تنازعہ کشمیر

کشمیر فائلز فلم جس کا مقصد نسل کشی ہے

سوشل میڈیا کے عام ہونے سے ایک تکلیف یہ بھی اضافی ہوگئی ہے کہ اب بھارت میں مسلم کشی کے صرف قصے نہیں سنتے، ہم انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ہم آئے روز بھارت کے بڑے شہروں کے گلی محلوں میں مسلمانوں کے گھروں کو جلتے دیکھتے ہیں، ہمیں وائرل وڈیوز دکھاتی ہیں کہ کیسے مسلمان لڑکوں کو گلیوں میں گھسیٹ کر مارا گیا، یو پی کے چھوٹے شہروں میں پورے پورے مسلمان خاندان اپنے گھروں کی چھتوں پہ پناہ اور مدد کے انتظار میں کھڑے نظر آئے۔ہمیں سوشل میڈیا نے آر ایس ایس  کے غنڈوں کی آن لائن ہرزہ سرائی دکھائی، مسلمان خواتین کی تصاویر کو کیسے شدت پسندوں نے اپنے مذموم پراپیگنڈے کے لیے استعمال کیا، یہ بھی دیکھا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ہمارا ایک مغالطہ بھی درست کردیا، ایک خوش فہمی کو بھی واضح کردیا کہ ہندو انتہا پسندی کا عروج صرف کشمیر کی حد تک نہیں، یہ بھارت بھر میں اپنے پنجے گاڑھ چکا ہے۔


مسلم مخالف جذبات بھڑکانے کے لیے بالی وڈ میں کئی فلمیں بنی ہیں، جن میں پاک بھارت دشمنی کو ریفرنس بنایا گیا۔ درجنوں پراپیگنڈا فلمیں طالبان اور القاعدہ کے عروج کے دور میں بنیں، جن میں فلم کا ہیرو بھارتی ہندو اور ولن دہشتگرد یقین کی حد تک پاکستانی دکھایا جاتا رہا۔



اب تک تو جو دیکھا سو دیکھا، گلی کے غنڈوں، انتہا پسند ہندوسیاسی لیڈران کے اکسائے لڑکوں کو ہی جتھوں کی شکل میں دیکھا لیکن بھارت کی فلم انڈسٹری کے نامی گرامی دماغوں نے اب ہندو انتہا پسندی کے جذبات بھڑکانے کے لیے بالی وڈ سکرین کا استعمال کیا ہے۔
مسلم مخالف جذبات بھڑکانے کے لیے بالی وڈ میں کئی فلمیں بنی ہیں، جن میں پاک بھارت دشمنی کو ریفرنس بنایا گیا۔ درجنوں پراپیگنڈا فلمیں طالبان اور القاعدہ کے عروج کے دور میں بنیں، جن میں فلم کا ہیرو بھارتی ہندو اور ولن دہشتگرد یقین کی حد تک پاکستانی دکھایا جاتا رہا۔


اس فلم میں حقیقت نہیں دکھائی گئی کیوں کہ حقیقت دکھانا کبھی ان کا مقصد تھا ہی نہیں۔فلم کا جو مقصد تھا وہ بھارت بھر کے ان سنیما ہالز میں نظر آیا جہاں جہاں انتہا پسند نعروں کی گونج میں اس فلم کی نمائش ہوئی۔ فلم کشمیر فائلز اکساتی ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے، یہ مقبوضہ کشمیر کے ڈیموگرافک لینڈ سکیپ کو بدلنے کی مذموم کوشش ہے۔


بالی وڈ فلموں میں مسلمانوں کی پروفائلنگ کا مخصوص انداز بھی عجیب ہے، گلے میں تعویز، آنکھوں میں کاجل کے ڈورے ، سر پہ نماز کی ٹوپی اور کندھے پہ رومال پڑا، قمیض شلوار میں ملبوس بھارتی مسلمان شہری  اور کچھ نہیں صرف بم دھماکے کرنے کے پلاٹ بناتا دکھایا جاتا ہے۔  
بھارتی سنیما کو مسلم نسل کشی کے لیے استعمال کرنے کی تازہ واردات بڑی شدید ہوئی ہے۔ فلم کشمیر فائلز کو بھارت میں شدت پسندوں کی جانب سے کھڑکی توڑ پذیرائی ملی ہے۔مگر حیرت ہے کہ بظاہر سلجھے ہوئے فلم بینوں نے بھی اسے پسند کرکے حیران کردیا کہ نفرت خریدنے والے ہزاروں نہیں لاکھوں میں بھی ہوسکتے ہیں۔
فلم کشمیر فائلزکو پبلک ڈیمانڈ اور موجودہ نیٹ فلکس ٹرینڈز کے عین مطابق ڈاکیومنٹری ڈرامہ سٹائل میں پاپولر بالی وڈ سنیما سے مختلف انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ 
فلم کشمیر فائلز انیس سو نوے(1990) میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے فسادات پہ بنائی گئی ہے۔ ان فسادات میں وادی میں رہنے والے کشمیری پنڈتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ بین الاقوامی سطح پر رپورٹ ہوا ہے اس لیے یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ نوے کے مقبوضہ کشمیر فسادات کا دوسرا رخ وادی میں مسلمانوں کی اکثریت کو نشانہ بنانا تھا، مسلمانوں کی نسل کشی کا جواز پیدا کرنا تھااور یہ جواز ریاستی دہشتگردی کے باقاعدہ نفاذ کی بنیاد بنا۔
نوے کی دہائی کی ابتدا میں پنڈتوں کے خلاف فسادات نے آنے والے برسوں میں بھارتی فوج کے پرتشدد آپریشنز کا دروازہ کھول دیا جن کا نشانہ نہتے کشمیری مرد اور گھر میں بیٹھی بے قصور مسلمان کشمیری خواتین بنیں۔
کشمیر کی تاریخ میں کشمیری پنڈت کی بے گھری ایک صفحہ ضرور ہے مگر اس تاریخ کا ہر صفحہ کشمیری مسلمانوں کے بے گناہ خون سے رنگا ہوا ہے، کشمیری خواتین کی عصمت دری کے قصوں سے بھرا ہوا ہے، بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری لڑکیوں کی اجتماعی زیادتی کے قصوں سے پُر ہے۔


امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ میں لکھا جانے والا یہ ایک انوکھا فلم ریویو ہے۔ اس میں رعنا ایوب نے اپنے تلخ تجربے کو بیان کیا کہ فلم کے آغاز پہ ہی ہال   'بھارت ماتا کی جے' کے نعروں سے گونج اٹھا،فلم میں جیسے ہی کسی مسلمان کریکٹر کو دکھایا جاتا، ہال میں  'جے شری رام' کے نعرے لگائے جاتے، فلم دیکھنے والے ہر اگلے سین پہ اپنے تبصرے دیتے کہ مسلمان ہوتے ہی خراب ہیں، یہاں تک کہ صحافی رعنا ایوب کو سنیما چھوڑ کر باہر جانا پڑا، جاتے جاتے انہیں کہا گیا کہ وہ پاکستان چلی جائیں۔


فلم کشمیر فائلز دکھاتی ہے کہ کشمیری مسلمانوں نے ہندو پنڈتوں کے خلاف قتل عام اور فسادات اس لیے کیے تاکہ وہ کشمیر چھوڑ کر چلے جائیں یا مسلمان ہوجائیں۔ فلم میں دکھائے گئے مناظر کو مختلف حالات اور ادوار میں ہونے والے حقیقی واقعات کو آپس میں جوڑ کر ایسے پیش کیا گیا کہ جیسے یہ سب واقعتاً ایسے ہی ہوا تھا۔
مسلم کشمیری رہنمائوں، کشمیر کی آزادی کے لیے پرامن جدوجہد کرنے والوں ، کشمیری طلبا اور کشمیر میں مسلمانوں پہ ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والے سماجی کارکنوں، صحافیوں سب کو ولن کے روپ میں دکھایا گیا ہے۔ مختصراً  یہ سمجھ لیں کہ کہانی، اداکاری اورسکرپٹ نے مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں یعنی مسلمانوں کو ظالم دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اس فلم میں حقیقت نہیں دکھائی گئی کیوں کہ حقیقت دکھانا کبھی ان کا مقصد تھا ہی نہیں۔فلم کا جو مقصد تھا وہ بھارت بھر کے ان سنیما ہالز میں نظر آیا جہاں جہاں انتہا پسند نعروں کی گونج میں اس فلم کی نمائش ہوئی۔
فلم کشمیر فائلز اکساتی ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے، یہ مقبوضہ کشمیر کے ڈیموگرافک لینڈ سکیپ کو بدلنے کی مذموم کوشش ہے۔
بھارتی صحافی رعناایوب نے اس فلم کو سنیما میں دیکھنے کی جرأت دکھائی، اور وہ انتہاپسند ہندو شائقین کے شدید ردعمل کے باعث فلم نصف چھوڑ کر باہر آگئیں۔
امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ میں لکھا جانے والا یہ ایک انوکھا فلم ریویو ہے۔ اس میں رعنا ایوب نے اپنے تلخ تجربے کو بیان کیا کہ فلم کے آغاز پہ ہی ہال   'بھارت ماتا کی جے' کے نعروں سے گونج اٹھا،فلم میں جیسے ہی کسی مسلمان کریکٹر کو دکھایا جاتا، ہال میں  'جے شری رام' کے نعرے لگائے جاتے، فلم دیکھنے والے ہر اگلے سین پہ اپنے تبصرے دیتے کہ مسلمان ہوتے ہی خراب ہیں، یہاں تک کہ صحافی رعنا ایوب کو سنیما چھوڑ کر باہر جانا پڑا، جاتے جاتے انہیں کہا گیا کہ وہ پاکستان چلی جائیں۔
اسی فلم کے حوالے سے مزید انتہا پسند جذبات دیکھنے ہیں تو یوٹیوب پہ ایسی درجنوں وڈیوز موجود ہیں جس میں انتہا پسند کھل کر اس فلم سے بھڑکنے والے اپنے جذبات ظاہر کررہے ہیں۔

سنیما گھروں میں اس فلم کی نمائش کے بعد مسلم نسل کشی کے باقاعدہ اعلانات کیے گئے، فلم دیکھنے والوں نے نعرے لگائے دیش کے غداروں کو،گولی مارو سالوں کو۔ ایک فلم بین یہ کہتا نظر آیا کہ مسلمانوں کی لڑکیوں سے زبردستی شادی کرو تاکہ ان کی اگلی نسل ہندو ہو۔ ٹوئٹر،فیس بک پر ایسے کئی بھارتی انتہا پسندافراد بھی سامنے آئے جو لوگوں کو مفت کشمیر فائلز کی ٹکٹ بانٹ رہے تھے اور اس فلم کو دیکھنا دیش بھکتی یعنی وطن سے محبت قرار دے رہے تھے۔
یہ تو تھا پبلک کا ردعمل۔ اب ذرا بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی بھی سن لیں، ان کے مطابق فلم حقیقت اور آرٹ کا شاندار نمونہ ہے جس کے خلاف مہم چلانے والے حقیقت کی نفی کررہے ہیں۔ اس آرٹ اور حقیقت کے نمونے کو آرٹ کی کسی تعریف سے نہیں پرکھا جاسکتا، ہاں اسے ایک مذہب کے ماننے والوں کے خلاف عوامی ردعمل بنانے، مسلم نسل کشی کو ہوا دینے کا ایک ذریعہ اور پراپیگنڈہ کہا جائے ۔ اسے نفرت کا پرچارک، خونی کھیل کا مہرہ کہا جائے۔ ||


 

یہ تحریر 132مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP