قومی و بین الاقوامی ایشوز

کرونا اور ہمارا طرزِ زندگی

انسان فطری اور جبلی طور پر آزاد پیدا ہوا ہے، آزادی پسند کرتا ہے۔ پابندی برداشت نہیں کرتا چاہے وہ پابندی اس کے مفاد ہی میں کیوں نہ ہو۔ یہی صورتحال آج ہمیں درپیش ہے۔ کرروناوائرس (COVID-19) اب کوئی فسانہ رہا ہے نہ کوئی دور کی بلا ہے۔ چین سے امریکہ تک اور ر و س سے آسٹریلیا تک دنیا کے ہر طرف اور ہر کونے میں موت کا بھیانک رقص کرنے کے بعد وطن عزیز میں بھی وارد ہو چکا ہے۔ سکردو سے کراچی تک اور کوئٹہ سے مظفرآباد تک پنجے گاڑ ھ چکا ہے۔ حکومت بار بار عوام کو باور کروا رہی ہے کہ ابھی خطرہ نہ صرف موجود ہے بلکہ بے قابو ہونے کا خدشہ بھی ہے۔ اس لئے احتیاط کریں۔ نقل وحرکت محدود کریں مگر عوام کی ایک بڑی تعداد اس طرف توجہ نہیں دے رہی اور ان کی ہر صبح اس توقع کے ساتھ طلوع ہوتی ہے کہ آج لاک ڈائون ختم کر دیا جائے گا یا اس میں مزید نرمی کر دی جائے گی۔
قوموں کی زندگی میں مشکل مرحلے آتے ہیں۔جنگیں بھی ہوتی ہیں۔آفات بھی آتی ہیں اور بلائیں بھی موت بانٹتی ہیں مگر زندہ قومیں متحدہوکر ان کا مقابلہ کرتی  اور سرخروہوتی ہیں۔باہمی مشاورت کے ساتھ صحیح فیصلے اور بروقت عملدرآمد سے ہی چیلنجوں سے نمٹا جاسکتا ہے چاہے وہ کتنے بڑے اور کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں۔
فرمان الٰہی بھی ہے کہ ''جب بلائیں ہوں تو بیٹھا ہوا کھڑے ہونے سے بہتر ہے''۔کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر اور چلنے والا دوڑنے والے سے۔تو جو کوئی ان بلائوں کو دیکھے گا تو یہ بلائیں بھی اسے دیکھ لیں گی۔حدیث نبویۖ بھی ہے ''جس علاقے میں وبا پھیلے وہاں کے لوگ باہر نہ جائیں اور باہر کے لوگ وہاں نہ آئیں''۔کتنی اچھی بات ہے کہ سوشلسٹ بھی ان احکامات وہدایات پر مکمل عمل کررہے ہیں۔بدھ،جین،سکھ بھی اس کی پیروی کررہے ہیں۔عیسائی بھی من وعن عمل کررہے ہیں۔ان میں آرتھو ڈوکس اور پروٹیسٹنٹ دونوں بلا چوں چرا تقلید کررہے ہیں۔ماشاء اللہ۔ اور کتنی بری بات ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہم مان کر ہی نہیں دے رہے۔

23اپریل2020کو عالمی ادارہ صحت(W.H.O)نے اپیل جاری کی کہ ابھی جلد ی نہ کی جائے۔کرونا کی تباہ کاری مزید ایک مہینہ جاری رہے گی۔یعنی مئی بھی سخت ہے۔عالمی اداروں نے یہ بھی نوٹ کروایا کہ اثرات طویل عرصہ تک رہیں گے۔یعنی مئی کے بعد مکمل نجات نہیں ہے۔تباہی کم ہوجائے گی مگر رہے گی۔اسی روز23اپریل کو پاکستان میڈیکل الائنس (P.M.A)کے ڈاکٹر ارشدنظامی نے پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے صورتحال کی سنگینی سے خبردار کیا اور مطالبہ کیا کہ لاک ڈائون پرسختی سے عمل کروایا جائے۔سندھ ، پنجاب کے دیگر ڈاکٹرزبھی کہہ رہے تھے کہ ہم ہاتھ جوڑ کراپیل کرتے  ہیں کہ مکمل لاک ڈائون کریں اور اس پر عمل بھی کروائیں۔ڈاکٹروں کی تشویش ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہونی چاہئے۔چین، امریکہ،فرانس ، برطانیہ، اٹلی ، جرمنی جیسے انتہائی امیر، ترقی یافتہ ممالک کرونا کے سامنے بے بس ہوگئے تو پاکستان  چھوٹی کمزور معیشت اور محدود طبی وسائل کے ساتھ کیسے مقابلہ کرسکتا ہے۔سوچنے کی بات ہے۔
اپریل کے شروع میںکرونا سے پاکستان میں اموات صرف 2 تھیں۔ ایک ڈاکٹر اسامہ اور دوسری ایک خاتون  شبنم  جوبرطانیہ سے آئی تھی اور پمز میں داخل تھی۔23 اپریل کو نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق اموات کی تعداد235  ہوچکی تھی اور مریضوں کی تعداد11ہزار 557 تھی۔ 24 اپریل کو ان میں 700 کا اضافہ ہوچکا تھا۔اگر ہم عالمی ادارہ صحت یا اپنے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے اعدادوشمار پر تھوڑا سا بھی غور کرلیں تو کیفیت واضح ہے کہ وائر س کا شدید حملہ دوسرے مہینے میں ہوتا ہے اور تیسرے مہینے تک عروج پر جاتا ہے۔اس کے بعد اس کی شدت میں کمی آنا شروع ہوتی ہے اور یہ کمی ہوتی ہے۔ خاتمہ نہیں ہوتا۔یعنی ہمیں احتیاطی تدابیر ترک نہیں کردینی ،جاری رکھنی ہیں اور احتیاطی تدابیر میں تین بنیادی ہیں۔(1)ہاتھ دھونا۔(2)ماسک لگانا۔(3)فاصلہ رکھنا۔ان میں تیسری تدبیر میں مشکل آرہی ہے۔یہی تدبیر لاک ڈائون پر مجبور کرتی ہے کیونکہ لوگ خود اس پر عملدرآمد میں ناکام ہیں اور سنجیدگی کا فقدان بھی موجود ہے۔
عام زکام،نزلہ اردگرد کے50میں سے دو تین لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ کرونا وائرس آس پاس کے50میں سے49لوگوںں کو لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ 24اپریل تک12ہزار سے زائد مریض ثابت ہوچکے تھے۔12ہزار کو49سے ضرب دے لیجئے۔یہ تعداد  ابھی سامنے آنی ہے اور ہسپتال میں پہنچنی ہے اور تب تک یہ تعداد کتنے مزید لوگوں کو وائرس لگاچکی ہوگی۔کیلکولیٹر اٹھائیے اور ضرب درضرب خود کرلیجئے۔وائرس لگنے کے بعد ظاہر ہونے میں7سے10دن لگاتا ہے۔مزید ایک ہفتے ہم یہ سمجھنے میں گزاردیتے ہیں کہ نہیں یہ عام کھانسی زکام ہے لہٰذا جو لوگ ٹیسٹ کے لئے آج پہنچیں گے وہ دراصل3ہفتے پہلے اس کی لپیٹ میں آئے۔مطلب ابھی جو(24اپریل تک)ایک لاکھ24ہزار ٹسٹ ہوئے ان کے پیچھے50لاکھ ابھی آنا ہیں۔اگر1لاکھ میں10ہزار کی اس شرح کو50لاکھ پر دیکھیں تو آئندہ ایک مہینے میں تعداد5لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔یہ تب جب ہمارے پاس اتنی بڑی تعداد میں نہ تو ٹیسٹنگ کی سہولت ہے نہ گنجائش ۔مطلب  اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ اکثر وہ لوگ جو کرونا کے مریض ہوں گے، وہ ٹیسٹ اور علاج کے بغیر رہ جائیں گے اور یہ صورتحال کتنی تباہ کن ہوگی اس کا تصور بھی محال ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے اپریل کے آخری عشرے میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا جس میں پاکستان کے لئے وینٹی لیٹرز بھجوانے کی بات ہوئی ۔سرکاری ہسپتالوں میں تمام ممکنہ انتظامات کیے گئے ہیں ۔چین سے ماسک ،ٹیسٹنگ کٹس سمیت دیگر ضروری سامان منگوایا جاچکا ہے ۔ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کو حفاظتی کٹس فراہم کی گئی ہیں۔مسلح افواج نے اپنے تمام میڈیکل اور لاجسٹک وسائل ملک کو اس تباہی سے بچانے کے لئے حکومت کے حوالے کردیے ہیں ۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ باقاعدگی کے ساتھ صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں ۔24اپریل کو ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل افتخار بابر نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ جامع سول ملٹری حکمت عملی پر کام جاری ہے ۔اب ہمTest, Trace Quarantine(TTQ) اسٹریٹیجی پر جارہے ہیں جس کے تحت ہاٹ سپاٹ اور کلسٹر (جہاں زیادہ کیس ہوں)مقامات پر فوکس کررہے ہیں۔آرمی میڈیکل کور کی ریزرو فورس کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔آرمی نے سکردو ،تفتان ،کراچی ،لاہور،راولپنڈی سمیت پانچ مقامات پر اپنی لیبارٹریاں فعال کردی ہیں ۔ایئر فورس نے پھنسے ہوئے لوگوں کی منتقلی اور امدادی راشن پہنچانے کے لئے خصوصی پروازیں کیں۔پاک بحریہ نے بلوچستان اور سندھ کے ساحلی علاقوں کے مکینوں میں ماسک ،راشن تقسیم کیا اور بنیادی طبی امداد پہنچائی۔
اس تباہی کو روکنے کے لئے ہم سب کو مل کر کوشش کرنی ہے۔حکومت اپنی جگہ کام کررہی ہے ۔ مسلح افواج نے اپنی سطح پر دن رات ایک کیا ہوا ہے۔ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے نے بھی اپنی جانیں عوام کی جانیں بچانے کے لئے دائو پر لگائی ہوئی ہیں۔قومی مسائل پر تب ہی قابو پایاجاسکتا ہے جب پوری قوم ایک ہوکر کام کرے ۔ کرونا کی تباہی روکنے کیلئے عوام سے صرف ایک تعاون کی اپیل کی جارہی ہے اور وہ یہ کہ عوام اپنی سرگرمیاں تھوڑے عرصے کے لئے محدود کردیں ۔اور کچھ نہ کریں ۔بس اپنے گھر پر رہیں اور اس مہلک وبا پر قابو پانے کے لئے حکومت کے ساتھ تعاون کریں ۔جو سنگین صورتحال ہے وہ مکمل ،سخت لاک ڈائون کی متقاضی ہے مگر عوام کے جذبات سامنے رکھتے ہوئے  حکومت جزوی لاک ڈائون پر اکتفا کررہی ہے ۔اب جزوی لاک ڈائون پر تو عوام کو مکمل عمل درآمد کرنا چاہیے ۔ابھی مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔کچھ ہفتے اور صبر کرلیں ۔اپنی اور اپنے پیاروں کی جان بچائیں کیونکہ جان ہے تو جہان ہے۔


مضمون نگار اسلام آباد میں ایک اردو اخبار کے ایڈیٹر ہیں جبکہ انٹرنیشنل ریلیشنز اور پاکستان کے صحیح تصور پر مبنی ایک انگریزی ماہانامہ بھی شائع کرتے ہیں  ۔ [email protected]


 

یہ تحریر 28مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP