قومی و بین الاقوامی ایشوز

کشمیر کا الحاق پاکستان سے کیوں نہیں ہوا

ریاست جموں و کشمیر کی روایتوں اور کہاوتوں پر مبنی تاریخ کئی ہزار سال پرانی ہے‘ لیکن معلوم تاریخ تقریباً چھ سو سال قبل کی ہے دو سے زیادہ مؤرخین کو پڑھنے کے بعد مختصراً مرکزی خیال یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مغل بادشاہوں کے خلاف افغانیوں نے جنگ لڑ کر کشمیر اور پنجاب پر قبضہ کیا اور طویل عرصہ حکومت کی۔ افغانیوں کا تسلط سکھوں نے ختم کیا اور پنجاب سمیت کشمیر پر حکومت کرنے لگے ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں جب انگریز برصغیر میں داخل ہوئے تو انہوں نے سکھوں سے جنگ جیت کر پنجاب سمیت پاک و ہند پر قبضہ کیا اور اس وقت کے جنگی قوانین کے تحت ہارنے کی صورت میں کشمیر بھی انگریزوں کے حوالے کیا جو بعد ازاں مہاراجہ گلاب سنگھ 75لاکھ نانک شاہی سکے انگریزوں کو ادا کر کے مشہور زمانہ ’’معاہدہ لاہور‘‘ کے تحت 1846ء میں پہلا حکمران بنا۔ 1858ء میں گلاب سنگھ کی وفات کے بعد پرتاب سنگھ حکمران بن گیا۔ یاد رہے مہاراجہ گلاب سنگھ نے انگریزوں سے ریاست جموں و کشمیر حاصل کی تو وہ ریاست کا اصل مالک بن گیا تھا جبکہ اس ریاست کے باقی باشندوں کی حیثیت کا شتکاروں کی تھی جو آپس میں اراضی بیچ اور خرید سکتے تھے لیکن قانون کے مطابق ریاست سے باہر کا کوئی شخص اراضی خرید نہیں سکتا تھا۔ یہ قانون آج بھی ریاست پر لاگو ہوتا ہے جس کی وجہ سے آزاد کشمیراور مقبوضہ کشمیر میں پاکستان یا ہندوستان کا کوئی شخص اراضی خرید نہیں سکتا۔ 1885ء میں رنبیر سنگھ حکمران بنا جو 1925ء تک رہا۔ رنبیر سنگھ کے بعد پرتاب سنگھ کا بیٹا مہاراجہ ہری سنگھ بر سر اقتدار آیا۔ مؤرّخین کے مطابق ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ تھی لیکن مہاراجہ نے چونکہ کشمیر خرید رکھا تھا اس لئے مسلمانوں کے ساتھ تیسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے مسلمانوں نے ڈوگروں سے آزادی حاصل کرنے کی سیاسی و عسکری جدوجہد‘ دو قومی نظریے کی بنیاد پر‘ پاکستان اور ہندوستان کے معرضِ وجود میں آنے سے قبل شروع کر دی لیکن ڈوگرہ سامراج اپنے خلاف ہونے والی ہر بغاوت کو کچل دیتا۔ تاہم د و قومی نظریے کی بنیاد پر تقسیم ہند نے کشمیری مسلمانوں کو ڈوگروں کے تسلط سے آزاد ی حاصل کرنے کی آرزو کو ایک راستہ دکھا دیا۔ خطے میں ہونے والی اہم تبدیلی کے پیش نظر مہاراجہ ہری سنگھ نے انگریزوں کے ذریعے پاکستان اور ہندوستان سے معاہدے کر کے ریاست کی آزادانہ حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش شروع کر دی جبکہ مہاراجہ کے خلاف غصے سے بھرے کشمیری مسلمانوں نے قائداعظمؒ ’اور اس وقت کی سیاسی قیادت‘ سے مل کر ریاست جموں و کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کی جد وجہد شروع کر دی جو مہاراجہ کو قطعی منظور نہ تھی۔ دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے ریاست جموں و کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننا چاہئے تھا لیکن بر صغیر کی سیاسی بنیادوں پر ہونے والی تقسیم کا ایک دردناک پہلو یہ بھی تھا کہ بعض ریاستوں میں مسلمان اکثریت میں تو تھے لیکن حکمرانوں کا جھکاؤ ہندوستان کی طرف تھا، اس طرح بعض ریاستوں میں غیرمسلم تعداد میں زیادہ تھے لیکن وہاں حکمران مسلمان تھے اور ان کا یقینی جھکاؤ پاکستان کی طرف تھا۔ ان حالات میں ہجرت کے دوران فسادات برپا ہوئے اور لاکھوں مسلمان اور غیرمسلم مارے گئے۔ ادھر کشمیر میں حالات یہ تھے کہ ریاست کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس کے سربراہ شیخ عبداﷲ اور مسلم کانفرنس کے سربراہ چوہدری غلام عباس نے قائداعظم ؒ کو کشمیر کے دورے کی دعوت دی ۔ دونوں رہنماؤں کا مؤقف سننے کے بعد قائداعظمؒ نے چوہدری غلام عباس کے مؤقف کی تائید کی جو کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کے خواہاں تھے اور مسلم کانفرنس کو ہی مسلم لیگ قرار دیا جبکہ شیخ عبداﷲ نے‘ جو ڈوگروں سے آزادی تو چاہتے تھے لیکن ان کا خیال تھا کہ ریاست کی آزادانہ حیثیت برقرار رہے ، ان کے موقف کو رد کر دیا گیا۔ جبکہ ریاست کا اصل حکمران مہاراجہ ہری سنگھ بھی آزادانہ حیثیت برقرار رکھنا چاہتا تھا جس کی وجہ سے بعد میں مہاراجہ ہری سنگھ اور شیخ عبداﷲ ایک ہو گئے۔ ان حالات میں جب مسلم کانفرنس کے سربراہ چوہدری غلام عباس جیل میں تھے تو آبی گاہ سرینگر میں آزاد کشمیر کے بانی صدر سردار محمد ابراہیم خان مرحوم کے گھر 19جولائی 1947میں مسلم کانفرنس کی سرکردہ قیادت نے مشہور زمانہ قرارداد الحاقِ پاکستان منظور کی۔ یہ قرار داد منظور کرنے والوں میں سید حسن شاہ گردیزی مرحوم بھی شامل تھے جن کا تعلق باغ ’آزاد کشمیر‘ سے تھا،جہاں تحریک آزادئ کشمیر کے پہلے شہید سید خادم حسین شہید کو ڈوگروں نے سر عام گولی مار کر کشمیری مسلمانوں کو بغاوت پر مجبور کر دیا تھا۔ کشمیری مسلمانوں نے جب حالات کے یہ تیور دیکھے تو انہوں نے دھیرکوٹ کے نواح میں موجود پہاڑی پر اکٹھے ہو کر جلسہ کیا جس کی صدارت پیر سید شمشاد حسین شاہ مرحوم نے کی اور مسلح جدوجہد کی قیادت 22سالہ نوجوان سردار محمد عبدالقیوم خان کے سپرد کی۔ 23اگست1947ء کو نیلہ بٹ سے شروع ہونے والی جد وجہد 15ماہ تک جاری رہی اور ریاست جموں و کشمیر کے 84ہزار مربع میل علاقے میں سے 32ہزار مربع میل علاقہ (آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان) آزاد کرایا گیا ۔ مہاراجہ ہری سنگھ کو جب اپنی پسپائی دکھائی دی اور مجاہدین سرینگر تک پہنچ گئے تو اس نے مجاہدین کے مقابلے کے لئے شیخ عبداﷲ اور ان کے ساتھیوں کو اتارا اور ہندوستان سے مدد مانگ لی کہ ریاست پر پاکستان نے حملہ کر دیا ہے۔ ہندوستان نے مجاہدین کے مقابلے کے لئے اپنی فوج بھی اتاری لیکن اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کے پاس بھی پہنچ گیا اور مؤقف اختیار کیاکہ پاکستان ریاست کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے حملہ آور ہو گیا ہے ۔ اقوام متحدہ نے یونائیٹڈنیشن کمیشن فار انڈیا اینڈ پاکستان بنایا جس نے سیز فائر کرو ا کر قراردادپاس کی کہ ہندوستان اور پاکستان رائے شماری کا اہتمام کریں جس میں کشمیری فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا ہے یا ہندوستان کے ساتھ۔ یاد رہے کہ شیخ عبداﷲ نے ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی مخالفت ضرور کی لیکن ماسوائے مہاراجہ ہر ی سنگھ کے کسی کشمیری نے الحاق ہندوستان کی بات نہیں کی۔ اس تناظر میں یہ کریڈٹ بہر حال شیخ عبداﷲ کو جاتا ہے کہ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ ماننے کے بجائے اس کی حیثیت کو متنازعہ قراردیا جس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ سیز فائر اور قرارداد آنے کے بعد لائن آف کنٹرول کے اِس پار تحریک آزادی کا بیس کیمپ قرار دے کر یہاں آزاد حکومت قائم کر دی گئی جبکہ اُس پار بھی بھارت کے زیر تسلط حکومت قائم ہوئی جسے کشمیریوں کی اکثریت نے آج تک تسلیم نہیں کیا۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک خود کو دفاعی طور پر مستحکم کرتے ہوئے ایٹمی طاقتیں بھی بن چکے ہیں لیکن بھارت کی مکارانہ سفارتی پالیسی اور مسئلے کے دوسرے فریق پاکستان کی‘ پر امن حل کے لئے کوششوں کو رد کرنے اور اقوام متحدہ کے کمیشن کی 19سے زائد قراردادوں پر عملد رآمد کے انحراف کے سبب دونوں ممالک ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں جبکہ مسئلے کے اصل فریق یعنی کشمیریوں نے پر امن جد وجہد کے بعد 1988ء سے 2002ء تک عسکری جد وجہد کی اور آج تک وہ 8لاکھ فوج کی بربریت کی وجہ سے ڈیڑ ھ لاکھ سے زائد جانیں ضائع کئے جانے کے باوجود بھارت سے آزاد ی کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے کے تاریخی اسباب کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ممکنہ حل پر نگاہ دوڑائی جائے تو پاکستان اور ہندوستان کی ریاست جموں و کشمیر کو اپنا حصہ بنانے کی خواہشات اپنی جگہ‘ لیکن اس مسئلے کے اصل فریق یعنی کشمیریوں کے پاس دو ہی آپشن ہیں اول یہ کہ ریاست جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو اور کسی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو تو پھر ریاست آزاد اور خود مختار ہو ۔مختلف وجوہات کی بناء پر ریاست جموں و کشمیر میں مقیم مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی دلی طور پر ہندوستان کے ساتھ الحاق نہیں چاہتے اور ہندوستان کو اس حقیقت کا ادراک بھی ہے کہ ریاست میں رائے شماری کے اہتمام کی ہامی بھر ی تو نتائج اس کی خواہشات کے خلاف برآمد ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر مکارانہ سفارتی پالیسی اپنائے ہوئے ہے اور مقبوضہ کشمیر میں سیکورٹی فورسز کے ذریعے ظلم و جبر اور مختلف ترغیبات دے کر کشمیریوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کے تما م حربوں پر کشمیری پانی پھیر دیتے ہیں جو اس بات پر متفق ہیں کہ وہ پر امن طریقے سے یا بزور بازو حقِ استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ صاحب تحریر آزادکشمیر کے اسلام آباد سے شائع ہونے والے اخبار روزنامہ جموں و کشمیر میں ایگزیکٹو ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور کشمیر نیوز پیپرز ایڈیٹرز کونسل کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔

سلامتی کونسل

احمد فراز

پھر چلے ہیں مرے زخموں کا مداوا کرنے

میرے غمخوار اُسی فتنہ گرِ دہر کے پاس

جس کی دہلیز پہ ٹپکی ہیں لہو کی بوندیں

جب بھی پہنچا ہے کوئی سوختہ جاں کشتۂ یاس

جس کے ایوانِ عدالت میں فروکش قاتل

بزمِ آرا و سخن گسترو فرخندہ لباس

ہر گھڑی نعرہ زناں ’’امن و مساوات کی خیر‘‘

زر کی میزان میں رکھے ہوئے انسان کا ماس

کون اس قتل گہہِ ناز کے سمجھے اسرار

جس نے ہر دشنہ کو پھولوں میں چھپا رکھا ہے

امن کی فاختہ اُڑتی ہے نشاں پر لیکن

نسلِ انساں کو صلیبوں پہ چڑھا رکھا ہے

اس طرف نطق کی بارانِ کرم اور ادھر

کاسۂ سر سے مناروں کو سجا رکھا ہے

 

جب بھی آیا ہے کوئی کشتۂ بیداد اُسے

مرہمِ وعدۂ فردا کے سوا کچھ نہ ملا

یہاں قاتل کے طرفدار ہیں سارے قاتل

کاہشِ دیدۂ پُرخوں کا صلہ کچھ نہ ملا

کاشمر کوریا ویت نام دومنکن کانگو

کسی بسمل کو بجز حرفِ دعا کچھ نہ ملا

قصرِ انصاف کی زنجیر ہلانے والو

کجکلاہوں پہ قیامت کا نشہ ہے طاری

اپنی شمشیر پہ کشکول کو ترجیح نہ دو

دم ہو بازو میں تو ہر ضربِ جنوں ہے کاری

اس جزیرہ میں کہیں نور کا مینار نہیں

جس کے اطراف میں اِک قلزمِ خوں ہے جاری

’’جوہرِ جامِ جم ازکانِ جہانِ دگراست

تُو توقّع زگلِ کوزہ گراں می داری‘‘

یہ تحریر 13مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP