تنازعہ کشمیر

کشمیربرصغیر کاایک رستاہوا زخم

دنیاکے بلند ترین پہاڑی سلسلے کوہ ہمالیہ کے دامن میں آباد اورخشکی پرقائم سب سے حسین وادی کو تاریخ’’جموں وکشمیر‘‘یا’’کشمیر‘‘کے نام سے پکارتی ہے۔ کشمیرمیں داخل ہونے والاپہلایورپی ’’برنیئر‘‘رقمطرازہے’’سچ تویہ ہے کہ میں تخیل کی انتہائی جولانی میں بھی یہ تصورنہیں کرسکتاتھاکہ یہ اقلیم اتنی حسین ہو گی۔‘‘ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں گیارہ ہزارمربع میل پرجنگلات ہیں جن میں دیودار‘چیل ‘نیندر اور پاپولرکے درخت شامل ہیں۔شرح خواندگی67فیصدہے۔سرمائی دارلحکومت جموں اورگرمائی سرنیگرہے۔

 

مقبوضہ وادی کے تین ڈویژن جموں‘لداخ اور سری نگرویلی ہیں جبکہ اضلاع بائیس ہیں۔ انگریزی اوراُردوکوسرکاری زبانوں کادرجہ حاصل ہے ۔ گردونواح میں بولی جانے والی زبانوں میں ڈوگرہ‘شینا‘کشمیری ‘رؤف اور ہندی شامل ہیں۔ 2011 میں کی گئی مردم شماری کے مطابقمقبوضہ وادی کی کل آبادی ایک کروڑ پچیس لاکھ ‘اڑتالیس ہزارنوسوپچیس ہے۔ مغلوں‘ افغانوں کے بعد سکھوں 1819-1846 نے اس مظلوم قوم کوغلام بنایا۔ سکھوں کے متعلق ’’تاریخ کشمیر‘‘میں محمددین فو ق لکھتے ہیں’’افغانوں کی حکومت اگر تلخ گھونٹ تھی تو خالصہ بہادرزہرمیں بجھے ہوئے تیرنکلے۔‘‘اس کے بعد گلاب سنگھ کو سکھوں سے غداری اورانگریز سے وفاداری کے صلہ میں بدنامِ زمانہ معاہدہ امرتسرکے ذریعے کشمیریوں کو پچھترلاکھ کے عوض ایسے بیچا گیاجیسے مال مویشی کی سوداگری ہو۔ افسوس!یہ جنت نظیروادی صدیوں سے ظلم سہتی آرہی ہے۔کبھی غلہ بچانے کی خاطر کوئی رنبیرسنگھ اس کے فرزندوں کو برصغیرکی سب سے بڑی میٹھی جھیل’’ وُلر‘‘ میں ڈبودیتاہے توکبھی سردارشمس خان کومسلمان ہونے کے جُرم میں سزاکامزہ چکھانے کے لئے اس قدرآزردہ کیاجاتاہے کہ وہ ہتھیاراُٹھاتاہے اورپھرتاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ کس قدربھیانک اندازمیں گلاب سنگھ نے محض سولہ دن میں کم وبیش چھ ہزارافراد کوپہاڑوں سے اتارکرپلندری میں ان کے سر کاٹے اور سرِعام لٹکا دیئے‘ آج بھی اس جگہ کو سولتیراں کے نام سے پکاراجاتاہے۔

 

تاریخ آزادی کشمیرمیں1931کو خاص مقام حاصل ہے۔ اودھم پورکے ایک ہندو کواس لئے وراثت سے محروم کیاجاتاہے کہ وہ اسلام لاچکاہے ۔جموں میں معتصب ہندو کانسٹیبل (1931)مسلمانوں کوجمعہ کاخطبہ دینے سے منع کرتاہے ‘ اسی دوران میرپورکے فضل دادکا پانچسورہ ہندوکانسٹیبل زمین پر گرا دیتا ہے‘ سرینگرمیں اسی دوران مقدس کتاب کے اوراق پبلک غسل خانے میں پائے گئے۔ مسلمانوں نے ایک جوان کی تقریر سے متاثرہوکراحتجاج کیاتوگورنرنے اسے قید کیا اورہجوم پرگولی چلادی جس سے چالیس زخمی ہوئے اوراکیس جام شہادت نوش کرگئے ۔زخمیوں کو سرکاری ہسپتال میں جگہ نہ دی گئی جبکہ مشنری ہسپتال کے ایک خداترس نے ان کوداخل کیا ‘اس بارے جسٹس صراف رقمطراز ہیں’’یہ ایسی رات تھی جب کسی گھرمیں نہ کھاناپکااورنہ کسی نے کچھ کھایا۔ساراشہرمغموم تھا۔‘‘ جنازے اٹھانے کی اجازت بھی محض 26افرادکوملی ۔

 

ہندوستان جس ریاست کشمیرکواپنااٹوٹ انگ کہتاہے اس کی تاریخ‘ ثقافت‘ زبان اورجغرافیہ تک اس سے مختلف اورجداہے۔ہندوستان اپنی تاریخ میں بہت کم عرصہ وحدت کے روپ میں رہا جب کہ کشمیرایک علیحدہ ریاست کے طورپرتاریخ میں موجودرہا۔والٹرلارنس اپنی کتاب ’’ویلی آف کشمیر‘‘میں رقمطرازہے’’ اس بات کاواضح ثبوت موجودہے کہ کشمیر اس وقت سے ایک باقاعدہ مملکت رہی ہے جب سے تاریخ لکھنے کارواج ہوا۔‘‘قدیم کشمیرکے معتبرترین مصنف پنڈت کلہن کی کتاب ’’راج ترنگنی‘‘کے مطابق4000قبل مسیح سے لے کر1324تک اکیس ہندوراجگان کے خاندانوں نے کشمیرکے تخت پرحکومت کی ہے جن میں سے 18کشمیری تھے۔تیرہ سوچوبیس میں بدھ مہاراجہ رنچن نے شرف الدین عبدالرحمن المعروف بلبل شاہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیااورکشمیرمیں اسلام کاآغاز ہوا۔

 

ہندوستان کادعوی ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ان کے ساتھ الحاق کاوعدہ کیا تھا جبکہ تاریخ بتاتی ہے کہ تاجِ برطانیہ نے ’’برطانوی ہند‘‘کی تقسیم کے ساتھ ساتھ برٹش سٹیٹس آف انڈیا کو یہ مشورہ دیاتھاکہ پندرہ اگست تک صوبہ جات کی تقسیم سے وجود میں آنے والی مملکتوں میں سے کسی ایک سے الحاق کرلیں ۔اس رو سے مہاراجہ کا حقِ الحاق پندرہ اگست کے بعد ختم ہوجاتاہے۔اگر اس کے بعد بھی ان کا حق باقی ہے تو اس کے لئے ماؤنٹ بیٹن کے اس جواب کو دیکھتے ہیں جو انھوں نے مہاراجہ کے خط کے جواب میں26اکتوبرکو لکھاتھا’’ ہماری پالیسی کے مطابق جس ریاست کا الحاق متنازعہ ہواسے عوام کی خواہشات کے مطابق طے ہوناچاہئے۔میری حکومت یہ چاہتی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں نظم ونسق کی بحالی اورریاست کو حملہ آوروں سے پاک کرنے کے بعدالحاق کا مسئلہ عوام کی کانفرنس پر چھوڑ دیاجائے‘‘ (اقتباس شیرکشمیرشیخ عبداللہ از کلیم اختر) دوسری بات یہ کہ بغاوت کے بعد شخصی حکومت والی ریاستوں میں صورتحال سنبھلنے تک کسی کا اختیار باقی نہیں رہتااورمہاراجہ کی ریاست میں تو ظلم کی چکی میں پستے عوام علمِ جہاد بلند کر چکے تھے ۔کشمیرکے معتبرہندوصحافی پنڈت پریم ناتھ بزازجو کشمیری نسل سے تھے لکھتے ہیں: ’’میراخیال ہے کہ ہندوستانی فوجوں نے ریاستی باشندوں کی مرضی کے خلاف قبضہ جما رکھا ہے۔ یہ اقدام سراسر وحشیانہ چھیناجھپٹی ہے جو کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی۔ اس کا نتیجہ خطرناک ثابت ہوگا‘اس وقت تو مسلمان ہی بھارتی حکومت کے مظالم کا تختہ مشق بنے ہوئے ہیں اگر یہی صورت حال رہی تو آگے چل کر ہندؤوں کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گاجو شاید مسلمانوں کی نسبت زیادہ تلخ ہو۔لہٰذا میں پکا ہندو اور سچا کشمیری ہونے کی حیثیت سے یہ مطالبہ کروں گا کہ ہندوستانی فوجیں میرا پیارا وطن چھوڑ دیں۔کشمیری خود کسی ملک کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں گے چاہے وہ مملکت پاکستان ہو یا بھارت۔ وہ صرف اس طرف جھکیں گے جدھر ان کا اپنا فائدہ ہوگا۔ ہفت روزہ نصرت۔لاہور۔1960

 

1931کے بعد تقسیم ہند 1947میں ہونے والے جہاد میں کشمیریوں نے اپنے حق کے لئے ایک بڑی قربانی دی۔ صراف صاحب لکھتے ہیں کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق جموں کے ان فسادات کے دوران کم وبیش 25ہزار لڑکیوں کو اغوا کیاگیا۔ کشمیرٹائمز کے ایڈیٹرمسٹرجے ۔کے۔ ریڈی رقمطرازہیں کہ ’’گزشتہ دس دنوں میں ریاست کشمیرکے صوبہ جموں میں بیس ہزار سے زائد بے گناہ مسلمان موت کے گھاٹ اتاردیئے گئے۔جموں کے تمام دیہات سے مسلمانوں کو بے دخل کرنے کے لئے ایک باقاعدہ منظم پروگرام بنایاگیا۔‘‘

 

ہندوستان کو ’’شیخ عبداللہ ‘‘کی صورت میں ایک مہرہ ہاتھ آگیا‘جس نے ریاست میں حکومت بنانے کے بعد الحاق کی حمایت کردی جبکہ اس سے قبل کشمیرکی نمائندہ جماعت مسلم کانفرنس نے تقسیم سے قبل الحاق پاکستان کی قراردادمنظورکی تھی۔ مگر اسی شیخ عبداللہ کو جب خودمختاری کاخواب ستانے لگا اوراس نے الحاق کی مخالفت کی توہندوستان نے اسے سلاخوں کے پیچھے پہنچادیا۔

 

کشمیریوں نے ایک حصے کو آزاد کروالیاجوکہ آزادکشمیرکے نام سے جانا جاتا ہے۔یکم جنوری1948 کوپنڈت نہرو اقوام متحدہ کے دفتر جا پہنچے۔ مکروفریب پرمبنی تحریرجمع کروائی توپاکستان نے اپناموقف پیش کیااورکہاکہ جیسے ہی بھارت کے قدم مقبوضہ وادی میں مضبوط ہوئے تو یہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی دھجیاں بکھیردے گا۔ پھروقت نے ثابت کیاکہ پاکستان کے خدشات درست تھے۔ 13اگست 1948کو سلامتی کونسل کی قراردادمنظور ہوئی کہ’’ فوری طورپرجنگ بند کی جائے ۔‘‘مزید برآں

 

ریاست جموں وکشمیرسے پاکستان وہندوستان کی افواج اوراسلحہ برادر افراد نکل جائیں۔جموں وکشمیرمیں ایسی حکومت قائم کی جائے جس میں مختلف عناصرکو نمائندگی ملے۔ صورت حال معمول پر آئے تو ریاست میں آزادانہ اور غیرجانب دارانہ رائے شماری کرائی جائے۔ بھارت نے وقتی طورپرقراردادتسلیم کرکے ردی کی ٹوکری میں ڈال دی اور 30اکتوبر انیس سواڑتالیس کو ایمرجنسی کے طورپرشیخ عبداللہ کی حکومت تشکیل دی۔ یکم جنوری 1949 کو سیز فائرہوا جس میں 35 فیصد کشمیرہی آزادہوسکا۔

 

مگر اگست 1950تک ہندوستان کی جانب سے کوئی بھی تعمیری ومثبت قدم نہ اٹھایاگیا۔ اقوام متحدہ نے پھر آسٹریلوی جج سراوون ڈکسن کو 1950میں اپنانمائندہ بنا کربرصغیربھیجا۔جس کے پلان کے چیدہ چیدہ نکات یہ تھے۔

۔ پاکستان کی افواج کشمیر سے پہلے نکل جائیں اور کچھ روز بعد بھارتی افواج بھی چلی جائیں۔

۔ آزادکشمیرکی افواج اورناردرن سکاؤٹس جیسی مسلح تنظیمیں ختم کردی جائیں۔

۔ بھارتی مقبوضہ کشمیرکی افواج اورملیشیاکوتوڑدیاجائے ۔

اس کے علاوہ ان کے پاس یہ ترکیب بھی تھی کہ جموں وکشمیرمیں ایسی حکومت قائم ہو جو مکمل طورپرغیرجانب دار ہو اورایسابھی ممکن ہے کہ سارے علاقے کا کنٹرول اقوام متحدہ خود سنبھال لے اوررائے شماری کا بندوبست کرے۔ مگر بھارت نے سراوون ڈکسن کی سفارشات کومکمل طورپر مستردکردیاکیونکہ اسے عوام کی اکثریت کے جھکاؤکابخوبی اندازہ تھا۔

 

سراوون ڈکسن کی ناکامی کے بعدسابق امریکی سینیٹرڈاکٹرگراہم کو اقوام متحدہ کی جانب سے بھیجاگیاجنھوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ پاکستان نے تمام تجاویز پر عمل درآمد کے حق میں رائے دی ہے اورمکمل تعاون کیاہے مگرہندوستان کارویہ منفی ہی رہاہے۔

 

1953 میں شیخ عبداللہ کو کشمیر کی خودمختاری کانعرہ بلندکرنے پر گرفتار کیا گیا۔ دی ٹیلی گراف لکھتاہے کہ’’1957میں کشمیرکو انڈیامیں آئین کی خصوصی شق 370کے تحت شامل کیاگیا۔اوریہ طے پایاکہ کوئی غیرکشمیری فرد‘ریاست میں زمین نہ خرید سکے گا۔‘‘

 

کشمیر پر ہونے والی جنگ 1965میں پاکستانی افواج نے دشمن کے خواب چکناچور کردیئے ۔اس جنگ کے بعد 1966میں روسی وزیراعظم الیکسی کوسیگن کی موجودگی میں معاہدہ تاشقندہوا۔صدرپاکستان فیلڈمارشل محمدایوب خان اور بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری نے مسئلہ کشمیر پربھی بات چیت کی اوردونوں نے اپنے اپنے نقطہ نظرکی وضاحت کی۔یہ بھی طے پایاکہ دونوں ممالک کی فوجیں پچیس فروری تک ان مورچوں پر واپس چلی جائیں گی جن پر وہ پندرہ اگست انیس سو پینسٹھ تک متعین تھیں۔آئندہ باہمی تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کئے جائیں گے مگر بہادر شاستری کی وفات اورپاکستان میں انتقال اقتدار کی وجہ سے معاملہ سرد ہوگیا جس کے بعد ہمیشہ کی طرح بھارت پھر روایتی ہٹ دھرمی پر اتر آیا اور مذاکرات کھٹائی میں پڑگئے۔

 

1971میں کشمیرہی کی بنیادپربھارت نے پاکستان کے خلاف مشرقی پاکستان میں سازشوں کا جال بچھایااوربالاآخربین الاقوامی سرحدکی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرقی پاکستان میں فوجیں داخل کردیں۔پھربھارت کی وزیراعظم اندراگاندھی اورپاکستان کے وزیراعظم جناب ذوالفقارعلی بھٹوکے مابین شملہ معاہدہ طے پایا۔اس چھ نکاتی معاہدہ میں پاکستان نے بھارت سے کشمیر کے تنازعے میں اپنے فریق ہونے کی پوزیشن منوالی۔اس میں وضاحت کی گئی کہ بھارت اورپاکستان جموں وکشمیر کے تنازعے کا دائمی حل تلاش کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کرنے کے بجائے بات چیت کے ذریعے تصفیہ پر پہنچنے کی کوشش کریں گے ۔ 25اکتوبر1978کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک ماہرانہ جائزے میں جموں وکشمیرکو دنیاکے ان چودہ علاقوں میں شامل کرلیا جن کے عوام طویل عرصہ گزرنے کے باوجود حقِ خود ارادیت سے محروم تھے۔(اقتباس ہماری خارجہ پالیسی ازمسعودالحسن صابری)۔اس دفعہ اندراگاندھی 1978کاالیکشن ہارگئیں اورذوالفقارعلی بھٹوتختہ دارتک جاپہنچے۔یوں یہ معاملات ایک دفعہ پھرطے نہ ہوسکے۔

 

اس سے قبل فروری انیس سوچھیاسٹھ میں شیخ عبداللہ کے بیرون ملک دوروں‘ خود مختاری کی خواہش اورچین کے صدرکی دعوت ایسے معاملات تھے جن سے انہیں پھر جیل کی ہواکھانی پڑی۔ بالاآخرتیرہ نومبر1974کوبھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اورشیخ عبداللہ کے درمیان مذاکرات ہوئے اورشیخ عبداللہ نے وزیراعظم کی جگہ وزیراعلی بنناقبول کیا‘اس فیصلے کے خلاف کشمیرمیں بھرپور مظاہرے ہوئے اورشیخ عبداللہ عوام میں حددرجہ غیرمقبول ہوگئے۔اوردہلی میں جواہرلال نہرو کی رائے شماری والی بات جرم ٹھہری ‘جس سے کشمیری عوام اوربین الاقوامی طورپراقوام عالم کویہ بات سمجھ آگئی کہ بھارت کشمیریوں کے حقوق کے سلسلے میں کتنا سنجیدہ ہے۔

 

1989-90میں حالات نے ایک اورانگڑائی لی اور مقبوضہ کشمیر کے انتخابات میں کشمیریوں نے محض دو فیصدووٹ ڈالا۔98فیصد عوام نے کٹھ پتلی نظام کومستردکردیاتوبھارت نے گورنرراج نافذ کیااوراسمبلی کوچلتاکرکے سارے اختیارات مرکزنے سنبھال لئے۔کشمیرمیں بڑے پیمانے پر قتل وغارت گری کا ایک اورریکارڈ بھارت کے ماتھے پر کلنک کاٹیکہ بن کراُبھرا۔پھرہندوستان کی جانب سے بدنام زمانہ آرمی ایکٹ افسپاکانفاذ وادی پرکیاگیا۔جس کے تحت بغیر مقدمہ چلائے ‘بناء کسی ثبوت کے بھارتی فورسزوادی کے کسی بھی باشندے کو حراست میں رکھ سکتی ہیں۔اس قانون کے خلاف بھارتی صحافی آرون دھتی رائے ‘ عام آدمی پارٹی سمیت متعدد بھارتی دانشوروسیاستدان اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ سی این این کے مطابق کشمیردنیامیں سب سے زیادہ آرمی سے لیس خطہ ہے۔

 

20فروری 1999کو بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی لاہور آمد سے حالات کی بہتری کی اُمیدبندھی مگرکارگل میں بھارت اورکشمیری مجاہدین کی جھڑپوں کی وجہ سے بات پسِ منظرمیں چلی گئی ۔بھارت نے پاکستان پر دراندازی کاالزام لگایااوریہ بھول گیاکہ اس نے کسی غیورقوم کوغلام بنا رکھا ہے۔ پاکستان کاموقف تھاکہ وہ فقط مظلوم قوم کی اخلاقی مددکررہاہے۔بالآخر 4جولائی 1999 کوپاکستانی وزیراعظم اورامریکی صدربل کلنٹن کے مابین ملاقات کے بعد ایل اوسی کے دونوں جانب جنگ بند ہوئی۔برطانوی جریدے ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق اس جنگ میں دونوں اطراف افواج اورسویلین سمیت کئی ہزارافراد جان کی بازی ہاربیٹھے ۔

 

حریت پسندوں اوربھارت کے مابین مذاکرات آخری بار2006 میں ہوئے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محض 2015میں حریت رہنماء سید علی گیلانی 258دن ‘شبیرشاہ200 دن اپنے گھرمیں محصوررہے جبکہ مسرت عالم بٹ کومتعددبارجیل جاناپڑااورنام نہاد پبلک سیفٹی ایکٹ 32 بار اُن پر لاگو کیاگیا۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 1989سے 31دسمبر2015 تک ہونے والے نقصانات یہ ہیں

 

وی ایچ پی کے لیڈرپراوین توگڈیا نے دعویٰ کیاہے کہ گزشتہ دس سالوں میں ان کی تنظیم نے پانچ لاکھ عیسائیوں اوراڑھائی لاکھ مسلمانوں کو ہندوبنایاہے‘واضح رہے یہ ایک شدت پسندتنظیم ہے اورجبری مذہب تبدیل کرانااس کے نزدیک قابل فخرکارنامہ ہے۔دستیاب اعدادوشمارکے مطابق بھاری جریدے آؤٹ لک نے کہاہے کہ انتہاپسندتنظیم آرایس ایس کے ملک بھرمیں پچاس ہزارمراکزکام کررہے ہیں ‘دس ہزارکااضافہ مودی کے دورمیں ہوا ہے۔یہ ایک ایسی صورتحال ہے جونہ صرف پاکستان وکشمیربلکہ بھارت کے کھلے ذہن کے طبقے سمیت دنیاکے لئے پریشانی کاباعث ہے۔ان حالات میں کیونکریہ کہاجاسکتاہے کہ کشمیری بھارت کی دھرتی سے جڑے رہیں گے‘تاریخ گواہ ہے حق کی آواز کو ظلم کی لاٹھی سے محدودوقت کے لئے دبایاجاسکتاہے ‘مٹایانہیں جاسکتا۔ بھارت دانستہ طورپر شق 370کی خلاف ورزی کررہاہے اورلداخ کے اندر ہندوؤں کوآبادکیاجارہاہے۔1947میں وادی میں 77 فیصدمسلمان آبادی تھی جوکہ2011 کی مردم شماری کے مطابق مسلمان 67فیصد‘ ہندو29 فیصد‘ سکھ8 2.0‘ بدھ مت 1.07جبکہ دیگر.77 فیصد ہیں۔

 

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ہمسایوں سے پرامن تعلقات بنیادی اہمیت کے حامل ہیں مگربھارت روایتی ہٹ دھرمی کامظاہرہ کرکے خطے کے امن کواوراپنی فوج کو تباہ کررہاہے۔اپنی آمدن عوام کی بھلائی پرخرچ کرنے کے بجائے جنگی جنون میں مبتلاہوکراسلحہ پرلگارہاہے۔بھارتی افواج ذہنی مریض بن چکی ہیں‘ بھارت کشمیرمیں ہندوآبادی کوبڑھاوا دے رہاہے تاکہ اپنامقصدحاصل کرسکے اور عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لئے کبھی پٹھانکوٹ ائیربیس کاناٹک رچاتاہے توکبھی فلیگ میٹنگ کااشارہ دے کرفائرنگ کردیتاہے۔

 

پاکستان نے ہمیشہ مظلوم قوموں کے حق میں آواز بلند کی ہے۔اَسی کی دہائی میں قاضی حسین احمدنے پانچ فروری کویوم یکجہتی کشمیرمنانے کاارادہ کیااوراب یہ دن پاکستان میں کشمیری عوام سے محبت کی بنیاد پر سرکاری طورپرمنایاجاتاہے اورمظلوم کشمیریوں کی جدوجہدآزادی کی کامیابی کے لئے ہرآنکھ اشکبارہوتی ہے اورہاتھ فضامیں ان کی خیرخواہی کے لئے بلندہوجاتے ہیں۔


مضمون نگار لاہور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار کے ساتھ وابستہ ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 100مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP