متفرقات

کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کے وفد کا دورہ چونڈہ سیکٹر

ستمبر1965ء کا سورج ابھی پوری طرح طلوع بھی نہیں ہو پایا تھا کہ بھارت کی چار ڈویژن فوج فرسٹ آرمڈر ڈویژن ١٤ انفنٹری 26 انفنٹری اور ٦مائونٹین چونڈہ کی مغربی سمت سے ریلوے لائن عبور کرتے ہوئے فتح چونڈہ کا ناپاک منصوبہ دل میں لئے حملہ آور ہوئی۔
دھول دھویں اور گولوں کی گھن گرج کے درمیان بھارتی کالا ہاتھی فورس (فرسٹ آرمڈ ڈویژن)کے بدمست ٹینک چیختے چنگھاڑتے آگے بڑھ رہے تھے۔ پاک فوج کا 15 ڈویژن دفاعی پوزیشن پر گھات لگائے انتظار کر رہا تھا۔ جونہی دشمن ہدف پر واضح ہوا، اللہ اکبر کی صدائوں کے ساتھ پاک فوج کے جوانوں نے ان بدمست ہاتھیوں کا شکار شروع کر دیا۔ آرٹلری کمانڈر بریگیڈیئر امجد چوہدری نے جوابی حملہ کے لئے قیادت سنبھال لی اور ایسے درست طریقہ سے ہدف پر گولہ باری کروائی کہ بھارتی فرسٹ آرمڈ ڈویژن پر موت سایہ فگن ہوگئی۔ 25کیولری کے پیٹن ٹینک بھی قہر بن کر دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ دشمن کے ٹینک یکے بعد دیگرے تباہ ہونے لگے۔ حملہ آور بھارتی فوج پوری طرح پاک فوج کے بچھائے ہوئے ڈیتھ کیج میں پھنس چکی تھی۔ ''
یہ داستان شجاعت 25کیولری کے سپاہی محمد ظفر، چونڈہ محاذ پرکمانڈ اینڈ سٹاف کالج کے معمول کے دورے پر آئی ٹیم کے میجرصاحبان کو سنا رہے تھے۔ وہ سپاہی محمد ظفر جو نہ صرف اس جنگ کے چشم دید گوا ہ تھے بلکہ انہوں نے ٹینکوں کی اس تاریخی جنگ میں ہونے والی لڑائی میں حصہ بھی لیا تھا۔ 
لیفٹیننٹ کرنل فضلِ رازق کی قیادت میں یہ وفد پوری دلچسپی اور توجہ سے ٩٠ سالہ سپاہی محمد ظفر کی داستان سن رہا تھا۔19ستمبر کو چونڈہ ریلوے لائن کے آس پاس تین کلو میٹر کے علاقہ میں حق و باطل کا معرکہ جاری تھا۔ جنگ اس حد تک اپنے نقطہ عروج کو چھو چکی تھی کہ دونوں طرف سے فوجی جوان ایک دوسرے سے دست بدست لڑائی کر رہے تھے۔ پاک فوج کے جوان بھارتی سورمائوں پر سنگینوں سے حملہ آور ہوئے۔ نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی صدائوں میں پاک فوج کے جوان اپنی جانیں اللہ کے سپرد کر رہے تھے۔ بھارتی سورما دہشت زدہ پرندوں کی طرح نرغے میں تھے۔ اللہ کے پراسرار بندے بھارتی فوج کی عددی برتری اور اسلحے کے گھمنڈ کو خاک میں ملا رہے تھے۔ سپاہی محمد ظفر چشم تصور سے54سال پہلے کے اس دن کو دیکھ رہے تھے اور کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کے جوان محبت اور رشک بھری نظروں سے سپاہی محمد ظفر کو دیکھ رہے تھے۔ 
سپاہی محمد ظفر نے بتایا کہ وہ بھارتی رجمنٹ کے ایک مرہٹے کو جہنم واصل کرنے کے بعد  دوسرے مرہٹے پر سنگین سے حملہ آور ہوئے۔ پہلے ہی حملہ میں وہ زمین پر گر پڑا۔ پیٹ پر سنگین کا ایک ہی وار کاری ثابت ہوا۔ اچانک ایک گولہ پھٹنے سے ان کے سر پر شدید چوٹ آئی اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ دو ہفتہ بے ہوش رہنے کے بعد جب وہ ہوش میں آئے تو انہیں بتایا گیا کہ سر پر چوٹ کے علاوہ ان کا ایک بازو اور ٹانگ کی ہڈیاں بھی ٹوٹ چکی تھیں اوراب ان کا آپریشن کرنا پڑے گا۔کھاریاں ملٹری ہسپتال میں ان کے بازو اور ٹانگ کو مصنوعی ہڈی لگا کر چھ ماہ بعد رخصت کر دیا گیا۔
انہوں نے دوبارہ 25کیولری جوائن کر لی۔ سپاہی محمد ظفر نے بعد ازاں 1971ء کی جنگ میں بھی حصہ لیا۔ سپاہی محمد ظفر آج بھی اپنے گائوں دھول باجوہ جو چونڈہ سے پانچ کلو میڑکے فاصلے پر واقع ہے، اپنے اہل و عیال کے ساتھ خوش و خرم ایک غازی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ سپاہی محمد ظفر نے بتایا کہ باپ دادا اور بھائی، بہنوں، پوتوں اور دوسرے قریبی رشتہ داروں سمیت ان کے خاندان کے 14افراد پاک فوج میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں یا دے چکے ہیں۔
جب سپاہی محمد ظفر نے پاک فوج کے آفیسرزکو یہ بتایا کہ وہ آج بھی ایک گائے اور ایک بھینس کو خود کھیتوں سے چارہ لا کر ڈالتے ہیں تو شرکا ئِ محفل نے تالیاں بجا کر محمد ظفر کو خراج عقیدت پیش کیا۔ 
محمد ظفر جیسے نہ جانے کتنے ہیرواور کتنے غازی پاکستان کے مختلف مقامات پر گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پاک فوج کی اس اعزازی تقریب کے اختتام کے بعد سپاہی ظفر آنکھوں میں آنسو اور دل میں اپنے سہانے دنوں کی یادیں لئے رخصت ہوئے۔ 
افواج پاکستان کی یونٹ41ہارس کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کے وفد کی میزبانی کے فرائض سر انجام دے رہی تھی۔ 41ہارس کے سی اولیفٹیننٹ کرنل فیصل نے سٹاف کالج کی پوری ٹیم کو سرزمین چونڈہ پر خوش آمدید کہا اور چونڈہ کی لڑائی کے بارے میں بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ8ستمبر کو صبح چھ بجے چاربھارتی ڈویژن فوج نے تین مقامات باجرہ گڑھی، چاروہ اور نکھنال سے پاکستانی سرحد عبور کی۔ بھارتی فوج کو کسی خاص مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پاک رینجرز ایک گھنٹہ داد شجاعت دینے کے بعد پیچھے ہٹ گئے۔ ابھی بھارتی فوج دس کلومیٹر کا فاصلہ ہی طے کر پائی تھی کہ پاکستان ائیر فورس کے طیاروں نے بھرپور حملہ کیا۔ حملے سے بھارتی فوج کو کوئی خاص نقصان تونہ پہنچا البتہ ان چارڈویژن کا ایڈوانس ایک گھنٹے تک رک گیا۔ 
چونڈہ کے ابتدائی محاذوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوںنے بتایا کہ پاکستانی سرحد پر پاکستانی فوج کی طرف سے ابتدا میں مزاحمت اتنی کم کیوں تھی۔ چھ ستمبر کو 24 بریگیڈ کی25کیولری اور2پنجاب پہلے ہی چونڈہ کے پاس کسی متوقع حملہ سے نمٹنے کے لئے پوزیشن لے چکی تھیں۔ لیکن چھ اور سات ستمبر کی درمیانی رات کو جسڑکے پل پر بھارتی فوج نے حملہ کر دیا۔ 
اس وقت پورے محاذ پر 25کیولری واحد ایسی بٹالین تھی جسے متحرک کیا جا سکتا تھا۔ اُسے ہائی کمانڈ کی طرف سے جسڑ پہنچنے کا حکم ملا، یوں25کیولری اور2پنجاب فوراً ہی جسڑ کی طرف روانہ ہو گئیں اور چونڈہ کا محاذ بالکل خالی ہو گیا۔8 ستمبر کو جب صبح ساڑھے چھ بجے بھارتی فوج پاکستانی سرزمین پر حملہ آور ہوئی تو25کیولری جو کہ ابھی نارووال کے پاس تھی اور جسڑ پہنچنے ہی والی تھی کہ اس کو حکم ملا کہ فوراً واپس چونڈہ پہنچ جائے۔ ''دشمن پاکستان کی سرزمین پر داخل ہو چکا ہے اسے تباہ کر دیا جائے'' یہ تھا وہ مختصر سا آرڈر جو25کیولری کے کمانڈنگ آفیسرلیفٹیننٹ کرنل نثاراحمد خاں کو ملا۔ ساری رات سفر کے باوجود 25کیولری اور 2پنجاب کے جوان فرض کی ادائیگی کے لئے فوراً  واپس چل پڑے۔ 
پسرورپہنچ کر ٹینکوں میں ایندھن بھرنے کے بعد یہ فوجی کارواں چونڈہ کی طرف چل پڑا، وہ چونڈہ جہاں قدرت پاک فوج کے ان جوانوں سے وہ کارنامہ سرانجام دلوانے جا رہی تھی جس کے تذکرے سے آنے والی نسلیں رہتی دنیا تک اپنے نوجوانوں کا لہو گرماتی رہیں گی۔ 
٢٥کیولری ( یعنی صرف 44ٹینک) دشمن کی تلاش میں چونڈہ کی طرف بڑھنے لگی، دشمن کی تعداد کا نہ ہی اندازہ تھا اور نہ ہی مقام کا پتہ۔ بھارتی فرسٹ آرمڈ ڈویژن اس وقت سرحد سے ١٠کلومیٹر دور چوبارہ پہنچنے میں کامیاب ہو چکی تھی۔ 
25کیولری کے Aسکواڈرن اور B سکواڈرن نے اتنی تیز رفتاری سے سفر طے کیا کہ ٹینکوں کی جنگوں میں اس کی مثال کم ہی ملے گی۔8ستمبر ساڑھے گیارہ بجے25کیولری کے Aسکواڈرن کا سامنا بھارتی 4ہارس کے چھ سینچورین ٹینکوں سے ہوگیا۔ دونوں اطراف سے ٹینک اچانک ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے۔ تقریباً 500میٹر کا فاصلہ تھا۔A سکواڈرن کے کمانڈر میجر احمد نے اپنے ٹینک کے گنر کو فائرنگ کا حکم دیا۔ لیکن بدقسمتی سے فائرنگ پن ٹوٹ گئی۔ 25کیولری کا یہ ٹینک سیدھا ورکشاپ سے آیا تھا اور اس کی تکنیکی خرابی ابھی پوری طرح ٹھیک نہ ہو پائی تھی کہ اس ٹینک کو محاذ جنگ پر لانا پڑا۔ میجر احمد کے پاس بالکل وقت نہیں تھا، دشمن سامنے تھا۔ میجراحمد اپنے ٹینک سے کود کر باہر نکلے، بھاگ کر اپنے سکواڈرن کے دوسرے ٹینک پر سوار ہوئے، گنر کو پیچھے کیا اور خود فائر کیا۔ پہلا گولہ ٹھیک نشانے پر لگا، بھارتی سینچورین ٹینک تباہ ہوگیا۔ میجر احمد نے دوسرا فائر کیا، دوسرا ٹینک بھی ناکارہ ہوگیا۔ بھارتی ٹینک پیچھے ہٹے اور میدان جنگ سے بھاگ نکلے۔ میجر احمد خود بھی بری طرح جھلس گئے۔ 
کہنے کو تو یہ معمولی سی جھڑپ تھی لیکن اس واقعے نے آنے والی جنگ پر ایسے اثرات چھوڑے کہ بھارتی شکست کے اسباب میں اس کو ایک بڑا سبب سمجھا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس حملے کی وجہ سے بھارتی فوج کا ایڈوانس نہ صرف رک گیا بلکہ بھارتی کمانڈروں نے اپنے سارے ڈویژنزکو واپس سرحد کی طرف پسپا کر لیا اور سبز پیر کے پاس اگلے دو دن تک نئی منصوبہ بندی میں گزاردیئے جس سے پاکستانی فوج نے پورا فائدہ اٹھایا اور پاکستانی فوج کے ١٥ڈویژن نے اسی اثنا میں چونڈہ کے محاذ پر اپنی دفاعی پوزیشن بہت مضبوط کر لی۔ 
بریفنگ کے اختتام پر پوری ٹیم نے شہدائے چونڈہ پبلک پارک میں شہداء کی یاد میں قائم پبلک لائبریری کا دورہ کیا، جہاں راقم نے اپنے ساتھیوں رضوان اقبال، بشارت علی،سعید احمد، عبداللہ ، معز، حسن طارق اور علی جعفری سمیت کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کی ٹیم کو خوش آمدید کہا اور ٹیم کو جنگ ستمبر ١٩٦٥ئ  کے متعلق کتب اور نقشہ جات دکھائے۔ ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کو جس طرح جنگ ستمبر 1965ء چونڈہ کے محاذ کے متعلق معلومات فراہم کی جاتی ہیں اس کا طریقہ کار جان کر کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کی پوری ٹیم نے اہلیان چونڈہ کی پاک فوج سے محبت کے جذبے کو سراہا اور خوشگوار یادوں اور وطن کی خدمت کا عہد کرتے ہوئے سرزمین چونڈہ سے رخصت ہوئے۔


 مضمون نگار قصبہ چونڈہ کے مستقل رہائشی ہیں اور ایک نجی نیوز چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔

یہ تحریر 87مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP