متفرقات

کوسٹل ہائی وے کا ایک سفر

پابلو نیرودا اگر اس سیارے میں کوئی تبدیلی پسند نہیں کرنا چاہتا تھا اور اِسی طرح کی فطری منظر کشی کا اسیر تھاتو مجھے بھی پاکستان جیسے حسین ملک کے طول و عرض میں پھیلی جمالیاتی طلسمی کہانیاں موجودہ شکل میں ہی خوبصورت لگتی ہیں۔یہ سفر کی متحرک کروٹیں جامدفضاؤں کو توڑ کر زندگی میں انگڑائی بھرتی ہیں۔تروتازہ ابلاغ کا لطف لینے ہم پنجاب کے میدانوں سے بلوچستان کے ساحلوں کی جانب اڑان بھرتے ہیں۔عمومی رویہ ہے کہ جب بھی بلوچستان کا نام لبوں پر آتا ہے تو خوفناک  لوگ بندوقیں اُٹھائے پہاڑوں پر بیٹھے محسوس ہوتے ہیں اور صوبائی تعصب برت کر دیگر علاقوں سے آنے والے لوگوں کا سواگت اُن کا خون بہا کر کرتے ہیں۔مگر اب صورتِ حال بالکل تبدیل ہو چکی ہے۔ایک پُر امن اور قدرتی وسائل کا یہ شاہکار خطہ خوبصورت بھی ہے اور ثقافت کے رنگوں سے لبریز بھی۔یہ تاریخ کے ثمردار درختوں کی سرزمین ہے۔اِن پھلوں کی مٹھاس ماہی گیروں کی نسلیں اپنی زبانوں پر محسوس کرتی ہیں۔اِن درختوں کی کشتیاں پانیوں پر تیرتی ہیں تو کثیر الجہت ساحلوں کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں۔ان علاقوں کی جغرافیائی ساخت کائنات کے نقشے پر خوبصورت جزیرے کی مانند روشن ہے۔اگر زمین پر صرف آکسیجن ہو اور سورج کی فلٹر شدہ کرنیں ہوں تو ایسے ساحل زندگی بسر کرنے کو کافی ہوں گے۔



کراچی سے ہمارا سفر شروع ہوا۔سب سے پہلے ہم حب چوکی پہنچے جو وسطی کراچی سے جنوب کی جانب تقریباً 28 کلومیٹر ہے۔کراچی سے قریباً ایک سو دس کلو میٹر کی مسافت پہ زیرو پوائنٹ آتا ہے۔وہاں سے دو لخت ہوتی سڑکوں میں سے دائیں طرف مُڑ گئے۔سیدھی سڑک خضدار اور کوئٹہ کی جانب اور دوسری کوسٹل ہائی وے کی طرف جاتی ہے جو کہ اگور، کنڈ ملیر، ہنگول پارک، اورماڑہ،پسنی اور گوادر سے سرحد کی جانب مکمل ہوتی ہے۔ہمارا سفر بھی اسی سڑک پر تھا۔ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ یہ سڑک بے پناہ دلکشی کا باعث ہے۔اس شاہراہ پر تعمیراتی کام کا آغاز 2001ء  میں ہوا اور محض دو سال کے اندر اسے مکمل کیا گیا تھا۔یہ مکران کوسٹل ہائی وے بلوچستان کے جنوب میں 584 کلومیٹر کا راستہ ہے جو ایران کی سرحد پر ختم ہوتا ہے۔
یہ بات مشہور ہے کہ'' 325 قبل مسیح میں سکندرِ اعظم نے تیس ہزار فوجیوں کے ساتھ اپنی مہم میں بھارت سے لیکر مکران کے پار بابل کی جانب سفر کیا تھا''
زیرو پوائنٹ پر لیویز کے جوانوں نے خوش دِلی سے ہمارا استقبال کیا۔انہوں نے تمام کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد ہمیں راستہ سمجھایا۔یہ دور افتادہ پہاڑوں کی اور قبائلی سرداروں کی خوبصورت سرزمین ہے۔مکران کوسٹل ہائی وے کے ساتھ ساتھ ہمارا سفر جاری تھا اور دونوں اطراف کی ریتلی زمین ہلکا ہلکا جھولا لیتی ہمارے پائوں سے لپٹتی رہتی۔اس علاقے میں جو ساحلی حُسن انسانی آنکھ کو خیرہ کرتا ہے، پورے ملک میں کہیں اتنا دلکش نظارہ نہیں ملتا۔ ایک ایسی پراسراریت بھری اور ریت کے ٹِیلوں سے اٹی پوری نئی دنیا دریافت ہوئی کہ میں ساحلی جادوگری کو بھول کر اس کے سحر میں کھو گیا۔انسانی جزائر کی باقیات صدیوں پرانی کہانیوں کو جنم دیتی ہے اور یہ جزائر اب بھی ہنگول نیشنل پارک بلوچستان میں دیکھے جا سکتے ہیں۔یہ سرزمین قدرت کا عظیم شاہکار ہے۔سب سے پہلے کنڈ ملیر کے مقام پر پہنچتے ہی آپ کو عرب کے صحراؤں کی جھلک دکھائی دے گی۔سنہری ریت کے آگے شفاف پانیوں کی لہریں'' موسیقار یانی'' کی دُھنوں کی مانند کسی ان دیکھی دُنیا میں لے جاتی ہیں اور سیاحوں کو مست ناگ کی مانند جھومنے پر مجبور کرتی ہیں۔سامنے پہاڑوں کے درمیان ٹھاٹھیں مارتا جھاگ اڑاتا سمندر، اردگرد ریت کا سنہری قالین انسانی آنکھ میں دلکشی کے رنگ بھرتا ہے۔ کنڈ ملیر سے ملحقہ ساحل جسے ''ورجن بیچ'' بھی کہا جاتا ہے، کو 2018 ء میں ایشیا کے 50 خوبصورت ترین ساحلوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔حکومتِ بلوچستان اگر تھوڑی سی کوشش کرلے اور ان ساحلی علاقوں کو سیاحوں کے لیے قابلِ رسائی بنا دے تو کثیر زر سیاحت کی مد میں کما سکتی ہے۔طِلسم ہوشربا نظارے اپنے وطن میں پھیلی افراتفری کو یکسر مسترد کرنے پراُکساتے ہیں۔کنڈ ملیر کے ساحل تو انسانی آنکھ میں حیرت کا باب کھولتے ہیں۔کوہِ پرناسس جو یونان میں فنون لطیفہ کی دیویوں کا من پسند جزیرہ تھا اور زحل جِسے  قدیم یونان میں جمالیاتی اوج کا محور سمجھا جاتا تھا،اگر کوئی ان ساحلوں کی رعنائی دیکھ لے تو وہ یونانیوں کی ان دیومالائی کہانیوں کو ہیچ سمجھنے لگ جائے گا۔ایسے دلآویز جزیرے پر سیاح بہت کم اترتے ہیں۔نیلے، اُجلے رنگ کا پانی قدموں سے لپٹ لپٹ جاتا ہے اور پکار پکار کر کہتا ہے کہ اے اجنبی مسافر اور گمنام سیاح ، اپنے دوستوں کو کہہ دو کہ حسینوں کے حلقوں سے نکلو، شباب ومستی کو چھوڑو اور زندگی کی چالاک سازشوں کو سمجھو، جو روزگار اور بزنس کے جال میں انسانوں کو الجھائے رکھتی ہیں۔ ایسے ساحلوں کا رُخ کرو کہ یہاں انسانی آنکھ کوحُسن کی تمازت سے پرنور کیا جاتا ہے۔ایسے ساحلوں پہ ایک بسیط خاموشی میں الوہی ترانے بجتے ہیں۔بصارتوں پر نئے مناظر آشکار ہوتے ہیں۔اگرچہ سپت کا ساحل صُبحدم اوڈیسی کے ساحلوں کی طرح اپنا حُسن دِکھاتا ہے۔مگر اِس کو دیکھنے کے لیے آف روڈ  سفر کرنا پڑتا ہے۔سپت کا ساحل ہوبہو ''ہوئیٹسرکر'' آئس لینڈ کے ساحل جیسا ہے۔یہ مقام کسی عجوبے سے کم نہیں ہے۔سپت کے ساحلی مقام پر واقع  چٹان کی بناوٹ ایسی ہے کہ دیکھنے والا ششدر رہ جاتا ہے، کچھ لوگوں کے خیال میں تو اس چٹان کی شکل کسی سمندری عفریت یا کچھوئے جیسی ہے جبکہ کچھ کو یہ چٹان کسی خلائی طشتری جیسی نظر آتی ہے۔سپت تک جانے کا راستہ دلدلی ہے اور سپت کی غاروں کے اندر ٹھنڈک کا گہرا احساس ہوتا ہے۔وہاں تک جانے کے لیے 4x4گاڑی درکار ہوتی ہے۔

اس ساحل کے بعد نیشنل ہنگول پارک آتا ہے۔یہ سولہ سو پچاس مربع کلومیٹر پر پھیلا متنوع علاقہ ہے۔پتھروں کا خوبصورت رنگ پہاڑوں اور ٹِیلوں کو بھی کسی قدیم سیارے کے نقشے کا پتہ دیتا ہے۔کہیں بحیرہ بلوچ کے پہاڑوں کا منظر نامہ کُھلتا ہے تو کہیں گارے کے آتش فشانوں کے مناظر اس لینڈ سکیپ کو دیدنی بناتے ہیں۔کہیں بکریوں کے ریوڑ چراتے بلوچ اور کہیں جُڈو غار میں قدرتی بت ہے جِسے ہندو ہنگلاج ماتا کہتے ہیں۔یہ ایک مقدس زیارت گاہ ہے جو کہ ہندوؤں کے لیے مذہبی اعتبار سے نہایت اہم جگہ ہے۔بہت ساری کہانیاں اس مندر سے جڑی ہوئی ہیں۔مختلف ممالک سے زائرین اپنی مرادوں کی جھولیاں اس دیوی کے آگے پھیلاتے ہیں۔اس مندر میں گیان کے پاٹ پڑھائے جاتے ہیں۔محبت کے بجھن سُنائے جاتے ہیں اور اتحاد کا پرشاد تقسیم ہوتا ہے۔اسی مندر کے نیچے سُرنگ نما ایک ماتا کا گربھ یعنی ماں کا پیٹ بھی ہے۔یاتری اس تاریک اندھیری سُرنگ میں اُترتے ہیں اور اپنے پاپ کی گٹھریاں کھول کر پوّتَر ہو کر باہر نکلتے ہیں۔اُن کے عقائد میں ایسی بے شمار روایات موجود ہیں۔اگرچہ پوج ڈیورھی صاحب کا مندر بھی ہندوؤں کے لیے متبرک جگہ کا درجہ رکھتا ہے۔سمادھی سچو سترام داس رہڑکی صاحب سندھ میں ہندو کمیونٹی کے لیے ایک مقدس جگہ ہے۔سچو سترام داس 25 اکتوبر 1866کو پیدا ہوئے۔ لوگوں کو بچپن سے ہی اُن سے عقیدت تھی۔انہوں نے محبت اور امن کا درس دیا۔انہوں نے اس مشن کا آغاز کِیا جس میں غریبوں کو کھانا کھلانا اور ان کے جسم پر پہناوا پہنانا شامل ہے۔اُن کا انتقال دس جنوری 1910ء  میں ہوا۔ان کے بعد بھی بہت سارے سروپ سنت آئے اور اپنا کردار ادا کِیا۔موجودہ ست رنگ سدرام صاحب خاصے متحرک ہیں۔اپریل اور اکتوبر میں بڑے بڑے میلے لگتے ہیں اور ہزاروں یاتری دوردراز ممالک سے تشریف لاتے ہیں اور اپنے مذہبی عقائد کے مطابق عبادات کرتے ہیں۔اُن کے رہنے کے لیے شاندار مہمان خانے بنے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ کالکا دیوی کا مندر بھی اروڑ میں واقع ہے۔یہ وہی اروڑ ہے جو کبھی سندھ کے حکمرانوں کا پایہ تخت ہوتا تھا۔اس مندر میں بھی لنگر خانوں میں تین وقت کھانا ملتا ہے۔اب ہم کوسٹل ہائی وے پر پھر سے سفر شروع کر چکے تھے اور بلوچی موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

ہمارے لیے یہ خطہ کسی اساطیری داستانوں میں سے ایک تھا۔صوتی اکائی کے نئے دریچے کُھل رہے تھے۔پرندوں کی آوازیں ترنم پیدا کر رہی تھیں۔نہایت شاندار سڑک بنائی گئی ہے۔
 یہاں مکمل سکوت اور بھید بھری خامشی تھی۔کُھردری سڑک پر زندگی کی گاڑی کی رفتار کم ہوتی محسوس ہوئی۔اُٹھان بھرتی مورتیاں مجھے حیرت و استعجاب میں غرق کر دیتی ہیں۔پہلی نظر جیسے ہی ان دیو ہیکل بتوں کی طرف دیکھیں تو اہرامِ مصر یا بابل کے مردوک خدائوں کی شبیہیں اُبھرتی ہیں۔ یہ نیشنل ہنگول پارک بلوچستان ہے۔بل کھاتی سڑک انسانی آنکھ میں یکے بعد دیگرے مناظر غائب کرتی ہے اور نئے عکس تعمیر ہوتے چلے جاتے ہیں۔آرکیالوجی سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایسے جان لیوا مناظر ہوش اُڑا دیتے ہیں۔ہنگول نیشنل پارک کا ایریا بلوچستان کے تین اضلاع سے متصل ہے۔جن میں لسبیلہ، گوادر اور آواران شامل ہیں۔یہ مکران کے ساحلی علاقوں سے بھی ملحق ہے۔اس کو دریائے ہنگول کی وجہ سے اسی نام سے پکاراجاتا ہے۔دو ہزار سال پہلے یہ علاقہ زیر آب تھا آہستہ آہستہ جب پانی اترا تو یہ ماسٹر پیس نمودار ہوئے۔ اِن بتوں اور دِیویوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اِنہیں کسی ماہر ہنرمندوں نے تراشا ہے۔اِن دیوتائوں کے متعلق تو ارضیات والے بہتر بتا سکتے ہیں۔ مگر شماریات والوں کے مطابق 300 آئی بیکس، 1500 اُڑیال، 65 مختلف قِسم کے سانپ، 135 انواع کے پرندے اور بے شمار دیگر جانور اور پرندے ہیں۔گولڈن چیتا،لومڑی،کچھوے وغیرہ، گویا جانوروں کی پوری فوج موجود ہے جو اس کی خوب صورتی میں اضافے کا باعث ہے۔اُڑیال اور غزال چوکڑیاں بھرتے اور نایاب عقاب ہواؤں میں اڑتے نظر آتے ہیں۔ہم نے اس علاقے میں جو بہترین منظر دیکھا وہ اس کی ایک مورتی تھی جسے انجلینا جولی نے اپنے وزٹ کے دوران پرنسس آف ہوپ کا نام دیا تھا۔ وہ دیوی ہاتھ باندھے کھڑی زمانے کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔معروف ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی  2004 ء میں اقوام متحدہ کے ایک خیر سگالی مشن پر پاکستان آئیں تو یہ چٹان ان کی توجہ کا مرکز بنی اور انھوں نے ہی اسے ''پرنسس آف ہوپ'' یا امید کی شہزادی کا نام دیا تھا۔مختلف مقامات پر فراعینِ مصر، خافو، خوفویا، خفران کی ممیاں کھڑی نظر آتی ہیں۔مگر یہ نمونے اس علاقے کے کمال آرٹسٹ جمیل جان اور سیما سردار زئی وغیرہ کے بے مثل فن کا ثبوت تھا۔اس جگہ ایک ہی آئین ہے اور وہ اپنی زندگی دوسرے سے بچانا ہے۔کیوں کہ پرندے حشرات کو کھا جاتے ہیں۔اسی دوران ہماری گاڑی کا ٹائر برسٹ ہو گیا اور ہم اس فطرت کے حسن کو بھول کر یہاں سے نکل کر محفوظ ٹھکانہ ڈھونڈ رہے تھے۔مگر ایک مقامی بلوچ کی سخاوت پر دل حیران اور خوش بھی ہوا کہ اس نے ہمارا مکمل انتظام کروایا اور ہمیں ہماری منزل تک پہنچایا۔ان علاقوں میںپاک فوج اور لیویز کی مسلسل کوششوں سے حالات مکمل نارمل اورسیاحت کے قابل ہیں۔یہ پاک فوج کی کاوشوں کا ہی ثمر ہے کہدن کے وقت بے شمار بائیکرز اور سیاح بلا خوف و خطر سفر کرتے ہیں۔
بلوچستان کو قدرت نے  انتہائی زبردست لینڈ سکیپ اور عجائبات سے مالا مال کیا ہوا ہے۔جیوتھرمل گارے کے آتش فشاں سے بھرے پہاڑ جیالوجیکل والوں کے لیے خزانے ہیں۔کبھی ساحل کی ریت پاؤں کی ٹھنڈک کا سبب بنتی ہے اور کبھی مناظر کی نظارگی دل کو لُبھاتی ہے۔میتھالوجی کی داستانیں اور آرکیالوجی کے بے انتہا مناظر منہ کھولے سیاحوں کے منتظر ہیں۔مگر اب بھی کچھ سیاح منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے اس طرف کا رُخ نہیں کرتے۔جبکہ حالات یکسر مثبت ہو چکے ہیں۔ہمارا اگلا پڑائو اُورماڑہ کا ساحل تھا۔شام کا سورج اس بستی سے اترنے والا تھا اور ہم روانہ ہوگئے۔ ||


مضموں نگار، شاعراور سفرانچہ نگاراور دو کتابوں کے مصنف ہیں۔
[email protected]


 
    

یہ تحریر 43مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP