متفرقات

کیا سربلند پرچم وطن کا

اتھلیٹ آنریری کیپٹن محمدیونس (ریٹائرڈ)کی خدمات و کامرانیوںپر مبنی طارق محمود ملک کی تحریر

بین الاقوامی شہرت یافتہ اتھلیٹ آنریری کیپٹن محمد یونس نے ضلع چکوال کی تحصیل لاوہ کے گائوں جنوبی تراپ ڈھوک چٹھہ جیسے دور دراز علاقے سے پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کر تے ہوئے اتھلیٹکس کے میدان میں نام پیدا کیا۔ یہ اپنے عہد کے ممتاز ترین پاکستانی کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے متعدد قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اوربرس ہا برس کھیل کے میدان میں وطن عزیز کا سبز ہلالی پرچم دنیا میں سربلند رکھا۔ ملک محمد یونس 1948ء میں پیدا ہوئے اورملازمت کا آغاز پاکستان آرمی سے 1966ء میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ سے کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے دو بھائی پہلے ہی اسی یو نٹ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ محمد یو نس نے بتایا کہ دوران ٹریننگ ان کے والد ملک فتح علی خان ایبٹ آباد تشریف لائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ آپ آرمی کی ملازمت ترک کرکے واپس گائوں میں آکر اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کریں اور مویشیوں کو سنبھالیں لیکن محمد یونس کی دلی خواہش تھی کہ وہ پاکستان آرمی میں خدمات انجام دیں۔پلاٹون حوالدار نور محمد جن کا تعلق تحصیل تلہ گنگ کے گائوں بڈھیال سے تھا، نے ان کے والد صا حب کو تسلی دی کہ یہ ہمارا بیٹا ہے آپ فکر نہ کریں ہم ان کا ہر لحا ظ سے خیال رکھیں گے انہیں آرمی کی سروس کر نے دیں۔ ان کے والد اس اصرار پر یہ کہتے ہوئے وہاں سے رُخصت ہو گئے کہ اگر گھر آنے کا ارادہ نہیں ہے تو آرمی میں خوب نام پیدا کرنا۔ والدکی یہ نصیحت آگے چل کر ان کی کامیابیوں کا سبب بنی۔ محمد یونس نے ایشین گولڈ میڈلسٹ اتھلیٹ غلام رازق۔انٹر نیشنل اتھلیٹ اعزازی نائب صوبیدارسنگر خان اور اپنے ہی گائوں کے ایشین گیمز اتھلیٹ آنریری کیپٹن عبدالکریم کو اتھلیٹکس کے میدان میں کامیا بیاںحاصل کرتے ہوئے دیکھا تو ان سے متاثر ہو کر انہو ں نے بھی اس کھیل کا انتخاب کیا۔محمد یونس نے اتھلیٹکس کا آغاز کراس کنٹری کے ایونٹ سے کیا مگر جلد ہی اس ایونٹ کو چھوڑ کر 1500میٹر دوڑ اور800میٹر دوڑ کے ایونٹس میں مہارت حاصل کرنے لگے۔ انتھک محنت کی بدولت یہ تین سال کے مختصر عرصہ میں اتھلیٹکس کے میدان میں قومی چیمپئن بنے۔ ان کو 11سال لگاتار 1500میٹر دوڑ کے ایونٹ میں قومی چیمپئن رہنے کا اعزاز حا صل ہے۔ ان کی کھیل کے میدان میں فتو حات کا سلسلہ 1969ء میں پاکستان نیشنل اتھلیٹکس چیمپئن شپ سے شرو ع ہو کر 1979ء میں ملائشیاء میں انٹرنیشنل دوڑ کے مقابلوں میں اختتام پذیر ہوا۔یو ں تو انہو ں نے 1500میٹر دوڑ اور 800میٹر دوڑ کے مقابلو ں میں بین الاقوامی سطح پر متعدد بار گولڈمیڈل،سلور میڈل اور برونز میڈل حاصل کیے، مگر 1970ء میں تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں منعقد ہونے والی ایشین گیمز میں1500میٹر دوڑ کے ایونٹ میںسلور میڈل حا صل کرکے بین الاقوامی سطح پر پہلی بڑی کامیابی حا صل کی ۔محمد یونس نے بتایا کہ میں ان مقابلوں میں اپنی غلطی کی وجہ سے گولڈ میڈل حا صل نہ کر سکا۔اس کی وجہ یہ بنی کہ دوڑ کے اختتام سے قبل فنشنگ لائن سے پہلے میں سمجھا کہ دوڑ جیت چکا ہو ں جس کی وجہ سے میں قدرے آہستہ ہو گیا میری اس غلطی کا میرے مد مقابل جاپانی اتھلیٹ نے بھرپور فائدہ اُٹھا کر چند سیکنڈ میں فنشنگ لائن عبورکر لی جس کا آج تک مجھے افسوس ہے۔ اسی سال محمد یونس نے کامن ویلتھ گیمزمیں نیا قومی ریکارڈ بنایا۔1970ء میںہی یہ جرمنی کے شہر کولون میں انٹرنیشنل اتھلیٹکس مقابلوں میں 1500میٹر دوڑ کے ایونٹ میں نیا قومی ریکارڈ بنانے میں کامیاب ر ہے۔ 
1972ء میں انہوں نے میونخ اولمپک میں پاکستان کی طرف سے دُنیا کے سب سے بڑے مقابلوں میں کھیلنے کا اعزاز حا صل کیا ۔ 1973ء میں ورلڈ ملٹری گیمز کا انعقاداٹلی میں ہوا، ان مقابلوں میں انہو ں نے 1500میٹر دوڑ کے ایونٹ میںسلور میڈل حا صل کیا۔ اسی سال ایشین ٹریک اینڈ فیلڈ مقابلے فلپائن کے شہر منیلا میں منعقد ہوئے جن میں انڈین سپرسٹار اتھلیٹ اولمپیئن حوالدار سری رام سنگھ بھی ساتھ والے ٹریک پر مو جود تھا۔ جب سٹارٹر نے سگنل دیا تو کھلاڑیوں کے پہلے دوڑ جانے کی وجہ سے دوبارہ سٹارٹ لینے کے لیے کھلاڑیوں کو لائن پر بلا یا گیا، محمد یونس نے اس دوران سری رام سنگھ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے دوڑ میں جیتنے کا چیلنج دیا جسے اُس نے سر کے اشارے سے قبول کر لیا ۔محمد یونس کے اندر جذبہ حب الوطنی بھڑک اُٹھا اور ان کے سر پر روایتی حریف کو شکست دینے کی دھن سوار ہو گئی۔ انہوں نے اپنی تمام توانائیاں صرف کرتے ہوئے 800میٹر دوڑ کے ایونٹ میں واضح برتری حا صل کرتے ہوئے گولڈ میڈل حا صل کیا اور سری رام سنگھ سلور میڈل حا صل کر سکا۔ محمد یونس نے بتا یا کہ ہم 1974ء میں ایشین گیمز میںشرکت کے لیے کیڈٹ کالج حسن ابدال میں ٹریننگ حا صل کر رہے تھے۔ وہاں اُسوقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو  کیمپ کلوزنگ تقریب(Ceremony) میں تشریف لائے اس موقع پر ان کا تعارف وزیر کھیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے بھٹو صا حب سے کروایا۔ انہو ں نے مسکراتے ہوئے ایشین گیمز کی تیاری کے بارے میں سوال کیا کہ آپ لوگوں کی تیاری کیسی ہے تو انہوں نے جواباََ کہا کہ انشا ئَ اللہ وطن عزیز کے پرچم کو سربلند کر نے کی کو شش کروں گا ۔ اسی سال ایشین گیمز کا انعقاد ایران کے شہر تہران میں ہوا جس میں یہ 1500میٹر دوڑ کے ایونٹ میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل حاصل کرکے وطن عزیز کے پرچم کو سربلند کر نے میں کامیاب رہے۔ سابق نگران وزیر اعظم پاکستان ملک معراج خالد جو ان دنوں ٹیم کے ساتھ بطور ہیڈ آفیشل گئے ہوئے تھے، نے ان کی خوب حوصلہ افزائی کی اور ان کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنا یا ۔محمد یونس کے بقول وُہ یادیں نا قابل فراموش ہیں۔ ملک معراج خالد سچے کھرے اور مخلص انسان تھے۔ان کی خواہش تھی کہ میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل حاصل کر وں ۔جب میں نے گولڈ میڈل جیت لیا تو ان کی خوشی دیدنی تھی وُہ مجھے بار بار گلے لگاتے رہے اور داد دیتے رہے۔ اس شاندار کامیابی کی وجہ سے پاکستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بھٹو صا حب کا مبارکباد کا پیغام انہیں بذریعہ ٹیلی گرام ایران میں مو صول ہوا۔انہیں ایران میں ہی انڈین اتھلیٹکس فیڈریشن کی طرف سے بیسٹ آف ایشیاء کی ٹرافی پیش کی گئی جو آج بھی ان کی یونٹ میں موجود ہے۔ جب یہ وطن واپس آئے توان کا ٹیم کے ہمراہ شایان شان طریقے سے استقبال کیا گیا ۔بھٹو صا حب سے ان کی ملا قات ملتان میں اُسوقت کے گورنر پنجاب نواب صادق حسین قریشی کے گھر میں ہوئی۔ وُہ انہیں بڑی گرمجو شی سے ملے اور ایک مر تبہ پھر مبارکباد دی۔ 
1976ء میں کینیڈا کے شہر مونٹریال میں اولمپک گیمز کاانعقاد ہو ا ۔محمد یونس نے بتا یا کہ ان کا نام 800میٹر دوڑ کے ایونٹ کے لیے بھیجا گیا تھا جب کہ یہ 1500میٹر دوڑ کے ایونٹ میں بہترین مہارت رکھتے تھے۔لیکن اس ایونٹ میں ان کی انٹری نہیں بھجی گئی ۔محمد یونس اولمپک گیمزمیں شرکت کر نے کے لیے چلے تو گئے مگرتھوڑے رنجیدہ تھے ۔یہ 800میٹر کے ایونٹ میں بھی دوڑنا نہیں چا ہتے تھے مگرچیف ڈی مشن ملک معراج خا لدکے کہنے پر دوڑ میں حصہ لیا اگرچہ یہ ابتدائی دوڑ میں کامیابی حا صل نہ کرسکے لیکن اس کے باوجود انہو ں نے 800میٹر دوڑ کا نیا قومی ریکارڈقائم کیا۔ محمد یونس نے بتایا کہ مونٹریال اولمپک گیمز کے بعد ایک دن ایشین گولڈ میڈلسٹ اتھلیٹ سید مبارک شاہ سے اتھلیٹکس میں کامیابیوں کے بارے میں بحث جاری تھی تو مبارک شاہ نے بڑے فخریہ انداز میں کہا کہ ملک صاحب وُہ مائیں کہاں ہیں جو ایسے بیٹے پیدا کریں جو ان کا 5000میٹر دوڑ کا ریکارڈ توڑ سکیں۔ ان کی یہ بات میرے دل پر لگی میں کافی دن اسی بات کو سو چتا رہا اور دل ہی دل میں اسے چیلنج بھی سمجھ لیا کہ میں انشائَ اللہ ان کے ریکارڈ کوتوڑنے کی کو شش کر وں گا۔ 1977ء میں جب ہم مغربی جرمنی میں جدید کوچنگ حا صل کر نے گئے تو ایک دن میں نے اپنے کوچ سے انٹرنیشنل میٹ میں 5000دوڑ کے ایونٹ میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا چونکہ جر منی اور دیگر یورپی ممالک میں اکثر انٹرنیشنل میٹس ہو تی رہتی ہیں اورہمارا قیام بھی وہیں تھا، پہلے تو میرے کوچ بہت حیران ہوئے چونکہ یہ میرا ایونٹ نہیں تھا مگر بعد میں میری حوصلہ افزائی کر تے ہوئے مجھے اجاز ت دے دی۔ چند دنوں بعد مجھے یہ مو قع میسر آیا اور اللہ کے فضل سے میں نے انٹرنیشنل میٹ میں نہ صرف سید مبارک شاہ کا 5000میٹر دوڑ کاریکارڈ توڑا بلکہ ساتھ ہی نیا قومی ریکارڈ بھی قائم کیا۔ اس کامیابی سے مجھے بہت دلی سکون ملا اور میں نے محسوس کیا کہ جیسے کوئی قلعہ فتح کر لیا ہو ۔الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ سب کچھ عطا کیا جس کی میں نے خواہش کی ۔
1978ء میں محمد یو نس نے دوسری مرتبہ ایشین گیمز میں تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں 1500میٹر دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل حا صل کیا۔محمد یونس نے اپنے کیرئیر کے دوران پاکستان کے علا وہ تھائی لینڈ، سکاٹ لینڈ، جرمنی، ایران، فن لینڈ، کینیڈا، اٹلی، فلپائن، چین اور ملائشیا ء میں متعدد مرتبہ گولڈ میڈل،سلور میڈل اور برونز میڈل حا صل کیے۔ انہو ں نے وطن عزیز کی طرف سے اولمپک گیمز۔ایشین گیمز۔ کامن ویلتھ گیمز۔ انٹرنیشنل میٹس، RCDمیٹس، ورلڈ ملٹری گیمز، فرینڈ شپ میٹ، ایشین ٹریک فیلڈ میٹ اورقائد اعظم سنچری انٹرنیشنل میٹ میں حصہ لیا ۔ محمد یونس کی زندگی ایک ٹریفک حادثے کے بعد تبدیل ہو گئی ۔ انہوں نے بتا یا کہ وہ 1979ء میں کھاریاں کینٹ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ مو ٹر سائیکل پر جار ہے تھے کہ ان کی ٹکر ایک کار کے ساتھ ہو گئی دونوں بری طر ح زخمی ہوگئے ان کی دائیں ٹانک دو تین جگہ سے ٹو ٹ گئی اوران کے بازو میں بھی فریکچر آیا۔ انہیں بے ہو شی کی حالت میں فوری طور پر ہسپتال لے جا یا گیا۔ جب ہو ش میں آئے توانہوں نے اُٹھنے کی کو شش کی لیکن ان سے اُٹھا نہ گیا تب انہیں معلوم ہو ا کہ ان کی ٹانگ ٹو ٹ چکی ہے ۔ایشیاء کے اس ہیرو کی یہ خبر ملکی میڈیا کے علاوہ غیر ملکی میڈیا پر بھی نشر کی گئی کہ پاکستان کا سپرسٹار حا دثہ کا شکار ہو گیا ہے۔ پاکستان سپورٹس بورڈ نے ان کو بیک بون آف پاکستان کے الفا ظ سے یاد کیا اور لکھا کہ ہر پاکستانی کی خوا ہش ہے کہ محمد یو نس جلد ازجلد صحت یا ب ہو ں۔ محمد یو نس CMHراولپنڈی میں اڑھائی سال زیر علا ج رہے۔ ان دنو ں پاکستا ن میں علاج کی جدید سہولیات کم ہو نے کی وجہ سے وہ صحت یا ب نہ ہو سکے۔ بالآخر جنرل محمد ضیا ء الحق کے حکم پر انہیں مزید علا ج کے لیے لندن بھجوا دیا گیا۔ وہاں سینٹ میری ہسپتال میں ایک ماہ زیر علاج رہے مگر تمام تر علاج معالجہ کے با وجود مکمل طور پر صحت یا ب نہ ہوسکے اس طرح وطن عزیز کھیل کے میدان میں ان کی خدمات سے محروم ہو گیا۔ محمد یونس نے بتا یا کہ انہیں پاکستانی کو چز کے علاوہ جرمنی اور فرانس میں بھی کئی مرتبہ مختلف اوقات میں تربیت حاصل کر نے کا موقع ملا۔ مگر یہ پاکستان کے کوچ حوالدار رمضان علی جن کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تھا، کی اعلیٰ تربیت ،عمدہ کوچنگ اور ان کی حوصلہ افزائی کی بدولت ہی کھیل کے میدان میں کامیاب ر ہے ۔ رمضان علی لانگ جمپ کے قومی ریکارڈ ہولڈر بھی رہ چکے تھے۔ محمد یونس نے متعدد مر تبہ قومی مقابلو ں میں مارچ پاسٹ کی تقریب میں پاکستان آرمی کے دستے کی پرچم کے ساتھ لیڈ کی۔انہیں ایشین گیمز میں کلوزنگ سر منی میں وطن عزیز کی طرف سے قومی پرچم کے ساتھ لیڈ کر نے کا اعزاز بھی حا صل ہے۔جب ان کی کامیابیو ں کا سفر جاری تھا تو پاکستان آرمی نے نوجوانوں کو کھیل کی بنیاد پر پاکستان آرمی میں شمولیت کے لیے اشتہار شائع کیا جس پر ان کے مختصر حالات زندگی اور کامیابیوں کے تذکرے کے علاوہ ان کی فوٹو گراف بھی شائع ہوئیں۔



محمد یونس کو ان کی قومی خدمات کے صلہ میں حکومت پاکستان نے ایک مربع زمین فتح پو ر میں بطورانعام دی۔ پاکستان سپورٹس بورڈ نے جناح سپورٹس سٹیڈیم کے ایک انٹری گیٹ کا نام یونس گیٹ رکھا۔23مارچ 1991ء کو انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکر دگی سے نوازا گیا۔ اس وقت کے صدر پاکستان جناب غلام اسحاق خان نے تقریب میں ایوارڈ دیتے ہوئے ان سے پوچھا کہ آپ وہی پرانے یونس ہیں توانہوں نے جواباً کہا جی سر میں وہی یونس ہوں اور ساتھ ہی صدر پاکستان کاشکریہ بھی اداکیا۔ تمام تر کامیابیاںسمیٹنے کے بعد 19 فروری 1995ء میں پاکستان آرمی سے ریٹائر ہوگئے۔ریٹائرمنٹ کے بعد انہو ں نے 15سال تک MCB مظفر آبا د ریجن، اٹک ریجن اور ایبٹ آباد ریجن میںبطور سکیورٹی سپر وائزر خدمات انجام دیں۔31مارچ 2015ء کو انہیں اُس وقت کے صدر پاکستان جناب ممنون حسین کی طرف سے یوم پاکستان کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی تقریب میں دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ قومی خدمات کے اعتراف میں ایوان صدر میں خصو صی شیلڈ پیش کی گئی ۔ جس پر یہ الفاظ کندہ تھے۔ ''ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند ''صدراسلامی جمہوریہ پاکستان ممنون حسین کی طرف سے کھیل کے میدان میں برسہا برس تک سبز ہلالی پرچم سر بلند رکھنے پر محمد یونس کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں، جن کے جذبوں کی خوشبو سے پاک وطن کے میدان مہک رہے ہیں، بلا شبہ یہ تاریخی کلمات ان کے لیے شاندار خراج تحسین ہیں ۔
محمد یونس کا کہنا ہے کہ پاکستان اس دور میں اتھلیٹکس کے میدان میں انٹرنیشنل سطح پر بہت پیچھے ہے اس کی کارکردگی ما یو س کن ہے۔ جبکہ دُنیا تیز سے تیز ترہو تی جار ہی ہے ۔ پاکستان میں قومی سطح پر ایسے کو چز مقرر کیے جاتے رہے ہیں جنہوںنے کبھی قومی سطح پر بھی کامیابی حا صل نہیں کی۔ اس لیے ضروری ہے کہ کھلاڑیوں کی کارکر دگی کو معیاری اور بہتر بنانے کے لیے غیر ملکی کو چز کی خدمات حاصل کی جائیں جو جدید تکنیکس میں مہارت رکھتے ہوں ۔کھلاڑیوں کو جدید دور کے مطابق سہولیات مہیا کی جائیںپاکستان میں ڈویژنل سطح پر اتھلیٹکس کے جدید ٹریک بچھائے جائیں تاکہ نوجوان نچلی سطح سے ہی تربیت حاصل کر کے آگے بڑھ کر ملک و قوم کا نام روشن کر سکیں۔ اسی طرح افواج پاکستان کو بھی یہی سہولیات فراہم کی جائیں ۔اس عمل کے بغیر اتھلیٹکس کے میدان میں بین الا قوامی سطح پر کامیابیاں حا صل کرنا دشوار معلوم ہوتا ہے۔ ||


مضمون نگار کھیلوں سے متعلق موضوعات پر لکھتے ہیں۔

یہ تحریر 81مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP