متفرقات

کوئٹہ کے تاجر امن کی تلاش میں

صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ چاروں جانب سے پہاڑوں میں گھرا ہو ایک خوبصورت ہل سٹیشن ہے اورصوبہ بلوچستان کا اہم کاروباری مرکز بھی ہے، جسے اﷲ تعالیٰ نے چار موسموں کے ساتھ ساتھ انواع و اقسام کے پھل اورمیوہ جات سے نواز ا ہے۔ کوئٹہ کی ٹھنڈی ہوائیں ہر آنے والے کا استقبال کرتی ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ اس امن کے گہوارے شہر کوئٹہ میں نہ صرف پورے ملک سے لوگ تفریح اور خریداری کے لئے یہاں آتے تھے بلکہ دیگر ممالک سے بڑی تعداد میں سیاح بھی آتے رہے ہیں۔ پھر بلوچستان کا یہ اہم کاروباری مرکز آہستہ آہستہ امن وامان کی تشویشناک صورتحال سے دوچار ہوگیا۔ جس سے کاروباری حضرات بالخصوص متاثر ہوئے۔ لیکن یہ امر بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے چھوٹے موٹے واقعات سے ہماری سکیورٹی فورسز اور عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے مزید اولوالعزمی کے ساتھ ان واقعات پر قابو پانے کی سعی بھی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے تاجر بھائی آج بھی اپنے کاروبار اُسی شدومد سے کر رہے ہیں جیسے وہ پہلے کرتے تھے جو اس بات کی علامت ہے کہ ہم درپیش چیلنجز سے نبردآزما ہونے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ کوئٹہ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے بعض دکانداروں سے بات چیت کی۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ سب کے سب پرامید ہیں کہ حالات بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔ راقم نے کوئٹہ کے تمام اہم کاروباری مراکز میں جاکر تاجر حضرات سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ ان کے حوصلے جوں کے توں ہیں۔ اکثر تاجروں نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کیا۔

نصیب اللّٰہ میں 25 سال سے لیاقت بازار میں کاروبار کررہا ہوں۔ ماضی میں ایسے حالات نہیں تھے جیسے اب ہیں۔ کوئٹہ تجارت کے لحاظ سے بہت اہم رہا ہے اور یہاں تجارت کے بہت سے مواقع ہیں۔ لیکن اُس وقت پریشانی ہوتی ہے جب کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے کیونکہ پورا ہفتہ کاروبار بند رہتا ہے‘ لیکن فوج اور ایف سی نے کسی حد تک حالات کو سنبھالا ہے۔ اگر اسی طرح دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رہی تو امید کی جا سکتی ہے کہ کوئٹہ کی رونقیں لوٹ آئیں گی۔

نور اللّٰہ کاکڑ میں عبدالستار روڈ پر ایک چھوٹا سا کاروبار کرتا ہوں۔ دھماکوں اور اس کے بعد ہونے والے مظاہروں سے یقیناًہمارے کاروبار پر بہت برا اثر پڑ تا ہے لوگ ڈر سے بازار نہیں آتے اور خریداری سے کتراتے ہیں۔ حکومت حالات کی بہتری کے لئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے امید ہے کہ کوئٹہ کی کاروباری سرگرمیاں جلد مکمل طور پر بحال ہوجائیں گی۔

حاکم میں کافی عرصے سے موبائل مرمت کا کام کر رہا ہوں۔ کوئٹہ میں دھماکے ، ٹارگٹ کلنگ اور آئے روز کی ہڑتالوں نے ہمارے کاروبار پر اثرات تو ضرور مرتب کئے ہیں لیکن لوگوں کے حوصلے جواں ہیں۔

نعمت اللّٰہ میں لیاقت بازار میں گزشتہ آٹھ سال سے چھوٹے پیمانے پر کاروبار کر رہا ہوں۔ کوئٹہ کے حالات کی وجہ سے عورتیں اور بچے بازار کا رخ بہت کم کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمارے کاروبارپر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ لیکن جب سے سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے حالات کسی حد تک بہتر ہو رہے ہیں۔

جاوید اقبال میں کراکری کا کام کرتا تھا۔ کوئٹہ ایک خوبصورت شہر ہے ۔ یہاں سارے پاکستان سے لوگ شاپنگ کرنے اور گھومنے آتے تھے۔ اب بھی ایسا ہوتا ہے لیکن اس میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ آئے دن دھماکے اور ہڑتالوں کے باعث لوکل خریدار بھی بہت کم ہوگئے ہیں۔ لیکن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع ہونے سے حالات میں کچھ بہتری پیدا ہوئی ہے۔ امید ہے کہ حالات جلد ہی پہلے جیسے ہو جائیں گے۔

محمد آصف میری لیڈیز شال کی ایک چھوٹی دکان ہے۔ دھماکوں اورہڑتالوں کے باعث کاروباری حضرات کا پریشان ہونا ایک یقینی امر ہے۔ خدا کا شکر ہے اغوا برائے تاوان جیسے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ حالات کی مکمل بہتری کے لئے حکومت کو ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ ان حکومتی اقدامات کے باعث کسی حد تک حالات بہتر ہو گئے ہیں تاہم مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

مذکورہ تمام افراد کی گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ سب اپنے کاروبار کے سلسلے میں پریشان ہیں لیکن ایک امیدضرورہے کہ شاید یہ خوبصورت وادی پھر سیاحوں سے پررونق ہوجائے ۔ یہاں کے بازاروں میں پھر خریداروں کی چہل پہل نظر آئے ۔ سول اور عسکری ذرائع کی کوششوں سے کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوائے برائے تاوان کی وارداتوں میں کافی کمی آئی ہے۔ جس کے لئے کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ کی کوششیں یقیناًقابل تحسین ہیں‘ جنہوں نے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں عسکری اور سول سوسائٹی کے درمیان فاصلے مٹائے اور محبتوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کیا لیکن اب بھی امن قائم کرنے کے لئے بہت کچھ کرنا باقی ہے تاکہ عوام اور تاجروں کا اعتمادبحال ہوسکے اور ماضی کی طرح یہاں امن قائم ہواور معیشت کا پہیہ پھر سے چل سکے ۔

[email protected]

یہ تحریر 73مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP