قومی و بین الاقوامی ایشوز

کرونا وائرس کی تیسری لہر۔ بچائو اور حفاظتی تدابیر

 سال 2019ء کے اختتامی دن نزدیک تھے اور ساری دنیا میں 2020ء کی آمدکے سلسلے میں جشن وتقریبات منانے کی تیاریاں عروج پرتھیں۔ ایسے میں اچانک ہمسایہ اور دوست ملک چین میں ایک بیماری کی صورت میں نمودار ہونے والے وائرس کا وجود منظرِ عام پر آیا۔ فروری 2020ء تک دنیا میں بسنے والے لوگوں کوا س کی سنجیدگی کااحساس نہ ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ وبائی مرض دنیا کے کونے کونے میں پھیل گیا اور11 مارچ کو عالمی ادارہ صحت نے Covid-19 کوعالمی وبا(Pandemic)قراردے دیا۔تاریخ کے اوراق پلٹائیں تو یہ کہناغلط نہ ہوگا کہ ہر صدی میں کوئی نہ کوئی ایسی آفت/ مرض آیا جس نے دنیا میں موجودبنی نوع انسان کی زندگیوں کوخطرات سے دوچارکیا۔ طاعون، ملیریا، ہیضہ، انفلوئینز، برڈفلو،میڈل ایسٹ ریسپائرٹری سنڈروم (MERS) کچھ ایسی بیماریاں ہیں جنہوں نے حضرت انسان کی ایک بڑی تعداد کوشدید متاثر کیا۔



بنیادی طورپرکروناوائرس 19ـCoronaviridae, COVIDفیملی کا ممبرہے۔اس کے تمام ممبران انسانوں میں نظامِ تنفس اورنظامِ انہضام کی بیماریوں کاموجب بن سکتے ہیں۔اللہ کی قدرت دیکھئے کہ ایک وائرس جس کا سائز 80mm-140mm ہے اور جوکہ پروٹین (Protein)اور لپڈ (Lipid)کی جھلی میں لپٹاہواہے، اس نے انسان کو کس قدر بے اختیار اوربے بس کرکے رکھ دیاہے۔COVID-19وائرس اس فیملی کے بقیہ ممبران سے یوں مختلف ہے کہ عام درجہ حرارت پر یہ زیادہ  دیرمثلاً 3ـ2 دن تک خشک سطح پر موجود رہ سکتا ہے۔
اس فیملی کے ایک اور وائرس نے 2003ء میں دنیا کے 30سے زائد ممالک اور5براعظموں کواپنی لپیٹ میں لیاتھا۔یہ وائرس بھی متاثرہ اشخاص کی کھانسی/چھینک کے ذریعے ذرات  سے دوسرے اشخاص میں منتقل ہوتاتھا اور 5براعظموں میں اس کے پھیلنے کاایک بڑاسبب بین الاقوامی فلائٹس کو بھی قراردیاگیاتھا۔



اگرہم پچھلے سال 2020ء کے اعدادوشمار اوراس بیماری کے آغازپرنظردوڑائیں توہرچیزمیں واضح فرق ظاہرہے۔آج جبکہ ہمیں کروناکی تیسری لہرکاسامنا ہے، اس کے ساتھ ساتھ بہت سی معلومات کا اضافہ اور چیزیں واضح ہونے کی وجہ سے شاید اس پرقابوپانا پہلے کی نسبت آسان ہو۔
کرونا کے پھیلاؤ کے کم و بیش وہی اسباب ہیں جو پہلی لہر میں تھے:
• متاثرہ شخص کی کھانسی، چھینک کے ذریعے پھیلنے والے ذرات
• ماسک اور سینیٹائیزر کا استعمال نہ کرنا
• باقاعدگی سے صابن سے ہاتھ نہ دھونا
• رش والی جگہوں پر بلاضرورت جانا، فاصلے کو برقرار نہ رکھنا
اس گراف کو دیکھتے ہوئے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی صورت میں کرونا کے کیسزمیں واضح کمی آسکتی ہے۔
اگر کرونا کی عمومی علامات پرغورکیاجائے تووہ درجہ ذیل ہیں: 
• سراور جسم میں درد
• بخار، کھانسی اور گلاخراب ہونا
• سانس لینے میں دشواری 
• پیٹ کا خراب ہونا ، اُلٹیاں لگنا اور ڈائریا(Diarrhoea)
• سونگھنے اورچکھنے کی حِس کا ختم ہونا
• تھکاوٹ
ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ہمیں چاہئے کہ کوئی بھی علامت ظاہر ہو، تو اس کو پوشیدہ نہ رکھیں اورحکومت کے قائم کردہ ٹیلی میڈیسن سینٹر/ہسپتال میں موجود ڈاکٹرسے رجوع کریں۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے معلومات فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا جبکہ  وہ شعبہ صحت سے تعلق بھی نہ رکھتے تھے ۔ یہ غیرمستند معلومات لوگوں کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ بنی ہیں اور چند لوگ کہتے پائے گئے: 



• میری قوتِ مدافعت بہت زیادہ ہے۔
• کرونا وائرس ایک عالمی سازش ہے اور اس کا وجود نہیں ہے۔
• شدید گرمی میں کرونا کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
• ویکسین لگوانے سے یا تو بندہ مرجائے گا یا پھر اس کو کرونا کا مرض لاحق ہو جائے گا۔
• ماسک کا استعمال اور باقی تدابیر مجھے کرونا سے بچانے میں کوئی کردار ادا   نہیں کرتیں۔
جس طرح دینی مسائل کے سلسلے  میں صرف علماء کی ہی رائے حتمی قرار دی جاتی ہے اسی طرح صحت سے متعلقہ مسائل کے حل کے لئے مستند ڈاکٹرز کی رہنمائی ہی آپ کو صحت یاب کرتی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے بھی عوام الناس کی مدد، رہنمائی اورعلاج کے لئے افواجِ پاکستان کے تعاون سےNCOC،   ٹیلی میڈیسن،  ٹائیگرفورس 24گھنٹے ہیلپ لائین، ہسپتالوں میں وارڈز، بستر، وینٹی لیٹرز مختص کئے۔حالیہ دنوں میں ویکسی نیشن سینٹرزکاقیام بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جہاں پرمعمر افراداورفرنٹ لائن ہیلتھ کیئرورکرز کو ویکسین لگانے کاآغازکیاگیاہے۔
پچھلے سال کی نسبت اگرہم کہیں کہ لوگوں کوشعورآتاجارہاہے اور مستند معلومات رکھتے ہوئے وہ حفاظتی اقدامات بھی کررہے ہیں اورویکسین لگوانے میں سنجیدہ ہیں تویہ غلط نہ ہوگا۔لاہورکے ایکسپو سینٹر سول ڈیفنس اور1122کے اہلکار،عوام کی خدمت کے جذبے سے سرشار نظرآتے ہیں۔میرا ذاتی تجربہ اپنے والدین کولے جانے کا ہوا اور کسی بھی مرحلے پرہمیں دشواری کاسامنا نہ کرناپڑا۔



یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ ہم آج پچھلے سال سے کئی قدم آگے کھڑے ہیں۔ جن لوگوں کوپچھلے سال اس مرض کاسامنا کرناپڑا، ان کے پاس بچاؤ کے لئے ویکسی نیشن کا آپشن موجود نہ تھا۔آج جو لوگ اپنے آپ کو اور باقیوں کو اس سے بچانے کاعزم رکھتے ہیں، ان کو چاہئے کہ ایک ذمہ دار اورفرض شناس شہری ہونے کا ثبوت دیں اور درج ذیل باتوں کا خاص دھیان رکھیں۔
• سمارٹ لاک ڈائون کے دوران سکیورٹی سے تعاون
• اپنا درجہ حرارت چیک کروانے میں تعاون
• ماسک کا صحیح استعمال اور بعد از استعمال صحیح طریقے سے پھینکنا
• زیادہ رش والی جگہوں پر جانے سے گریز کرنا
• ویکسینیشن  لگوانے کے لئے مقررکردہ سنٹرز یا نمبرز پر کوائف کا اندراج اور اپنی باری کا انتظار 
•بیماری کی علامت ظاہر ہونے پر فوری ڈاکٹر سے رابطہ کرنا



سوشل میڈیا پر آنے والے اعدادوشمارپردن رات غوروفکر نہ کریں۔یہ اعدادوشمار،آپ کی بہتری اور تحفظ کے لئے ہیلتھ کیئرورکرز، پالیسی میکرز اور ریسرچرزکے لئے شائع ہوتے ہیں۔ان اعدادوشمارکودیکھتے ہوئے بجائے ٹینشن لینے اورپریشان ہونے کے،حفاظتی اقدامات پرتوجہ مرکوز رکھیں۔ افواہوں پریقین نہ کریں اور مستند معالج /ڈاکٹرسے افواہ کی تصدیق کرلیں کہ آیایہ بات سائنسی اور میڈیکل اعتبار سے درست بھی ہے یا نہیں؟
اپنی تحریر کے اختتام پر اپنے قارئین کے ساتھ ایک چارٹ شیئر کرنا چاہوں گی۔ جوکہ Covid-19 پر ردِعمل کے زون /مرحلوں کی نمائندگی کرتاہے۔انسانی فطرت کا پہلا ردِعمل خوف کے مرحلے سے ہی ہوتا ہے لیکن بتدریج ہم سیکھنے اورنشوونما کے مراحل سے گزر کر روشن خیالی کے مرحلے تک جاسکتے ہیں۔اس چارٹ کو دیکھتے ہوئے ہم خود یہ فیصلہ کرنے کے قابل ہوجائیں گے کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں اور کس سمت میں بڑھ سکتے ہیں۔Kobasaکے بنائے ہوئے اس چارٹ میں ہم نے چوتھا مرحلہ /زون شامل کیاہے جوکہ ہمیں روشن خیالی کی طرف لے جاسکتاہے۔ ||


مضمون نگارایک میڈیکل کالج میں بطورایسوسی ایٹ پروفیسرپتھالوجی اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں اور بچوں کے رسالوں اور میڈیکل جرنلز میں آرٹیکلز لکھتی ہیں۔
[email protected]


 

یہ تحریر 139مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP