قومی و بین الاقوامی ایشوز

کرتارپورراہداری - ۔سکھ برادری کے دِل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں

بھارت کی اکثریتی ہندو آبادی میں گھِرے ہوئے مسلمانوں اور بھارت کے غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم کی چکی میں پستے مسلمانوں کے تحفظ کے حوالے سے اکثر با ت ہوتی ہے اور تحفظات وخدشات کا اظہار کیا جاتا ہے۔برصغیر کے مسلمانوں نے مل کر قیام پاکستان کی تحریک چلائی تھی مگر پاکستان ظاہرہے سب کے نصیب میں نہیں تھا۔ہمارے بہت سے بھائی بہنیں وہیں رہ گئے۔تقسیم کے بعد ان کو ہندو اکثریت کے بھارت میں تحفظ کی فراہمی ہماری خواہش بھی ہے اور کوشش بھی اور اس  لئے جب ہم قیام پاکستان کی خوشیاں منارہے ہوتے ہیں تو بھارت کا مسلمان اور جموں وکشمیر کا مسلمان بھی ہمیں یاد آتا ہے۔بدقسمتی سے بھارت کی حکومتوں نے اس حوالے سے وہ اقدامات نہیں کئے جو اِن کا فرض تھے کیونکہ وہ خود ہی بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں اور بھارت ایک سیکولرجمہوریہ ہے۔یعنی بھارت میں عوام کی حکومت ہے اور ریاست کا کوئی دین نہیں یعنی سبھی مذاہب وادیان کے لوگ یہاں برابر کے شہری ہیں اور ان سب کو جمہوری حقوق حاصل ہیں۔حقیقت ان دعوئوں کے برعکس ہے۔ہندو اکثریت نے غلبہ حاصل کرکے آمریت قائم کرلی ہے اور اقتدار پر انتہا پسند ہندوئوں نے قبضہ کرکے ریاست کو مکمل ہندو ریاست بنادیا ہے۔
نریندر مودی علی الاعلان وہ سب کچھ کئے جارہا ہے جو ایک جمہوری سیکولر ریاست کا وزیر اعظم ہرگز نہیں کرسکتا۔11دسمبر2019ء کو مودی سرکار نے جو شہریت ایکٹ نافذ کیا اس میں مسلمانوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔باقی سب بھارت آسکتے ہیں ۔صرف مسلمان نہیں آسکتے اور جو مسلمان بھارت میں موجود ہیں ان کے لئے ایسے حالات بنائے کہ ہندو ہوجائو یا پاکستان چلے جائو یا مرنے کے لئے تیار ہوجائو۔ایسے حالات میں اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ بھارت کے مسلمانوں کو اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو بھارت کے اندر سے مدد حاصل ہو۔انتہا پسند ہندو ئوں کے مقابلے میں بھارت کی سول سوسائٹی اور دیگر مذاہب ودیگر کمیونٹیزمتحرک اور فعال ہوں۔خاص طور پر وہ جو خود بھی انتہا پسند ہندوئوں کے ظلم وستم کا شکار ہوچکی ہیں اور ان میں مسلمانوں کے بعد سرفہرست ہے بھارت کی سکھ کمیونٹی۔
پاکستان بھارت کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا اور جنگ کوئی ذی ہوش نہیں چاہتا اور جب تنازع ایسے دو ملکوں میں ہو جو نیوکلیئر صلاحیت بھی رکھتے ہوں اور ہمسائے بھی پھر تو کوئی دیوانہ ہی جنگ کے آپشن پر بات کرسکتا ہے مگر پاکستان نے جنگ سے ہٹ کر ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے بھارت کی مودی سرکاری کو چاروں شانے چت کردیا اور پاکستان نے ایک بڑی سفارتی فتح ایک گولی چلائے بغیر حاصل کرلی۔جی ہاں۔ہم بات کررہے ہیں کرتارپورراہداری کی۔اس راہداری اور گرونانک کی آخری قیام گاہ کی تزئین وآرائش پر پاکستان نے اربوں روپے خرچ کئے اور سکھ برادری کے لئے ایک ایسی عظیم عبادت گاہ کے دروازے کھول دیے جہاں تک رسائی کا اس سے قبل وہ صرف خواب ہی دیکھتے تھے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ کرتارپور کے متعلق پاکستانی پیشرفت پر بعض لوگ جو اعتراضات اٹھاتے ہیں ان کو اس کے اصل روشن پہلوئوں پر بھی غور کرنا چاہئے۔
کرتارپور نے بھارت سمیت پوری دنیا کی سکھ برادری کے دل پاکستان کے ساتھ جوڑدیئے ہیں اور اس کے علاوہ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس اقدام نے بھارت کے مسلمانوں اور مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کو بھارت کے اندر،جموں کے اندر اور کشمیر کے اندر کروڑوں کی تعداد میں ایسے ہمدرد فراہم کردیئے ہیں جو اب عملی طور پر ان کی مدد کو پہنچ رہے ہیں کرتارپور کے بعد ایسی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں جب بھارتی پنجاب،ہریانہ،ہماچل پردیش، جموں اور کشمیرتک سکھوں نے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور انہیں ہندوئوں کے حملوں سے بھی بچایا۔ تازہ ترین مثال جموں کی ہے جہاں ایک شیطان صفت ہندو ستپال شرما نے مسلمانوں کے دینی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی جس پر جموں کی سکھ برادری کے معززین نے اکٹھے ہوکر مسلمان معززین کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور انہیں اپنے تعاون کا یقین دلایا۔ستپال شرما اور اس کے ساتھیوں کی مذمت کی اور جموں وکشمیر کے گردواروں سے ان کے خلاف قراردادیں بھی پاس کیں۔
بھارت کے اندر پاکستان اور مسلمانوں کے حوالے سے زیادہ شدید جذبات انہی علاقوں میں پائے جاتے ہیں جو مشترکہ بارڈر کے ساتھ واقع ہیں اور سکھ برادری ان تمام علاقوں میں زوروں پر ہے۔کشمیر سے گجرات تک سکھ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔مہاراشٹر اور یوپی میں بھی مسلمانوں کیخلاف انتہا پسند ہندوئوں کی وارداتیں اور گھاتیں جاری رہتی ہیں۔مہاراشٹر بال ٹھاکرے کا صوبہ ہے اور یوپی میں آج کل مودی کے ایجنٹوں کی حکومت ہے۔یہ دونوں صوبے بھی سکھ برادری کے اثر ورسوخ سے دور نہیں۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سکھ برادری بھارت کے اندر توازن رکھنے میں خاص کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور پاکستان نے اس برادری کو طریقے اور سلیقے سے پاکستان اور خصوصاً بھارت کے مسلمانوں کے حق میں کرلیا ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس حوالے سے اہم قدم اٹھایا۔ بلاشبہ بھارتی پنجاب ،ہریانہ،ہماچل پردیش ان تینوں ریاستوں میں اب پاکستان کا ڈنکا بجتا ہے اور پاکستان نے یہاں کے سکھوں کے دل اس طرح جیت لئے ہیں کہ وہ اب ہیں تو بھارت کے باسی مگر ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔5اگست2019ء کو مودی نے جموں کشمیر کا درجہ بدلنے کا جو قدم اٹھایا وہ ایک مایوس شخص کا ایسا ظالمانہ اقدام تھا جو خود اس کے لئے تباہ کن ثابت ہونے والا ہے۔
5اگست کے اقدام نے مودی کے ہی نہیں اکھنڈ بھارت اور جمہوری بھارت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔رہی سہی کسر 11دسمبر 2019 کے شہریت ایکٹ نے نکال دی جب بھارت کے طول وعرض میں آگ لگ گئی۔بھارت کی ہر دوسری ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر کا منظر پیش کرنے لگی۔غیر ہندو بھارتیوں پر تو پہلے ہی آشکار تھا کہ بھارت میں ان کی جان محفوظ ہے نہ مال نہ آبرو مگر 11دسمبر کے بعد امن پسند ،جمہوریت نواز اور سیکولر بھارت کے علمبردار ایجنڈے کی پیروی کی تو ان کا انجام بھی مسلمانوں جیسا ہوگا۔اس طرح مودی سرکار نے اب تک جو متکبرانہ اقدامات کئے ہیں ان کو لے کر بھارت کی دیگر قومیتیں اور امن پسند ہندو ایک جگہ اکٹھے ہورہے ہیں اور مودی سرکارنہایت تیزی سے اکیلی ہوتی چلی جارہی ہے۔اس کیفیت میں خود کو طاقتور ثابت کرنے کے لئے مودی مزید غیر متوقع قدم اٹھائے گا اور بھارت کی مزید رسوائی کا باعث بنے گا۔لداخ کی گلوان وادی میں اٹھائی ذلت سے اس کا دماغ ٹھکانے نہیں آیا۔اس سے پہلے فروری میں پاک فوج وفضائیہ نے جو سبق سکھایا وہ بھی بھول گیا ہے۔
تاریخ کا سبق یہ ہے کہ بھارت ہندوئوں کے بل بوتے پر رہتے ہوئے کبھی اکھنڈ نہیں رہا۔یہ رجواڑے اور ریاستیں تھیں۔یعنی طوائف الملوکی۔یہ مسلمان تھے جنہوں نے یہاں مرکزیت قائم کی اور ہندوستان کے زیادہ سے زیادہ علاقوں کو ایک پرچم تلے متحد رکھا۔تقسیم کے بعد کا بھارت ہندوئوں کے تسلط میں ہے۔تاریخ خود کو نہ دہرائے یہ ہو نہیں سکتا۔فطرت اپنا آپ نہ دکھائے یہ ممکن نہیں۔کانگریس نے پھر بھی تھوڑا بہت سیکولرازم کا بھرم رکھا ہوا تھا مگر بی جے پی اور اس کے تازہ تخم مودی نے اس سیکولرازم کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں۔ سیکولرازم کے بغیر بھارت کا چلنا ممکن نہیں۔بھارت کے اندر صرف ہندو نہیں دیگر کئی قومیں بھی آباد ہیں۔خود ہندو بھی ایک قوم نہیں۔ان کے اندر بے شمار قومیں،ذاتیںہیں۔سادہ تقسیم برہمن،کھشتری، ویش،شودر ہی کو لے لیں۔  شودر بھی ہندو ہے مگر اس کا مندرمیں داخلہ بند ہے۔ایسے ملک میں ہندوتوا کے ایجنڈے پر کاربند مودی انڈیا کے لئے خطرہ بن چکا ہے۔ مودی ہوگاتو پاکستان کو ابھی نندن کی مہمان نوازی کا موقع ملے گا۔ نیپال بھی بھارت کو آنکھیں دکھا سکے گا۔ چین بھی آکر اس کے فوجیوں کی ٹھکائی کرے گا اور ایسے بھارت میں مسلمانوں کی حالت بہتر ہوگی۔جموں وکشمیر کے فیصلے کی طرف بڑھنے میں آسانی ہوگی۔ بھارت کے دوست ممالک اس سے بے زار ہوں گے۔ سکھ برادری کی اپنے وطن کی جدوجہد بھی دوبارہ شروع ہوسکے گی اور اگر سکھ پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش میں زور پکڑتے ہیں تو پھر مقبوضہ جموں اور کشمیر کی تحریک آزادی کو بھی مزید تقویت حاصل ہوگی اور وہاں بھارت کی گرفت کمزور پڑجائے گی۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو کرتارپور راہداری کا کھولنا پاکستان کی ایک بہت بڑی سیاسی،سفارتی اور عسکری کامیابی شمار کی جاسکتی ہے۔
سکھ برادری نے عالمی سطح پر اپنے وطن''خالصتان''کے لئے ریفرنڈم کروانے کااعلان کردیا ہے۔امریکہ،کینیڈا اور برطانیہ میں مقیم سکھ نہ صرف بہت زیادہ سیاسی شعور رکھتے ہیں بلکہ ان کی سماجی حیثیت بھی اتنی مستحکم ہے کہ نہ صرف ان ملکوں کی سیاست میں اہم کردار اداکرتے ہیں بلکہ بھارت میں اپنے لوگوں کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔ان ملکوںمیں قائم سکھ برادری کی تنظیموں نے اس ریفرنڈم کا ڈول ڈالا ہے جس میں بھارت سمیت دنیا بھر میں مقیم سکھوں کی رائے لی جائے گی کہ وہ بھارت کے اندر اپنا الگ وطن چاہتے ہیں یا نہیں۔اس ریفرنڈم کے شیڈول کا اعلان ابھی نہیں ہوا البتہ تیاریاں جاری ہیں۔فی الحال یہ ریفرنڈم سکھ برادری کی اندرونی کاوش ہوگی اور بظاہر اس کا بھارت کے وفاق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا مگر اس ریفرنڈم میں اگر بہت بڑی تعداد حصہ لے کر ہاں پر مہر لگادیتی ہے تو پھر سکھ برادری اقوام متحدہ سے رابطہ کرسکتی ہے کہ بھارت حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ سرکاری سطح پر ایسے ہی ریفرنڈم کا اہتمام کرکے سکھ آبادی کی رائے لے یعنی مودی کو ایک اور رائے شماری کے مطالبے کا جلد سامنا کرنا پڑے گا۔رائے شماری کا مطالبہ اب صرف جموں و کشمیر تک ہی نہیں پنجاب،ہریانہ،ہماچل پردیش تک بھی پہنچے گا۔ ||


مضمون نگار اسلام آباد میں ایک اردو اخبار کے ایڈیٹر ہیں اس کے علاوہ انٹرنیشنل ریلیشنز اور کرنٹ افیئرز پر مبنی ایک انگریزی ماہانامہ بھی شائع کرتے ہیں.
 [email protected]
 

یہ تحریر 159مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP