قومی و بین الاقوامی ایشوز

کچھ جوانی کی شبیں باقی تھیں

ضمیر جعفری کی تحریروں میں فوجی زندگی کے قصے بہت انوکھے انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ضمیر جعفری عسکری ادب کی ایک نئی صنف کے بانی ہیں۔ انہوں نے اپنے الیکشن لڑنے کی روداد کو جس طرح پھیلایا اور جو مزاحیہ رنگ دیا ہے وہ اُن کی مزاح نگاری کا کمال ہے۔ نظم و نثر میں مزاح نگاری کے وہ یکتا شہ سوار تھے۔ پاکستان‘ قائداعظم‘ علامہ اقبال اور فوج کے بارے میں وہ کوئی منفی بات سنتے تو فوراً اس کا دفاع کرتے تھے۔ ’’حجرۂ میر‘‘ کی محفلوں میں طرح طرح کے لوگ ہوتے تھے۔ طرح طرح کی باتیں ہوتی تھیں۔ آپ خاموشی سے سنتے رہتے تھے لیکن اگر بات پاکستان ‘ قائدِاعظم‘ علامہ اقبال یا فوج کے خلاف ہوتی تو وہ ’’لیکن یہ بھی ہے‘‘ کہہ کر مخالف کی دلیل کو بڑی خوبی سے رد کردیتے تھے۔

بشارت علی سید اورجناب طارق وارثی کی مہربانی سے روزنامہ نوائے وقت جوائن کیا تو میری حالت اُس وقت وہی تھی کہ ’’نیا نوکر ہرن مارتا ہے۔‘‘ مجھے شخصیات کے انٹرویو کرنے کا بہت شوق تھا۔ اس شوق کو دیکھتے ہوئے‘ ایک دن جناب طارق وارثی نے مجھے کہاکہ کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے اولین ڈائریکٹر تعلقاتِ عامہ جناب سیدضمیر جعفری کا انٹرویو کروں لیکن یہ صرف اسلام آباد کے حوالے سے ہونا چاہئے۔ میں جناب ضمیر جعفری کو جانتا تو ضرور تھا لیکن اُس وقت تک اُن کی شخصیت کے طلسم کا اسیر نہیں تھا۔ ہنوز آباد کاری کے مراحل سے گزرنے والے ایک سیکٹر میں اُن کے گھر تک پہنچنے کے لئے مجھے راستے میں آنے والے سیمنٹ ‘سریئے اور بجری کے کئی چھوٹے موٹے پہاڑ سرکرنے پڑے۔ انٹر ویو کا موضوع ’’اسلام آباد کی ترقیات‘‘ پہلے سے طے شدہ تھا۔ اس لئے گفتگو اسی پر مرکوز رہی البتہ جناب ضمیر جعفری نے میرے سوالات کے بغیر بھی بعض پہلوؤں سے مجھے آشنا کیا۔ انہوں نے مجھے رتی بھر بھی احساس نہ ہونے دیا کہ ایک چیونٹی ہمالیہ کے جیالوجیکل سروے کے خبط میں مبتلا ہے۔ مجھے اب تک افسوس ہے کہ اگر مجھے موضوع سے ہٹنے کی اجازت ہوتی تو میں اُن کی شاعری اور مزاح نگاری کے بارے میں بھی کوئی بات کرتا۔

سید ضمیر جعفری کی شخصیت کے طلسم میں مَیں بھی اسیر ہوا۔ اس کا سارا الزام جناب عطاء الحق قاسمی پر آتا ہے ’’نوائے وقتیا‘‘ ہونے کے حوالے سے میں اُن کے کالم کا قاری تو تھا ہی‘ اُن کے کالم کو پڑھنا میرے لئے فرض تھا۔ دیگر چیزیں پڑھنا نفل اور زیادہ ثواب کے مترادف تھا۔ سفر نامۂ چین کو میں نے بار بار اور مزے لے لے کر پڑھا اور اُس سے ثواب یہ کمایا کہ ضمیر جعفری کی شخصیت کا طلسم کام کرگیا۔ عطاء الحق قاسمی کا یہ سفر‘ سفرنامہ کم اور تذکرۂ ضمیر جعفری زیادہ تھا۔ قدم قدم پر پھُل جھڑیاں اور پیٹھے کی مٹھائی کا شوق‘ اس شوق کی خاطر شوگر کو بھی خاطر میں نہ لانا۔ اب جبکہ مجھے بھی شوگر کا عارضہ لاحق ہو چکا ہے اور میں نے اس پر بغیر کسی دوا کے محض غذا میں احتیاط سے قابو پارکھا ہے لیکن پیٹھے کی مٹھائی اس احتیاط اور پرہیز سے مستثنٰی ہے۔

حالات کی ایک کروٹ نے مجھے نئی دنیا کے شہر نیویارک لاپھینکا۔ اُردو کے دبستان دلی اور لکھنؤ کے بعد کراچی‘ لاہور کو بھی دبستان ہونے کا دعویٰ ہے لیکن ایک دبستانِ نیویارک بھی ہے۔ اس دبستان کا اُردو کی خدمت اور امریکہ میں اُردو کے عشق کی شمع روشن رکھنے میں بڑا مقام ہے۔ اُردو ٹائمز کے ساتھ کام کرتے ہوئے میں نے یہاں احمدفراز سے پہلا انٹر ویو (احمد فراز کا پہلا نہیں میرا پہلاانٹرویو) کیا۔ وہ ہر سال نیویارک آیا کرتے تھے اور اپنے میزبان نیویارک کے خوش گو شاعر اور ہر فن عروض ڈاکٹر شفیق کے ہاں قیام کیا کرتے تھے۔ نیویارک میں ہی احمدفراز سے آخری ملاقات بھی رہی۔ کسے خبر تھی کہ وہ آخری بار نیویارک آئے ہیں۔ ڈاکٹر شفیق اُن کے ساتھ تھے بعد میں وہ چلے گئے۔

جناب ضمیر جعفری شاید احمد فراز کی طرح باقاعدگی سے تو امریکہ نہیں آیا کرتے تھے لیکن آتے جاتے ضرور رہتے تھے۔ اُن کے ایک بیٹے اِمتنان ضمیر جعفری یہاں نیوجرسی میں ہی رہتے ہیں لیکن امتنان ضمیر جعفری کو یہ سعادت حاصل ہے کہ ضمیر جعفری کا جنازہ اُن کے گھر سے اٹھا تھا اور امتنان ضمیر جعفری کی سپینش (سپینش سے مراد سپین میں رہنے والے نہیں بلکہ جنوبی امریکہ کے ممالک کے لوگ ہیں جو سپینش زبان بولتے ہیں اگرچہ ملکوں کی حد تک اس میں کچھ نہ کچھ فرق بھی ہے تاہم یہ زبان سپینش کہلاتی ہے) بیوی نے اُن کی خدمت بھی کی۔ ہم میں سے کوئی کبھی جناب ضمیر جعفری کو فون کرتے تھے تو وہ جھٹ اُن سے بات کرا دیتی تھیں۔ ایک بار کسی نے اُن سے پوچھا کہ آپ ان فون کالوں سے تنگ نہیں آتیں‘ (کیونکہ امریکی خواتین ایسی صورت حال برداشت نہیں کرتیں) کہنے لگی میں جانتی ہوں میرے سسُر ایک عظیم شخصیت ہیں اور بہت سے لوگ اُن کے چاہنے والے ہیں۔ یہ ضمیر جعفری کی شخصیت کا کمال تھاکہ وہ غیروں کے دلوں میں جگہ بنا لیتے تھے۔ سپینش بہو کے دل میں جگہ بنا لینا اُن کے لئے کیوں کر مشکل ہو سکتا تھا۔ ضمیر جعفری کو امریکہ بالخصوص نیویارک کی ادبی محفلیں بے حد پسند تھیں۔ وہ یہاں آکر بہت خوش رہتے تھے اور ان محفلوں کا خوب لطف اٹھاتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں انہیں نیویارک کی محفلوں‘ خاص طور پر ’’حجرۂ میر‘‘ کی نشستوں‘ کا چسکا لگ گیا تھا۔

بشارت علی سیدسے جانے کس جنم میں میری دوستی ہوئی تھی۔ صحرائی پودے کی طرح اس دوستی کے برگ و باد برسرزمین تو کم ہی دکھائی دیتے ہیں لیکن اس صحرائی پودے کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ پاتال سے نمی کھینچ لاتی ہیں اور صحرائی پودا کبھی مرجھا کر ختم نہیں ہونے پاتا۔ بشارت علی سید بھی کسی سفر میں ضمیر جعفری کے ہمراہی بنے تھے وہ بھی مجھے اس سلسلے میں قصے سناتے تھے۔ لیکن ان قصوں میں قصہ گوئی کم اور ضمیر جعفری کی شخصیت کے مختلف رنگ زیادہ نمایاں ہوتے تھے۔ نیویارک میں جناب ضمیر جعفری سے ملاقات ہوئی تو دوستوں کا ذکر چھڑ گیا۔ انہوں نے بشارت علی سید کی برخورداری کو بہت سراہا۔ میں نے اُن دنوں لمبے بال پال رکھے تھے۔ ضمیر جعفری سے جب ملاقات ہوتی‘ وہ مجھے خواجہ گیسودراز کہہ کر بلاتے۔

ضمیرجعفری کی نیویارک آمد اردو ادب کے شیدائیوں کے لئے ایک نعمتِ غیر مترقبہ ہوتی تھی۔ اُن کی آمد کی سُن گُن لے کر کچھ لوگ ادبی تقریبات کی تاریخیں طے کر رکھتے تھے تو کچھ موقع پر ہی ضمیر جعفری صاحب سے وقت لے کر تقریبات سجا لیتے تھے۔ ضمیر جعفری ’’ناں‘‘ کہنے کے قائل نہیں تھے۔ بعض اوقات تو لگا تار یکے بعد دیگرے بھگتا رہے ہوتے تھے۔ لیکن کسی بھی تقریب اور کسی بھی مصروفیت کی بنا پر ’’حجرۂ میر‘‘ کی حاضری میں ناغہ نہیں کرتے تھے۔ اُردو ٹائمز کے ایک پبلشر جناب خلیل الرحمٰن کی راولپنڈی کے جید مزاح نگار شیخ نذیر سے رشتہ داری ہے۔ اس حوالے سے ضمیر جعفری اُن سے قربت رکھتے تھے۔ اکثر تقریبات میں میں اُن کے ساتھ ساتھ رہتا تھا اور اردو ٹائمز کے لئے ان تقریبات کی مفصل روداد لکھا کرتا تھا۔ ضمیر جعفری صاحب پاکستان کے کسی اخبار کے لئے ہی ڈائری لکھا کرتے تھے اور بعض اوقات اُس کے بعض حصے مجھے اُردو ٹائمز میں چھاپنے کے لئے بھی دے دیتے تھے۔ اسی طرح اُن کے امریکہ میں قیام کے دوران مسلسل اُن سے رابطہ رہتا تھا۔

اس کے بعد تو صورتِ حال یہ ہوگئی کہ وہ جب بھی آتے لوگوں سے پوچھتے ’’خواجہ گیسو دراز‘‘ نظر نہیںآئے۔ کہاں ہیں؟ مجھے کوئی نہ کوئی دوست اس استفسار کی اطلاع دیتا اور میں اُن سے رابطہ کرلیتا۔ ٹیلی فون پر نام بتاتا اور وہ ایک بلند آہنگ انداز سے پذیرائی کرتے۔ اس کے بعد اُن کے دورے کے دوران رابطہ برقرار رہتا۔ ملاقات ہوتی تو وہ خیر و عافیت پوچھنے کے بعد اپنائیت کے رشتوں کو مزید گہرا کرنے کے لئے میرے دوستوں کا ذکر ضرور کرتے۔ ایک بشارت علی سید اور دوسرے جبار مرزا۔ وہ ان دونوں حضرات کا ذکر کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی حوالہ تخلیق کرلیتے تھے۔ وگر نہ مجھ سے ہی پوچھ لیتے تھے کیا ان سے رابطہ رہتا ہے؟

جبار مرزا دوستی میں کبڈی کے کھلاڑی ہیں۔ بشارت علی سید کلائی پکڑنے والے۔ جبار مرزا’’جپھا‘‘ مارلیں تو شکار کو ڈی کوڈی کہنا بھول جاتا ہے اور بشارت علی سید کلائی (وینی) پکڑ لیں تو چھڑانے کی کوشش فضول لگتی ہے۔ میں سادات کی برہمنیت کا قائل نہیں ہوں لیکن بشارت علی سید کی کلائی گیری کوا پنے لئے دست گیری سمجھتا ہوں اور وہ بھی ایسی جس کے لئے کوئی نذر نیاز بھی دینا نہیں پڑتی‘ محبت کا تبرک بقدر ظرف بٹورا جاسکتا ہے۔ نیویارک میں میری آمد سے بہت پہلے سے حلقۂ احباب ذوق سرگرم تھا۔ جناب جوہر میر اس کے علامتی سرپرست تھے اور جناب اشرف میاں جنرل سیکرٹری تو تھے ہی‘ سب کچھ ہی تھے۔ مجھے ان حلقہ ہائے ادب سے کبھی رغبت نہیں رہی۔ ایک دفعہ لاہور میں حلقۂ اربابِ ذوق کے ایک اجلاس میں ایک دوست کے ساتھ چلا گیا تھا۔ تقریب کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ’’سکرپٹ‘‘ پر سمجھا دیا گیا۔ کسے داد دینا ہے‘ کس پر کیا تنقید کرنا ہے۔ مجھے بھی میرا کردار سمجھا دیا گیا۔ اس کے بعد میں نے کبھی کسی حلقے یا ہلکے کا رخ نہیں کیا۔ حلقۂ اربابِ ذوق نیویارک کی ہفتہ وار نشست باقاعدگی سے ہوتی تھی اور اگلے ہفتے کسی نہ کسی مقامی اخبار میں اس کی مختصر کارروائی بھی پڑھنے کو مل جاتی تھی۔ پاکستان اور بھارت سے آنے والے ادیب شاعر اور کسی بھی فن سے متعلق شخصیات اکثر حلقۂ ارباب ذوق میں شریک ہوا کرتی تھیں۔ جناب ضمیر جعفری بھی حلقے میں جایا کرتے تھے۔ جوہرمیر پختہ اور منجھے ہوئے شاعر تھے۔ محسنِ احسان اور احمدفراز اُن کے احباب میں شامل تھے۔ پشاور سے تعلق تھا۔ ٹی وی پر اُن کے کئی ڈرامے بہت مقبول ہوئے تھے۔

جناب جوہر میر(مرحوم) کی ایک خوبی یہ تھی کہ بڑے سے بڑا مخالف سامنے آجاتا تو ساری مخالفت بھلا دیتے اور دوستی کا ہاتھ بڑھانے میں ذرا دیر نہ لگاتے۔ مجھے بھی ہاتھوں ہاتھ لیا اور یوں میں بھی ’’حجرۂ میر‘‘ کے حاضر باشوں میں شامل ہوگیا۔ جوہرمیر کے اس اپارٹمنٹ کو ’’حجرۂ میر‘‘ کا نام جناب ضمیر جعفری نے ہی دے رکھا تھا۔ یہ احباب کی ایک ہفتہ وار محفل ہوتی تھی جس میں ادیب‘ شاعر‘ مزدور‘ دوست احباب‘ مولوی اور ترقی پسند ملحد سب شریک ہوتے تھے۔ جوہر میر مرحوم اس ہفتہ وار نشست کے لئے بے حد پیار سے اہتمام کرتے تھے۔ ایک روز پہلے سے سامان خورو نوش کی خریداری کرلیتے تھے اور پھر اپنی چھٹی والے دن سارا وقت کئی کھانے بنانے میں لگا دیتے۔ کیا غضب کے لذیذ کھانے بناتے تھے کہ اکثر پیٹ تو بھرجاتا تھا لیکن نیت نہیں بھرتی تھی۔ آج جب جوہر میر مرحوم کو یاد کرتا ہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے اور اُن کے کھانے یا د آتے ہیں تو منہ میں پانی بھر آتا ہے۔

ضمیر جعفری مرحوم ’’حجرۂ میر‘‘ میں باقاعدہ سے حاضری دیا کرتے تھے۔ بسااوقات اگر انہیں اوقات میں کہیں کوئی تقریب ہوتی تو بھی تقریب کے بعد یا داؤ لگا کر کسی بھی وقت ذرا کی ذرا آجاتے اور پھر معذرت کرکے چلے جاتے اور جتلا بھی دیا کرتے کہ وہاں تقریب کے بعد آرہا ہوں یا تقریب والوں کو غچہ دے کر نکل آیا ہوں۔ یہ محفل رسوم و قیود کی پابند نہیں تھی۔ یہاں ہر چیز پر بحث ہوتی تھی۔ بعض اوقات ترقی پسندوں کی بحث لڑائی جھگڑے تک بھی پہنچ جاتی تھی اور ایک آدھ بار تو لات گھونسے تک بھی نوبت پہنچ گئی تھی۔ لیکن جناب ضمیر جعفری کی حلقے میں آمد کے سلسلے میں ایک اصول وضع کیا گیا کہ پہلے تو گپ شپ ہوگی‘ پھر مشاعرہ ہوگا اور آخر میں کھانا ہوگا۔ اکثر احباب جانتے تھے کہ ’’بڑے شاعر‘‘ کوئی نئی چیز لکھنے کے بجائے پرانا کالم سنا سنا کر کام چلاتے رہتے ہیں۔ اس لئے یہ بھی طے پایا کہ ہر ہفتے نئی غزل یا نظم سنائی جایا کرے گی۔ نیو جرسی سے جناب ضمیر جعفری کو ’’حجرۂ میر‘‘ میں لانے کی ڈیوٹی خوش کلام شاعر شوکت فہمی کی تھی۔ اُن کے ساتھ ساتھ ایک بیاض (بچوں کی سکول کی کاپی) اور محدب عدسہ بھی ہوتا تھا۔ جسے احباب نے ’’مؤدب عدسہ‘‘ کا نام دے رکھا تھا۔ نگاہ کی کمزوری سے نبٹنے کے لئے انہوں نے یہ ترکیب اختیار کررکھی تھی کہ بیاض میں موٹے مارکر سے لکھتے تھے اور محدب عدسے کی مدد سے پڑھتے تھے۔ جب اُنہیں بھوک لگتی‘باتوں سے اکتا جاتے یا احساس ہو تاکہ رات کافی بیت چلی ہے تو وہ سب کو متوجہ کرکے کہتے چلیں اب مشاعرہ شروع کریں۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اب محفل کی برخاستگی کا آغاز کیا جائے۔ ضمیر جعفری صاحب اس محفل میں پڑھنے والوں کو بہت دل کھول کرداد دیا کرتے تھے۔ بعض اوقات کوئی شعر دوبار پڑھنے کو بھی کہتے ۔مجھے شروع شروع میں تو اس تعریف پرشرمندگی سی ہوتی تھی لیکن بعد میں اس زعم میں بھی مبتلا ہوگیا کہ میں بھی شاعر ہوگیا ہوں۔ شاعری کے دور کے بعد کھانا شروع ہوتا۔ کھانا ختم کرتے ہی بعض احباب رخصت لے لیتے‘ بعض ذرا توقف کے بعد چلے جاتے۔ رات کے بارہ ایک بج چکے ہوتے تھے‘ کئی لوگوں کو دوسرے دن کام پر بھی جانا ہوتا تھا۔ بڑی یادگار محفلیں ہوتی تھیں کاش اُس وقت خیال آتا اور اُن کی ویڈیو بنا لی جاتی یہ بڑی کام کی اور تاریخی چیز ہوتی۔

نیویارک کی اکثر تقریبات میں میں اُن کے ساتھ جُڑ کر بیٹھ جاتا تھا۔ یا وہ کسی بہانے پاس بلالیتے تھے۔ اس طرح دورانِ تقریب ہمیں کانا پھوسی کا وقت مل جاتا تھا۔ بولنے یا پڑھنے والے پر فقرے کسے جاتے۔ جعفری صاحب ساتھ ساتھ نوٹس لکھتے رہتے۔ کسی شاعر یا مقرر کے بارے میں جانتے نہ ہوتے تو مجھ سے پوچھتے اور پھر اپنے نوٹس میں لکھ لیتے۔ میں لوگوں کے بارے میں اکثر منفی تاثرات بھی دیتا رہتا اور وہ کچھ لکیریں لگاتے رہتے۔ جب اُن کے خطاب کی باری آتی تو اُن نوٹس کی مدد سے ہر مقرر یا شاعر پر کوئی نہ کوئی بھر پور جملہ ضرور جڑ دیتے۔ میری منفی معلومات کو نظرانداز کردیتے یا اُنہیں بھی مثبت رُخ دے دیتے۔

ضمیر جعفری کی تحریروں میں فوجی زندگی کے قصے بہت انوکھے انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ضمیر جعفری عسکری ادب کی ایک نئی صنف کے بانی ہیں۔ انہوں نے اپنے الیکشن لڑنے کی روداد کو جس طرح پھیلایا اور جو مزاحیہ رنگ دیا ہے وہ اُن کی مزاح نگاری کا کمال ہے۔ نظم و نثر میں مزاح نگاری کے وہ یکتا شہ سوار تھے۔ پاکستان‘ قائداعظم‘ علامہ اقبال اور فوج کے بارے میں وہ کوئی منفی بات سنتے تو فوراً اس کا دفاع کرتے تھے۔ ’’حجرۂ میر‘‘ کی محفلوں میں طرح طرح کے لوگ ہوتے تھے۔ طرح طرح کی باتیں ہوتی تھیں۔ آپ خاموشی سے سنتے رہتے تھے لیکن اگر بات پاکستان ‘ قائدِاعظم‘ علامہ اقبال یا فوج کے خلاف ہوتی تو وہ ’’لیکن یہ بھی ہے‘‘ کہہ کر مخالف کی دلیل کو بڑی خوبی سے رد کردیتے تھے۔ جب وہ آخری بار نیویارک آئے تو انہوں نے ایک غزل لکھی تھی جس کا مطلع کچھ یوں تھا۔

کچھ جوانی کی شبیں باقی تھیں عمرِ پیر میں

جن کو لے کر آ گئے ہم شہرِ جوہر میر میں

اس دفعہ جب ضمیر جعفری کو دیکھا تو وہ اُس طرح شوخ اور ہشاش بشاش نہیں تھے۔ اُنہیں اپنی بیگم کی بیماری کی بھی فکر لاحق رہتی تھی۔ چہرہ قدرے بجھا بجھا سا لگتا تھا۔ ’’حجرۂ میر‘‘ کی آخری حاضری میں اُن کی گفتگو میں ربط نہیں تھا۔ مجھ سے کہنے لگے ’’میں نے وہ فائل دے دی ہے یا شاید آپ کو دے دوں گا۔‘‘ میں نے کہا جعفری صاحب میں نے تو کوئی فائل نہ دی ہے نہ لی ہے۔ کہنے لگے: اچھا پھر وہ اشرف میاں کی ہوگی یا کسی اور کی ہوگی۔ مگر جانے کے لئے جوتے پہن رہے تھے تو اسی طرح کسی فائل کا تذکرہ اشرف میاں سے کیا۔ انہوں نے بھی تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ جعفری صاحب کون سی فائل ؟ کہنے لگے: اچھا اچھا وہ شاید کسی اور کی تھی‘ اچھا پھر دیکھیں گے۔ شوکت فہمی اُنہیں کار میں نیو جرسی سے لاتے لے جاتے تھے کہنے لگے آج تو جعفری صاحب راستے میں بھی کچھ ایسی باتیں کرتے رہے جن کا سر پیر نہیں تھا۔ ہم سب متفکر ہوگئے لیکن انہوں نے اپنی غزل سنائی تھی کھانا کھایا تھا۔ ہم نے سوچا اہلیہ کی بیماری کی وجہ سے پریشانی ہے۔ اگلے روز پتا چلا کہ انہیں ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ پھر خبر ملی کہ دماغ میں رسولی تشخیص ہوئی ہے علاج ہو رہا ہے۔ ’’حجرۂ میر‘‘ کے تمام حاضر باش اُنہیں دیکھنے ہسپتال گئے۔ بستر پر لیٹے ہوئے کمزور اور نڈھال سے لگ رہے تھے۔ بات نہیں کرسکتے تھے لیکن آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ انہوں نے آنے والوں کو پہچان لیا ہے۔ امتنان ضمیر موجود تھا۔ جوہر میر نے کہا: جعفری صاحب کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے‘ کوئی گوری نرس پسند آگئی ہے کیا؟ اُٹھیں‘ آپ اچھے بھلے ہیں چلیں حجرے میں مشاعرہ پڑھنے کے لئے چلیں۔ جعفری صاحب کے لبوں پر ایک مجروح سا تبسم آکر بکھر گیا۔ ذرا تکلیف سے ہاتھ اٹھایا جس پر دوا پہنچانے کی سوئیاں لگی ہوئی تھیں اور اشارہ کیا گویا کہہ رہے ہوں ہاں میں ضرور آؤں گا لیکن پھر وہ نہیں آئے۔

کل اس کی آنکھ نے کیا زندہ گفتگو کی تھی

گمان تک نہ ہوا ‘ وہ بچھڑنے والا ہے

جناب ضمیر جعفری سے یہ آخری گفتگو تھی جو انہوں نے آنکھوں سے کی۔ اس کے بعد حجرۂ میر کی محفلوں میں جی نہیں لگا۔ جوہر میر تو تھے ہی رقیق القلب ‘ضمیر جعفری کا ذکر چھڑ جاتا تو گریہ بند نہ ہوتا تھا‘ جو مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔ جوہر میر خود بھی معدے کے کینسر کے پرانے مریض تھے۔ وہ بھی ضمیر جعفری کے پیچھے چلے گئے۔ ’’حجرۂ میر‘‘ ویران کیا‘ اُجڑ ہی گیا۔ بس اب تو یادیں ہی رہ گئی ہیں۔ جوہر میر نے ضمیر جعفری کے بارے میں ایک نظم لکھی تھی جس میں انہیں اس طرح خراجِ عقیدت پیش کیاتھا۔ وہ پورا پاکستان تھا۔

[email protected]

یہ تحریر 29مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP