شعر و ادب

کشمیر

یہ جو اپنی وادیٔ کشمیر ہے
جنتِ ارضی کی اِک تصویر ہے
صبح نو کی دلنشیں سُرخی ہے یہ
ظلمتوں میں باعثِ تنویر ہے
موسمِ گل کی نمائندہ تھی کل
آج یہ مغموم ہے دِلگیر ہے
یہ ہمارے عہد کی تاریخ میں
خون سے لکھی ہوئی تحریر ہے
کفر کا غلبہ یہاں ممکن نہیں
خونِ مسلم میں بڑی تاثیر ہے
چھین لوں گا ایک دن اغیار سے
یہ مرے اسلاف کی جاگیر ہے
جذبۂ شوقِ شہادت ہے جواں
ہر زباں پر نعرئہ تکبیر ہے
کرامت بخاری
 

یہ تحریر 73مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP