صحت

کرونا وائرس کی نئی لہر اور ویکسین

کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی پھر سے اضافہ ہو گیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ وائرس کی ایک نئی لہر پورے زوروشور سے آچکی ہے۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔جس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ شہریوں نے کرونا سے بچائوکی احتیاطی تدابیر میں کچھ غفلت سے کام لینا شروع کر دیا اور نارمل زندگی کی طرف لوٹ رہے تھے لیکن متعدی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی دنیا کچھ عرصے تک واپس کرونا سے پہلے کی زندگی میں واپس نہیں لوٹ سکتی کیونکہ وائرس ابھی ختم نہیں ہوا اور اب یہ معاشرتی فاصلہ، ماسک کا استعمال اور ہاتھوں کا بار بار دھونا اور سینیٹائزر کا استعمال ایک نیو نارمل ہے۔ 



ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا کی نئی لہر کے آنے سے اس کی روک تھام کے لئے ویکسین کی اہمیت مزید بڑھ چکی ہے اورحالیہ کچھ عرصے میں بہت مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے اور کئی ادویہ ساز اداروں نے ویکسین کے تجربات کے نتائج جاری کر دیئے ہیں۔ایک ویکسین کے پچانوے فی صد تک مؤثر ہونے کی خبریں آچکی ہیں،مگر اب بھی یہ واضح نہیں ہے کہ کرونا کی وباکب ختم ہوگی۔
گزشتہ دنوں برطانیہ نے امریکی دوا ساز کمپنی فائزر (Pfizer)اور جرمن دوا ساز کمپنی بائیو این ٹیک   (Bio Ntech)کی کرونا ویکسین کے وسیع پیمانے پر استعمال کی منظوری دی ہے اور برطانیہ میں ویکسی نیشن کا آغاز ہو چکا ہے۔کیونکہ یہ ویکسین اپنی ٹرائلز مکمل کر چکی ہے اوروائرس کی روک تھام میں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ ویکسین آیا وائرس کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی یا پھر صرف اس وائرس کے حملے کی شدت کو کم کرے گی۔ کیونکہ ماضی میں فلو ویکسین کے استعمال سے اسے قابو کیا جارہا ہے لیکن مکمل خاتمہ نہیں کیا جا سکا۔ایسا ہی کرونا وائرس کے معاملے میں بھی ہوتا نظر آرہاہے۔ 
لیکن فائزر اور بایو این ٹیک کی جانب سے متعارف کرائی گئی ویکسین کو منفی ستر ڈگری سینٹی گریڈدرجہ حرارت درکار ہوگا اور اسے چھ ماہ کے لئے محفوظ کیا جا سکے گا جو کہ پاکستان جیسے ملک میں انتہائی مشکل کام ہے۔
وزیرِ اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے چند روز قبل عوام کو ایک خوشخبری سنائی کہ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ پاکستان کرونا کی کون سی ویکسین استعمال کرسکتا ہے اس کے لئے ہمیں ایک سے زیادہ ذرائع استعمال کرنے ہوں گے۔ حکومت کی کوشش ہے اسی ویکسین کا استعمال کریں جو ہمارے لئے فائدہ مند ہوں اس کام کے لئے وفاقی کابینہ نے ایک ویکسین کی خریداری کے لئے 150 ملین ڈالر مختص کرنے کی منظوری دی۔ پارلیمانی سیکرٹری صحت نوشین حامد کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا ویکسین عوام کو مفت فراہم کی جائے گی۔ حکومت فنڈ اکٹھا کررہی ہے، 2021 کی دوسری سہ ماہی میں ویکسین لگانا شروع کردیں گے۔
محققین کیوں یہ تحقیق کر رہے ہیں؟
عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کو جلد ہی عالمی وبا قرار دے دیا تھا کیونکہ دنیا بھر میں اس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 
اعداد و شمار کے مطابق کرونا وائرس کے دنیا بھر میں 1 کروڑ 90 لاکھ 79 ہزار 202 مریض اسپتالوں، قرنطینہ مراکز میں زیرِ علاج اور گھروں میں آئسولیشن میں ہیں۔ جن میں سے 1 لاکھ 5 ہزار 972 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 4 کروڑ 62 لاکھ 44 ہزار 197 کرونا مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
دنیا بھر میں محققین وائرس کی جانچ اور اس کے اثرات پر کام کر رہے ہیں تاکہ اس کا مقابلہ کر سکیں جس میں ممکنہ ویکسین بھی شامل ہے۔ ویکسین ایک طریقہ علاج ہے جو بیماری سے بچائوکے نظام مدافعت کو تیار کرتی ہے اور اس بیماری کے مقابلے میں یہ تیزی سے ردِ عمل دیتی ہے۔ جراثیم کے مقابلے میں جیسے وائرس بیکٹریا جو کہ مستقبل میں جسم کے اندر جا سکتے ہیں، اگر یہ جسم میں داخل ہو گئے تو ویکسین کی وجہ سے نظامِ مدافعت اس کے لئے تیار رہتا ہے ۔ جس سے جرثومہ نقصان پہنچانے سے پہلے ہلاک ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس وقت دنیابھر میں دو سو کے قریب ویکسینز کے ٹرائلز جاری ہیں۔چالیس کے قریب انسانوں پر ہو رہے ہیں اور تیرہ یا چودہ فیز تھری ٹرائلز میں یعنی آخری فیز میں جاری ہیں۔
پاکستان میں پہلی بار چین کی کرونا ویکسین کے
 تاریخی ٹرائلزجاری۔۔۔
دوسری طرف ایک اہم خبر یہ ہے کہ پاکستان میں چین کے تعاون سے تیار کردہ کرونا وائرس ویکسین فیز تھری کے تاریخی ٹرائلز جاری ہیں ۔ پاکستان کی طبی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی بھی ویکسین کے ملک میں ٹرائلز ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں یہ ٹرائلزحکومتِ پاکستان اور قومی ادارہ صحت کے اشتراک اور نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر کی نگرانی میں جاری ہیں اور ملک بھر میں پانچ مراکز میں ویکسین کے فیز تھری کے فری ٹرائلز جاری ہیں۔۔ 
کراچی میں انڈس ہسپتال اور آغا خان ہسپتال،لاہورمیں شوکت خانم ہسپتال اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائینسز اور اسلام آباد میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں کرونا ویکسین فیز تھری کے ٹرائلز ہو رہے ہیں۔
اے ڈی فائیو نوول کرونا وائرس ویکسین (Ad5-ncoV Vaccine) جس کے ٹرائلز جاری ہیں اس کو چین کی کمپنی بائیو ٹیک کینسائنو بائیو نے بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے اشتراک سے بنایا ہے۔
چین کی تیار کردہ یہ ویکسین ایڈینو وائرس ویکٹر پانچ کے نام سے جانی جاتی ہے جس میں ایڈینو وائرس ویکسین کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ قدرتی طور پر ایڈینو وائرس ہی عام ہے جو عام طور پر نزلہ زکام اور سانس کے امراض کا باعث بنتا ہے۔ اس ویکسین میں جو ایڈینو وائرس استعمال ہو رہا ہے ان کو تبدیل کیا گیا ہے تا کہ وہ اس بیماری کو پھیلا نہ سکیں اور انسانی جسم میں کرونا وائرس کے مقابلے میں مدد گار ثابت ہو۔ 
اسلام آباد کے ایک معروف ہسپتال میں سب سے پہلے ان کلینیکل ٹرائلز کا آغاز ہوا۔ شفا تعمیرِ ملت یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اقبال خان ان چند پہلے پاکستانیوں میں سے ہیں جنہوں نے ویکسین ٹرائل کے لئے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔ اور امید ظاہر کی کہ جلد ہی اچھی خبر پاکستانی عوام کو ملے گی۔ ڈاکٹر اقبال کے مطابق انہیں ویکسین لگوانے کے بعد کسی قسم کے منفی اثرات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔بس ہلکا سا بخار اور متلی کی کیفیت محسوس ہوئی جو کچھ دیر بعد ٹھیک ہو گئی۔
ویکسین کی فیز تھری ٹرائلز سے کیا مراد ہے اور اس کا
 طریقہ کار کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق فیز تھری تک کسی ویکسین کے پہنچنے سے مراد ہے کہ وہ کلینیکل آزمائش اور انسانوں پر آزمائش کے ابتدائی مراحل میں کامیاب ہو چکی ہے یعنی ویکسین انسانوں پر استعمال کرنے کے لئے محفوظ ہے۔
ابتدا میں ویکسین کو جانوروں پر آزمایا جاتا ہے پھر کم تعداد میں انسانوں پر تجربہ کیا جاتا ہے۔ پہلے دو مراحل یعنی فیز ون اور فیز ٹو کے تجربات چین میں ہی ہوئے تھے۔فیز ون اور ٹو میں ویکسین کے کامیاب ٹرائلز بڑے میڈیکل رسائل میں چھپ چکے ہیں جیسے کہ ''لینسٹ''(Lancet)نامی اہم میڈیکل جرنل۔ اسی لئے فائنل یعنی فیز تھری کا آغاز کیا گیا۔
 تحقیق کاراوروبائی امراض کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر اعجاز خان کے مطابق دنیا میں سات ممالک میں بیک وقت ٹرائلز جاری ہیں تقریبا تیس سے چالیس ہزار رضا کار اس تحقیق میں حصہ لیں گے جن میں سے ابتدائی طور پر پاکستان کے پانچ سینٹرز میں دس ہزار رضا کاروں پر ویکسین لگائی جانی تھی تاہم اب یہ ہدف اٹھارہ ہزار کے قریب جا پہنچا ہے اور ابھی تک نو ہزار سے زائد رضا کار اس میں شرکت کر چکے ہیں۔
تحقیقات کے شواہد بتاتے ہیں کہ ویکسین محفوظ ہے، ہلکی نوعیت کے مضر اثرات نہیں ملے۔صرف محدود اور معمولی اثرات جیسے کہ بخار، پٹھوں میں درد، سردرد وغیرہ ظاہر ہوئے تھے جو بخار اور درد کی ادویات سے ختم ہو جاتے ہیں۔
کرونا وائرس کے خلاف آزمائی جانے والی ویکسین کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے استعمال کی جاتی ہے اور یہ ویکسین موجودہ دستیاب ویکسینز کی طرح انسانی جسم میں قوتِ مدافعت بڑھانے والی تصور کی جاتی ہے۔ 
اس ویکسین میں وائرس کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ شامل ہے جو مدافعتی ردِ عمل پیدا کرتا ہے جو انسانی جسم میں نشوونما نہیں پا سکتا لہٰذا بیماری کا باعث نہیں بنتا۔ دنیا میں موجود باقی روایتی ویکسینز کے بنانے میں سالوں درکار ہوتے ہیں جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے باعث یہ چینی کنسائینو ویکسین جلد تیار کر لی گئی ہے۔
 ڈاکٹر اعجاز خان کے مطابق یہ ایک پوشیدہ تحقیق ہے جس میں ویکسین کا موازنہ پلیسیبو(Placebo)(غیر فعال محلول) سے ہو گا۔ ڈاکٹر اور شرکاء کسی کو بھی ویکسین کے بارے میں معلوم نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ ویکسین منتخب کر سکیں گے ۔ پتہ صرف تحقیق مکمل ہونے کے بعد چلے گا یا کسی ایمرجنسی کی صورتحال میں۔ یہ ایک رینڈمائزڈ تحقیق ہے جس میں حصہ لینے والے کے  ویکسین یا پلیسیبو لگنے کے برابر چانسز ہیں۔اور تحقیق کا کل دورانیہ بارہ ماہ ہے۔ جس میں رضا کار کو دو مرتبہ ویکسین سینٹر کا دورہ کرنا ہے ۔ جبکہ ہفتہ وار ٹیکسٹ پیغام اور ماہانہ فون کالز کی جائیں گی۔ سینٹر میں آنے کے بعد طبی عملہ جسم کا درجہ حرارت، بلڈ پریشر، نبض ، وزن اور قد کا اندراج کرے گا اور ویکسین لگنے سے پہلے خون کے نمونے لئے جاتے ہیں اوردوسرا نمونہ تحقیق کے اختتام یعنی بارہ ماہ بعد لیا جائے گا جس سے اینٹی باڈیز دیکھی جائیں گی۔
ویکسین ٹرائل میں کون سے افراد رضا کار بن سکتے ہیں ؟
ایک صحت مند رضا کار جس کی عمر اٹھارہ سال یا زائد ہو وہ اہلیت کے معیار پر پورا اترتا ہو اور اپنی رضا مندی کے ساتھ اس سٹڈی کا حصہ بنے۔ویکسین کے کسی بھی دوسرے ٹرائل میں حصہ لینے والا اور ماضی میں لیبارٹری سے مصدقہ کرونا وائرس کا حامل فرد، مدافعتی کمی کے شکار افراد، کیسنر وغیرہ کے لئے تشخیص یا زیرِ علاج افراد اور کسی بھی ویکسین سے سخت الرجی رکھنے والے افراد یا خون کے بہنے کا عارضہ رکھنے والے اور سٹڈی کے آغاز میں حاملہ خواتین اس تحقیقاتی ویکسین ٹرائل کا حصہ نہیں بن سکتے۔ 
ویکسین ٹرائل کے ممکنہ فوائد کیا ہیں؟
ویکسین ٹرائلز اس بات کو متعین کرے گی کہ آیا کرونا وائرس کی روک تھام ہو رہی ہے یا نہیں۔اس ٹرائل سے پاکستان میں وائرس سے حفاظت اور فائدے کا تأثر قائم ہو گا اور ویکسین عام لوگوں کے لئے جلد دستیاب ہو گی جس سے وبا پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ ٹرائلز کی کامیابی کی صورت میں اس کو استعمال کے لئے منظور کیا جائے گا اور تحقیق سے حاصل کردہ معلومات کرونا کے خلاف ویکسین کی تیاری میں مدد دیں گی۔
ان ٹرائلز میں حصہ لینے کے باعث پاکستان ان ممالک میں شامل ہو گا جن کو ویکسین ٹرائلزکی کامیابی کی صورت میں ترجیحی بنیادوں اور بتدریج سستے داموں میں اس ویکسین کی فراہمی کی جائے گی۔
تاہم ماہرین کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ ویکسین کتنے عرصے تک کرونا وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کرے گی ۔اس وقت تو اس ویکسین کی ایک ڈوز لگائی جا رہی ہے لیکن ایسا بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں مزید ایک اور ڈوز کی ضرورت پیش آ جائے۔ اس لئے کرونا وائرس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر کو سختی سے اپنائے رکھنا ہو گا۔ ||


مضمون نگار حالاتِ حاضرہ اور صحت سے متعلق موضوعات پر لکھتی ہیں
 [email protected]

یہ تحریر 35مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP