قومی و بین الاقوامی ایشوز

کرونا کے بعد کی دنیا ------کیا کچھ تبدیل ہوسکے گا

اس وقت دنیا کے اہل علم و دانش کے سامنے بنیادی نوعیت کا سوال زیربحث ہے کہ کیا کرونا کے بعد کی دنیا ہمیں ایک نئی دنیا کے طور پر دیکھنے کو مل سکے گی ؟ کیا جو عالمی ، علاقائی اور ملکوں کے تناظر کے سیاسی ، سماجی ، معاشی اور انتظامی نوعیت کے مسائل ہیں اس کے نتیجے میں ہم ایک ایسی دنیا دیکھ سکیں گے جو انسانی خواہشات اور ضروریات کے مطابق ہو؟عمومی طور پر دلیل یہ دی جاتی ہے کہ قومیں مختلف حادثات سے سبق سیکھ کر آگے بڑھتی ہیں ۔کیونکہ دنیا میں بعض واقعات یا حادثات ایسے ہوتے ہیں جو عالمی دنیا میں اپنے اثرات چھوڑتے ہیں اور پوری دنیا نہ صرف ان معاملات سے متاثر ہوتی ہے بلکہ وہ خود کو ان سے علیحدہ نہیں رکھ سکتے۔
 یہ جو اس وقت دنیا ایک بڑی عالمگیریت پر مبنی وبا کرونا وائرس کا شکار ہوئی ہے اس نے پوری دنیا کے سیاسی ، سماجی ،نفسیاتی ، انتظامی او رمعاشی ڈھانچوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔اس وقت دو بڑے چیلنجز سامنے آئے ہیں ۔ اول اس مرض سے فوری طور پر خود کو بھی اور اپنی قوم کو کیسے بچایا جائے او رجو ریلیف لوگوں کو درکار ہے اس کو کیسے آسان بنایا جائے ۔ دوئم اس کرونا سے نمٹنے کے تناظر میں ہمیں اپنی اپنی سطح پر کیا ایسی سیاسی ، سماجی ، انتظامی او رمعاشی پالیسیوں کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہے کہ ہم پیدا ہونے والے مختلف مسائل سے خود کو بھی بچائیں اور عالمی دنیا کو اس مرض سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔کیونکہ یہ کہنا کہ یہ کرونا وائرس کا مرض پہلی اور آخری دفعہ آیا ہے درست نہ ہوگا ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ مرض آسانی سے دنیا سے نہیں جاسکے گا اورمستقبل میں بھی یہ مرض یا اسی طرز کے مختلف امراض یا بیماریاں ہمیں دیکھنے کو مل سکتی ہیں ۔ امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفیکشن ڈیزیزکے سربراہ تحقیقی امو ر انتھونی فاکی کے بقول عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے والا کرونا وائرس ہر برس ٹھنڈ کے موسم میں حملہ کرسکتا ہے ۔ یہ تحقیق یہاں تک ہی محدود نہیں بلکہ سائنس کی دنیا سے جڑے اہم ماہرین اس پر مزید تحقیق کررہے ہیں کہ کرونا کا وائرس کیسے پیدا ہوا او رکیا یہ ایک مستقل وائرس کی شکل میں دنیا میں موجود رہے گا ۔یہ سمجھنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے کہ کیا بیالوجیکل جنگوں میں یہ وائرس ایک بڑے ہتھیار کے طو رپر استعمال ہوسکتا ہے ۔؟
اسی طرح سیاست او رسماجیات یا معاشیات سے جڑے ماہرین کو بھی اس کرونا وائرس نے پہلے سے موجود ترقی کے نظام کو ایک نئے سرے سے سمجھنے میں مدد دی ہے ۔ یہ ماہرین اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ اب ہمیں ایک نئی متبادل دنیا میں سیاسی ، سماجی ، انتظامی ،معاشی ڈھانچوں سمیت دیگر پہلوؤں کو ایک نئی جہت، فکر اور سوچ کے ساتھ دیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا ۔آج جب دنیا گلوبل سطح پر موجود ہے او رکوئی بھی ملک اس عالمی عالمگیریت کے نظام سے نہ جان چھڑاسکتا ہے او رنہ ہی معاملات کو سیاسی تنہائی میں دیکھ سکتا ہے ۔اس لیے جو عالمی دنیا میں طاقت پر مبنی ممالک نئی تبدیلیوں کے تناظر میں سوچ یا غوروفکر کرکے کچھ نیا کرنے کی کوشش کریں گے اس کے اثرات تمام ممالک بشمول پاکستان میں بھی دیکھنے کو ملیں گے۔
یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ اس کرونا وائرس کے حملہ نے دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کی صلاحیتوں کو بھی بری طرح بے نقاب کیا ہے کہ وہ ان بڑے حادثات سے نمٹنے کی کیا صلاحیت رکھتے ہیں۔اسی طرح ان ملکوں کی سماجی ، انتظامی اور معاشی ڈھانچہ میں کتنی صلاحیت ہے کہ وہ ان بڑے حادثات سے خود کو بچاسکتے ہیں ۔حکمرانی کا بحران ایک عالمی مسئلہ ہے اور ہمارے جیسے ممالک ان بحرانوں میں اور زیادہ گھمبیر صورتحال رکھتے ہیں ۔ جب کوئی بڑی آفت یا حادثہ سامنے آتا ہے تو ہمارے ریاستی ، حکومتی ،حکمرانی کے کمزور پہلو بھی نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں ۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے جیسے کئی ممالک ایک ردعمل کی سیاست کا شکار ہیں ۔ ان کے پاس مستقبل کی ٹھوس منصوبہ بندی ، ترجیحات، غور وفکر  سمیت شارٹ، میڈیم او رلانگ ٹرم بنیادوں پر منصوبہ بندی کا فقدان ہے ۔ اس بحران نے دنیا سمیت ہمارے جیسے ممالک کے شعبہ صحت کو بھی بری طرح بے نقاب کیا کہ ہم عملی طور پر کہاں کھڑے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ بڑی طاقتیں یا ان کی حمایت کے لیے سرگرم دیگر ممالک کی سیاسی قیادتیں کیا اس کرونا وائرس کے نتائج سے کچھ نیا سیکھ سکیں گی؟ کیا ہم واقعی ایک نئی دنیا دیکھ سکیں گے یا روائتی او رمفاداتی گروہ کی بنیاد پر چلنے والا یہ فرسودہ حکمرانی کا نظام ایسے ہی چلے گا جیسے اسے اب چلایا جارہا ہے ۔یعنی وہی غلطیاں دہرائی جائیں گی جو ماضی یا حال کی سیاست سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر ایسا ہی ہوتا ہے تو اس کا مطلب واضح ہے کہ ہم مختلف حادثات کی بنیاد پر بھی کچھ نیا سوچنے کے لیے تیار نہیں او رمستقبل میں بھی ہمیں اسی طرح کے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ 
کرونا وائرس کی وبا نے دنیا سے جڑے بڑے فیصلے جن میں جنگیں ، سکیورٹی، تنازعات، تضادات ، امیری اور غریبی میں سیاسی ، سماجی اور معاشی ناہمواریاں ، سماجی شعبہ بالخصوص صحت کے ڈھانچوں اور انسانوں پر سرمایہ کاری سمیت ایک دوسرے سے دشمنی کی سیاست سے جڑے مسائل کوشدت سے اجاگر کیا ہے ۔اگرچہ یہ مسائل پہلے سے موجود ہیں لیکن کرونا وائرس کی جنگ میں ہمیں ان مسائل کو ایک نئی جہت سے دیکھنے ، سمجھنے او رپرکھنے کا موقع ملا ہے۔ بنیادی نوعیت کا سوال یہ ابھر رہا ہے کہ عالمگیریت یا سرمایہ داری نظام پر مبنی دنیا کے سامنے اب ایک بڑا چیلنج سکیورٹی یا جنگوں پر مبنی ریاستوں کے بجائے انسانوں سے جڑ ی ریاستوں کی بحث ہونی چاہیے ۔ ایسی ریاستیں جن کو دنیا میں ہم فلاحی ریاستوں کا نام دیتے ہیں جہاں عملًا انسانوں سے جڑے بنیادی نوعیت یا حقوق کے مسائل اہم ہوتے ہیں ۔
عالمی مالیاتی ادارے جن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے ادارے بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ہمیں کرونا سے متاثر غریب ممالک کے لیے کچھ غیر معمولی اقدامات کرنے ہون گے جن میں قرضوں کی واپسی معطل کرنے کے فیصلے پر غور کیا جاچکا ہے او ررعائتی قرضوں کے لیے بھی جی 20رہنماؤں سے رجوع کیاگیاہے ۔ واقعی غریب ممالک اس وقت عالمی مالیاتی دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ خود بڑے ممالک بھی اس وبا کا شکار ہوئے ہیں اوران کی اپنی معیشت بھی تباہ ہوئی ہے ۔ایسے میں بڑے مالیاتی ادارے کیا کچھ کرسکیں گے وہ خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ورلڈ بینک او ر آئی ایم ایف جیسے اداروں کو سمجھنا ہوگا کہ ان کا معاشی پالیسیوں سے جڑا ایجنڈا کوئی بڑی اہم  تبدیلی پیدا نہیں کرسکا اور سب کو بغیر کسی حالات کے تجزیہ کے ایک جیسی پالیسیوں سے جوڑ کر دیکھنے کا ایجنڈا بھی بری طرح ناکام ہوا ہے۔ اسی طرح جو کمزور ملکوں کو ترقی کے نام پر فنڈ دیے جاتے ہیں ان کا آڈٹ کا نہ ہونا او رسیاسی بنیادوں پر فیصلے یا ریلیف دینے کا بھی عملی نتیجہ سماجی شعبوں کی عدم ترقی کی صورت میں سامنے آیا ہے ۔اب ان بڑے مالیاتی اداروں کو اپنی سوچ او رفکر میں کچھ نئی تبدیلیاں لانی ہونگی اور یہ ناگزیر ہیں ۔
بنیادی طور پر پوری دنیا کا سماجی ،سیاسی او رمعاشی نظام اس وقت ایک بڑی تبدیلی کے لیے ناگزیر ہوگیا ہے اور یہ بڑی تبدیلی کیے بغیر ہم دنیا میں لوگوں کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط نہیں بناسکیں گے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دنیا کے بڑے ممالک او راداروں کی سیاسی اورمعاشی سطح کی پالیسیوں نے لوگوں کو جنگوں ، تنازعات ، جھگڑوں کے نتیجے میں غریب او رمحرومی سمیت عدم تحفظ کے بڑے احساس میں مبتلا کردیا ہے ، اب یہ نظام ایسے نہیں چل سکے گا ہمیں امن اور ترقی کے بیانیہ کو بنیاد بنانا ہوگا ۔کرونا وائرس جیسی وبا کا پوری دنیا کے لیے بڑا سبق یہ ہے کہ وہ انسانوں پر سرمایہ کاری کرے او راپنے اپنے معاشروں میں سماجی اور معاشی شعبوں میں عوام سے جڑے معاملات میں ایسے ڈھانچوں یا عملی  انتظامات اور اداروں کی تشکیل کو یقینی بنائیں جو لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرسکیں ۔اسی طرح ہمیں اپنے سماجی رویوں ، طرز عمل ، رہن سہن کے انداز کو بھی تبدیل کرنا ہوگا ۔
یہ سمجھنا ہوگا کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام جس کی بنیاد انسان کم او رمنافع زیادہ ہے، اس نے غریب او رکمزور ملکوں کو جکڑ لیا ہے او ران غریب اور کمزور ملکوں کے سماجی سطح پر موجود ڈھانچے قابل رحم ہیں ۔پاکستان جو خود کرونا وبا کا شکار ہوا ہے، اس سے نمٹنے میں ہمارے سماجی او رمعاشی ڈھانچے ظاہر کرتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں او ریہاں تمام حکومتوں سمیت ریاست کی ترجیحات میں عام آدمی سے جڑے مسائل یا ان کو بااختیار کرنا بہت پیچھے نظر آتا ہے۔ صرف صحت اور تعلیم کے شعبہ کو ہی دیکھ لیں کہ ہمارے طرز عمل نے ان دونوں بنیادی نوعیت کے شعبو ں کا کس بڑی بے دردی سے استحصال یا تباہ کیا ہے۔ لوگوں کی معاشی حالت اس حد تک کمزور ہے کہ ہم تواتر کے ساتھ ان میں غریب او رمحرومی کی سیاست کو پختہ کرکے عملًا ریاست اور عوام میں خلیج پیدا کررہے ہیں۔ دنیا سماجی ، معاشی تفریق کے تناظر میں ایک بڑا ایجنڈہ '' پائیدار ترقی اہداف2015-30ترتیب دیئے ہوئے ہے ۔لیکن اس موجودہ عالمی بحران اور معیشت کے بگاڑ میں یہ ایجنڈا کتنا خود پائیدار رہ سکے گابڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ ایجنڈا کیونکہ مجموعی طور پر دنیا میں کمزور بچیوں اور عورتوں کے مسائل سے جڑا ہے اور اسے صنفی بنیادوں پر ترقی کا عمل کہتے ہیں ۔ خدشہ یہ ہے کہ یہ منصوبہ بھی اس بحران کا شکار ہوسکتا ہے ۔


ہمیں اپنے مجموعی نظام میں ایک بڑی اصلاح کی ضرورت ہے ۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہمیں غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلے کرنے ہونگے ۔ اہم پہلو اپنے مسائل کی بہتر تشخیص اور اس کے نتیجہ میں درست ترجیحات کا تعین ، وسائل کی منصفانہ تقسیم اورکمزورطبقات کی ترجیحی بنیادوں پر ترقی کا منصوبہ اہم پیش رفت ہونا چاہیے ۔


اب سوال یہ ہے کہ دنیا اس پر کیا سوچتی ہے ، الگ بحث ہے ۔لیکن کم ازکم جنوبی ایشیا سے جڑے ممالک او رخود ان ملکوں کے اپنے اندر ہونے والے فیصلوں میں ایک بڑی تبدیلی ناگزیر ہوگئی ہے ۔ جس انداز سے ہم اپنے اپنے ملکوں کو چلارہے ہیں وہ مسائل کو کم کرنے کے بجائے اس میں اور زیادہ شدت پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔دنیا اس کرونا سے سبق سیکھتی ہے یا نہیں کم ازکم جنوبی ایشیا یا برصغیر جن میں پاکستان او ربھارت دو اہم ممالک ہیں، کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کا مثبت طرزِ عمل تو پوری دنیا پرواضح ہو چکا ہے مگر بھارت کو حالیہ بحران کے نتیجے میں سیکھنا ہوگا کہ نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ اس خطے کی ترقی، سلامتی ، خوشحالی او رعام طبقہ کی طاقت کا بڑا انحصار دو طرفہ سیاسی، انتظامی، سفارتی ، معاشی اور سماجی تعلقات کی بہتر ی سے جڑا ہوا ہے اور مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل اس سلسلے کی پہلی کڑی ہوگی۔ اس وقت خطہ کی سیاست میں پاکستان او ربھارت پہل کرکے ایک بڑے سماجی چارٹر کی طرف بڑھ سکتے ہیں جس میں مقصد عام لوگوں کو طاقت دینا او راپنے اپنے ملکوں میں سکیورٹی یا جنگوں پر سرمایہ کاری کے بجائے سماجی او رمعاشی ڈھانچوں کو مضبوط کرنے کی جنگ لڑی جائے۔مگر بھارت کو اپنی موجودہ جارحانہ روش اور نفرت پر مبنی سیاست کو ترک کرنا ہوگا۔
پاکستان کو بھی موجودہ صورتحال او ربہتر مستقبل کے تناظر میں اپنے سیاسی ، سماجی، انتظامی ، قانونی اورمعاشی ڈھانچوں میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں درکار ہیں ۔ لیکن یہ سب کچھ معمول کی سیاست او رحکمرانی سے ممکن نہیں ۔ ہمیں اپنے مجموعی نظام میں ایک بڑی اصلاح کی ضرورت ہے ۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہمیں غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلے کرنے ہون گے ۔ اہم پہلو اپنے مسائل کی بہتر تشخیص اور اس کے نتیجہ میں درست ترجیحات کا تعین ، وسائل کی منصفانہ تقسیم اورکمزورطبقات کی ترجیحی بنیادوں پر ترقی کا منصوبہ اہم پیش رفت ہونا چاہیے ۔ ہمیں واقعی افراد کے مقابلے میں ادار ہ سازی ، سیاسی اور سماجی اداروں کی مضبوطی ، محرومی کی سیاست اور خاص طو رپر اپنے سماجی سطح کے ڈھانچوں کو جدیدیت کی بنیادپر استوار کرنا ، انسانوں پر سرمایہ کاری ،ذہن سازی ، تعلیمی نظام کی سرجری ، بیوروکریسی کے نظام کی بہتری ، حکمرانی کے نظام میں عام آدمی کی شمولیت ، مقامی خود مختار نظام حکومت، وسائل کی منصفانہ تقسیم ، صنفی بنیادوں پر عدم تفریق ،انتخابی اور سیاسی اصلاحات، طبقاتی تقسیم کے فرق کو ختم کرنا ، ریاست اور شہریوں کے درمیان مضبوط تعلق کو قائم کرنا ، قانون کی حکمرانی ، شفافیت پر مبنی احتسابی نظام ، جوابدہی اور بالخصوص ریاستی اور حکومتی اداروں کی حالت زار کو بدلنا سمیت لوگوں کو نجی شعبوں کے ہاتھوں یرغمال بنانے کی سیاست سے گریز کرکے ایک مہذب ، ذمہ دار او رمنصفانہ معاشرے کی بحث کو آگے بڑھانا ہوگا۔یہ نظام روائتی بنیاد پر نہیں چل سکے گا، اس میں ہمیں کچھ غیر معمولی کا م کی کڑوی گولیاں کھانی ہون گی ، وگرنہ کچھ بہتر نہیں ہوسکے گا۔لیکن یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب رائے عامہ بنانے والے افراد یا اداروں سمیت اہل سیاست سب حالات کی نزاکت کو سمجھیں تو ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر صرف اور صرف قومی مفاد میں فیصلہ سازی کریں۔یقینا یہ سب کچھ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔


مضمون نگار پاکستان کے ممتاز تجزیہ کار او رمصنف کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں اور کئی اہم ملکی تھنک ٹینکس کے رکن بھی ہیں ۔ جمہوریت ، گورننس، دہشت گردی اور علاقائی تعلقات پر ان کی گہری نظر ہے۔
 [email protected]
 

یہ تحریر 39مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP