متفرقات

کرونا، ماہ صیام اور پاکستان

اسلامی کیلنڈر میں ماہ رمضان مقدس ترین مہینہ تصور کیا جاتا ہے اور بقول  رسولِ اقدس ۖ رمضان کے مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیںجبکہ جہنم کے بند کر دیئے جاتے ہیں ۔بالعموم پوری دنیا میں ا ور با لخصوص پاکستان میں ماہ رمضان کو  بھرپور جذبے اور  عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان  ١٩٤٧  میں رمضان کے مقدس مہینے میں ہی معرض وجود میں آیا تھا۔پاکستان میں ماہ صیام کی آمد کے ساتھ ہی فضا میں ایک خوشگوار سا احساس چھانے لگتا ہے ، گلیاں بازار روشن ہو جاتے ہیں ، افطاریوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ،گھروں سے رنگ برنگے کھانوں کی مہک ماحول کو چار چاند لگا تی ہے ، مسجدیں تراویح پڑھنے والوں سے آباد ہو جاتی ہیں۔ جبکہ کمزور اور غریب طبقے کے لئے صدقہ و خیرات کا ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جس کی نظیر کہیں اور نہیں ملتی۔ پورا ملک ذات پات، رنگ و نسل، امیر غریب اور حتیٰ کہ مذہبی تفریق کے بغیر رمضان کے مہینے کو بھرپور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ مناتا ہے۔ لیکن اس بار حالات یکسر مختلف دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ نہ صرف مسلمان یا پاکستانی بلکہ پوری انسانی تہذیب ایسی آفت سے نبرد آزما ہے جس کا کچھ مہینے پہلے تک بڑے سے بڑا دماغ بھی تصور نہیں کر سکتا تھا۔رمضان کریم کی آمد ہے اور عوام گھروں میں محصور ہیں کہ ایک ایسا آنکھ سے اوجھل وائرس جو امیر غریب یا مذہب و مسلک کی تفریق کے بغیر سب پر وار کرہا ہے اور اب تک لاکھوں لوگوں کو اپنا شکار بنا چکا ہے جبکہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد زندگیوں کو موت کی وادی میں دھکیل چکا ہے۔
انسانی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ویٹیکن سٹی سے لے کر وارا ناسی او ر یروشلم سے لے کر حرمین شریفین تک ہر جگہ کو متعلقہ مذاہب کے زائرین کے لئے بند کر دیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے آخری با ر ١٩١٨ ء میں ہسپانوی فلو نامی وبا نے تباہی مچائی تھی لیکن وہ صرف ایشیاء اور یورپ کے مخصوص حصوں تک محدود رہا تھا۔ اس سے پہلے آنے والی وبائیں بھی مخصوص خطوں تک محدود رہی تھی۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کرہ ارض پر موجود ہر ملک بیک وقت کسی وبا کی لپیٹ میں ہے۔



کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا کے چپے چپے پر موت کا سایہ منڈلا رہا ہے اور ایسے موقع پر رمضان کی آمد نے مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانیوں میں بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے ۔ کرونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا کی معاشیات منجمد ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید شدید متاثر ہوئی ہے۔ لیکن پاکستان میں حالات مزید سنگین ہیں کیونکہ پاکستان کی ایک چوتھائی آبادی دیہاڑی دار طبقے پر مشتمل ہیں جو پہلے سے ہی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور اب ایک وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں۔اس وبا کی وجہ سے اجتماعات پر پابندی عائد ہے ۔ جس کی وجہ سے نماز تراویح کے اجتماعات بھی ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ لاک ڈائو ن کی وجہ سے مہمانوں کوسحری و افطاری پر مدعو کرنا بھی ممکن نہیں۔ لاک ڈائون نہ بھی ہوتا، تب بھی ایسے اجتماعات کا انعقاد ایک خطرناک عمل ہے جس کی وجہ سے وباء کے پھیلنے کا خدشہ ہے ۔ ریستوران اور ہوٹلز بھی بند ہیں۔ جبکہ بغیر کسی ضروری کام کے باہر نکلنے پر بھی پابندی ہے ۔ان حالات میںیہ سوال اٹھتا ہے کہ اس سال کرونا کی وبا کے چلتے ماہ صیام کو کس طرح  مناناہے اور کس طرح اللہ کی رضا حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کرونا کی وجہ سے درپیش مشکلات کا مقابلہ بھی کرنا ہے۔
اس کے جواب کی طرف جانے سے پہلے ہمیں عوام کو تین حصوں میں تقسیم کرنا ہوگا: پہلا وہ جو خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والا دیہاڑی دار طبقہ جو اب مکمل طور پر بیروزگار ہے۔ دوسرا وہ مڈل کلاس طبقہ جو عام دنوں میں حیثیت کے مطابق دوسروں کی مالی مدد کر دیتا تھا اور اب کرونا کے باعث ان کے اپنے گھروں پر بھوک منڈلا رہی ہے۔ جبکہ تیسرا وہ امیر طبقہ جو کرونا سے زیادہ متاثر نہیں ہوا اور مالی طور پر مضبوط ہے۔
اب روزے کا مقصد جاننا ضروری ہے۔روزے کا بنیادی مقصدصرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں ہے بلکہ عام حالات میںغربت کے باعث بھوکا سونے والوں اور درد مندوں کی تکلیف کو نہ صرف سمجھنا ہے بلکہ اس کو دور کرنے کا جتن کرنا بھی ہے۔اس سے انسانیت اور اجتماعیت کے جذبوں کو فروغ ملتا ہے۔ اب کرونا میں جہاں بیروزگاری عروج پر ہے اور لوگوں کے لئے سحری و افطاری کا انتظام کرنا دور کی بات ہے۔، ایک وقت کی روٹی کا انتظام مشکل ہے۔ اس موقع پر بھاری ذمہ داری اس امیر طبقے کے کاندھوں پر پڑتی ہے جس کو اللہ نے مال سے نوازا ہے اور اب اس مال میں سے اللہ کی رضا کے حصول کے لئے اس کے بندوں پر خرچنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔سحری و افطاری کی دعوتوں پر جو رقم خرچ کرنی تھی یا عید کی دعوتوں میں،وہ ان لوگوں کی مالی مدد میں صرف کرنی چاہئے جو دو وقت کی روٹی پوری نہیں کر پا رہے۔
 صرف اللہ کی رضا کے حصول کے لئے نہیں بلکہ اس وجہ سے بھی کہ جدید دور میں کسی بھی ملک کے معاشی نظام کے چلتے رہنے کے لئے دولت کی گردش بہت ضروری ہے ، زیادہ عطیات، زکوة، فطرانہ،خیرات و صدقات سے لوگوں کی قوت ِ خریداری بڑھے گی اور دولت گردش میں رہے گی۔ بصورت دیگر کرونا کے ختم ہونے سے پہلے ہی ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔ ایک بار ملک دیوالیہ ہو گیا تو امیر غریب سب نقصان اٹھائیں گے۔پاکستانی قوم تو ویسے بھی اپنی سخاوت کے لئے دنیا میں مشہور ہے۔اس عمل سے نہ صرف خدا راضی ہوگا بلکہ ملک کی معیشت بھی مستحکم رہے گی۔
جو لوگ عطیات دینے کی سکت نہیں رکھتے وہ حکومتِ وقت سے تعاون کر کے اس وبا سے اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں اور یہ کرنا بھی رمضان کریم کی روح کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ قرآن پاک میں صاف الفاظ میں خدا نے فرمایا ہے کہ ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے برابر ہے۔
حکومتِ وقت اپنی بساط کے مطابق تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس وبا سے لڑ رہی ہے اور اس کے ساتھ تعاون کرنا ہمارا فرض بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ رمضان میں نمازِ تراویح ، اجتماعی اعتکاف اور نمازِ عید کے اجتماعات اس بار ممکن نہیں دِکھ رہے اور وبا ء کے پھیلائو کو روکنے کے پیشِ نظر حکومت نے ایسے اجتماعات کے حوالے سے علماء کرام کی مشاورت سے چند ایس۔او۔پیز تشکیل دی ہیں۔ جن پر عمل کرنے سے لاکھوں انسانی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ عطیات، صدقات یا زکوة نیک نیتی سے دینے کی ضرورت ہے نہ کہ دکھاوے کے لئے کیونکہ آج کل دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ عطیات دیتے ہوئے تصاویر لیتے ہیں اور پھر انٹرنیٹ پر ڈال دیتے ہیں، اس کے باعث عزت نفس مجروح ہوتی ہے با لخصوص اس طبقے کی جو سفید پوشی کی زندگی بسر کر رہا ہے۔
جن حالات میں اس بار رمضان آرہے ہیں اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ اس بار رمضان کا بنیادی مقصد مکمل طور پر پورا کیا جائے جو کہ مال دار طبقہ اپنی سخاوت سے اور باقی عوام حکومتِ وقت سے تعاون کر کے پورا کر سکتی ہیں۔علماء کرام کو بھی اس موقع پر حکومتِ وقت سے مکمل تعاون کرنا چاہئے اور ان کی صفوں میں موجود چند شرپسند عناصر جو دین کی آڑ میں سیاست کر رہیں ہیں ان سے علیحدگی اختیار کرنی چاہئے ۔رمضان کا تعلق چونکہ مذہب سے ہے اس موقع پر علماء کرام کے مثبت کردار کی جتنی ضرورت آج ہے شائد پہلے کبھی نہ تھی۔ بے شک ہر آفت اللہ کے کُن کی محتاج ہے اور ہر آفت اس کے بندوں کا امتحان ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو اس آزمائش میں صبر کا مظاہرہ کرنے کی توفیق دے اور اپنے کُن سے ہمیں اس آفت سے نجات عطا فرمائیں۔آمین۔


مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 38مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP