متفرقات

کرونا سے بچائو کے لئے اقدامات

کروناوائرس کی آزمائش سے نبرد آزما ضلع ٹانک اور ٹرائبل سب ڈویژن جنڈولہ میں فوج ہراول دستے کے طور پر سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ضلع ٹانک اس مادر وطن کا ایک پسماندہ ، دور افتادہ ضلع ہے۔ جو کہ کچھ عرصہ پہلے تک شدید شورش زدہ علاقہ رہاہے۔ ٹانک، جنڈولہ اور جنوبی وزیرستان اضلاع میں امن کی بحالی و استحکام ، افواج پاکستان ، ہم وطنوں اور دیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کی لازوال قربانیوں اور مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ہی ممکن ہو پایا ہے۔ ترقی پذیر ضلع ہونے کے ناتے کرونا سے نمٹنے کے لئے ایک بار پھر فرنٹیئر کوراور پاکستان آرمی ہر اول دستے کے طور پر صوبائی حکومت ، ضلعی انتظامیہ ، پولیس، محکمہ صحت و دیگر تمام انتظامی مشینری شانہ بشانہ میدان عمل میں سرگرم ہیں۔ ملکی سلامتی ، لوگوں کی صحت و حفاظت اور وبا کے پیش نظر آئی جی ایف سی میجر جنرل اظہر اقبال عباسی کے احکامات کے تحت فرنٹیئر کور ٹانک و جنڈولہ کے پسماندہ اضلاع میں جنگی بنیادوں پر عوام کو صحت ، ادویات ، راشن، مالی امداد اور مختلف دیگر سہولیات کی بروقت فراہمی کے لئے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس مشکل گھڑی میں فرنٹیئر کور اور پاکستان آرمی، سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر جو خدمات سر انجام دے رہی ہے وہ نہ صرف قابل ستائش بلکہ قابلِ تقلید بھی ہیں ۔ افواج پاکستان کا ہمیشہ سے یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ مادر وطن کی خاطر جب بھی ضرورت پڑی، یہ ہمیشہ اپنی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی ہیں ۔ در اصل یہ افواج اور عوام کے درمیان آپسی محبت و یگانگت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جس کی وجہ سے دشمن کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ افواج پاکستان صرف اور صرف پاکستانیت کے جذبے سے سرشار ہیں اور اس کی خاطر کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتیں ۔ یہی وجہ ہے کہ افواج پاکستان اور عوام خطرے اور آزمائش کی گھڑی میں ایک ہو کر نہ صرف اس کامقابلہ کرتی ہے بلکہ بفضل خداوند تعالیٰ کامیابی و کامرانی ان کا مقدر ٹھہرتی ہے۔



پاکستان اپنے محدود وسائل کے باوجود مؤثر حکمت عملی اور اقدامات کی بدولت بڑے احسن طریقے سے اس آفاتی صورتحال سے نبر دآزما ہے۔ ملک کے بڑے شہروں کی طرح ضلع ٹانک میں بھی اس وبا کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر کئی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ ضلع ٹانک جنوبی وزیرستان کے ساتھ ملحقہ علاقے کا پہلا ضلع ہے۔ جس میں فرنٹیئر کور ، پاکستان آرمی اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے سول انتظامیہ کی مدد کے لئے ہر طرح کا تعاون کر رہی ہے۔ انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور میجر جنرل اظہر اقبال عباسی اور صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں ضلع ٹانک کے عوام کی صحت ، حفاظت ، علاج اور دیگر ضروریات کے پیش نظر بریگیڈئیر نیک نام محمد بیگ سیکٹر کمانڈرنے اس پسماندہ ترین ضلع میں اعلیٰ معیار کی صحت کی سہولت کی فراہمی و دستیابی کو یقینی بنایا ہے۔
ابتدائی اقدامات کے تحت عوام کو کرونا وبا سے متعلق شعور بیداری مہم کے ذریعے احتیاطی تدابیر سے روشنا س کرایا گیاہے۔ اسی سلسلے کی کڑی کے تحت فرنٹیئر کور نے ہنگامی بنیادوں پر سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ٹانک جنڈولہ قرنطائن مراکز میں 400 مریضوں کو رکھنے اور علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایاہے۔ 82 بستروں پر مشتمل آئسولیشن وارڈ کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔ 
 حفاظتی اقدامات کے تحت لاک ڈاؤن کی پالیسی پر بھی مؤثر و جامع حکمت عملی کے ذریعے عمل درآمد کرایا گیا ہے۔اس ضمن میں 16 ریپڈ رسپانس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو خلاف ورزی کی صورت میں فوراً حرکت میں آکر لاک ڈائون کو یقینی بنا رہی ہیں ۔ عملداری کے تمام علاقے کو کامیابی کے ساتھ لاک ڈائون کیا چکا ہے۔ جسے مزید مؤثر بنانے کی خاطر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 کا نفاذ ا ور مو ٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔  ڈاکٹروں کوپی پی ایز کی فراہمی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔ صف اول کے کرونا سے برسرِپیکار تمام لوگوں میں بھی حفاظتی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ ٹریک اینڈ ٹریس پالیسی کے تحت مشتبہ مریضوں کی اطلاع پر انہیں ہسپتال تک پہنچانے کے لئے 6 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ۔ جو کہ ہمہ وقت مستعد و تیار رہتی ہیں۔ 
 وبا کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے شہر میں باقاعدگی کے ساتھ جراثیم کش اور حفاظتی سپرے کئے جا رہے ہیں۔ عوام کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے کی خاطر احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا گیاہے۔ جس کی خاطر بڑی تعداد میں صابن ، سینیٹائزر ، ماسک اور دستانے بھی تقسیم کئے گئے ہیں۔ بلاناغہ شہر کی صفائی و ستھرائی کی جا رہی ہے۔ حفاظتی نقطہ نظر سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے داخلی و خارجی راستے پر سینیٹائزر مشینیں بھی نصب کی گئی ہیں ۔



 کرونا کی وجہ سے ہنگامی صورتحال کے سبب دیگر مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں  جنہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں ان میں سرِ فہرست خوراک کی عمومی و سستے نرخ پر دستیابی کے ساتھ مستحق و ضرورت مند لوگوں میں اس کی فراہمی بھی شامل ہے۔لاک ڈائون سے غریب محنت کش طبقہ ، حتیٰ کہ چھوٹے پیمانے کے کاروباری لوگ تک بری طرح متاثر ہو کر پریشانی کا شکار ہیں ۔ ان کڑے حا لات میں آئی جی ایف سی کے احکامات کی روشنی میں روزانہ کی بنیادوں پر مختص کردہ آٹے کی مل کو 73 ٹن گندم کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ لو گوں میں آٹا اور دیگر اشیائے ضروریہ تقسیم کی جا رہی ہیں۔ اس وقت تقریبا 5000خاندانوں کو راشن فراہم کیا جا چکا ہے۔ بروقت امداد کی خاطر اس پسماندہ ضلع کے 19928 غریب ترین افراد کی فہرست مرتب کی گئی اور حکومت کے احساس کفالت پروگرام کے تحت رجسٹرڈ ہونے والے 21761 خاندانوں میں سے اب تک 15500 گھرانوں کو فی گھر 12 ہزار روپے کے حساب سے رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ اسی پروگرام کے تحت کل 250 ملین روپے تقسیم کئے جانے ہیں جس پر مرحلہ وار عمل درآمد جاری ہے۔  رقم کی بروقت تقسیم کے لئے ضلع میں 8 مقام مختص کئے گئے ہیں۔ جس کے لئے فرنٹیئر کور و پاکستان آرمی نے سکیورٹی کے مؤثر انتظامات کئے ہیں۔  مزید برآں رقوم کی فراہمی کی خاطر انٹرنیٹ کی سہولت کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔تاہم اس ضمن میں چند ایک مسائل جیسے بائیو میٹرک کی تصدیق نہ ہو سکنایا رجسٹریشن کے باوجود لسٹوں میں نام کی عدم موجودگی وغیرہ درپیش ہیں، کو جلد حل کرلیا جائے گا۔
آزمائش کی ا س گھٹری نے ایک بات یقینی طور پر ثابت کی ہے کہ کچھ مشکلیں قوموں اور انسانوں کو مزید مضبوط بنادیتی ہیں۔وہ وقت دور نہیں جب اللہ کے فضل و کرم، فرنٹیئر کور و پاکستان آرمی اور سول حکومت کی طرف سے اس وبا کے دور ہو جانے کی خوشخبری ہم وطنوں کو سنائی جائے گی۔

یہ تحریر 41مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP