متفرقات

کرونا وائرس اور سوشل میڈیا

دفتر سے چھٹیاں تھیں اور میں پچھلے ایک ماہ سے گھر پر موجود کہ آج کل کرونا وائرس جیسی موذی وباء سے بچائو کی خاطر سیلف آئیسولیشن (Self Isolation)  ہی میں ' سب کا بھلا اور سب کی خیر'  معلوم ہوتی ہے۔ بوریت ذرا بڑھی تو لگی ایک سہیلی کی خیریت دریافت کرنے ۔ ٹیلی فون اٹھایا، اس کا حال معلوم کیا اور باتوں باتوں میں اس کی روز مرہ مصروفیات کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگی کہ انٹر نیٹ ،لیپ ٹاپ،ٹک ٹاک ،ٹویٹر،انسٹا گرام، واٹس ایپ اور سب سے بڑھ کر فیس بک کے ہوتے ہوئے بھلا کوئی پریشانی ہو سکتی ہے؟ آج کل تو میں بہت مزے میں ہوں اور تمام سہیلیوں کی خوب  'خدمت '  بھی کر رہی ہوں۔ ابھی میں اس کی بات پوری طرح سمجھ نہ پائی تھی کہ ایک دم سے بولی، بھئی فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے۔ میری تشفی پھر بھی نہ ہوئی تو بولی کہ تم تو جانتی ہو آج کل کرونا وائرس نے دنیا بھر میں خوف و ہراس پھیلا رکھا  ہے ۔ معاشرتی دوری (Social Distancing)   بڑھتی جا رہی ہے، لوگ کرب میں مبتلا ہیں اور اوپر سے اس موذی مرض کی کوئی دوا بھی مارکیٹ میں موجود نہیں ہے لہٰذا میں نے سوچا کیوں نہ فیس بک اور واٹس ایپ کی مدد سے لوگوں کو مفید ٹوٹکے بتا کر ان کو اس خوف و ہراس سے باہر نکالا جائے ۔ بس یہی عالمگیرجذبہ مجھ میں عود کر آیا اور میں اس عظیم مشن کو آگے بڑھانے لگی۔اب تو دن رات کا یہی معمول ہے۔ میں اس کی بات سن کر ہنس دی اور سوچنے لگی کہ یہ آج کل کی نوجوان نسل کو آخر کیا ہو گیا ہے۔ بنا چھان بین ، تحقیق اور سچ اور جھوٹ کے درمیان تمیز کئے، سوشل میڈیا کا کس قدر بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور دن میں ایسی سیکڑوں پوسٹیں، تصاویر اور ویڈیوز آگے پھیلاتے چلے جاتے ہیں جن کا بعض اوقات سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہوتا یا پھر وہ حقیقت سے بہت دور ہوتی ہیں۔ 
کرونا وائرس کی آگاہی مہم کے سلسلے میں نوجوان نسل کی جانب سے سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال خود ان کے لئے کس قدر نقصان دہ ہے، اس کا اندازہ شاید ان کو ابھی نہ ہو۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ ان کا یہ طرز عمل معاشرے میں مزید افرا تفری اور خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بن رہا ہے۔ 
تمام شکوک و شبہات سے بالاتر ہو کر میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ اب تک دنیا بھر میں شاید کرونا وائرس کے اتنے مریض سامنے نہ آئے ہوں جتنے کہ خود ساختہ پاکستانی طبیب اور کرونا کے ماہرین سامنے آ چکے ہیں ۔یہ پاکستانی ماہرین اور طبیب فیس بک اور واٹس ایپ کو استعمال میں لاکر ایسے ایسے ٹوٹکے اور ایسی ایسی ترکیبیں سامنے لا رہے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔ کوئی اس وبا ء کو آ فت الٰہی قرار دے کر قرآنی آیات اور احادیث کے وظائف کو کرونا سے بچائو کا ذریعہ قرار دے رہا ہے تو کوئی اسے بیسویں صدی کا سب سے بڑا فتنہ گردان رہا ہے جس سے اس وقت انسانیت کو سب سے بڑا خطرہ لاحق ہے۔ ان دنوں آپ کو ایسی بے شمار قرآنی آیات سوشل میڈیا پر گردش کرتی نظر آئیں گی لیکن بغیر تصدیق کے ان کو یوں اندھا دھند آگے پھیلانا انتہائی غیر ذمہ دارانہ فعل ہے جس کی کسی ذی شعور نوجوان سے توقع نہیں کی جا سکتی ۔  
اب تک میں بھی اسی طرح کی کئی ویڈیوز ، اورتصاویر دیکھ چکی ہوں۔ یہاں ان سب کا ذکر کرنا تو میرے بس میں نہیں البتہ چند ایک آپ کے گوش گزار کرتی ہوں۔ فیس بک پر موجود ایک ویڈیو میں ایک نوجوان حکیم صاحب یہ دعویٰ کرتے دکھائے گئے ہیں کہ اگر انھیں ایک موقع دیا جائے تو وہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا وائرس کا تریاق ڈھونڈ کر اس کی دوا ایجاد کرسکتے ہیں۔ اس طرح وہ پوری دنیا کو اس موذی مرض سے نجات دلا سکتے ہیں۔ اپنے دعوے کے حق میں انھوں نے یہ توضیع پیش کی کہ دنیائے طب میں انسانی جسم کو نقصان پہنچانے والے وائرسس  (Viruses) کی بنیادی طور پر چھ اقسام ہیں اور ان کو ہلاک کرنے کے تریاق بھی چھ ہی ہیں، جوچھ مختلف اقسام کے  'زہروں '  یعنی   Poisons  سے مشروط ہیں ۔ ان موصوف کا کہنا ہے کہ دنیا میں پائے جانے والے دیگر تمام وائرسس انہی بنیادی اقسام سے نشوونما پاتے ہیں اور کرونا وائرس بھی ان بنیادی چھ وائرسس کا کوئی ذیلی وائرس ہے جسے ہلاک کرنا ناممکن نہیں۔ دنیائے طب و حکمت میں اگر زہر کی ان چھ اقسام کو باری باری اُن جراثیم (وائرسس)  پر اپلائی کیا جائے تو کوئی نہ کوئی زہر اس خاص وائرس  (جس سے کرونا وائرس پیدا ہو ا ) کو ہلاک کرنے میں ضرور کامیاب ہوجائے گا ۔ اس پوسٹ کا فیس بک پر شیئر ہونا تھا کہ ایک بڑی تعداد میں لوگوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ اس نوجوان حکیم کو ایک موقع ضرور دیا جائے تاکہ وہ انسانیت کی خدمت کر سکے۔ اس کو موقع ملا یا نہیں، میں تو بس اتنا جانتی ہوں کہ اب تک کئی چوبیس گھنٹے گزر چکے مگر کرونا وائرس کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کرنے والے یہ موصوف دوبارہ فیس بک پر کہیں دکھائی نہیں دئیے ۔ہو سکتا ہے وہ اپنا دعویٰ سچ کر دکھانے میں کامیاب بھی ہو جائیں لیکن ہم تو بس اتنا جانتے ہیں : 'نیم حکیم خطرہ جان'۔
یہ احوال تو تھا ایک ویڈیو کلپ کا، اب دومختلف نوعیت کی تصاویر کے بارے میں بھی جان لیجئے جو آج کل کرونا وائرس کی لرزہ خیز تباہی کے پس منظر میں فیس بک پر نہ صرف گردش کر رہی ہیں بلکہ لوگوں کو خوف و ہراس میں بھی مبتلا کر رہی ہیں ۔ ان میں ایک تصویر کو چین کے شہر ووہان سے منسوب کیا گیا ہے ۔ اس تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ ووہان شہر کے ایک چوک میں کچھ مرد و خواتین بیچ چوراہے یوں اوندھے منہ لیٹے ہوئے ہیں جیسے ان کی موت واقع ہو گئی ہو۔اور وہاں خوف و ہراس کا یہ عالم ہے کہ کوئی ان کی میتوں کو اٹھانے والا موجود نہیں ہے۔ یہ تصویر دیکھ کر مجھے تشویش ہوئی اور میں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ تصویر  2014 کی ہے جس میں جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں کچھ لوگ ایک آرٹ پراجیکٹ  (ڈاکومینٹری)کی تکمیل کے لئے اس چوراہے پر لیٹے ہوئے ہیں اور اس پراجیکٹ کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے یہ سین فلمایا گیا ہے۔ در اصل جرمنی کے لوگوں نے اس پراجیکٹ  کے ذریعے ان 528  لوگوں کو خراج تحسین پیش کر نے کی کوشش کی تھی جو   24 مارچ 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر    Katzbach Nazi Concentration Camp میں رکھے گئے تھے اور ہٹلر کے یہودیوں کے قتل عام کے دوران اسی  کیمپ میںہلاک ہوئے تھے۔ چونکہ فرینکفرٹ میں یہ  کیمپ قائم کیا گیا تھا اور مرنے کے بعد ان لوگوں کی آخری رسومات بھی فرینکفرٹ ہی کے مقامی قبرستان میں ادا کی گئی تھیں لہٰذ ا اس آرٹ پراجیکٹ کی عکس بندی کے لئے بھی فرینکفرٹ کا ہی انتخاب کیا گیا۔ آپ یہ تصویر اب بھی گوگل پر سرچ کر کے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ تصویر فیس بک پر پہلی مرتبہ 29  جنوری 2020   کو وائرل ہوئی اور اب تک 300   سے زائد مرتبہ شئیر کی جا چکی ہے۔ 
دوسری تصویر ایک ہال نما کمرے کی ہے جس میں بیسیوں تابوت پڑے ہیں۔ یہ تصویر بھی فیس بک پر کئی مرتبہ شائع ہو چکی ہے اور واٹس ایپ کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر چکی ہے۔ یہاں بھی مجموعی تاثر یہی دیا گیا ہے کہ یہ ہلاکتیں کرونا وائرس کی وجہ سے ہوئی ہیں اور یورپی ممالک میں ان ہلاکتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے لہٰذا احتیاط کی جائے۔ یہ تصویر دراصل Lampedusa Victims   کی ہے جو 2013 میں گارڈین اخبار کی زینت بن چکی ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ 2013   میں ایک کشتی بذریعہ سمندر لیبیا سے غیر قانونی طریقے سے اٹلی جا ر ہی تھی کہ مالٹا کے قریب Lampedusa   نامی ایک جزیرے کے قریب غرق ِ آب ہو گئی اور اس میں موجود 360  افراد  لقمۂ اجل بن گئے۔ اٹلی کوسٹ گارڈ حرکت میں آئی اور بروقت کارروائی کر کے ان لوگوں کی نعشوں کو سمندر سے نکال لیا جسے بعد ازاں تا بوتوں میں بند کرکے ایک ہال نما کمرے میں رکھ دیا گیا۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا لہٰذا اس نے میڈیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ اب یہی تصویر کرونا وائرس کے پس منظر میں سوشل میڈیا پر اس شدت سے وائرل ہو رہی ہے کہ لوگ خوف و ہراس کا مجسمہ بنے اپنے مستقبل کے بارے میں انتہائی خوفزدہ ہیں۔ 



 مجھے یاد پڑتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ڈینگی بخار کی روک تھام کے بارے میں بھی ہمارا رویہ کچھ ایسا ہی تھا۔ جب ڈینگی مچھر نے پاکستان بھر کے مختلف شہروں میں اپنے تابڑ توڑ حملے شروع کئے تواپنے تمام تر حفاظتی اقدامات کو ایک طرف رکھ کر ہمارے انہی'' سوشل میڈیا طبیبوں '' نے دیسی نسخوں کا ایک انبار لگا دیا۔ کسی نے شہد میں لیموں کا رس ملا کر پینے کو کہا تو کوئی پپیتے کے استعمال کو  Platelets   کی بڑھوتری میں مفید و معاون ثابت کرنے لگا۔ الغرض کہ بنا تصدیق دیسی ٹوٹکوں کا ایک ایسا سیلاب آیا جو ڈینگی سے حفاظت تو کجا، اس کے کئی مریضوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔
موجودہ دور میں سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی اور میڈیا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی بدولت میڈیا کو ریاست کے پانچویں ستو ن کی حیثیت حاصل ہے۔ سوشل میڈیا بھی میڈیا کی ہی ایک قسم ہے جو موجودہ دور میں انتہائی پر اثر ہے۔ آج سوشل میڈیا ہماری زندگی کا جزو لانیفک بن چکا ہے۔ اس کے بغیر کسی بھی ملک کی ترقی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔لیکن ہمارے ملک میں بہت سارے لوگوں کے لئے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال  ابھی بھی ایک معمہ ہے جو شاید حل ہونے کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ شعو ر و آ گہی وقت کے ساتھ ہی آتی ہے مگر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر اپنے فرائض کی انجام دہی ہر شہری کا  بنیادی فرض ہے۔اسی فرض کی تکمیل کا اولین جزو وہ احساس ہے جس کو بنیاد بنا کر ہم سچ اور جھوٹ کے درمیان تمیز کر سکتے ہیں ۔ سائبر کرائم کے قانون کی رو سے سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے کسی چیز کوآگے پھیلانا جرم ہے جس کی سزا بھی متعین ہے لیکن پھر بھی نہ جانے ہم کیوں اس کی پاسداری سے گھبراتے ہیں۔ نوجوان نسل کو چاہئے کہ وہ اس طرز عمل کو بدلے ، اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے اور دوسروں کو اذیت پہنچانے سے گریز کرے۔ اسی طرح ہم ایک ذمہ دار قوم ہونے کا ثبوت دے سکتے ہیں۔ 
جنرمنی میں آرٹ پروجیکٹ  کی تکمیل کے لئے لیٹے ہوئے لگوں کی تصویر جسے چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس کی تباہی سے منسوب کیاگیا۔

Lampedusa جزیرہ کے قریب ایک کشتی غرقِ آب ہوئی اور 360 افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ اس تصویر کو کرونا وائرس کی تباہی سے منسوب کیاگیا۔


مضمون نگاردرس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

 

یہ تحریر 31مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP