متفرقات

کنگزمین

ہالی ووڈ کی نئی ایکشن فلم ’’کنگزمین۔دی سیکریٹ سروس‘‘13دسمبر2014کوپہلی مرتبہ امریکا میں منعقد ہونے والے فلم فیسٹیول’’Butt-Numb-A-Thon‘‘ میں ریلیز کی گئی۔اس کاپریمیئر شو برطانیہ کے شہر لندن میں ہوا،جس میں فلم کے اداکاروں نے بھی شرکت کی۔24جنوری2015کو اسے برطانیہ میں محدود پیمانے پر نمائش کے لئے اور29جنوری کو برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک میں نمائش کے لئے پیش کردی گئی،جبکہ 13فروری کو امریکااور پاکستان سمیت پوری دنیا میں اس کی نمائش کاآغاز کر دیا گیا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہورہاہے۔

اس فلم کے ہدایت کار’’Matthew Vaughn‘‘ہیں،جنہوں نے ایک مزاحیہ کتاب’’دی سیکریٹ سروس‘‘کی کہانی کو فلمایا،جبکہ فلم اسکرین پلے ’’Vaughn‘‘ اور ’’Jane Goldman‘‘نے لکھاہے۔فلم کے اداکاروں میں مقبول ترین اداکار ’’Samuel L. Jackson‘‘نے ولن کاکردار اداکیا،جبکہ نووارد اداکار ’’Taron Egerton‘‘نے مرکزی کردار نبھایا۔دیگر اداکاروں میں بھی ہالی ووڈ کے کئی نامور ستارے شامل ہیں۔

فلم کی کہانی ایک ایسے نوعمر لڑکے کے اردگردگھومتی ہے،جس کے والدنے اپنے ملک کی ایک خفیہ ایجنسی میں خدمات انجام دیتے ہوئے جان دی۔اس ایجنسی کی طرف سے اہل خانہ کو ایک یادگاری میڈل دیاجاتاہے،جسے وہ والد کی بہادری کی نشانی سمجھ کر سینے سے لگاکررکھتاہے۔اس نوعمر لڑکے کا نام’’ایگزی‘‘ہے۔اوائل جوانی میں وہی خفیہ ایجنسی اس سے رابطہ کرکے اس کو شمولیت کی دعوت دیتی ہے،جس کو ابتدا میں وہ قبول کرتے ہوئے ہچکچاتاہے،پھر قبول کرلیتاہے۔اس ایجنسی کے ساتھ سخت تربیت کے عمل سے گزر کر یہ اس ایجنسی کے بااعتماداراکین میں شامل کرلیاجاتاہے،جن کو اس خفیہ ایجنسی میں مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ ایجنسی ایک ایسے گھناؤنے منصوبے کا سراغ لگاتی ہے،جس میں دنیا کو تباہ کرنے کی سازش ہوتی ہے۔’’ریچمنڈ ویلنٹائن‘‘نامی شخص اس گروہ کاسربراہ ہوتاہے ۔وہ دنیا کو تباہ کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کاطریقہ اپناتاہے۔موبائل فون ،انٹرنیٹ کے ذریعے سیٹلائٹ کی مدد سے انسانی دماغ میں داخل ہوکر خون کی ہولی کھیلنے کا منصوبہ بنایاجاتاہے،اس کو ناکام بنانے کے لئے تمام کرداروں کو جدوجہد کرتے دکھایاگیاہے ۔

فلم کو مجموعی طورپر باکس آفس پر کامیابی حاصل ہوئی اور اس کی لاگت پر جتنا خرچا آیا تھا، اب تک یہ تقریباًاس سے تین گنا زیادہ کماچکی ہے۔اس کوبناتے وقت مرکزی کردار ’’ایگزی‘‘کے لئے ’’لیونارڈو ڈی کیپرو‘‘کاانتخاب کیاگیاتھا،مگر پھر بات آگے بڑھ نہ سکی۔ ولن کی کی معاون اداکارہ اور فلم کے ہیروکے لئے نوجوان اورنئے اداکار کا انتخاب کیا گیا، دونوں نے اپنی پراعتماد اداکاری سے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایااورکافی حد تک اپنے کردار وں سے انصاف کیا،جبکہ ولن کے کردار میں ’’سیمیول ایل جیکسن ‘‘نے حسب روایت عمدہ اداکاری کی۔

اس فلم کے لئے مجموعی طورپر جو ایک تاثر بھرتاہے،وہ اس کافلمانے کا مخصوص اندازہے،جس کے لئے جیمزبونڈ طرز کی فلمیں شہرت رکھتی ہیں ۔جیمزبونڈ کی طرح اس فلم کاہیروبھی غیرمعمولی حالات کاسامنا کرتاہے،لیکن اس کاکچھ نہیں بگڑتا،وہ ایک نہایت عمدہ سوٹ میں برق رفتاری سے اپنا مشن مکمل کرتاہے،جس میں وہ جاسوسی کے لئے غیرمعمولی آلا ت کا استعمال بھی کرتاہے،جیسا کہ گھڑی ،چھتری ،انگوٹھی اورجوتوں کی شکل میں ہتھیار ہوتے ہیں،جن سے وہ اپنا دفاع بھی کرتاہے اوردشمن کا ڈٹ کرمقابلہ کرتاہے۔

فلم کواگر غور سے دیکھا جائے تو بہت ساری تکنیکی غلطیاں موجودہیں،جیسا فلم کے ابتدائی مناظر میں دکھایاگیا کہ جب خفیہ ایجنسی کا ایک رکن اپنے ساتھی کی موت کے بعد اس کے خاندان سے ملنے اوران کو یادگاری میڈل دینے آتاہے تو وہ اپنے کارکن کے بہت چھوٹی عمر کے بچے سے گفتگوکرتاہے،لیکن جب وہ لڑکا بالغ ہوجاتاہے تو پھر وہ دوبارہ اس سے ملنے آتاہے،اس پورے عرصے میں خفیہ ایجنسی کاکارکن اسی طرح چاق چوبند ہوتاہے ، اتنے برسوں میں اس کی چال ڈھال،سوٹ بوٹ اور شخصیت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی،جبکہ فطری طورپر یہ ممکن نہیں ہے۔جب ایک چھوٹا بچہ فلم میں بالغ ہوتے دکھایاہے تو اس کارکن کی عمر میں بھی اضافہ دکھائی دینا چاہئے تھا،جو نظر نہیں آیا۔ فلم میں تشدد کے مناظر کہیں اضافی محسوس ہوتے ہیں تکنیکی لحاظ سے فلم بہت کمزور ہے۔جاسوسی کے لئے دکھائے گئے تمام ہتھیاروں کا خیال بھی پرانا ہے۔

کرداروں کو بہت زیادہ طویل گفتگو کرتے ہوئے دکھایاگیاہے،جس میں کوئی ربط نہیں ،جس کی وجہ سے اکثر مناظر میں اکتاہٹ ہونے لگتی ہے۔ان تمام تر باتوں کے باوجود یہ فلم باکس آفس پر کامیاب ہے ،کیونکہ شاید دنیا میں جیمزبونڈ جیسی فلمیں دیکھنے والے شائقین ایسی فلموں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔فلم کی ہدایت کاری ،موسیقی ،اسکرپٹ وغیرہ کے شعبے بھی کمزور ہیں،جس کی وجہ سے بہت مشکل ہے کہ اس فلم کوکوئی بڑا فلمی ایوارڈ ملے۔لندن کے اخبار’’دی گارجین‘‘نے بہت دلچسپ فقرہ لکھاہے کہ اس فلم کا اسکرپٹ تو’’Vaughn‘‘اور’’Jane Goldman‘‘کاہے ،لیکن اس میں روح ’’جیمزبونڈ ‘‘والی ہے۔

[email protected]

یہ تحریر 33مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP