شعر و ادب

کلامِ اقبال

جس کے پر تَو سے منّور رہی تیری شب ِ دوش
پھر بھی ہو سکتا ہے روشن وہ چراغ خاموش!
مردِ بے حوصلہ کرتا ہے زمانے کا گلہ
بندئہ حُر کے لئے نشترِ تقدیر ہے نوش!
نہیں ہنگامۂ پیکار کے لائق وہ جواں
جو ہوا نالۂ مرغانِ سحر سے مدہوش!
مجھ کو ڈر ہے کہ ہے طفلانہ طبیعت تیری
اور عیّار ہیں یورپ کے شکرپارہ فروش!
(ضربِ کلیم)    
 

یہ تحریر 37مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP