس کی تہذیب و ثقافت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ تہذیب یا ثقافت ہی انسانی رویے کی تراش خراش کرتی ہے‘ چنانچہ انسانی رویے سے اس کی تہذیب کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اگر رویے میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو تہذیب تہس نہس ہو جاتی ہے اور رویے میں بگاڑ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب فکر جمود کا شکار ہو جائے۔ اس جمود کے سبب انسان کی تہذیب و ثقافت میں زبردست اضمحلال پیدا ہو جاتا ہے۔ اقدار اور شعائر متعفن جاتے ہیں۔ کیونکہ قدرت کا مسلمہ اصول ہے کہ کھڑا پانی آخر کار جوہڑ بن جاتا ہے۔ اقوام کے لئے روایت سے مفر ممکن نہیں لیکن روایت ہمیشہ تجربات کا مرکب ہوتی ہے جس کی بنیاد پر انسان ہمیشہ حال و مستقبل میں بہتری کے اسباب پیدا کرتا ہے۔ رجعت پسند معاشروں میں روایت کے خلاف آواز نکالنا تقدیس کے چبوترے کو منہدم کرنے کے مترادف ہوتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ قومیں علمی اور اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتی ہیں‘ چنانچہ طرزِ کہن پر اڑ جانا ہی قوموں کے لئے باعثِ تنزلی بن جاتا ہے ۔بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

آئینِ نو سے ڈرنا طرزِ کہن پہ اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک صحیح معنوں میں ترقی کے مراحل نہیں طے کر سکتی جب تک کہ وہ فکر کو جمود اور انسانی جذبات کو شعورِ جاریہ سے ہم آہنگ نہیں کر لیتی کہ یہی انسان نے اب تک اپنے عملی تجربات سے سیکھاہے۔

فکری جمود سے نہ صرف اخلاقی اقدار منجمد ہو جاتی ہیں بلکہ قانون بھی قصۂ پارینہ بن جاتا ہے۔ روایات کی بنیاد پر کی گئی قانون سازی وقت سے مطابقت پیدا کرنے کے لئے انسانی جذبات کو مہرہ بنا لیتی ہے۔ روایات کا غیرفطری اور لچر دباؤ‘ انسانی جذبات کا کچومر نکال کے رکھ دیتا ہے۔ نظریہ یا قدر احساس نہیں ہوتی‘ بلکہ انسانی جذبات احساسات کا مرکب ہوتے ہیں۔ جن کا اظہار و انتقال انسان کا خالصتاً فطری حق ہے۔ دنیا کا کوئی بھی نظریہ یا قدر انسانی جذبات سے زیادہ بیش بہا نہیں ہو سکتے۔ جن معاشروں میں جذبات کے صحت مند انتقال کا اہتمام نہیں کیا جاتا وہ فکری لحاظ سے انتہائی پسماندہ معاشرے ہوتے ہیں۔ جذبات اور شعور باہم ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہوتے ہیں‘ شعور نہ صرف جذبات کی تزئین کرتا ہے بلکہ جذبات کی مناسب حد بندی بھی کرتا ہے تاکہ معاشرہ ہر قسم کی اخلاقی افراط و تفریط سے محفوظ رہے۔ ثقافتی گھٹن انسانی جذبات کو حبس بے جا میں رکھنے کے مترادف ہے۔ اچھائی اور برائی کی تمیز انسان کی فطرت میں built-in ہے۔ اچھائی یا برائی کی تمیز کے لئے قدرت نے انسان کو کسی خارجی ذریعے کا محتاج نہیں کیا‘ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب میں بنیادی اخلاقی اقدار یکسانیت پر مبنی ہیں۔ مذہب رویہ ایجاد نہیں کرتابلکہ رویے میں شعورِ جاریہ کے مطابق تہذیب پیدا کرتا ہے تاکہ انسانی جذبات کا صحت مند اظہار و انتقال کیا جا سکے۔ چنانچہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ اخلاقی اقدار بھی نکھرتی جاتی ہیں۔ گوکہ رجعت پسند معاشروں میں ایسا کوئی اہتمام موجود نہیں ہوتا لیکن باشعور معاشرے شعورِ جاریہ کے مطابق اپنی اقدار وضع کرتے رہتے ہیں تاکہ انسانی شعور اور جذبات میں کسی قسم کا عدم توازن اور کشمکش پیدا نہ ہو سکے۔ ہمارے ہاں فکری جمود نے زبردست ثقافتی گھٹن پیدا کرکے اخلاقی اقدار کو ہیکل میں بند کر دیا ہے‘ سدِ ذریعہ اور اجماعِ عامہ جیسے غیرفطرتی اصولوں نے اخلاقی اقدار پر تقدیس کی چادر چڑھا دی تاکہ کوئی محقق مسلمہ اقدار میں ترامیم کی کوشش نہ کر سکے۔ تقدیس روحانی ضوابط کے لئے تو اکسیرِبے مثال ہے لیکن اسباب کی دنیا میں انسان وجود کے ان گنت تقاضوں سے مرسم ہے چنانچہ انسان کو شعورِ جاریہ کے مطابق اخلاقی اقدار اور قانون کی تزئین کرنی چاہئے نہ کہ اقدار کو تقدیس کے غلاف میں لپیٹ کر انسانی جذبات میں تعفن پیدا کر دیا جائے۔ جذبہ صادق اور فکر خالص ہوتی ہے چنانچہ فکری تحریک جذبات کی صداقت کو بروئے کار لا کر اخلاقی اقدار کو شعورِ جاریہ سے ہم آہنگ کر دیتی ہے جس کے سبب معاشرہ ہر قسم کے اخلاقی عدم توازن سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اگر فکر ہی کو جامد کر دیا جائے تو شعور سمیت انسانی جذبات بھی زنگ آلود ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ پھر علمی و اخلاقی پسماندگی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک صحیح معنوں میں ترقی کے مراحل نہیں طے کر سکتی جب تک کہ وہ فکر کو جمود اور انسانی جذبات کو شعورِ جاریہ سے ہم آہنگ نہیں کر لیتی کہ یہی انسان نے اب تک اپنے عملی تجربات سے سیکھاہے۔

تحریر : ڈاکٹر نعمان نیر کلاچوی‘ مضمون نگار انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی ملائشیا سے اسلامی فلسفے (علم الکلام) میں پی ایچ ڈی ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 23مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP