قومی و بین الاقوامی ایشوز

کرونا وائرس کی وباء اور عالمی معاشی نظام کا مستقبل

''شریف آدمی اسے جرم نہیں سمجھتے کہ غریب لوگوں کو ان کی جائیدادوں سے بے دخل کریں۔اس کے برعکس وہ اصرار کرتے ہیں کہ یہ زمین ان کی ہے اوروہ غریبوں کو اپنی پناہ گاہوں سے بے دخل کرتے ہیں۔''
ایچ۔اسٹیفورڈ 
چین کے شہر ووہان میں سامنے آنے والے کرونا وائرس (کووڈ19-)کی وباء نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیاہے اور ساری دنیا کا نظام زندگی تقریباً معطل ہوچکا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس وائرس سے دنیا کی تقریباً نصف آبادی متاثر ہوسکتی ہے جس میں ہلاکتوں کی شرح 3فیصد ہوسکتی ہے۔ اس وباء نے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ ممالک پربھی ایسی کاری ضرب لگائی ہے جس کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا تھا۔ جب جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور معیشت کے گڑھ مغربی ممالک مثلاً امریکہ، برطانیہ، اٹلی، جرمنی ، فرانس اور دیگر ملکوں میں کروناوائرس سے متاثرہ مریضوں کے لئے ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی اور راتوں رات ہر ملک میں لاکھوں افراد بے روزگار ہونے لگے تو دنیا بھر میں مچی ہلچل نے نئی بحثوں کو جنم دے دیا اور کچھ پہلے سے چلی آرہی بحثوں میں شدت آگئی۔ اب ہر طرف یہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ دیوہیکل سٹاک ایکسچینجز ، لاتعداد کارخانوں اور ہر طرف پھیلے سکائی سکریپر سے بھرے شہروں کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں، بستروں، طبی عملے کے حفاظتی سازوسامان، وینٹی لیٹرز جیسی بنیادی ضرورت کی چیزوں کی آخر اتنی قلت کیوں ہے؟کئی ممالک میں کروناوائرس سے متاثرہ مریضوں کی اکثریت ضروری طبی امداد حاصل کئے بغیر مررہی ہے تو زندہ بچ جانے والے افرادلاک ڈائون کی وجہ سے گھروں میں محصور ہوکررہ گئے ہیں جن کی بڑی تعدادبے روزگار ہوکربھوک کا سامنا کررہی ہے۔ آخر عالمی معیشت کی بنیادیں اتنی کھوکھلی کیوں تھیں کہ ایک ہی جھٹکے میں بیٹھ گئیں ؟چند سرمایہ داروں کے علاوہ باقی تمام لوگ اتنی تیزی سے بھوک ، افلاس، بے روزگاری کا شکار کیسے ہوگئے؟ یہ سرمایہ دارانہ نظام دنیا کو کیا دے رہا ہے؟کیا اس کے اختتام کا وقت آپہنچا ہے؟ کیا دنیا سوشلزم کو اپنانے کے لئے اب سنجیدہ ہوجائے گی؟ یا اب کسی اور اقتصادی نظام کے بیج بونے کا وقت آپہنچا ہے؟    
تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو انسان نے لاکھوں سال قبل گروہی زندگی کے آغاز میں اپنائی جانے والی شکار کی ''معیشت'' سے تقریباً دس ہزارسال قبل نکل کر زراعت کا آغاز کیاجس نے قرون وسطیٰ میں ایک بھرپور جاگیردارانہ نظام کی شکل میں عروج حاصل کرلیا۔پھر جب سولہویں اور سترہویں صدی میں سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادیں تشکیل پارہی تھیںاور یہ جاگیرداریت کے تاروپود بکھیر رہا تھا تو اس وقت کے ماہر اقتصادیات ایچ۔اسٹیفورڈ نے نئے تاجروں کے ہاتھوں کسانوں کو ان کی زمینوں سے نکال کر نئے نظام معیشت(سرمایہ دارانہ نظام) کی بنیادیں رکھتے دیکھ کر یہ تاریخی الفاظ ادا کئے تھے، ''شریف آدمی اسے جرم نہیں سمجھتے کہ غریب لوگوں کو ان کی جائیدادوں سے بے دخل کریں۔اس کے برعکس وہ اصرار کرتے ہیں کہ یہ زمین ان کی ہے اوروہ غریبوں کو اپنی پناہ گاہوں سے بے دخل کرتے ہیں۔''بے شک سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد ہی عام آدمی کے استحصال پر قائم کی گئی تھی ۔اس نظام میں دولت چند ہاتھوں میں مجتمع ہوتی ہے اور سرمایہ دار مزدور کو اپنی دولت کا صرف اتنا حصہ دیتا ہے جسے کھاکر وہ زندہ رہ سکے اور ان کا کاروبار چلاتا رہے۔ مزدوروں کی اکثریت کسی بھی ہنگامی حالت اور بحران سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ سرمایہ دار اپنی دولت بڑھانے کے چکر میں صرف عام آدمی کا ہی استحصال نہیں کرتا بلکہ وہ ہر دستیاب چیز کو اپنے منافع کا آلہ سمجھ کر استعمال کرتا ہے۔ اس وقت پورا کرہ ارض بے لگام سرمایہ داروں کے نرغے میں ہے جو قدرتی ذخائر کا بے دریغ استعمال کرکے شدید ماحولیاتی تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں۔اگر ایک طرف بڑے بڑے کارخانوں کو چلانے لئے تیل و گیس جیسی فوسلز کی بے لگام کھپت سے شدید آلودگی پیدا ہورہی ہے تو دوسری جانب جنگلات کے بے دریغ کٹاو سے حیاتیاتی تنوع ( Biodiversity)متاثر ہورہی ہے جو کرونا وائرس جیسی وبائوں کی وجہ بن رہی ہے۔ سائنسدان اب اس بات پر تشویش کا اظہار کرنے لگے ہیں کہ جنگلات کے بڑے پیمانے پر کٹائو کی وجہ سے جنگلی جانوروں کے آپس میں اور حتیٰ کہ انسانوں کے ساتھ فاصلے کم ہورہے ہیں اور اس طرح ان میں پائے جانے والے وائرس اب آسانی سے انسانوں پر حملہ آور ہونے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام کی اور بھی کئی خامیاں ہیں جن میں اجارہ دارانہ رویے، بے روزگاری کی شرح میں روزافزوں اضافہ، امیر اور غریب طبقا ت میں بڑھتی خلیج اور تنازعات، کمزوروں کا استحصال اورپیسے کی پوجا کرنے والے معاشرے کا قیام سرفہرست ہیں ۔لیکن کیا یہ وجوہات اس نظام کے خاتمے کے لئے کافی ہیں؟


سرمایہ دارانہ نظام کی خامیوں سے قطع نظر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ موجودہ انسانی ترقی میں اس نظام اور اس کے تحت حاصل آزادیوں کا بہت بڑا کردار ہے۔ دنیا بھر میںپھیلے کارخانے مقابلے کی دوڑ میں انسانی آسائش کی ہر چیز کی دستیابی یقینی بنارہے ہیں ۔انسانی زندگی تیزی سے نت نئی ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت اور جدیدیت میں آگے بڑھ رہی ہے


انسانی تاریخ ان تمام خامیوں (ہم انھیں انسانی رویے کہہ سکتے ہیں) سے بھری پڑی ہے۔ طاقت کی خواہش انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ جب کارل مارکس، ٹراٹسکی اور لینن کی جدوجہد سے سوویت یونین میں سرمایہ دارانہ نظام کی جگہ اشتراکی نظام کی تشکیل کا عمل شروع ہوگیا تو اسے اسٹالن اور اس کے طاقت وراجارہ داری کے بھوکے ہمنوائوں نے چند برسوں میں انسانی تاریخ کے بدترین تشدد اور لاکھوں افراد کے قتل سے داغدار بنا دیا۔جب ماوزے تنگ نے سرمایہ دارانہ نظام کو چیلنج کرکے چین میں سوشلسٹ نظام قائم کرنے کی کوشش کی تو بھی لاکھوں لوگ بھوک و غربت سے مرتے رہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے طاقتور ارکان اور عام لوگوں میں بھی وہی طبقاتی تفاوت پیدا ہوئی جو سرمایہ دارانہ نظام کا خاصہ ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا متبادل بننے کا دعویدار شمالی کوریا بھی بدترین آمریت بن کر کمزورکا خون نچوڑ نے لگا۔ یہ رویے صرف ان ممالک تک محدود نہیں ہیں بلکہ انسانی تاریخ کے ہرسیاسی و اقتصادی نظام میں رائج رہے ہیں۔ آپ تمام مذاہب کا مطالعہ کریں ، تقریباً ہر ایک میں ایسے رویوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے جو یہ ثابت کرتاہے کہ ان رویوں کا جدید سرمایہ دارانہ نظام سے کوئی بنیادی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ ہر زمانے میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے۔ عظیم سیاسی مفکر تھامس ہابس نے انسانی فطرت کے بارے میں کہا تھا کہ انسان ہر وقت دوسرے انسان سے جنگ میں مصروف رہتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی خامیوں سے قطع نظر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ موجودہ انسانی ترقی میں اس نظام اور اس کے تحت حاصل آزادیوں کا بہت بڑا کردار ہے۔ دنیا بھر میںپھیلے کارخانے مقابلے کی دوڑ میں انسانی آسائش کی ہر چیز کی دستیابی یقینی بنارہے ہیں ۔انسانی زندگی تیزی سے نت نئی ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت اور جدیدیت میں آگے بڑھ رہی ہے۔بڑی بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیاں منافع سمیٹنے کے ساتھ ساتھ ہر بیماری سے لڑنے کے لئے نت نئی دوائیاں اور ویکسین بنارہی ہیں ۔ یہ ساری چیزیں بالآخر عام آدمی کی زندگی پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ موجودہ نظام میں اصلاحات کی جائیں اور حکومتیں اب اپنے کردار میں تبدیلیاں لائیں ۔اب وقت آچکا ہے کہ حکومتیں صرف امیر طبقات کے مفادات کا تحفظ نہ کریں بلکہ کمزور طبقات کے ساتھ مفاہمت بھی کریں۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کسی بحران کا شکار ہوا ہو۔2008کے عالمی بحران کے بعد بھی ایسا ہوا تھا۔ لیکن چند دھچکے برداشت کرنے کے بعد یہ نظام واپس اپنے معمول پر آگیا۔ اس نظام میں جب بھی کاروبار مشکل میں آتے ہیں تو حکومتیں مختلف امدادی اور اقتصادی ترغیبی اقدامات کرکے انھیں مشکل سے نکالنے کے لئے آگے بڑھتی ہیں۔ اب جب ایک بار پھر ریاست(یعنی حکومتیں) ریسکیو آپریشن کے لئے آگے بڑھ رہی ہے تو اسے چاہئیے کہ اسے کچھ خا ص شرائط کے ساتھ نتھی کرے، مثلاً بیل آوٹ پیکج حاصل کرنے والی کمپنیو ں کو پابندبنایا جائے کہ وہ اپنے ملازمین کی ملازمتوں کا تحفظ اور موجودہ بحران کے خاتمے کے بعد ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کریں گی ۔ تمام ممالک کو مل کر صحت، تعلیم اور خور اک جیسی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مربوط انداز سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کرونا وائرس کی عالمی وباء کے دوران عالمی ادارہ صحت بالکل بے دست و پا نظر آرہا ہے۔ تمام ممالک کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر ایسے اداروں کومضبوط بنانا چاہئے تاکہ یہ صحت ایمرجنسی کے وقتوں میں مشترکہ دفاعی دیوار کا کردار ادا کرسکیں۔ ملکوں کو انفرادی سطح پر نظام صحت میں بہتری لانی ہوگی اور اس کے لئے اقوام متحدہ کی سطح پر بھی قوانین بنائے جائیں کہ ہر ملک میں قائم بڑی کمپنیاں کم از کم صحت کے شعبے میں مالی مددلازمی فراہم کریں گی اورہر لحاظ سے بھرپور نظام صحت قائم رکھنا ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگا۔ صنعتوں کو قومیانے کے بجائے انھیں کام کرنے اور پھلنے پھولنے کی مکمل آزادی حاصل ہو لیکن یہ ریاست کی سخت نگرانی میں ہوں اور اپنے ملازمین کا استحصال کرنے کے بجائے ان کی فلاح کا خیال رکھیں۔ Gig Economy پر کنٹرول پانے اور قلیل المدتی معاہدوں کے بجائے مستقل ملازمتوں کو سرکاری سطح پر فروغ دینے کی ضرورت ہے۔گرین گیسوں کے اخراج میں کمی کے لئے جاری عالمی کوششوں میں سنجیدگی لانا لازمی ہے ورنہ ماحولیاتی تبدیلی اور اس سے وابستہ مختلف قدرتی آفات نہ صرف انسانی زندگیوں بلکہ اقتصادی ، سماجی اقدار اور انسانی ترقی کی رفتار کے لئے زہر قاتل ثابت ہوں گی۔ ماہرین اقتصادیات موجودہ نظام میں اصلاحات لانے کے لئے کام کریںاور تجاویز پیش کریں ۔ ایک ایسے وقت میں جب کوئی متبادل اقتصادی نظام کا واضح نقشہ موجود نہیں ہے ، سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام کی خیالی باتوں سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے۔سرمایہ دارانہ نظام پچھلی پانچ صدیوں سے مذہب کے درجے پر فائز ہے اور اس سے یہ درجہ تبھی چھینا جاسکے گا۔ جب اس سے مضبوط اورپائیدار نظام معیشت سامنے آئے گا جس کا ابھی کوئی نقشہ نہیں بنا ہے۔ اس لئے موجودہ دور میں سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ ناممکن ہے ۔ البتہ ارتقاء اس دنیا کا اصول ہے ،اور اس اصول کے تحت سرمایہ دارانہ نظام نہ ہمیشہ سے موجود تھا اور نہ ہمیشہ باقی رہے گا۔


[email protected]
 

یہ تحریر 51مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP