مکتوبات

کنوارے بڑے پیارے

میں ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا فلم دیکھ رہا تھا اور میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے ‘ مزید فلم دیکھنا میرے بس میں نہیں تھا لہٰذا ریموٹ اٹھایا اور ڈی وی ڈی پلیئر بند کردیا۔ اتنے میں بیگم لاؤنج میں داخل ہوئی‘ مجھ پر نظر پڑتے ہی چونک گئی‘ قریب آکر بولی’’آپ رو رہے ہیں؟‘‘ میں نے جلدی سے آنکھیں صاف کیں’’ہاں۔۔۔بس فلم ہی ایسی تھی کہ رونا آگیا‘‘۔ بیگم کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں’’کیا کہہ رہے ہیں‘ آپ تو نہایت مضبوط اعصاب کے مالک ہیں‘ اکیلے بیٹھ کے ہارر اور مار دھاڑ والی فلمیں دیکھتے ہیں ‘ جذباتی فلموں پر بھی آپ کو ہنسی آجاتی ہے تو پھر یہ کون سی فلم تھی جسے دیکھ کر آپ کی آنکھیں بھر آئیں؟‘‘ میں نے آہ بھری’’ ہماری شادی کی فلم تھی‘‘۔

کامیاب شادی کا سب سے بڑا یہ نقصان ہے کہ یہ عمر بھر چلتی ہے۔شادی ایک لازمی چیز ہے‘ اگر آپ کنوارے ہیں تو آپ کو محلے والے جوتے کی نوک پر لکھتے ہیں‘ کسی شادی بیاہ میں آپ کو نہیں بلایا جاتا‘ آپ گلی میں تھوڑی دیر کے لئے بھی کھڑے ہوجائیں تو ’’اُلامے‘‘ آنے شروع ہوجاتے ہیں‘ آپ کی ہر حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے‘ اگر آپ اکیلے رہتے ہیں تو کبھی ہمسائیوں کے گھر سے نیاز کے دال چاول آپ کی طرف نہیں آتے۔۔۔ تاہم آپ جتنے مرضی برے ہوں‘ جوان لڑکیوں کی مائیں آپ پر خصوصی نظر کرم کرتی ہیں۔تحقیق کے مطابق آدھے سے زیادہ کنوارے لڑکے کسی نہ کسی ’’ماں‘‘ کے بیٹے بنے ہوتے ہیں‘ یہ اپنی ماں سے زیادہ غیر ماں سے پیار کرتے ہیں کیونکہ غیر ماں کے گھر ایک عدد دوشیزہ بھی موجود ہوتی ہے۔عطاء الحق قاسمی صاحب کہتے ہیں کہ کنوارے بندے کو یہ بڑا فائدہ ہے کہ وہ بیڈ کے دونوں طرف سے اتر سکتا ہے‘ ٹھیک کہتے ہیں ‘ میں تو کہتا ہوں کنوارے بندے کو یہ بھی بڑا فائدہ ہے کہ وہ رات کو گلی میں چارپائی ڈال کر بھی سو سکتا ہے۔

میں جب بھی کسی کنوارے کو دیکھتا ہوں حسد میں مبتلا ہوجاتا ہوں‘ شادی شدہ بندے کی یہ بڑی پرابلم ہے کہ وہ کنوارہ نہیں ہوسکتا‘ البتہ کنوارہ بندہ جب چاہے شادی شدہ ہوسکتاہے۔ہمارے ہاں کنوارہ اُسے کہتے ہیں جس کی زندگی میں کوئی عورت نہیں ہوتی‘ حالانکہ یہ بات شادی شدہ بندے پر زیادہ فٹ بیٹھتی ہے‘ کنوارے تو اِس دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔فی زمانہ جو کنوارہ ہے وہ زندگی کی تمام رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے کا حق رکھتا ہے‘ وہ کسی بھی شادی میں سلامی دینے کا پابند نہیں ہوتا‘ اُس کے دونوں تکیے اس کی اپنی ملکیت ہوتے ہیں‘اُسے کبھی تنخواہ کا حساب نہیں دینا پڑتا‘ اُسے دوستوں میں بیٹھے ہوئے کبھی فون نہیں آتا کہ ’’آتے ہوئے چھ انڈے اور ڈبل روٹی لیتے آئیے گا‘‘۔اُسے کبھی موٹر سائیکل پر کیرئیر نہیں لگوانا پڑتا‘ اُسے کبھی دوپٹہ رنگوانے نہیں جانا پڑتا‘ اُس کا کوئی سالا نہیں ہوتا لہٰذا اُس کی موٹر سائیکل میں پٹرول ہمیشہ پورا رہتا ہے‘اُسے کبھی روٹیاں لینے کے لئے تندور کے چکر نہیں لگانے پڑتے‘اُسے کبھی فکر نہیں ہوتی کہ کوئی اُس کا چینل تبدیل کرکے ’’میرا سلطان‘‘ لگا دے گا‘ اُس کے ٹی وی کا ریموٹ کبھی اِدھر اُدھر نہیں ہوتا‘اُسے کبھی ٹی سیٹ خریدنے کی فکر نہیں ہوتی‘ اسے کبھی پردوں سے میچ کرتی ہوئی بیڈ شیٹ نہیں لینی پڑتی‘اسے کبھی کہیں جانے سے پہلے اجازت نہیں لینی پڑتی‘ اسے کبھی اپنے موبائل میں خواتین کے نمبرزمردانہ ناموں سے save نہیں کرنے پڑتے‘اسے کبھی کپڑوں کی الماری میں سے اپنی شرٹ نہیں ڈھونڈنی پڑتی‘اسے کبھی انارکلی بازار میں مارا مارا نہیں پھرنا پڑتا‘ اسے کبھی بیڈ روم کے دروازے کا لاک ٹھیک کروانے کی ضرورت پیش نہیں آتی‘اسے کبھی ٹوتھ پیسٹ کا ڈھکن بند نہ کرنے کا طعنہ نہیں سننا پڑتا‘اسے کبھی دو جوتیاں نہیں خریدنی پڑتیں‘ اسے کبھی بیوٹی پارلر کے باہر گھنٹوں انتظار میں نہیں کھڑا ہونا پڑتا‘ اسے کبھی دیگچی کو ہینڈل لگوانے نہیں جانا پڑتا‘ اسے کبھی کسی کو منانا نہیں پڑتا‘ اسے کبھی کسی کی منتیں نہیں کرنی پڑتیں‘ اسے کبھی ٹشو پیپرز نہیں خریدنے پڑتے‘ اسے کبھی آٹے دال کے بھاؤ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں پیش آتی‘ اسے کبھی موٹر سائیکل کے دونوں شیشے نہیں لگوانے پڑتے‘ اسے کبھی سٹاپ پر موٹر سائیکل گاڑیوں سے پرے نہیں روکنی پڑتی‘ اسے کبھی نہیں پتا چلتا کہ اس کا کون سا رشتہ دار کمینہ ہے‘ اسے کبھی اپنے گھر والوں کی منافقت اور برائیوں کا علم نہیں ہونے پاتا‘ اسے کبھی اپنے گھرکے ہوتے ہوئے کرائے کا گھر ڈھونڈنے کی ضرورت پیش نہیں آتی‘ اسے کبھی بہنوں بھائیوں سے ملنے میں جھجک محسوس نہیں ہوتی‘ اسے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں جوڑنے پڑتے‘ اسے کبھی ماں کو غلط نہیں کہنا پڑتا‘ اسے کبھی گھر پر کسی کی دعوت نہیں کرنی پڑتی‘ اس کی کنگھی اور صابن پر کبھی لمبے لمبے بال نہیں ملتے‘ اسے کبھی بدمزہ کھانے کو اچھا نہیں کہنا پڑتا‘ اسے کبھی میٹھی نیند کے لئے ترسنا نہیں پڑتا‘ اسے کبھی سردیوں کی سخت بارش میں نہاری لینے نہیں نکلنا پڑتا‘ اسے کبھی کمرے سے باہر جاکے سگریٹ پینا نہیں پڑتا‘ اسے کبھی چھت کے پنکھے صاف نہیں کرنے پڑتے‘ اسے کبھی ’’پھول جھاڑو‘‘ خریدنے کی اذیت سے نہیں گزرنا پڑتا‘ اسے کبھی پیمپرزنہیں خریدنے

پڑتے‘اسے کبھی عید کے موقع پر ٹینشن کا سامنا نہیں کرنا پڑتا‘ اسے کبھی کھلونوں کی دوکانوں کے قریب سے گزرتے ہوئے ڈر نہیں لگتا‘اسے کبھی صبح ساڑھے سات بجے اٹھ کر کسی کو سکول چھوڑنے نہیں جانا پڑتا‘ اسے کبھی کھانا کھاتے ہوئے ’’پچاکے‘‘ مارنے پر کوئی نہیں ٹوکتا‘ اسے کبھی میکڈونلڈ سے ’’ ہیپی میل‘‘خریدنے کی ضرورت پیش نہیں آتی‘ اسے کبھی اتوار کا دن چڑیا گھر میں گزارنے کا موقع نہیں ملتا‘ اسے کبھی میڈیکل سٹور کے آخری کونے پر نہیں کھڑا ہونا پڑتا‘ اسے کبھی دوائیوں کے دراز کو لاک نہیں رکھنا پڑتا‘ اسے کبھی باریک کنگھی نہیں خریدنی پڑتی‘ اسے کبھی سستے آلوخریدنے کے لئے چالیس کلومیٹر دور کا سفر طے نہیں کرنا پڑتا‘ اسے کبھی الاسٹک نہیں خریدنا پڑتا‘ اسے کبھی سبزی والے سے بحث نہیں کرنا پڑتی‘ اسے کبھی فیڈر اور چوسنی نہیں خریدنی پڑتی‘اسے کبھی سالگرہ کی تاریخ یاد نہیں رکھنی پڑتی‘ اسے کبھی پیٹی کھول کررضائیوں کو دھوپ نہیں لگوانی پڑتی‘ اسے کبھی دال ماش اور کالے ماش میں فرق کرنے کی ضرورت نہیں پیش آتی‘اسے کبھی نیل پالش ریموور نہیں خریدنا پڑتا‘ اسے کبھی اپنی فیس بک کا پاس ورڈ کسی کو بتانے کی ضرورت پیش نہیں آتی‘ اسے کبھی گھر آنے سے پہلے موبائل کے سارے میسیجز ڈیلیٹ کرنے کی فکر نہیں ہوتی‘اسے کبھی ہیرکلپ نہیں خریدنا پڑتے‘ اسے کبھی لیڈی ڈاکٹر کی ضرورت نہیں پڑتی‘ اسے کبھی موٹر کا پٹہ بدلوانے کی فکر نہیں ہوتی‘ اسے کبھی اچھی کوالٹی کے تولئے لانے کی ٹینشن نہیں ہوتی‘ اسے کبھی کسی کے خراٹے نہیں سننے پڑتے‘اسے کبھی نیند کی گولیاں نہیں خریدنی پڑتیں ‘اسے کبھی سکول کی فیس ادا کرنے کا کارڈ موصول نہیں ہوتا‘ اسے کبھی کرکٹ میچ کے دوران یہ سننے کو نہیں ملتا کہ ’’آفریدی اتنے گول کیسے کرلیتا ہے؟‘‘ ۔۔۔کسی سینئر کنوارے کا شعر ہے کہ ۔۔۔’’ہم سے بیوی کے تقاضے نہ نباہے جاتے۔۔۔ورنہ ہم کوبھی تمنا تھی کہ بیاہے جاتے‘‘۔

یہ تحریر 67مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP